533

سوال_مشت زنی کے بارے کیا حکم ہے؟ اور جو شخص اس میں ملوث ہو وہ اس سے کیسے نجات حاصل کرے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-160”
سوال_مشت زنی کے بارے کیا حکم ہے؟ اور جو شخص اس میں ملوث ہو وہ اس سے کیسے نجات حاصل کرے؟

Published Date:6-12-2018

جواب:
الحمد للہ:

*کتاب و سنت کے دلائل کے مطابق مشت زنی اور خود لذتی یعنی اپنے ہاتھ کے ذریعے شرمگاہ سے منی خارج کرنا حرام ہے،*

*قرآن مجید سے دلائل:*

ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
امام شافعی اور ان کی موافقت کرنے والے علمائے کرام نے ہاتھ سے منی خارج کرنے کے عمل کو اس آیت سے حرام قرار دیا ہے،

🌹فرمانِ باری تعالی ہے:
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ اور وہ لوگ جو اپنے شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں [5] ما سوائے اپنی بیویوں کے یا لونڈیوں کے جن کے وہ مالک ہیں۔
[المؤمنون: 5، 6]

🌹امام شافعی کتاب النکاح میں لکھتے ہیں: “جب مومنوں کی صفت یہ بیان کر دی گئی کہ وہ اپنی شرمگاہوں کو اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے سوا کہیں استعمال نہیں کرتے، اس سے ان کے علاوہ کہیں بھی شرمگاہ کا استعمال حرام ہوگا۔۔۔ پھر اللہ تعالی نے اسی بات کی مزید تاکید کرتے ہوئے ،فرمایا:
🌹فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَچنانچہ جو شخص ان کے علاوہ کوئی اور راستہ تلاش کرے تو وہی لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔ [المؤمنون: 7]

اس لیے مردانہ عضوِ خاص کو صرف بیوی اور لونڈی میں ہی استعمال کیا جا سکتا ہے ، اس لیے مشت زنی حلال نہیں ہے، واللہ اعلم”
( ماخوذ از امام شافعی کی “کتاب الام “)

🌹فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ‌
پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔
(المؤمنون_7)
حافظ عبد السلام بھٹوی صاحب اسکی تفسیر میں لکھتے ہیں:

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ ۔۔ : یعنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ کسی بھی طریقے سے شہوت پوری کرنے والے ہی حد سے بڑھنے والے ہیں۔ اس آیت سے اپنی منکوحہ عورتوں اور اپنی لونڈیوں کے سوا کسی بھی عورت سے جماع حد سے بڑھنا ٹھہرا۔
🌹چناچہ فرمایا :
(وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا) [ بنی إسرائیل : ٣٢ ]
” اور زنا کے قریب نہ جاؤ، بیشک وہ ہمیشہ سے بڑی بےحیائی ہے اور برا راستہ ہے۔ “

*اسی طرح قوم لوط کا عمل، کسی جانور سے بدفعلی اور ہاتھ یا کسی اور طریقے سے ایسا فعل بھی حد سے تجاوز ہے۔ اگرچہ تجاوز کے درجوں میں فرق ہے، مگر مومن کو کسی طرح بھی اللہ کی حدود سے تجاوز درست نہیں*

کچھ اہل علم نے اللہ تعالی کے اس فرمان سے بھی خود لذتی کو حرام قرار دیا،

🌹 اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِاور جو لوگ نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے تو وہ اس وقت تک عفت اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ تعالی انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے
[النور: 33]

*لہذا عفت اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شادی کے علاوہ ہر قسم کی جنسی تسکین سے صبر کریں*

احادیث نبویہ سے خود لذتی کے دلائل:

🌹 علمائے کرام نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کو دلیل بنایا کہ جس میں ہے کہ:
“ہم نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہمارے پلے کچھ نہیں تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں سے شادی کی ضروریات [شادی کے اخراجات اور جماع کی قوت] رکھتا ہے وہ شادی کر لے؛ کیونکہ یہ نظروں کو جھکانے والی ہے اور شرمگاہ کو تحفظ دینے والی ہے، اور جس کے پاس استطاعت نہ ہو تو وہ روزے لازمی رکھے، یہ اس کیلیے توڑ ہے [یعنی حرام میں واقع ہونے سے رکاوٹ بن جائے گا])”
( صحیح بخاری: حدیث نمبر_5066)

*تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی استطاعت نہ رکھنے کی صورت میں روزہ رکھنے کی تلقین فرمائی حالانکہ روزہ رکھنا مشکل کام ہے، لیکن آپ نے خود لذتی کی اجازت نہیں دی، حالانکہ خود لذتی روزے کی بہ نسبت ممکنہ آسان حل ہے اور ایسی صورت میں فوری حل بھی ہے، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی،*

*نوٹ_*
*ہاتھ سے منی نکالنا اگرچہ ایک قبیح اور مروّت کے خلاف فعل ہے اور حد سے بڑھنا ہے، مگر اس کی وعید میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں ان میں سے کوئی بھی حدیث صحیح ثابت نہیں،*

مثلاً روایت :

🚫( نَاکِحُ الْیَدِ مَلْعُوْنٌ )
” ہاتھ سے نکاح کرنے والا ملعون ہے۔

“🚫 اور یہ روایت کہ سات آدمی ہیں جن کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور انھیں آگ میں سب سے پہلے داخل کرے گا، ان میں سے پہلا ” نَاکِحُ الْیَدِ “ (ہاتھ سے نکاح کرنے والا) ہے

🚫اور ایک یہ روایت کہ قیامت کے دن مشت زنی کرنے والوں کے ہاتھ حمل کی حالت میں ہوں گے، وغیرہ۔

*یہ سب روایات غیر مستند ہیں*

_______&&____________

*رہا یہ مسئلہ کہ جو شخص اس گناہ میں ملوث ہو تو اس کیلیے اس بیماری سے بچنے کیلیئے متعدد مشورے اور عملی اقدامات ہیں :*

1- اس گناہ سے بچنے کا محرک یہ ہو کہ میں نے اللہ کے حکم کی پاسداری کرنی ہے اور اللہ کی ناراضی سے بچنا ہے۔

2- اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پہ عمل کرے اور شادی کر لے۔

3- مشت زنی اور خود لذتی کی طرف لے جانے والے خیالات اور وسوسوں سے دور رہے، اپنے ذہن اور فکر کو دینی اور دنیاوی مفید سر گرمیوں میں مشغول رکھے؛ کیونکہ وسوسوں میں پڑ کر انہی میں گھِرتے چلے جانے سے وسوسوں کا انسان پر تسلط قائم ہو جاتا ہے اور پھر بیماری عادت بن جاتی ہے اور اس سے خلاصی پانا مشکل ہو جاتا ہے۔

4- نظروں کی حفاظت کریں؛ کیونکہ ہیجان انگیز تصاویر یا ویڈیوز دیکھنے سے شہوت بھڑکتی ہے اور انسان حرام کام پر آمادہ ہو جاتا ہے، اسی لیے
🌹 اللہ تعالی کا فرمان ہے:قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْآپ کہہ دیں مومنوں کو وہ اپنی نظریں جھکا کر رکھیں۔
[النور: 30]،
اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (ایک نظر کے بعد دوسری مرتبہ نظر مت دوڑاؤ)
ترمذی: (2777)
اور صحیح الجامع (7953)میں [البانی نے] اسے حسن قرار دیا ہے۔

لہذا پہلی نظر وہ ہے جو اچانک پڑ جائے، تو اچانک پڑنے والی نظر میں کوئی گناہ نہیں ہے؛ لیکن دوسری نظر حرام ہے، اسی طرح ایسی جگہوں سے بھی دور رہیں جہاں پر ہیجان انگیز صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔

5- مختلف قسم کی عبادات میں مصروف عمل رہیں اور گناہ کیلیے فرصت ہی نہ چھوڑیں۔

6- مشت زنی اور خود لذتی سے جسمانی صحت پر رونما ہونے والے طبی نقصانات کو ذہن میں اجاگر رکھیں کہ اس سے نظر کمزور ہوتی ہے، اعصاب ڈھیلے پڑتے ہیں اور عضو خاص بھی کمزور ہو جاتا ہے، اسی طرح کمر کا درد شروع ہو جاتا ہے، یا اسی طرح کے دیگر نقصانات اہل طب بیان کرتے ہیں ان سب کو ذہن نشین رکھیں۔ ایسی ہی نفسیاتی نقصانات مثلاً: ذہنی تناؤ اور ضمیر کی ملامت، ان سب نقصانات میں سے سب سے بڑھ کر یہ کہ نمازیں ضائع ہو جائیں گی کیونکہ بار بار غسل کرنا پڑے گا یا غسل کرنے کو دل نہیں چاہے خصوصا جب سردیوں کا موسم ہو، اسی طرح روزہ خراب ہو جائے گا۔

7- اپنے آپ کی دی گئی غلط تسلیوں سے دور کریں؛ کیونکہ کچھ نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے آپ کو زنا یا لواط سے بچانے کیلیے خود لذتی جائز ہے، حالانکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ انسان زنا یا لواط کے قریب جا ہی نہ سکتا ہو۔

8- ارادی قوت اور عزم مصمم ہر وقت ساتھ ہو، اور یہ کہ اپنے آپ کو شیطان کے سامنے ڈھیر مت کرے، تنہائی سے بچے ، مثلاً رات کو اکیلے مت سوئے، اور ویسے بھی
🌹 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: (کوئی بھی شخص اکیلے رات مت گزارے)
( اسے امام احمد نے روایت کیا ہے اور صحیح الجامع (6919) میں بھی موجود ہے۔

9- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تجویز کردہ کار گر علاج اپنائے ، یعنی روزے رکھے، کیونکہ روزہ شہوانیت کو ماند کر دیتا ہے اور جنسی خواہش کو معتدل بنا دیتا ہے، تاہم غیر مناسب طریقے مت اپنائے کہ قسم اٹھا لے کہ آئندہ ایسا نہیں کروں گا ، یا نذر مان لے؛ کیونکہ اگر اس نے دوبارہ یہی کام کر لیا تو یہ قسم توڑنے کی بنا پہ ایمان میں کمی کا باعث ہو گا ، اسی طرح ایسی ادویات مت استعمال کرے جو شہوت کو ٹھنڈا کر دیں؛ کیونکہ ان سے طبی اور جسمانی نقصانات رونما ہو سکتے ہیں، کیونکہ صحیح احادیث میں یہ بھی منع ہے کہ انسان ایسی چیزیں کھائے جن سے شہوت کلی طور پر ختم ہو جائے۔

10- سوتے وقت سونے کے اذکار کی پابندی کرے، دائیں کروٹ پہ سوئے اور منہ کے بل اوندھا مت لیٹے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح لیٹنے سے منع فرمایا ہے۔

11- گناہوں سے دوری اور پاکدامنی کا دامن کبھی نہ چھوٹے؛ کیونکہ حرام کاموں سے رکے رہنا ہمارے لیے لازمی ہے؛ اگرچہ نفس چاہتا ہے کہ گناہ کرے۔ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ جب نفس عفت اور پاکدامنی کا عادی ہو جائے تو پھر یہ انسان کی فطرت ثانیہ بن جاتی ہے؛

🌹کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (جو شخص عفت چاہے اللہ تعالی اسے پاکدامنی عطا کر دیتا ہے اور جو اللہ تعالی سے تونگری چاہے تو اللہ تعالی اسے غنی فرما دیتا ہے اور جو صبر چاہے اللہ تعالی اسے صبر عطا کر دیتا ہے، اور کوئی شخص صبر جیسی نعمت عطا نہیں کیا گیا)
( صحیح بخاری مع الفتح: (9/146)

12- اگر انسان اس گناہ میں ملوث ہو بھی جائے تو فوری توبہ استغفار کر لے، نیکی کرے ، مایوسی اور اداسی کا شکار نہ ہو؛ کیونکہ یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔

13_۔ اپنے کمپیوٹر وغیرہ کو ایسی جگہ رکھیے جہاں دوسروں کی نظر پڑتی ہو۔ اس سے فحش ویب سائٹس پر جانے کا امکان کم ہو جائے گا۔

14۔ اگر آپ کی دوستی کچھ ایسے لوگوں سے ہے جو شہوانی گفتگو کرتے ہیں، تو ان سے دوستی ترک کر دیجیے اور اچھے اور دیندار لوگوں کے ساتھ دوستی بڑھائیے۔ یہی معاملہ انٹرنیٹ پر دوستیوں کا بھی ہے۔ اگر آپ بالفرض میرا شمار معقول لوگوں میں کریں تو میں دوستی کے لیے حاضر ہوں۔

15۔ فلموں اور ٹی وی سے حتی الامکان اجتناب کیجیے تاکہ شہوت کو برانگیختہ کرنے والے عوامل کم سے کم ہوں۔ اسی طرح مخلوط محفلوں میں جانے سے ہر ممکن بچیے۔

16۔ حس جمال (Aesthetic Sense) کو خواتین کی بجائے دیگر خوبصورت چیزوں جیسے قدرتی مناظر وغیرہ سے پورا کیجیے۔

17۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالی کے ساتھ توبہ کا تعلق قائم رکھیے۔ ہو سکے تو صبح ذرا جلدی اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھیے اور اللہ تعالی کے حضور رو رو کر دعا کیجیے۔ جو احساس آپ کے اندر ہے، اسے ہر ممکن طریقے سے زندہ رکھیں، اس دعا کے ذریعے بھی قبیح عادت سے خلاصی کا علاج ہو سکتا ہے اور یہ سب سے مؤثر علاج ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہے جب بھی وہ اللہ کو پکارتا ہے۔

18_آخری بات کہ والدین اس بات پر خصوصی توجہ دیں جب اولاد بالغ ہو جائے تو انکی جلد سے جلد مسنون طریقہ سے شادی کر دیں تا کہ بچے اس قبیح برائی سے بچ سکیں،

*اللہ پاک سب پر رحم فرمائیں اور اس طرح کی بیماریوں سے نجات دیں، آمین*

*واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب*

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں