46

سوال- کیا خضرعلیہ السلام دنیا میں آج تک زندہ ہیں ، اور کیا وہ قیامت تک زندہ ہی رہيں گے ؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-374”
سوال- کیا خضرعلیہ السلام دنیا میں آج تک زندہ ہیں ، اور کیا وہ قیامت تک زندہ ہی رہيں گے ؟

Published Date: 21-3-2022

جواب..!
الحمد للہ..!

*بہت سارے جھوٹے قصے کہانیوں کی طرح یہ بات بھی لوگوں میں مشہور ہے کہ خضر علیہ السلام زندہ ہیں اور قیامت تک وہ زندہ رہیں گے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خضر علیہ السلام کی موت کتاب وسنت اور امت میں معتمد علیہ لوگوں کے اجماع اور عقل و اعتبار سے ثابت ہے۔ اور جو کہتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں ان کے پاس سوائے ضعیف روایات، رکیک خواب اور کمزور اقوال کے علاوہ کوئی ٹھوس دلیل نہیں*

دلائل پیش خدمت ہے۔

کتاب اللہ سے دلیل۔
اللہ تعالیٰ کاقول ہے:

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

📚وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَاۤ اٰتَيۡتُكُمۡ مِّنۡ كِتٰبٍ وَّحِكۡمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمۡ لَـتُؤۡمِنُنَّ بِهٖ وَلَـتَـنۡصُرُنَّهٗ ‌ؕ قَالَ ءَاَقۡرَرۡتُمۡ وَاَخَذۡتُمۡ عَلٰى ذٰ لِكُمۡ اِصۡرِىۡ‌ؕ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ‌ؕ قَالَ فَاشۡهَدُوۡا وَاَنَا مَعَكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اور جب اللہ نے سب نبیوں سے پختہ عہد لیا کہ میں کتاب و حکمت میں سے جو کچھ تمہیں دوں، پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو اس کی تصدیق کرنے والا ہو جو تمہارے پاس ہے تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔ فرمایا کیا تم نے اقرار کیا اور اس پر میرا بھاری عہد قبول کیا ؟ انھوں نے کہا ہم نے اقرار کیا۔ فرمایا تو گواہ رہو اور تمہارے ساتھ میں بھی گواہوں سے ہوں۔
(سورہ آل عمران_ آیت نمبر 81 )

📙طبری اور ابن ابی حاتم میں حسن سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے عہد لیا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری زندگی میں آ جائیں تو تم ان پرایمان لاؤ گے، ( اور انکی مدد کرو گے،)
(تفسیر القرآن الکریم )

تو خضر علیہ السلام اس میثاق میں داخل ہیں، اگر وہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں زندہ ہوتے تو ان کا سب سے اہم کام یہ تھا کہ وہ آپﷺ کے سامنے ان پر اتاری گئی شریعت پر ایمان لاتے اور ان کی نصرت فرماتے تاکہ کوئی دشمن ان تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔

دوسری دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

📚وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُـلۡدَ‌ ؕ اَفَا۟ئِن مِّتَّ فَهُمُ الۡخٰـلِدُوۡنَ ۞
اور ہم نے تجھ سے پہلے کسی بشر کے لیے ہمیشگی نہیں رکھی، سو کیا اگر تو مرجائے تو یہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
(سورہ انبیاء_ آئیت نمبر 34)

اگر خضر علیہ السلام کہیں ہیں تو پھر ان کے لیے خلود یعنی ہمیشہ زندہ رہنے والے ثابت ہو جائے گا۔ جو کہ قرآن کی آئیت کے خلاف ہے،

خضر علیہ السلام اک بشر ہیں اور وہ اس عموم میں ضرور داخل ہیں اور صحیح دلیل کے بغیر ان کی تخصیص جائز نہیں۔ اصل عدم ہی ہے جب تک ثابت نہ ہو جائے اور رسول اللہ ﷺ سے کوئی ایسی دلیل مذکور نہیں جس سے اس عموم کی تخصیص کی جا سکے،جیسے کہ امام ابن کثیر نے البدایۃ والنہایۃ (1؍334) میں کہا ہے۔

تیسری دلیل

📚صحیح بخاری
کتاب: نماز کے اوقات کا بیان
باب: باب: اس بارے میں کہ مسئلے مسائل کی باتیں اور نیک باتیں عشاء کے بعد بھی کرنا درست ہے۔
حدیث نمبر: 601
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏ وَأَبُو بَكْرٍ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةٍ لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ، ‏‏‏‏‏‏فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنَّهَا تَخْرِمُ ذَلِكَ الْقَرْنَ.
ترجمہ:
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے خبر دی، کہا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ بن عمر ؓ اور ابوبکر بن ابی حثمہ نے حدیث بیان کی کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی اپنی زندگی کے آخری زمانے میں۔ سلام پھیرنے کے بعد آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اس رات کے متعلق تمہیں کچھ معلوم ہے؟ آج اس روئے زمین پر جتنے انسان زندہ ہیں۔ سو سال بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔ لوگوں نے نبی کریم ﷺ کا کلام سمجھنے میں غلطی کی اور مختلف باتیں کرنے لگے۔ (ابومسعود ؓ نے یہ سمجھا کہ سو برس بعد قیامت آئے گی) حالانکہ آپ ﷺ کا مقصد صرف یہ تھا کہ جو لوگ آج (اس گفتگو کے وقت) زمین پر بستے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی آج سے ایک صدی بعد باقی نہیں رہے گا۔ آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ سو برس میں یہ قرن گزر جائے گا۔
۔

📙امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے البدایہ (1؍ 336) میں یہ اور اس طرح کی ایک اور حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’یہ صحیح حدیثیں حیات خضر علیہ السلام کے دعویٰ کی جڑ کاٹ ڈالتی ہیں، کہتے ہیں کہ خضر علیہ السلام نے اگر نبی ﷺ کا زمانہ نہیں پایا جیسے کہ خیال ہے اور یہ خیال ترقی کر کے قوۃ میں قطعی بن جاتا ہے تو کوئی اشکال نہیں۔
اور اگر انہوں نے آپﷺ کا زمانہ پا لیا تھا اس حدیث کے تقاضے کے مطابق سو سال بعد وہ زندہ نہیں رہے تو اب وہ موجود نہیں ہیں کیونکہ وہ اس عموم میں داخل ہیں اور اصل عدم تخصیص ہے جب تک کہ قابل قبول صحیح دلیل ثابت نہ ہو جائے۔

📙امام ابن قیم ، ابراہیم حربی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ ان سے خضر علیہ السلام کی عمر کےبارے میں پوچھا گیا کہ وہ زندہ ہیں تو فرمایا: جو غائب پر حوالے دیتا ہے وہ اس سے انصاف نہیں کرتا اور یہ باتیں لوگوں میں شیطان کی پھیلائی ہوئی ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ امام صاحب نے درست فرمایا۔
امام بخاری رحمہ اللہ سے خضر اور الیاس علیہم السلام کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ زندہ ہیں؟ تو فرمایا: یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ رسول اللہﷺ نے تو فرما دیا: ’’آج جو زمین پر زندہ ہے سوسال بعد ان میں سے کوئی بھی نہیں بچے کا۔‘‘

اکثر علماء سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس آیت سے جواب دیا:
﴿وَما جَعَلنا لِبَشَرٍ‌ مِن قَبلِكَ الخُلدَ …﴾ سورة الانبياء
’’آپ سے پہلے کسی انسان کو بھی ہم نے ہمیشگی نہیں دی کیا اگر آپ مر گئے توۃ وہ ہمیشہ کے لیے رہ جائیں گے۔‘‘

📙شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے یہی سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا، اگر خضر علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان پر رسول اللہ ﷺ کے پاس آنا ، آپ کے ساتھ جہاد کرنا اور آپ سے سیکھنا ضروری تھا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے دن فرمایا: اے اللہ! اگر یہ جماعت ہلاک ہو گئی تو پھر زمیں تیری عبادت نہ ہو گی۔‘‘
اور وہ تین سو تیرہ معروض اشخاص تھے جن کے نام سمیت ولدیت اور قبیلے کے معلوم تھے۔ تو اس وقت خضر علیہ السلام کہاں تھے، یہ ہے علم کی بات۔

📙امام علی بن موسی الرضا کہتے ہیں:
’’ خضر علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں امام ابراہیم بن اسحاق الحربی، ابو الحسنین المناوی دونوں کا یہی قول ہے اور یہ دونوں امام ابن مناوی اس قول کو برا سمجھتے تھے کہ خضر علیہ السلام زندہ ہیں۔ قاضی ابو یعلیٰ بھی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے اصحاب سے ان کی موت کا قول نقل کرتے ہیں۔
بعض اہل علم نے یہ دلیل بیان کی ہے اگر وہ (خضر) زندہ ہوتے تو ان کے لیے نبی ﷺ کے پاس آنا واجب تھا کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کے لیے سوائے میری اتباع کے اور کوئی گنجائش نہیں تھی، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ (خضر) علیہ السلام زندہ ہوں اور آپ کےساتھ جمعہ جماعت میں شریک نہ ہوں اور آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں۔ آپ دیکھتے نہیں کہ جب عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے تو وہ اس امت کے امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے تاکہ ہمارے نبی ﷺ کی نبوت میں خلل نہ آئے۔
امام ابو الفرج بن الجوزی فرماتے ہیں کہ جو ان کے وجود کو ثابت کرتے ہیں ان کی سمجھھ حقیقت سے بہت دور ہے، انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ اثبات شریعت مطہرہ کے اعراض کو متضمن ہے۔

*عقلی دلائل*

پہلی دلیل: یہ تقول علی اللہ ہے جو بنص قرآن حرام ہے۔
دوسری دلیل: اگر وہ اتنا لمبا طرصہ زندہ رہے تو اللہ تعالیٰ یہ ہمیں ضرور بیان فرماتے کیونکہ یہ عجیب خبر ہے۔
تیسری دلیل: اگر وہ نوح علیہ السلام سے پہلے موجود ہوتے تو ثابت ہوا کہ نوح علیہ السلام کی کونسل کے علاوہ کوئی بھی باقی نہیں رہا۔
چوتھی دلیل: ان کو زندہ ماننے والوں کی زیادہ سے زیادہ دلیل منقول حکایتیں ہوتی ہیں جس میں کوئی شخص خضر علیہ السلام کو دیکھنے کی خبر دیتا ہے، تعجب ہے خضر علیہ السلام کی کوئی علامت ہے جس سے دیکھنے والا اسے پہچان لیتا ہے۔
پانچویں دلیل:
اگر وہ زندہ ہوتے تو جنگلوں میں حوش وطیور کے درمیان مارے مارے پھرنے سے یہ بہتر تھا کہ وہ کافروں سے جہاد کرتے ، فی سبیل اللہ سرحدات کی حفاظت کرتے، جمعہ و جماعات میں شریک ہوتے اور علم دین سکھاتے۔

*حیاۃ خضر علیہ السلام کی بڑے بڑے علماء نے مبسوط تردید کی ہے*

📙جیسے امام ابن قیم نے المنار المنیف فی الصحیح والضعیف بتحقیق ابو غدۃ ص :27 میں،

📙اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری (6؍309) میں۔ اور الاصابہ : (1؍ 428) میں،

📙 اور حافظ ابن کثیر نے البدایۃ والنہایۃ : 1؍ 325۔337 میں۔

📙امام ابن جوزی نے موت خضر اور ان کو زندہ ثابت کرنے والوں کی تردید میں ’ عجالة المنتظر في حال الخضر‘ نامی تفصیلی کتاب لکھی ہے۔
امام ابن تیمیہ نے ان کی موت کے بارے میں ایک رسالہ لکھا ہے۔

📙امام علی القاری نے ’کشف الخدر عن امر الخضر‘ تالیف کی ہے

📙 اور امام ابن المنار المتوفی 336ھ نے ان کی وفات میں رسالہ لکھا ہے، مراجعہ کریں تفاسیر اہل التحقیق فی سورۃ الکہف۔

*بعض کہتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں اور ان کی نشانی یہ ہے کہ ان کے انگوٹھے میں ہڈی نہیں ہے ، یہ سب جھوٹے ہیں:*

📚اللہ پاک فرماتے ہیں:
﴿وَلا تَقفُ ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ ۚ إِنَّ السَّمعَ وَالبَصَرَ‌ وَالفُؤادَ كُلُّ أُولـٰئِكَ كانَ عَنهُ مَسـٔولًا ٣٦﴾…سورة الاسراء
’’جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ، کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے۔)

(ماخوذ از/ فتاویٰ دین الخالص، ج1، ص252 )

_______&______

📙 *سعودی فتاوی ویبسائٹ الاسلام سوال وجواب پر یہی سوال کیا گیا تو انکا جواب یہ تھا کہ!*

📚قال الشنقيطي :
وحكايات الصالحين عن الخضر أكثر من أن تحصر ، ودعواهم أنه يحج هو وإلياس كل سنَة ، ويروون عنهما بعض الأدعية ، كل ذلك معروف ، ومستند القائلين بذلك ضعيف جدّاً ؛ لأن غالبه حكايات عن بعض من يظن به الصلاح ، ومنامات وأحاديث مرفوعة عن أنس وغيره وكلها ضعيف لا تقوم به حجة . . .
الذي يظهر لي رجحانه بالدليل في هذه المسألة أن الخضر ليس بحي بل توفي وذلك لعدة أدلة :

شیخ شنقیطی رحمہ اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں :
خضر علیہ السلام کے بارہ میں صالحین کی حکایات کا شمار نہیں ، اوران کا یہ دعوی کہ الیاس اورخضر علیہ السلام ہرسال حج کرتے ہیں ، اوران سے بعض دعائيں بھی روایت کی جاتی ہیں یہ سب کچھ معروف ہے ، اس کے قائلین کی سب سندیں بہت ہی زيادہ ضعیف ہیں ۔
اس لیے کہ ان میں غالب طور پر ان لوگوں سے حکایات ہیں جن کے بارہ میں گمان ہے کہ وہ صالح قسم کے لوگ تھے ، اور یا پھر وہ خوابوں کے قصے ہیں ، اور انس رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ سے کچھ مرفوع احادیث بھی ہيں جو سب کی سب ضعیف ہیں اور پایہ ثبوت نہیں پہنچتیں اور نہ ہی ان سے حجت قائم ہوسکتی ہے ۔
اس مسئلہ میں دلائل کے ساتھ جوبات مجھے راجح معلوم ہوئ ہے کہ خضر علیہ السلام زندہ نہیں بلکہ وفات پاچکے ہیں، (اختصار کے ساتھ )

(ماخذ: دیکھیں اضواء البیان للشنقیطی رحمہ اللہ ( 4 / 178- 183 )
(https://islamqa.info/ar/answers/20505)

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📙سوال- کیا نبی اکرم ﷺ اور باقی انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں؟ اگر زندہ ہیں تو کیا انکی زندگی دنیا جیسی ہے۔
(جواب کیلئے دیکھیں سلسلہ نمبر-157)

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 👇

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں