4

سوال_ حج اکبر کسے کہتے ہے اور اسکا معنی کیا ہے؟ ہمارے ہاں مشہور ہے کہ اگر جمعہ والے دن حج آ جائے تو وہ حج اکبر ہوتا ہے جیسا کہ اس سال 2022 میں ہوا۔۔۔ کیا یہ بات صحیح ہے ؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر -378″
سوال_ حج اکبر کسے کہتے ہے اور اسکا معنی کیا ہے؟ ہمارے ہاں مشہور ہے کہ اگر جمعہ والے دن حج آ جائے تو وہ حج اکبر ہوتا ہے جیسا کہ اس سال 2022 میں ہوا۔۔۔ کیا یہ بات صحیح ہے ؟

Published Date: 21-7-2022

جواب..!
الحمد للہ…..!

*کم علمی کیوجہ سے لوگوں کے اندر بہت سی جھوٹی اور بے بنیاد باتیں مشہور ہو چکی ہیں، پہلے تو کچھ لوگ گھر بیٹھے ٹی وی اینکرز سے دین سیکھتے تھے، اب سوشل میڈیا کا زمانہ ہے تو ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل ہے اور لوگ موبائل پر ملنے والے ہر اسلامی میسج اور ہر اسلامی پوسٹ کو دین سمجھ لیتے ہیں اور نا صرف خود سمجھ لیتے ہیں بلکہ اپنی ذمہ داری اور نیکی سمجھ کر اس غیر مستند بات کو آگے شیئر بھی کر دیتے ہیں اور شئیر کرنے پر ساتھ میں ساٹھ ستر سال کے گناہ بھی معاف کروا لیتے ہیں، یہ انتہائی افسوس کی بات ہے ۔۔۔ اللہ پاک نے ہمیں عقل و شعور دیا ہے جب ہم دنیا داری میں ہر چیز کی تسلی کرتے ہیں، دکاندار اچھا ڈھونڈتے ، چیز کی کوالٹی، دیکھتے، مارکیٹ ریٹ چیک کرتے۔۔وغیرہ وغیرہ تو صرف دین کی بات لینے میں ہم تحقیق کیوں نہیں کرتے۔۔۔ کسی ہوٹل/ بس اڈے پر کسی داڑھی والے کو کچھ کہتا سن لیا تو سبحان اللہ پڑھ کر اسکی بات کو دین سمجھ لیا، کسی کی فیس بک وال پر یا واٹس ایپ پر میسج دیکھ لیا تو اسکو دین سمجھ لیا بھلے وہ بات صحیح ہو یا غلط ،*
محترم قارئین..!
ہمیں ہر خبر کی تصدیق کر کے آگے پھیلانی چاہیے ۔۔۔ خاص کر دین کی بات،
کیونکہ عام لوگوں کی طرف جھوٹ منسوب کرنا تو گناہ ہے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیطرف جان بوجھ کر جھوٹ منسوب کرنا کبیرہ گناہ ہے۔۔۔
📚جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ، مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ،
میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
(صحیح بخاری -1291)
لہذا جب بھی آپ کوئی بات کہیں یا شئیر کریں کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔۔۔۔ تو اس کی تصدیق کر لیں کہ واقع نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بات ارشاد فرمائی ہے یا لوگوں کی پھیلائی ہوئی من گھڑت بات ہے۔ ۔۔۔

مزید تفصیل کیلیے دیکھیے
📚سوشل میڈیا پر احادیث کو بغیر تصدیق کے شئیر کرنا کیسا ہے؟
(((سلسلہ سوال و جواب نمبر – 242)))

______&______

اب آتے ہیں اصل سوال کیطرف !

*حج اکبرکا دن، یوم النحر یعنی قربانی کا دن ہے اور یہ ذوالحجہ کی دس تاریخ کو ہوتا ہے،*

قرآن میں اللہ پاک فرماتے ہیں. ۔۔۔!

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

📚وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ يَوۡمَ الۡحَجِّ الۡاَكۡبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِىۡۤءٌ مِّنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ‌ ۙ وَ رَسُوۡلُهٗ‌ ؕ فَاِنۡ تُبۡتُمۡ فَهُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ ‌ۚ وَاِنۡ تَوَلَّيۡتُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّكُمۡ غَيۡرُ مُعۡجِزِى اللّٰهِ‌ ؕ وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍۙ ۞
(سورة التوبة: آئیت نمبر-3)
ترجمہ:
اور اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے حج اکبر کے دن تمام لوگوں کی طرف صاف اعلان ہے کہ اللہ مشرکوں سے بری ہے اور اس کا رسول بھی۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر منہ موڑو تو جان لو کہ یقینا تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں اور جنھوں نے کفر کیا انھیں دردناک عذاب کی بشارت دے دے۔

*اس آئیت کی تفسیر میں امام بخاری رحمہ اللہ یہ حدیث لائے ہیں،*

📚صحیح بخاری
کتاب: تفاسیر کا بیان
باب: باب: آیت کی تفسیر ”اور اعلان (کیا جاتا ہے) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کے سامنے بڑے حج کے دن کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بیزار ہیں، پھر بھی اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر تم منہ پھیرتے ہی رہے تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو اور کافروں کو عذاب درد ناک کی خوشخبری سنا دیجئیے“ «آذنهم أعلمهم» یعنی ان کو آگاہ کیا۔
حدیث نمبر: 4656
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي تِلْكَ الْحَجَّةِ فِي الْمُؤَذِّنِينَ، ‏‏‏‏‏‏بَعَثَهُمْ يَوْمَ النَّحْرِ يُؤَذِّنُونَ بِمِنًى، ‏‏‏‏‏‏أَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ حُمَيْدٌ:‏‏‏‏ ثُمَّ أَرْدَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِبَرَاءَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ فَأَذَّنَ مَعَنَا عَلِيٌّ فِي أَهْلِ مِنًى يَوْمَ النَّحْرِ بِبَرَاءَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ لَا يَحُجَّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَطُوفَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ.
ترجمہ:
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا: ابوبکر صدیق ؓ نے حج کے موقع پر (جس کا نبی کریم ﷺ نے انہیں امیر بنایا تھا) مجھ کو ان اعلان کرنے والوں میں رکھا تھا جنہیں آپ نے یوم نحر میں بھیجا تھا۔ منیٰ میں یہ اعلان کرنے کے لیے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور نہ کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگا ہو کر کرے۔ حمید نے کہا کہ پھر پیچھے سے نبی کریم ﷺ نے علی ؓ کو بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ سورة برات کا اعلان کردیں۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ علی ؓ نے ہمارے ساتھ منیٰ کے میدان میں دسویں تاریخ میں سورة برات کا اعلان کیا اور یہ کہ کوئی مشرک آئندہ سال سے حج کرنے نہ آئے اور نہ کوئی بیت اللہ کا طواف ننگا ہو کر کرے۔

*یہاں یوم حج اکبر سے مراد 10 ذوالحجہ ہے، جس دن حاجی منیٰ میں آکر قربانی کرتے ہیں، جسکی وضاحت درج ذیل احادیث میں موجود ہے،*

📚صحیح بخاری
کتاب: جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ
باب: باب: عہد کیوں کر واپس کیا جائے؟
حدیث نمبر: 3177
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَعَثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِيمَنْ يُؤَذِّنُ يَوْمَ النَّحْرِ بِمِنًى لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَيَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ يَوْمُ النَّحْرِ وَإِنَّمَا قِيلَ الْأَكْبَرُ مِنْ أَجْلِ قَوْلِ النَّاسِ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَنَبَذَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّاسِ فِي ذَلِكَ الْعَامِ فَلَمْ يَحُجَّ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ الَّذِي حَجَّ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْرِكٌ.
ترجمہ:
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے کہ ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ ابوبکر ؓ نے (حجۃ الوداع سے پہلے والے حج کے موقع پر) دسویں ذی الحجہ کے دن بعض دوسرے لوگوں کے ساتھ مجھے بھی منیٰ میں یہ اعلان کرنے بھیجا تھا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر نہ کرے اور حج اکبر کا دن دسویں تاریخ ذی الحجہ کا دن ہے۔ اسے حج اکبر اس لیے کہا گیا کہ لوگ (عمرہ کو) حج اصغر کہنے لگے تھے، تو ابوبکر ؓ نے اس سال مشرکوں سے جو عہد لیا تھا اسے واپس کردیا، اور دوسرے سال حجۃ الوداع میں جب نبی کریم ﷺ نے حج کیا تو کوئی مشرک شریک نہیں ہوا۔

ایک اور حدیث ملاحظہ فرمائیں!

📚سنن ابوداؤد
کتاب: مناسک حج کا بیان
باب: حج اکبر کا بیان
حدیث نمبر: 1945
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ الْغَازِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا نَافِعٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ يَوْمَ النَّحْرِ بَيْنَ الْجَمَرَاتِ فِي الْحَجَّةِ الَّتِي حَجَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَوْمُ النَّحْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ.
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نحر کے روز (دسویں ذی الحجہ کو) حجۃ الوداع میں جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور لوگوں سے پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟ ، لوگوں نے جواب دیا: یوم النحر، آپ ﷺ نے فرمایا: یہی حج اکبر کا دن ہے،
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الحج ١٣٢ (١٧٤٢ تعلیقًا)، سنن ابن ماجہ/المناسک ٧٦ (٣٠٥٨)، ( تحفة الأشراف: ٨٥١٤) (صحیح )

*ان احادیث سے پتہ چلا کہ قرآن مجید میں جو يوم الحج الأكبر آیا ہے اس سے مراد یوم نحر ہی ہے، یعنی قربانی کا دن، اور حج کو ہی حج اکبر کہا جاتا ہے اور عمرہ کو حج اصغر، اور وہ جو عوام میں مشہور ہے کہ ” جمعہ کے دن یوم عرفہ پڑے تو حج اکبر ہے ” تو یہ بات بے دلیل اور بے اصل ہے۔ اسکی کوئی حیثیت نہیں*

📙 سعودی عرب کی مشہور فتاویٰ ویبسائٹ
*الاسلام سوال وجواب islamqa.info*
پر یہ سوال پوچھا گیا کہ
السؤال:
ما معنى يوم الحج الأكبر والحج الأكبر ؟ وهل هما في معنى واحد ، أو يختلف أحدهما عن الآخر ؟ وهل كل منهما موجود في القرآن الكريم والسنة الصحيحة ؟.
یعنی کہ اکبر کا دن اور حج اکبر کا معنی کیا ہے ؟ اور کیا ان دونوں کا معنی ایک ہی ہے یا ایک دوسرے سے مختلف ہے ؟
اورکیا قرآن وسنت میں اس کا کوئي وجود ملتا ہے ؟
تو انکا جواب یہ تھا..!
📚الحمد لله.
يوم الحج الأكبر هو يوم النحر ( وهو اليوم العاشر من شهر ذي الحجة ) ، ( فقد ) أخرج أبو داود عن ابن عمر رضي الله عنهما ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقف يوم النحر في الحجة التي حج فيها فقال : ( أي يوم هذا ؟ ) فقالوا : يوم النحر ، فقال : ( هذا يوم الحج الأكبر ) ، ( سنن أبي داوود (1945) وصححه الألباني في صحيح أبي داود (1700) )

وأخرج البخاري (369) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : بعثني أبو بكر الصديق رضي الله عنه فيمن يؤذن يوم النحر بمنى : ( لا يحج بعد العام مشرك ، ولا يطوف بالبيت عريان ) .

وسمي يوم النحر يوم الحج الأكبر ؛ لما في ليلته من الوقوف بعرفة ، والمبيت بالمشعر الحرام ، والرمي في نهاره والنحر والحلق والطواف والسعي من أعمال الحج ، ويوم الحج هو الزمن ، والحج الأكبر هو العمل فيه ، وقد ورد ذكر يوم الحج الأكبر في القرآن قال تعالى : ( وأذان من الله ورسوله إلى الناس يوم الحج الأكبر ) التوبة / 3
وبالله التوفيق .
*جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ،*
قربانی والا دن یعنی دس ذوالحجۃ ہی حج اکبر کا دن ہے، (دلیل میں آگے دو احادیث بیان کی گئی جو ہم اوپر پڑھ چکے ہیں)
اور قربانی والے دن کوحج اکبر کا دن اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں وقوف عرفہ کی رات اور مشعر حرام میں رات بسر کرنا ، اور اس کے دن میں رمی کرکے قربانی کرنا اور سر منڈوانا اور اس کےبعد طواف افاضہ اور سعی کرنا حج کے اعمال میں شامل ہوتا ہے ، اور یوم الحج ایک زمانہ اور وقت ہے اورحج اکبر اس میں کیے جانے والے اعمال ہيں ۔
اور قرآن مجید میں بھی حج اکبر کے دن کا ذکر موجود ہے اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :
اور اللہ تعالی اوراس کے رسول کی طرف سے لوگوں کوبڑے حج کے دن صاف اطلاع ہے
( التوبۃ_3 )
اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔ .
( دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 11 / 220 )

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 👇

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں