26

سوال- عصر حاضر میں بہت سی مساجد میں دیکھا گیا ہے کہ انہیں بیل بوٹوں اور شیشوں وغیرہ سے سجایا جاتا ہے، انکی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نیز آجکل گھروں اور مساجد میں اکثر ڈیزائننگ اور کعبہ وغیرہ کی تصویروں والے جائے نماز ہوتے ہیں، کیا ان پر نماز ہو جاتی ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-366”
سوال- عصر حاضر میں بہت سی مساجد میں دیکھا گیا ہے کہ انہیں بیل بوٹوں اور شیشوں وغیرہ سے سجایا جاتا ہے، انکی شرعی حیثیت کیا ہے؟ نیز آجکل گھروں اور مساجد میں اکثر ڈیزائننگ اور کعبہ وغیرہ کی تصویروں والے جائے نماز ہوتے ہیں، کیا ان پر نماز ہو جاتی ہے؟

Published Date: 20-1-2022

جواب…!
الحمدللہ..!

*مساجد کا اصل مقصود یہ ہے کہ ان میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر تلاوت قرآن اور نماز جیسی عبادات سر انجام دی جائیں اور انہی امور سے مساجد آباد ہوتی ہیں ۔ لیکن آج کل مساجد کی تعمیر میں بناؤ سنگھار، نقش و نگار اور بیل بوٹوں پر زر کثیر صرف کیا جا رہا ہے لیکن عبادات کی طرف توجہ کم ہو گئی ہے۔ نمازی حضرات کی تعداد میں کمی اور مساجدوعبادات کی گلکاری اور کشیدہ کاری میں وافر مقدار میں حصہ لیا جا رہا ہے۔اور یہ علامات قیامت سے ہے۔*

دلائل ملاحظہ فرمائیں!

📚سنن ابوداؤد
کتاب: نماز کا بیان
باب: مسجد بنانے کا بیان
حدیث نمبر: 449
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ.
ترجمہ:
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر و مباہات نہ کرنے لگیں،
وضاحت:
یعنی ایک دوسرے پر فخر کرے گا کہ میری مسجد بلند، عمدہ اور مزین ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت سے زیادہ مسجدوں کی آرائش و زیبائش اور زیادہ روشنی شرعاً ممنوع اور ناپسندیدہ ہے، مسجد کی اصل زینت اور آرائش یہ ہے کہ وہاں پنچ وقتہ اذان و اقامت اور سنت کے مطابق نماز اپنے وقت پر ہو۔

*یہ حدیث بالکل صحیح ہے اور درج ذیل کتابوں میں بھی موجود ہے*
(نسائی کتاب المساجد باب المباھاۃ فی المساجد_688)
(ابن ماجہ کتاب المساجد باب تشید المساجد_739)
(شرح السنہ2/350_464)
(ابن حبان_308) (سنن دارمی باب فی تزویق المساجد 1/268_ 1415)
(مسند ابی یعلیٰ 5/185_2799۔2798)
(مسند احمد 3/134،153۔1430۔)
(طبرانی کبیر _752)
(طبرانی صغیر 2/114)
(ابن خزیمہ_1322٫ 1323)

📚ابن خزیمہ اور ابی یعلیٰ وغیرہ میں انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ:
“يأتي على أُمَّتِي زَمَانٌ يَتَبَاهَوْنَ بالمساجِدِ ثُمَّ لا يَعْمُرُونَهَا إلاَّ قليلاً”
“میری امت پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ مسجدوں پر فخر کریں گے انہیں بہت تھوڑا ہی آباد کریں گے۔”
(شعيب الأرنؤوط تخريج المسند ١٩‏/٣٧٣ • إسناده حسن)
(أخرجه أبو يعلى_2817)
(وابن خزيمة _1321)،
(والضياء في «الأحاديث المختارة»_2239)
(الألبانى تمام المنة ٢٩٤ • بهذا اللفظ ضعيف)
(نیز دیکھیں شرح السنہ 2/351)

اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ!

📚سنن ابوداؤد
کتاب: نماز کا بیان
باب: مسجد بنانے کا بیان
حدیث نمبر: 448
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي فَزَارَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا أُمِرْتُ بِتَشْيِيدِ الْمَسَاجِدِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتْ الْيَهُودُ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّصَارَى.
ترجمہ:
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے مسجدوں کے بلند کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: تم مسجدیں اسی طرح سجاؤ گے جس طرح یہود و نصاریٰ سجاتے تھے۔
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٥٥٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات ٢ (٧٤٠) (صحیح )
(شرح السنہ 2/348)
(نیز بخاری میں تعلیقاً مروی ہے)

*اور آج بالکل یہی کیفیت ہے کہ مساجد کو اس قدر منقش کر دیا گیا ہے کہ نمازی کا خشوع وخضوع متاثر ہوتا ہے اور توجہ الی اللہ میں خلل اندازی ہوتی ہے۔ مناسب یہ ہے کہ مساجد کی دیواریں اور محراب سادہ ہوں ،کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیوار پر لٹکے ہوئے پردے کو صرف اس لیے اتروا دیا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے توجہ ہٹاتا تھا۔*

📚حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں۔
“وعن أنس رضي الله عنه قال كان قرام لعائشة سترت به جانب بيتها فقال لها النبي – صلى الله عليه وسلم – أميطي عنا قرامك هذا فإنه لا يزال تصاويره تعرض في صلاتي ”
“سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا جو انھوں نے اپنے گھر کی دیوار پر لٹکایا ہوا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے(وہ پردہ دیکھ کر)فرمایا:یہ پردہ ہم سے دور کر دو یعنی دیوار سے اتار دو اس کی تصوریں نماز میں میرے سامنے پھرتی رہتی ہیں۔”
(بخاری کتاب الصلوۃ باب ان صلیٰ فی ثوب مصلب اور تصاویر ھل تفسدصلاتہ _374)
(مسند احمد 3/151۔283)

📙علامہ محمد بن اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ ، امیر یمنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
“في الحديث دلالة : على إزالة ما يشوش على المصلي صلاته : مما في منزله أو في محل صلاته”
(سبل السلام 1/347فتح العلام 1/214)

📙نواب صدیق حسن خان قنوجی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
دریں جا دلیل است برازالہ چیزی کہ مصلیٰ رامشوش کنددر نماز ازانچہ در خانہ یا در محل نماز اوست (مسک الختام 1/339)

دونوں عبارتوں کا مطلب یہ ہے کہ:
“اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو چیز نمازی کی نماز میں تشویش کا باعث ہو۔ اسے زائل کر دینا چاہیے ۔ وہ چیز اس کے گھر میں ہو یا نماز پڑھنے والی جگہ میں۔”

📚حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ:
“عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عنها : أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلامٌ ، فَنَظَرَ إلَى أَعْلامِهَا نَظْرَةً ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : اذْهَبُوا بِخَمِيصَتِي هَذِهِ إلَى أَبِي جَهْمٍ , وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةِ أَبِي جَهْمٍ ؛ فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِي آنِفًا عَنْ صَلاتِي . ” وفي رواية كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عَلَمِهَا ، وَأَنَا فِي الصَّلاَةِ فَأَخَافُ أَنْ تَفْتِنَنِي ”
“نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونی چادر میں نماز پڑھی جس میں دھاریاں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نظر ان دھاریوں کی طرف دیکھا ۔ جب نماز سے سلام پھیرا تو فرمایا:میری یہ اونی چادر ابی جہم کو واپس کردو اور کڑھائی کے بغیر لے کر آؤ ۔ اس کڑھائی والی چادر نے ابھی مجھے میری نماز سے غافل کر دیا۔ دوسری روایت میں ہے میں نماز میں اس کی طرف دیکھنے لگا تو مجھے ڈر لاحق ہوا کہ یہ مجھے فتنے میں ڈال دے گی۔”
(بخاری کتاب الصلاۃ باب اذا صلی فی ثوب لہ اعلام و نظر الی علمھا_ حدیث نمبر373، و کتاب الاذان باب الالتفات فی الصلاۃ _ حدیث نمبر752، و کتاب اللباس باب الاکسیاۃ والخمائص_حدیث 5817) (مسلم کتاب المساجد باب کراھۃ الصلاۃ فی ثوب لہ اعلام_556)

📙امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں ۔
“فَفِيهِ الْحَثّ عَلَى حُضُور الْقَلْب فِي الصَّلَاة, وَتَدَبُّر مَا ذَكَرْنَاهُ, وَمَنْع النَّظَر مِنْ الِامْتِدَاد إِلَى مَا يَشْغَل, وَإِزَالَة مَا يَخَاف اِشْتِغَال الْقَلْب بِهِ، وَكَرَاهِيَة تَزْوِيق مِحْرَاب الْمَسْجِد, وَحَائِطه, وَنَقْشه, وَغَيْر ذَلِكَ مِنْ الشَّاغِلَات؛ لِأَنَّ النَّبِيّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ الْعِلَّة فِي إِزَالَة الْخَمِيصَة هَذَا الْمَعْنَى”
(شرح مسلم للنووی:5/38)
“اس حدیث میں نماز کے اندر حضور قلب اور ذکر و تلاوت اور مقاصد نماز پر تدبر کرنے میں رغبت دلائی گئی ہے اور جو چیز نماز سے بے خبر کرتی ہے۔ اس کی طرف نظر پھیلانے کی ممانعت اور جو چیز نماز سے بے خبر کرتی ہے اس کا ازالہ کرنا اور مسجد کے محراب اور اس کی دیواروں کو بناؤ سنگھار اور نقش و نگار کرنا اور اس جیسی دیگر بے خبر کرنے والی اشیاء کی کراہت ہے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دھاری دار چادر کو زائل کرنے کی یہی علت ذکر کی ہے۔”

*ان احادیث صحیحہ اور شارحین حدیث کی تشریحات سے معلوم ہوا کہ مساجد کے در و دیوار اور محراب کو منقش کرنا، شیشے وغیرہ سے مزین کرنا اور ان جیسی دیگر اشیاء مکروہ ہیں جو نماز سے نمازی کی توجہ ہٹاتی ہیں اور خشوع و خضوع اور تذلل و عاجزی میں کمی کرتی ہیں تاہم نماز فاسد نہیں ہو گی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کا اعادہ نہیں فرمایا تھا اور نہ ہی نماز کو توڑا تھا جس سے ثابت ہوا کہ نماز تو ہو گئی مگر توجہ بٹ گئی اس لیے بہتر اولیٰ یہی ہے کہ شیشے اور بیل بوٹے وغیرہ والی جائے نماز یا محراب نہ بنایا جائے۔کیونکہ یہ اشیاء نماز سے توجہ ہٹاتی ہیں۔*

ماخذ: (آپ کے مسائل اور ان کا حل ,
جلد2۔كتاب المساجد۔صفحہ نمبر 207)

__________&&_____________

*سعودی فتاوی ویبسائٹ islamqa.info پر اسی طرح کا ایک سوال پوچھا گیا کہ:*

📙سوال- کیا مصلوں پر بنی ہوئی کعبہ اور مقدس مقامات کی تصاویر کو قدموں تلے روندنا حرام ہے؟ مقدس مقامات کی تصاویر کو اہانت سے بچانے کے لئے ایک تحریک چلی ہوئی ہے کہ ایسے مصلوں کو نہ خریدا جائے ، اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟؟

📚جواب..!
جمادات اور درخت وغیرہ جن میں روح نہیں ہوتی ان کی تصاویر میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی میں کعبہ اور دیگر مقدس مقامات کی تصاویر شامل ہیں، بشرطیکہ ان میں لوگوں کی تصاویر نہ ہوں۔
تاہم نماز پڑھتے ہوئے یہ مناسب نہیں ہے کہ نمازی کے سامنے یا اس کے مصلے پر تصاویر وغیرہ بنی ہوئی ہوں؛ کیونکہ ان سے ذہن منتشر ہونے کا امکان ہوتا ہے، جیسے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بار موٹی اونی چادر میں نماز پڑھی اس پر دھاریاں بنی ہوئی تھیں، تو آپ اس کی دھاریوں کی جانب کچھ دیر دیکھتے رہے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: (میری یہ چادر ابو جہم کے پاس لے جاؤ اور مجھے ابو جہم کی [بغیر دھاریوں کے سادہ]موٹی چادر لا دو، ابھی اِس چادر نے مجھے نماز سے مشغول کر دیا تھا) ہشام بن عروہ اپنے والد سے ذکر کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ: نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (میں نماز کے دوران اس کی دھاریوں کی طرف دیکھتا رہا، تو مجھے خدشہ ہوا کہ یہ مجھے فتنے میں نہ ڈال دے)
اس حدیث کو امام بخاری: (373) اور مسلم : (556)نے روایت کیا ہے۔
چنانچہ منقوش اور پھول بوٹے بنے ہوئے ان مصلوں پر نماز کی کراہت اس لیے ہے کہ نمازی ان کو دیکھ کر نماز سے مشغول ہو جاتا ہے، لہذا سوال میں موجود سبب کے بر عکس مقدس مقامات کی تصاویر کی بے ادبی نماز پڑھنے سے روکنے کا سبب نہیں ہے۔ مزید برآں مصلوں پر موجود تصویروں میں کوئی بے ادبی محسوس نہیں ہوتی، بلکہ ایسے مصلے بنانے والے اس چیز کا خیال رکھتے ہیں اور عام طور پر قدموں کی جگہ کو ایسی تصاویر سے خالی رکھتے ہیں۔

📙شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے تصاویر بنے ہوئے مصلوں پر نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ:
“ہمارا یہ موقف ہے کہ امام کے لئے ایسا مصلی رکھنا ہی نہیں چاہیے کہ جس میں تصاویر ہوں؛ کیونکہ ایسا ممکن ہے کہ تصاویر کی وجہ سے توجہ منقسم ہو جائے اور نماز میں خلل واقع ہو، اسی لیے جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک دھاری دار چادر میں نماز ادا کی تو آپ اس کی دھاریوں کو دیکھنے لگے ، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: (میری یہ چادر ابو جہم کے پاس لے جاؤ اور مجھے ابو جہم کی [بغیر دھاریوں کے سادہ]موٹی چادر لا دو، ابھی اِس چادر نے مجھے نماز سے مشغول کر دیا تھا) اس حدیث کو بخاری و مسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
اور اگر اس طرح ہو کہ امام ان تصاویر سے مشغول ہو ہی نہیں سکتا؛ کیونکہ امام نابینا ہے، یا پھر اس طرح کی بہت سی تصاویر اس کی آنکھوں سے گزرتی ہیں تو اب وہ ان تصاویر کو اہمیت ہی نہیں دیتا اور نہ ہی ان کی طرف توجہ کرتا ہے تو ایسی صورت میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اللہ تعالی عمل کی توفیق دے۔” ختم شد
(“مجموع فتاوى الشیخ ابن عثیمین” (12/362)

______&______

📙 اسی طرح دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی: (6/181) میں سوال ہے کہ:
“سوال: ایسے قالینوں پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے جن پر اسلامی فن تعمیر کی شکلیں بنی ہوں، جیسے کہ آج کل مساجد میں بچھے ہوئے قالینوں پر ایسی تصاویر موجود ہوتی ہیں۔ اور یہ بھی بتلائیں کہ اگر ان تصاویر میں صلیب کی شکل بنی ہوئی ہو تو پھر اس پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہو گا؟ نیز یہ بھی واضح کر دیں کہ کسی بھی شکل پر صلیب ہونے کا حکم لگانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس میں نیچے والی لائن زیادہ لمبی ہو اور اوپر والا حصہ چھوٹا ہو، جبکہ دائیں بائیں چوڑائی برابر ہو، یا یہ کہ کوئی بھی دو خط ایک دوسرے کو کاٹ کر گزر جائیں تو وہ صلیب قرار پائے گی؟ ہم آپ سے امید کرتے ہیں کہ ہمیں اس موضوع کے متعلق رہنمائی دیں کیونکہ یہ مسئلہ اس وقت بہت عام ہو چکا ہے۔ اللہ تعالی آپ کو ہر طرح کا تحفظ دے اور آپ کی حفاظت فرمائے ۔

📚جواب:
اول: مسجدیں اللہ کے گھر ہیں، انہیں نماز قائم کرنے اور صبح و شام حضور قلب کے ساتھ اللہ کی تسبیح کے لئے بنایا جاتا ہے، اللہ کے سامنے گڑگڑانے، خشوع و خضوع کے اظہار اور خشیت کے لئے بنایا جاتا ہے۔
چنانچہ مسجد کے قالینوں اور در و دیوار پر نقش و نگار دل کو ذکر الہی سے غافل کر دیتے ہیں، اور نمازیوں کا بہت سے خشوع و خضوع انہی نقش و نگار کی نظر ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے سلف صالحین نے انہیں مکروہ شمار کیا ہے۔ لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنی مساجد کو ایسی تمام چیزوں سے محفوظ رکھیں، تا کہ ان کی عبادت کو مکمل تحفظ ملے، اور مزید اجر عظیم پانے اور ثواب حاصل کرنے کے لئے ایسی تمام جگہوں کو توجہ بانٹنے والی اشیا سے محفوظ رکھیں جہاں پر وہ اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کی جستجو کرتے ہیں۔ تاہم ان پر ادا کی گئی نماز صحیح ہے۔

دوم: صلیب عیسائیوں کا شعار ہے، عیسائی صلیب کو اپنے عبادت خانوں میں تعظیم کے لئے رکھتے ہیں، اور صلیب کو ایک جھوٹے دعوے اور باطل عقیدے کی علامت قرار دیتے ہیں، اور وہ ہے عیسی بن مریم علیہ السلام کو سولی دینا۔
حالانکہ اس بارے میں تو اللہ تعالی نے یہود و نصاری دونوں کو جھوٹا قرار دیا اور فرمایا:
📚وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ
ترجمہ: حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کے لئے (عیسیٰ) کا شبیہ بنا دیا گیا تھا [النساء: 157]
اس لیے مسلمانوں کے لئے صلیب کا نشان مساجد یا کسی اور جگہ کے قالین پر بنانا جائز ہی نہیں ہے، نہ ہی یہ جائز ہے کہ بنے ہوئے صلیب کے نشان کو باقی رکھیں بلکہ اس کو مٹانا اور ختم کرنا لازمی ہے، تا کہ اس غلط چیز سے دور رہ سکیں اور عیسائیوں کی عمومی اور مذہبی ہر طرح کی مشابہت سے بالا تر ہو سکیں، اور اگر صلیب کے عمودی اور افقی خط چھوٹے بڑے ہوں یا برابر ہوں ان میں کوئی فرق نہیں ہے، اسی طرح اگر صلیب کا بالائی حصہ زیریں حصے سے کم ہے یا برابر ہے اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔” واللہ اعلم
(ماخذ: الاسلام سوال و جواب)
_________&_______

*اسی طرح کا ایک سوال فتاویٰ کی کتاب “صراط مستقیم” میں درج ہے کہ..!*

📙سوال_ ساؤتھ آل (لندن ) سے قیوم عظیمی دو سوال کرتے ہیں..!
اول یہ کہ! یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ سعودی گورنمنٹ جو کہ اسلام سے قریب ترین حکومت سمجھی جاتی ہے’نے ایسی جائے نمازوں کی فروخت کی اجازت کیوں دے رکھی ہے۔
دوم یہ کہ جن لوگوں کے پاس ایسا جاء نماز ہو وہ اس کو کیا کریں کیونکہ میرے پاس ایسی ایک مخملی جاء نماز ہے؟!

📚جواب!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
آپ کا پہلا سوال یہ ہے کہ سعودی حکومت نے ان مصلوں کی پھر اجازت کیوں دے رکھی ہے۔ بنیادی بات تو یہ ہے کہ اسلام میں کسی کام کے حلال و حرام یا جائز و ناجائز ہونے کا معیار کسی حکومت کا عمل نہیں بلکہ کتاب و سنت ہے کوئی حکومت چاہے کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو اگر کسی ایک مسئلے میں وہ غلطی کرتی ہے تو ہمارے لئے ضروری نہیں کہ اس کو بھی جائز قرار دیں۔
سعودی حکومت بلاشبہ ایسے گئے گزرے دور میں بھی دوسرے ملکوں کے مقابلے میں اسلام کی بہت بہتر خدمت کر رہی ہے اور اسلامی احکام پر وہاں عمل درآمد بھی ہورہا ہے اور اسلامی قوانین کا عملی نفاذ بھی وہاں ہوتا ہے لیکن اس کے باوجودبعض معاملات میں ان سے کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں اور خود سعودی علما ءاس طرف حکومت کو توجہ دلاتے رہتے ہیں اور متعدد امور میں علماء کی نصیحت پر حکومت نے اصلاحی اقدامات بھی کئے ہیں۔ مصلوں پر بیل بوٹے اور مسجدوں میں نقش و نگار کے بارے میں جید سعودی علماء کرام کا بھی وہی موقف ہے جس کا اظہار مذکورہ فتوے میں کیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں اگر نرمی برتی جارہی ہے یا سستی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے تو اس میں علماء ہرگز قصور وار نہیں۔
اور پھر ایسے مصلوں کے حرام ہونے یا بالکل نماز نہ ہونے کا فتویٰ بھی نہیں دیا۔ یہی کہاگیا کہ ایسے مصلوں پر نماز پڑھنا ٹھیک نہیں اور جو لوگ رسول اکرم ﷺ کے واضح ارشادات معلوم ہونے کے بعد بھی اس کی پرواہ نہیں کرتے وہ گناہ گار ہوسکتے ہیں۔
نماز کے بارے میں اور بھی کئی ایسی باتیں ہیں جو آدمی کرتا ہے اور ان کے کرنے کی وجہ سے گناہ گار بھی ہوتا ہے لیکن نماز ادا ہوجاتی ہے۔ اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ جب حدیث میں آگیا تو اب یہ مسلمانوں کا کام ہے کہ وہ اسے عملی جامہ پہنائیں اور اگر کوئی رکاوٹ نہیں ہے تو پھر ایسے مصلے تبدیل کرلیں تا کہ شک و شبہ کی گنجائش ہی باقی نہ رہے۔
اگر رسول اکرمﷺ ان چیزوں کو پسند نہیں کرتے اور حضرت عائشہ ؓ سے فرماتے ہیں کہ ایسی چیزوں کو میرے آگے سے ہٹا دو’ یہ مجھے نماز میں مشغول کردیتی ہیں تو پھر ہم کون ہیں کہ یہ بیل بوٹے اور ساری تصویریں سامنے دیکھنے کے باوجود ہمارے خشوع و خضوع میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نماز میں توجہ اور خشوع وخضوع ضروری ہے اور جو کام یا چیز اس میں رکاوٹ بنے اس سے پرہیز کرنا چاہے۔ اسلام تو یوں بھی سادگی پسند کرتا ہے اور مساجد تو خالص اللہ کی عبادت کےلئے بنائی جاتی ہیں۔ ان میں گرجوں اور مندروں کی طرح تصویریں لٹکانا نقش و نگار اور بیل بوٹے بنانا (خاص طور پر سامنے قبلہ کی طرف ) ہرگز مستحسن عمل نہیں۔
گزشتہ دنوں برطانیہ کے ایک شہر میں ہم نے ایک مسجد میں نماز پڑھی تو وہاں سامنے محراب ہے۔ دونوں طرف اشتہارات ’ سینریوں اور کتبوں کی اتنی بھرمار تھی جیسے یہ کوئی عجائب گھر یا نمائش گاہ ہے۔ اب یہ تو کسی کے نزدیک بھی سنت نہیں بلکہ بدعت کے زمرے میں آتی ہیں۔کل لوگ اپنے بزرگوں پیروں اور مولویوں کی تصاویر بھی مساجد میں لٹکانا شروع کردیں گے تو اس پر آپ کیا کہیں گے؟ اس لئے شریعت میں معیار قرآں و حدیث ہے۔جو چیز اس کے خلاف ہے وہ بہرحال ناجائز ہے چاہے حکمران اس پر عمل کریں اور چاہے مفتی حضرات اس کی اجازت دے دیں یا علماء اس پر خاموشی اختیار کرلیں لیکن ناجائز کام پھر بھی ناجائز ہے۔
آپ کا یہ کہنا کہ اب جاءنماز کا کیاکریں۔اگر آپ مسئلے کو درست سمجھتے ہیں تو پھر اس جاء نماز کی فکر نہ کریں۔ شک وشبہ میں پڑنے کی بجائے کسی سادہ کپڑے پر نماز پڑھ لیا کریں اور اس جاء نماز کو بھی ضائع نہ کریں۔ اس پر کوئی سادہ غلاف چڑھا کر اسے استعمال کرسکتے ہیں یا الٹی جانب سے استعمال کرلیں۔ تکلف زیب و زینت اور چمک دمک سے سادگی اور سنجیدگی بہرحال بہتر ہے۔ واللہ اعلم۔
مآخذ :
(فتاویٰ صراط مستقیم ص166)

__________&________

*اوپر ذکر کردہ تمام احادیث اور علماء کرام کے فتاویٰ جات سے یہ بات خوب سمجھ لینی چاہیے کہ مساجد وغیرہ کی بے جا تزئین و آرائش ہرگز نہیں کرنی چاہیے، اور نا ہی مسجد یا گھر میں ایسے جائے نماز رکھیں جن پر نقش و نگار یا کعبہ وغیرہ کی تصویریں بنی ہوں، اگرچہ ان پر پڑھی گئی نماز ہو جاتی ہے لیکن اس نماز سے ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوتا کیونکہ عموماً ہماری توجہ ان نقش و نگار اور بیل بوٹوں میں ہی بٹی ہوتی ہے، آجکل اس چیز کی بہت ضرورت ہے، جو احباب یہ تحریر پڑھیں انکی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے گھروں اور اپنے اپنے علاقے کی مساجد سے یہ ساری چیزیں ختم کریں اور آئیندہ ایسا کام کسی مسجد میں نا ہونے دیں، یا کم از کم وہاں کی انتظامیہ اور امام صاحب جنکو یہ علم نہیں انک تک یہ باتیں لازمی پہنچائیں تا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کو اپنایا جائے، اللہ پاک ہم سب کو صحیح معنوں میں دین اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 👇

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں