891

سوال_حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی خلافت کا آغاز اور اختتام کیسے ہوا؟ اور ان کا بنو امیہ سے کیا اختلاف تھا؟ نیز یزید کی موت کے بعد اختلافات کی کیا نوعیت تھی؟

سلسلہ سوال و جواب نمبر-218″
سوال_حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی خلافت کا آغاز اور اختتام کیسے ہوا؟ اور ان کا بنو امیہ سے کیا اختلاف تھا؟ نیز یزید کی موت کے بعد اختلافات کی کیا نوعیت تھی؟

Published Date:9-3-2019

جواب:
الحمدللہ:

*جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہر جمعہ کے دن ہم تاریخ اسلام کے مشہور واقعات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیے جانے والے اعتراضات اور انکے جوابات پڑھتے ہیں،پچھلے سلسلہ جات نمبر*
*87٫88،92٫96٫102 131،133٫134، 139،145،151،156,166*
*میں سب سے پہلے ہم نے تاریخ کو پڑھنے اور اور جانچنے کے کچھ اصول پڑھے پھر یہ پڑھا کہ خلافت کی شروعات کیسے ہوئی؟ اور خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رض کی خلافت اور ان پر کیے جانے والے اعتراضات کا جائزہ لیا، اور یہ بھی پڑھا کہ واقعہ فدک کی حقیقت کیا تھی؟ اور یہ بھی پڑھا کہ حضرت عمر فاروق رض کو کس طرح خلیفہ ثانی مقرر کیا گیا،اور حضرت عمر فاروق رض کے دور حکومت کے کچھ اہم مسائل کے بارے پڑھا ،کہ انکے دور میں فتنے کیوں نہیں پیدا نہیں ہوئے اور ،حضرت خالد بن ولید رض کو کن وجوہات کی بنا پر سپہ سالار کے عہدہ سے ہٹا کر ابو عبیدہ رض کی کمانڈ میں دے دیا،اور خلیفہ دوئم کی شہادت کیسے ہوئی، اور پھر سلسلہ 133٫134 میں ہم نے پڑھا کہ تیسرے خلیفہ راشد کا انتخاب کیسے ہوا؟اور کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت نہیں کی تھی؟اور کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس موقع پر بے انصافی ہوئی؟ اور دور عثمانی کی باغی تحریک کیسے وجود میں آئی؟ انہوں نے کس طرح عثمان رض کو شہید کیا اور صحابہ کرام نے عثمان رض کا دفاع کیسے کیا؟اور پھر سلسلہ نمبر-139 میں ہم نے پڑھا کہ باغی تحریک نے کس طرح عثمان غنی رض پر الزامات لگائے اور انکی حقیقت بھی جانی، اور پھر سلسلہ_145 میں ہم نے پڑھا کہ عثمان غنی رض کو شہید کرنے کے بعد فوراً صحابہ نے باغیوں سے بدلہ کیوں نا لیا؟ چوتھے خلیفہ راشد کا انتخاب کیسے ہوا؟*
*کیا صحابہ کرام سے زبردستی بیعت لی گئی؟اور کیا علی رض باغیوں سے بدلہ لینے کے حق میں نہیں تھے؟اور کیا علی (رض) نے عثمان رض کے قاتلوں کو خود حکومتی عہدے دیے تھے؟ اس ساری تفصیل کے بعد سلسلہ نمبر-151 میں ہم نے جنگ جمل کے بارے پڑھا کہ وہ جنگ* *باغیوں کی منافقت اور دھوکے کہ وجہ سے ہوئی تھی، جس میں باغیوں کی کمر تو ٹوٹی مگر ساتھ میں بہت سے مسلمان بھی شہید ہوئے، اور پھر سلسلہ نمبر_156 میں ہم نے جنگ صفین کے بارے پڑھا کہ جنگ صفین کیسے ہوئی،اسکے اسباب کیا تھے، اور پھر مسلمانوں کی صلح کیسے ہوئی اور پھر سلسلہ نمبر-166 میں ہم نے جنگ صفین کے بعد واقع تحکیم یعنی مسلمانوں میں صلح کیسے ہوئی، کون سے صحابہ فیصلہ کرنے کے لیے حکم مقرر کیے گئے اور حضرت علی و معاویہ رضی اللہ عنھما کے مابین تعلقات کیسے تھے،*
*اور پھر پچھلے سلسلہ نمبر-171 میں ہم نے یہ پڑھا کہ خوارج کیسے پیدا ہوئے اور باغی جماعت میں گروپنگ کیسے ہوئی؟
خوارج کا نقطہ نظر کیا تھا؟*
*حضرت علی نے خوارج سے کیا معاملہ کیا؟خوارج سے جنگ کے نتائج کیا نکلے؟اور بالآخر مصر کی باغی پارٹی کا کیا انجام ہوا؟*
*اور سلسلہ نمبر 176 میں ہم نے پڑھا کہ حضرت علی (رض) کیسے شہید ہوئے؟ حضرت علی (رض) کی شہادت کے وقت صحابہ کرام اور باغیوں کے کیا حالت تھی؟حضرت علی( رض) کی شہادت پر صحابہ کے تاثرات کیا تھے؟حضرت علی(رض) کے دور میں فرقوں کا ارتقاء کیسے ہوا؟حضرت علی (رض) کی خلافت کس پہلو سے کامیاب رہی؟حضرت علی (رض) کے دور میں بحران کیوں نمایاں ہوئے؟ اور اسی طرح سلسلہ نمبر 181 میں ہم نے پڑھا کہ حضرت علی رض کی شہادت کے بعد خلیفہ کون بنا؟ حضرت حسن اور معاویہ رض کا اتحاد کن حالات میں ہوا؟
اس کے کیا اسباب تھے اور اس کے نتائج کیا نکلے؟اور کیا معاویہ رض نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کیا تھا؟اور حضرت معاویہ کی کردار کشی کیوں کی گئی؟ معاویہ پر کیا الزامات عائد کیے گئے اور ان کا جواب کیا ہے؟ اور حضرت معاویہ نے قاتلین عثمان کی باغی پارٹی کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟سلسلہ نمبر-188 میں ہم نے پڑھا کہ کس طرح باغی راویوں نے جھوٹی روایتوں سے یہ مشہور کر دیا کہ حضرت امیرمعاویہ (رض) خود بھی حضرت علی (رض) پر سب وشتم کرتے اور اپنےگورنروں سے بھی کرواتے تھے، اور سلسلہ نمبر-194 میں ہم نے استلحاق کی حقیقت جانی،اور پھر سلسلہ نمبر-197 میں ہم نے پڑھا کہ باغی راویوں نے امیر معاویہ رض پر جو الزامات لگائے انکی کیا حقیقت تھی؟ جیسے کہ کیا حضرت امیر معاویہ (رض ) کے گورنر رعایا پر ظلم کرتے تھے؟اور کیا معاویہ (رض) نے عمار (رض) کا سر کٹوایا تھا؟اور یہ بھی پڑھا کہ کیا واقعی حضرت معاویہ رض نے حسن (رض) سمیت سیاسی مخالفین کو زہر دلوایا تھا؟اور پچھلے سلسلہ نمبر-201 میں ہم نے پڑھا کہ کیا حضرت امیر معاویہ رض نے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد نامزد کر کے خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کر دیا تھا؟*اور کیا یزید کو مشورے کے بنا زبردستی ولی عہد مقرر کیا گیا؟اور کیا یزید بے نماز،شرابی اور ہم جنس پرست تھا؟ اور پھر پچھلے سلسلہ نمبر 205 میں ہم نے پڑھا کہ کیا بنو ہاشم اور بنو امیہ ایک دوسرے کے دشمن تھے؟ اور حضرت علی(رض)کی بنو امیہ کے بارے کیا رائے تھی؟اور کیا معاویہ (رض) نے غزوہ بدر کا انتقام جنگ صفین کی صورت میں لیا؟اور کیا معاویہ(رض) نے بنو امیہ کا اقتدار مضبوط کرنے کے لیے زیادہ حکومتی عہدے اپنے لوگوں کو دیے؟اور یہ کہ معاویہ(رض) کا دور حکومت خلافت کا دور تھا یا ملوکیت کا؟اور یہ بھی پڑھا کہ کیا خلافت صرف حضرت علی(رض) تک قائم رہی؟اور سلسلہ نمبر-208 میں ہم نے معاویہ (رض ) کے فضائل و مناقب صحیح حدیث سے پڑھے، اور ناقدین کے اعتراضات کا جواب بھی دیا ،آپکے شاندار کارنامے پڑھے اور آخر پر یہ بھی پڑھا کہ صحابہ کرام کی آپکے بارے کیا رائے تھی؟* اور پچھلے سلسلہ نمبر-211 میں ہم نے پڑھا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام کی اصل نوعیت کیا تھی؟سانحہ کربلا کیسے وقوع پذیر ہوا؟ سانحہ کربلا کا ذمہ دار کون تھا؟سانحہ کربلا کے کیا نتائج امت مسلمہ کی تاریخ پر مرتب ہوئے؟دیگر صحابہ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ شمولیت اختیار کیوں نہ کی؟یزید نے قاتلین حسین کو سزا کیوں نہ دی؟شہادت عثمان کی نسبت شہادت حسین پر زیادہ زور کیوں دیا گیا؟ اور سانحہ کربلا کے بارے میں بعد کی صدیوں میں کیا رواج پیدا ہوئے؟ اور سلسلہ نمبر-215 میں ہم نے پڑھا کہ سانحہ کربلا کے بعد دوسرا بڑا سانحہ حرہ کیسے پیش آیا؟
کیا یزید کے حکم سے مدینہ میں خواتین کی عصمت دری کی گئی؟ کیا یزید نے مکہ پر حملہ کر کے بیت اللہ جلایا؟یزید کے بارے ہمارا مؤقف کیا ہونا چاہیے؟
اور آخر پر باغی تحریک نے کیا حکمت عملی اختیار کی؟؟

آج کے سلسلہ میں ہم پڑھیں گے ان شاءاللہ

*حضرت عبداللہ بن زبیر(رض) کی خلافت*

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت سے متعلق زیادہ سوالات نہیں ہیں۔ آپ ایک جلیل القدر صحابی ہیں، آپ کے والد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ، کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے “حواری” اور والدہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کو “ذات النطاقین” کا خطاب دیا۔ انہی سیدہ اسماء نے ہجرت نبوی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کھانے کا انتظام کیا۔ ابن زبیر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نواسے تھے اور ان کے علاوہ اپنی خالہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے تربیت یافتہ تھے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو کچھ ماہ تک مسلمانوں کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔ اسلام دشمنوں نے یہ مشہور کر دیا کہ ہم نے مسلمانوں پر جادو کر دیا ہے اور ان کی تعداد میں اب اضافہ نہ ہو سکے گا۔ اس وقت حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما 1/622 میں پیدا ہوئے اور تمام صحابہ نے اس پر خوشی منائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گود میں لے کر کھجور چبا کر ان کے منہ میں ڈالی۔

خلفائے راشدین کے دور میں آپ نے ایک نوجوان کی حیثیت سے نمایاں علمی اور عسکری کارنامے انجام دیے۔ عہد صدیقی میں جنگ یرموک میں اہم کارنامے انجام دیے۔ عہد عثمانی میں قرآن مجید کی کاپیاں بنانے کے کام میں شریک رہے اور افریقہ کی مہم میں شریک ہوئے۔ خلیفہ مظلوم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے موقع پر ان کی حفاظت کی اور جنگ جمل میں مالک الاشتر سے براہ راست مقابلہ کیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں آپ افریقہ اور قسطنطنیہ کی مہمات میں شریک تھے۔

اصاغر صحابہ میں چار افراد ایسے تھے جو عبادت، زہد و تقوی اور علم دین میں غیر معمولی مقام رکھتے تھے اور اتفاق سے ان چاروں کا نام عبداللہ تھا۔ اس وجہ سے یہ عباد لہ (عبداللہ کی جمع) کہلاتے تھے۔ یہ ابن عمر، ابن عباس، ابن عمرو بن عاص اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم تھے۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت ابن زبیر اب ساٹھ سال کے ہو چکے تھے۔ انہوں نے یزید کی حکومت کو پسند نہیں کیا اور اس کی بیعت نہیں کی۔ آپ مکہ مکرمہ میں مقیم رہے تاہم آپ نے حکومت کے خلافت بغاوت بھی نہیں کی۔ جیسا کہ آپ اوپر پڑھ چکے ہیں کہ سرکاری افواج نے مکہ مکرمہ کا محاصرہ کر لیا جو کہ کئی دن جاری رہا مگر ابن زبیر نے صرف اپنا دفاع ہی کیا۔ یزید کی وفات کے بعد ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی خلافت کا اعلان کیا اور سوائے شام کے، تقریباً سبھی علاقوں پر ان کی خلافت قائم ہو گئی جو کہ 73/693 تک قائم رہی۔ ان کے دور کے بارے میں بہت زیادہ سوالات نہیں ہیں، بس چند امور وضاحت طلب ہیں۔

*ابن زبیر اور دیگر صحابہ کا موقف کیا تھا؟*

ہماری رائے میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما پوری دیانتداری سے یہ سمجھتے تھے کہ بنو امیہ میں باپ کے بعد بیٹے کی ولی عہدی کا جو سلسلہ شروع ہو گیا ہے، وہ درست نہیں ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد یزید کو تو انہوں نے برداشت کر لیا اور اعلان خلافت نہ کیا لیکن پھر یزید کے بعد اس کے بیٹے معاویہ ثانی کو وہ برداشت نہ کر سکے۔ دوسری جانب اہل شام میں اختلافات پیدا ہو گئے اور شامی فوج کے کمانڈر حصین بن نمیر نے خود ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو خلافت قبول کرنے کی دعوت دی۔

اس کے برعکس دیگر اکابر صحابہ جیسے حضرت عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کا موقف یہ تھا کہ دو خلیفوں کے اعلان سے امت میں انتشار پیدا ہو گا اور خانہ جنگی ہو گی۔ اس وجہ سے حکومت کی اطاعت کی جائے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق جس رائے کو درست سمجھا، اس پر عمل کیا۔ یہ سب حضرات ہمارے لیے محترم ہیں۔ ہمیں ان سب کا احترام کرنا چاہیے۔ بعد کے حالات نے یہ ثابت کیا کہ ابن عمر اور ابن عباس کی رائے درست تھی۔

*65ھ/ع685 میں عالم اسلام کی صورتحال کیا تھی؟*

یزید کے دور کے بارے میں ہم مطالعہ کر چکے ہیں کہ یہ سیاسی بے چینی کا دور تھا۔ ایک طرف اس میں سانحہ کربلا ہوا تو دوسری طرف اہل مدینہ کی بغاوت کو اس نے سختی سے کچل دیا۔ تاہم یزید کے دور تک عالم اسلام متحد تھا اور 64ھ/ع684 میں اس کے مرتے ہی مختلف سیاسی تحریکوں نے سر اٹھا لیا۔ ان کی تفصیل یہ ہے:

1۔ پہلا گروہ بنو امیہ کا تھا جنہوں نے یزید کے بعد اس کے بیٹے معاویہ بن یزید کو خلیفہ بنا لیا تھا۔ یہ ایک نہایت ہی عابد و زاہد شخص تھے اور ان کی تعریف بعض شیعہ مورخین نے بھی کی ہے۔
(Ameer Ali, Syed. Short History of the Saracens. P. 89.) www.aboutquran.com

یہ محض چالیس دن کے بعد وفات پا گئے۔ ان کے بعد بنو امیہ اور اہل شام میں اختلافات پیدا ہو گئے جس کی وجہ سے ایک خلیفہ کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا۔ بنو امیہ کا یہ اختلاف ایک سال تک جاری رہا جس کے اختتام پر انہوں نے متفقہ طور پر مروان بن حکم کو اپنا خلیفہ منتخب کر لیا۔ مروان صرف ایک سال ہی زندہ رہے اور 65ھ/ع686 ہی میں فوت ہوئے البتہ ان کے بعد بنو امیہ کے سبھی خلفاء ان کی اولاد سے ہوئے۔

2۔ دوسرا گروہ اہل حجاز کا تھا جنہوں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو خلیفہ منتخب کر لیا۔ تاہم اہل حجاز ہی میں سے بہت سے لوگ ایسے تھے جنہوں نے بعد کی جنگوں میں غیر جانبداری کا رویہ اختیار کیا۔

3۔ تیسرا گروہ عراق میں بنو امیہ کے وفاداروں کا تھا۔ اس کی سربراہی گورنر عراق ابن زیاد کر رہا تھا۔ انہوں نے بنو امیہ کے اختلاف کے سیٹل ہونے تک ابن زیاد کی بیعت کر لی۔

4۔ چوتھا گروہ عراق کی باغی تحریک کا تھا۔ انہوں نے پہلے سلیمان بن صرد کی قیادت میں منظم ہو کر ابن زیاد کے خلاف بغاوت کی جس میں انہیں ناکامی ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے مختار ثقفی کی قیادت میں اکٹھے ہو کر ایک بار پھر بغاوت کی جو کہ کامیاب رہی۔ اس بغاوت میں انہوں نے عراق میں بنو امیہ کے حامیوں پر قابو پا لیا اور ابن زیاد اور دیگر لوگوں کا قتل عام کر دیا۔

5۔ پانچواں گروہ خوارج کا تھا۔ یہ وہی گروپ تھا جس نے حضرت علی کو شہید کیا تھا لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کی حکمت عملی کے سبب انہیں زیادہ سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکا تھا۔ اب یہ لوگ بھی کسی حد تک منظم ہو گئے تھے تاہم اب ان کے متعدد گروپ ہو چکے تھے ۔ اب یہ نہ صرف عام مسلمانوں کو، بلکہ ایک دوسرے کو بھی کافر قرار دے کر واجب القتل سمجھنے لگے تھے۔

6۔ چھٹا گروہ غیر جانبدار مسلمانوں کا تھا جو کہ اکثریت پر مشتمل تھا۔ یہ کوئی منظم سیاسی گروپ نہ تھا بلکہ عام مسلمانوں پر مشتمل تھا۔ ان میں حضرت عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم جیسے اکابر صحابہ تھے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہر حالت میں جماعت یعنی حکومت وقت کے ساتھ رہنا چاہیے، پارٹی بازی میں نہیں پڑنا چاہیے اور جب ایک حکومت قائم ہو جائے تو اس کی اطاعت سے نہیں نکلنا چاہیے تاکہ ان کی توانائیاں باہمی جنگوں میں صرف نہ ہو سکیں۔

*ان چھ گروہوں کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟*

64-73ھ/ع684-693 کے نو برس ان میں سے پہلے پانچ گروہوں کی باہمی کشاکش میں گزرے۔ چھٹے گروپ نے سیاست سے لاتعلقی رکھی اور جس بھی گروہ کو اقتدار ملا، اس کی بیعت کر لی۔ ان حضرات نے اپنی پوری توجہ دین کی تعلیم اور تربیت کی طرف لگا دی اور اس میدان میں غیر معمولی کارنامے انجام دیے۔ یہ حضرات دوسری خانہ جنگی کے زمانے میں بالعموم محفوظ رہے۔ جو بھی معاملات ہوئے، وہ پہلے پانچ گروہوں کے درمیان طے پائے۔ چونکہ یہ اتنے سارے گروپ ہیں، اس وجہ سے ان کے حالات بیان کرتے ہوئے مورخین نے واقعات کو اس طرح خلط ملط کر دیا ہے کہ بات پوری طرح سمجھ میں نہیں آتی۔ اس صورتحال کا تجزیہ کرنے سے پہلے بہتر ہو گا کہ ہم اس دور کے واقعات کی ٹائم لائن پیش کر دیں۔

رجب 60ھ/ع680
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات اور یزید کی حکومت کا آغاز

محرم 61ھ/ع680
سانحہ کربلا

ذو الحجہ 63ھ/ع683
سانحہ حرہ

محرم 64ھ/ع683
مکہ کا محاصرہ

ربیع الاول 64ھ/ع683
یزید کی موت اور شام میں معاویہ بن یزید کی بیعت

ربیع الاول 64ھ/ع684
حجاز میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت

جمادی الاخری 64/684
معاویہ بن یزید کی وفات اور اہل مصر کی ابن زبیر سے بیعت

64ھ/ع684
ابن زبیر کا عراق پر کنٹرول

ذو القعدہ 64ھ/ع684
شام میں مروان بن حکم کی بیعت اور شام، فلسطین اور مصر پر بنو امیہ کی حکومت کا کنٹرول

جمادی الاولی 65ھ/ع685
سلیمان بن صرد اور بنو امیہ کی جنگ جس میں بنو امیہ کو فتح حاصل ہوئی

جمادی الاخری 65ھ/ع685
بصرہ میں خوارج کی ابن زبیر کے خلاف بغاوت جس میں خوارج کو فتح حاصل ہوئی

رمضان 65ھ/ع685
مروان بن حکم کی وفات اور عبد الملک بن مروان کی بیعت

ذو الحجہ 66ھ/ع686
جنگ بابل: مختار ثقفی اور بنو امیہ کی جنگ جس میں مختار ثقفی کو فتح حاصل ہوئی

ذو الحجہ 66ھ/ع686
جنگ موصل: مختار ثقفی کے ساتھی ابراہیم بن اشتر اور بنو امیہ کی جنگ جس میں ابراہیم کو فتح حاصل ہوئی اور ابن زیاد اور حصین بن نمیر مارے گئے۔ شمالی عراق پر مختار کی حکومت قائم ہو گئی۔

66ھ/ع686
یمامہ (موجودہ وسطی سعودی عرب) میں نجدہ بن عامر کی بغاوت اور یمامہ کی ابن زبیر کی حکومت سے علیحدگی

رمضان 67ھ/ع687
جنگ کوفہ: مصعب بن زبیر اور مختار کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ابن زبیر کو فتح حاصل ہوئی اور مختار ثقفی مارا گیا۔

68ھ/ع688
ایران میں خوارج کی بغاوت اور ابن زبیر کی فتح

69ھ/ع689
نجدہ بن عامر کی شکست اور یمامہ پر ابن زبیر کا کنٹرول

69ھ/ع689
عمرو بن سعید اموی کی عبدالملک بن مروان کے خلاف بغاوت اور عبدالملک کی فتح

71ھ/ع691
عبدالملک بن مروان کا عراق پر حملہ اور مصعب بن زبیر سے جنگ۔ عبدالملک کو فتح نصیب ہوئی اور عراق بنو امیہ کے کنٹرول میں چلا گیا۔

رمضان 72ھ/ع692
عبد الملک کی جانب سے حجاج بن یوسف کا مکہ کا محاصرہ اور حجاز پر عبد الملک کا کنٹرول

جمادی الاخری 73/692
حجاج بن یوسف کی فتح اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی شہادت

73ھ/ع692
عبد الملک بن مروان کے اقتدار کی تکمیل

76-77ھ/ع696-697
خوارج کی بغاوت اور ان کا مکمل استیصال

86ھ/ع705
عبد الملک بن مروان کی وفات

*اس ٹائم لائن کو دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ اس زمانے کی بڑی سیاسی قوتیں دو تھیں: ایک حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور دوسرے بنو امیہ۔ عراق کی باغی تحریک اور خوارج چھوٹے گروپ تھے۔ اس پورے دور کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے*

1۔ ابتدائی دور(64-67ھ/ع684-687)
یہ سیاسی بے چینی اور خانہ جنگی کا دور تھا۔ اس دور میں عراق میں خوارج اور عراق کی باغی تحریکیں پیدا ہوئیں تاہم ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان پر قابو پا لیا۔ مختار ثقفی کے بعد عراق کی باغی تحریک کی قوت کا زور ٹوٹ گیا۔ اسی طرح خوارج بھی شکست کھا کر ایران کے علاقوں میں بکھر گئے اور خاموشی کی زندگی بسر کرنے لگے۔ اس دوران بنو امیہ اندرونی اختلافات کا شکار رہے تاہم انہوں نے جلد ہی کم بیک کیا اور ایک دو سال کے عرصے میں شام اور مصر پر اپنا کنٹرول بحال کر لیا۔

2۔ متوسط دور (67-71ھ/ع687-691):
یہ نسبتاً استحکام اور سکون کا دور تھا۔ اس زمانے میں باہمی خانہ جنگیاں نہیں ہوئیں۔ صرف ایران میں خوارج اور یمامہ میں نجدہ بن عامر نے چھوٹی موٹی بغاوتیں کیں جنہیں ابن زبیر نے فرو کر دیا۔ اس زمانے میں عبد الملک نے بھی شام، فلسطین اور مصر میں اپنی حکومت کو مستحکم کیا۔

3۔ آخری دور (71-73/691-692):
یہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی حکومت کے زوال اور بنو امیہ کی حکومت کے عروج کا دور ہے۔ اس میں پہلے عراق اور پھر حجاز ابن زبیر کے ہاتھوں سے نکلتے چلے گئے اور بالآخر ان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

4۔ عبد الملک بن مروان کا دور (73-86/692-705): یہ استحکام کا دور تھا اور اس میں سوائے چھوٹی موٹی بغاوتوں کے اور کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہ ہوا۔

5۔ اس کے بعد بنو امیہ کے تقریباً پورے دور میں حکومت مستحکم رہی، مسلمانوں میں اتحاد برقرار رہا اور سوائے چھوٹی موٹی بغاوتوں کے اور کوئی بڑا مسئلہ پید نا ہوا۔ یہ صورتحال 130ھ/ع747 تک برقرار رہی۔ اس کے بعد بنو عباس کی بنو امیہ کے خلاف تحریک منظر عام پر آئی اور بالآخر بنو امیہ کا اقتدار ختم ہو گیا۔ تاہم امویوں نے اس کے بعد اسپین میں اپنا اقتدار قائم کر لیا جو کہ 422ھ/ع1031تک جاری رہا۔

*ابن زبیر اور بنو امیہ کے اختلاف کی حیثیت کیا تھی؟*

بعض لوگ ابن زبیر رضی اللہ عنہما او ربنو امیہ کے اختلاف کو مذہبی رنگ دیتے ہیں۔ وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ بنو امیہ بڑے ظالم و جابر اور بدمعاش قسم کے لوگ تھے۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس وجہ سے ان کے مقابلے میں اپنی خلافت کا اعلان کیا تاہم اموی غالب آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ بنو امیہ کی خلافت کو بھی اکابر صحابہ جیسے ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے قبول کیا۔ اگر یہ اختلاف مذہبی ہوتا تو یہ حضرات اسے قبول نہ کرتے۔

صحیح بخاری میں ہے:

📚عبداللہ بن دینار کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھا جب لوگوں نے عبدالملک کی بیعت کی تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے لکھا ”اللہ کے بندے عبدالملک امیرالمؤمنین کے نام، میں اقرار کرتا ہوں سننے اور اطاعت کرنے کی۔ اللہ کے بندے عبدالملک امیرالمؤمنین کے لیے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق، جتنی مجھ میں طاقت ہو گی اور میرے بیٹوں نے بھی اس کا اقرار کیا۔“
( صحیح بخاری۔ حدیث نمبر،-7205)

📚ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ابن زبیر پر تمہیں حیرت نہیں ہوتی۔ وہ اب خلافت کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں تو میں نے ارادہ کر لیا کہ ان کے لیے محنت مشقت کروں گا کہ ایسی محنت اور مشقت میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے لیے بھی نہیں کی۔ حالانکہ وہ دونوں ان سے ہر حیثیت سے بہتر تھے۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کی اولاد میں سے ہیں۔ زبیر رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نواسے، خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھائی کے بیٹے، عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے بیٹے۔ لیکن عبداللہ بن زبیر نے کیا کیا وہ مجھ سے غرور کرنے لگے۔ انہوں نے نہیں چاہا کہ میں ان کے خاص مصاحبوں میں رہوں ( اپنے دل میں کہا ) مجھ کو ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ میں تو ان سے ایسی عاجزی کروں گا اور وہ اس پر بھی مجھ سے راضی نہ ہوں گے۔ خیر اب مجھے امید نہیں کہ وہ میرے ساتھ بھلائی کریں گے جو ہونا تھا وہ ہوا اب بنی امیہ جو میرے چچا زاد بھائی ہیں اگر مجھ پر حکومت کریں تو یہ مجھ کو اوروں کے حکومت کرنے سے زیادہ پسند ہے۔
( صحیح البخاری, حدیث نمبر-4666)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس اختلاف کی حیثیت مذہبی نہیں بلکہ سیاسی تھی۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ بنو امیہ کے اندر باپ کے بعد بیٹے کی خلافت کا جو سلسلہ شروع ہو گیا ہے، وہ درست نہیں ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے اسے ختم کرنے کے لیے کوشش کی۔ اس کے برعکس ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے یہ محسوس کیا کہ اگر اس سلسلے کو بزور ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو امت میں افتراق و انتشار پیدا ہو گا۔ امت کو افتراق و انتشار اور خانہ جنگیوں سے بچانا، اسے موروثی بادشاہت سے بچانے کی نسبت زیادہ اہم ہے۔ان تمام بزرگوں کی اپنی اپنی اجتہادی رائے تھی اور ہر ایک نے اپنی رائے کے مطابق عمل کیا اور سبھی کو ان کی حسن نیت کا اجر ملے گا۔ ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے سیاسی میدان سے الگ ہو کر علم اور دعوت کے میدان میں غیر معمولی کارنامے سر انجام دیے،

چھٹے عشرے میں عالم اسلام کی سیاسی حالت تبدیل ہو چکی تھی۔ ایک طرف بنو امیہ اور ان کے حامی تھے اور دوسری جانب ابن زبیر رضی اللہ عنہما اور ان کے حامی۔ عبد الملک بن مروان بھی ایک بڑے عالم اور فقیہ تھے اور ان کا شمار متوسط تابعین کے فقہاء میں ہوتا ہے۔ حضرت ابن زبیر اور بنو امیہ میں رشتے داری تھی۔ ان کی بہن رملہ بنت زبیر کی شادی اموی سائنسدان خالد بن یزید بن معاویہ سے ہوئی تھی۔
(بلاذری۔ انساب الاشراف۔ 5/386۔ باب خالد بن یزید بن معاویہ۔)

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ حضرات بھی اسے محض ایک سیاسی اختلاف ہی سمجھتے تھے، مذہبی اختلاف نہیں سمجھتے تھے۔

دونوں گروہوں کو عالم اسلام کے ایک بڑے حصے کی حمایت حاصل تھی۔ اس کے بعد ان کے درمیان باہمی جنگوں کا افسوس ناک سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں عبد الملک کا اقتدار عالم اسلام پر قائم ہو گیا اور تمام مسلمانوں نے ان کی بیعت کر لی۔ کاش کہ یہ اختلاف مذاکرات کے ذریعے طے کر لیا جاتا اور “کچھ دو اور کچھ لو” کے اصول کے تحت ویسا ہی اتحاد وجود میں آتا جیسا کہ 33 برس پہلے حضرت حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی صلح کے نتیجے میں ہوا تھا۔ بہرحال یہ سب لوگ اب گزر چکے ہیں اور ان کے آپس کے اختلافات کا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہے۔ ہمیں اس معاملے میں کسی پر زبان طعن دراز نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ان واقعات کی تفصیلات ہمیں محض تاریخی روایتوں ہی سے ملتی ہیں۔

*حجاج بن یوسف کے بارے میں کیا رائے رکھنی چاہیے؟*

مشرقی ممالک میں انارکی کو ختم کرنے اور حکومت کو مستحکم کرنے میں حجاج بن یوسف نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔ اس شخص کے بارے میں تاریخی روایتوں میں آتا ہے کہ اس نے عراق اور حجاز میں ظلم و ستم کا بازار گرم کر دیا اور بے شمار لوگ قتل کروائے۔ اگر یہ مظالم فی الواقع ہوئے ہیں تو یقیناً حجاج اور عبدالملک بن مروان ان کے لیے اللہ تعالی کے حضور جواب دہ ہوں گے۔ دوسری طرف ہمیں یہ روایات بھی ملتی ہیں کہ مسلم خواتین کی پکار پر حجاج ہی نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو راجہ داہر سے جنگ کرنے بھیجا جنہوں نے موجودہ کراچی سے لے کر ملتان تک کا علاقہ فتح کر لیا۔

تاریخ طبری میں ہے کہ حجاج بن یوسف نے بعض صحابہ جیسے حضرت جابر بن عبداللہ، انس بن مالک اور سہل بن سعد رضی اللہ عنہم پر بھی تشدد کیا اور ان کے داغ لگوائے۔

طبری میں یہ روایت 74/694 کے باب کے شروع میں بیان ہوئی ہے۔ انہوں نے اس روایت کی منقطع اسناد (Broken chain of narrators) یوں بیان کی ہے:

📚 عن ابن أبي ذئب عن إسحاق بن يزيد، اور حدثني شرحبيل بن أبي عون عن أبيه۔

طبری اور ان واقعات کے درمیان دو سو برس کا طویل زمانہ ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ محض دو واسطوں سے یہ روایت ان تک پہنچی ہو۔

یہ معلوم نہیں کہ یہ نامعلوم لوگ کس درجے میں قابل اعتماد تھے۔ درایت کے اعتبار سے بھی یہ روایت قرین قیاس نہیں ہے کیونکہ جیسے جیسے اصحاب رسول دنیا سے رخصت ہو رہے تھے، باقی ماندہ صحابہ کی قدر و منزلت لوگوں کی نظر میں بہت زیادہ بڑھ رہی تھی۔ اس دور میں جب قلیل تعداد میں ضعیف العمر صحابہ باقی رہ گئے تھے، ان کے ساتھ اتنی گستاخی کی جاتی تو لوگ کوئی احتجاج نہ کرتے۔ یہ کام حجاج جیسے شخص کے لیے بھی ممکن نہ تھا۔ عین ممکن ہے کہ حجاج کے مظالم کی داستانیں اس پراپیگنڈا کا حصہ ہوں جو بنو عباس نے بنو امیہ کی حکومت گرانے کے لیے کیا،لیکن حقیقت کیا ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے،

*اس سلسلہ کے ساتھ ہی صحابہ کرام کی تاریخ پر جو جدید ذہنوں کے سوالات اور شبہات تھے انکا اختتام ہوتا ہے*

نوٹ_

*آئندہ ہفتے اس سلسلے کے اختتام پر ان سوالات کے جوابات جاننے کی کوشش کریں گے جو صحابہ کرام کے بارے ان تاریخی سلسلہ جات کو پڑھنے سے اک طالب علم کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں*

ان شاءاللہ تعالیٰ

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں