574

سوال_مولود کعبہ (یعنی بیت اللہ کے اندر پیدائش) کن کی ہوئی؟ حضرت علیؓ کی یا حضرت حکیم بن حزام ؓ کی؟ صحیح دلائل سے وضاحت کریں!

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-317”
سوال_مولود کعبہ (یعنی بیت اللہ کے اندر پیدائش) کن کی ہوئی؟ حضرت علیؓ کی یا حضرت حکیم بن حزام ؓ کی؟
صحیح دلائل سے وضاحت کریں!

Published Date: 21-2-2020

جواب:
الحمدللہ:

*تاریخ اسلام سے شغف رکھنے والا ہر فرد اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ جس دن مرغزار عرب سے اسلام کا ظہور ہوا ، وہیں سے اسلام دشمنی کا سلسلہ بھی شروع ہوا،اور سلسلہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ بڑھتا رہا ، مشرکین مکہ ہوں یا مدینہ اور اس کے نواحی کے یہود و نصاری کسی نے بھی اسلام کی عظمت و برتری اور کامیابی و کامرانی کو برداشت نہیں کیا، تاہم پوری اسلام تاریخ میں جو قوم سب سے زیادہ اسلام دشمنی میں معروف و مشہور رہی وہ قوم یہود ہے ، یقینا اس باطل پرست مکار قوم نے اسلام کے خلاف جن حیلوں اور حربوں کا اسعتمال کیا وہ انتہائی خطرناک ثابت ہوئے ، شیعی عقائد کی ترویج و اشاعت اسی قوم کا دین ہے ، شیعیت کا موجد دشمن اسلام عبداللہ بن سبا یہ وہی یہودی ہے جس نے آل بیت کا جھوٹا دعوٰی ٹھونک کر اسلام اور مسلمانوں کی وحدت امت کو پارہ پارہ کرنے میں اہم رول ادا کیا ، انہیں افسانوں قصوں اور جھوٹے اختراعات میں سے ایک اختراع حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یقینی طور پر مولود کعبہ بتانا ہے، اہلسنت کی کتب میں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہاں البتہ شیعہ ماخذ میں ملا باقر مجلسی نے اس بابت اپنی کتاب جلاء العیون میں کافی تفصیل سے لکھا ہے۔ تاہم ملا باقر مجلسی نے جو کہانی نقل کی ہے وہ انتہائی لغو ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیدنا علیؓ کی والدہ فاطمہ بنت اسدؓ نے خانہ کعبہ جاکر اپنا پیٹ کعبہ کی دیوار سے ملا تو کعبہ شق ہوگیا اور وہ اندر چلی گئیں اور پھر تین دن تک خانہ کعبہ میں محصور رہیں اور چوتھے دن باہر آئیں تو سیدنا علیؓ ان کے ہاتھ میں تھے۔ ندائے غیبی سے آواز آئی جس میں فاطمہ بنت اسد کو دنیا کی تمام عورتوں پر فضیلت کامژدہ سنایا گیا اور سیدنا علیؓ کو اولین و آخرین کا علم عطا ہونے کی پیشن گوئی کی گئی۔ یہاں تک کہ خود سیدنا علیؓ نے سیدنا عیسیٰ ؑ کی طرح پنگوڑے سے عہد طفولیت میں کلام کیا اور اپنے وصی رسول اللہﷺ اور امام اولیاء ہونے کی گواہی دی۔ خیر ملا باقر مجلسی کی بیان کردہ خرافات اس قدر واہیات ہیں کہ ان کا ابطال کرکے تحریر کو طوالت دینا قطعاً سود مند نہیں ہو گا،اس قصہ کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ اہلسنت کے کسی محدث یا مورخ نے اس واقعہ کو صحیح سند سے اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا۔ کچھ غیر محتاط مورخین و علماء نے اگر ان خرافات سے صرف نظر کرکے سیدنا علیؓ کے مولود کعبہ ہونے کی بات بھی کی ہے تو انہوں نے بھی تمریض کے صیغے یعنی “قیل” وغیرہ کا استعمال کیا ہے جو کہ اس خود ساختہ فضیلت و لقب کے وضعی ہونے کو کافی ہے*

_______&______

*آج کے اس سلسلہ میں ہم اس بات کا تحقیقی جائزہ لیں گے کہ مولود کعبہ کون تھے؟ حضرت علی ؓ یا حضرت حکیم بن حزامؓ؟*

*حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولود کعبہ ثابت کرنے کے لئے شیعوں کی طرف سے یا ان کے ہم خیالوں کی طرف سے جو روایات یا اقوال پیش کیے جاتے ہیں وہ درج ذیل ہیں*

*پہلی دلیل*

📚امام حاکم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
” وقد تواترت الاخبار ان فاطمه بن اسد ولدت امیر المؤمنین علی بن طالب کرم الله وجه فی جوف الکعبه،
” یعنی یہ تواتر سے ثابت ہے کہ فاطمہ بنت اسد نے حضرت علیؓ کو کعبہ کے اندر جناـ
(المستدرك على الصحيحين 483/3)

*دوسری دلیل*

📚علامہ ابن ظہیرہ:
نے اپنی کتاب ” الجامع اللطیف ” بصیغہ مجہول یہ قول نقل کیا ہے کہ حضرت علی ؓ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے
(الجماع اللطیف : 338 ، بحواله اخبار المکرم بآخبار المسجد الحرام : 194)

*تیسری دلیل*

📚اس سلسلے میں سب سے مشہور روایت جو نقل کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ” حلمیہ بنت ابی ذوہیب عبداللہ بن الحارث سعدیہ ایک مرتبہ حجاج بن یوسف کے دور خلافت میں ان سے ملنے کے لیے گئیں ـ حجاج نے کہا : آئے حلمیہ ! اللہ تجھے میرے پاس لایا ، میں چاہتا ہوں کہ تجھے بلاؤں اور تم سے انتقام لوں ، حلمیہ نے کہا: اس سورش و غصہ کا کیا سبب ہے ؟ حجاج نے جواب دیا : میں نے سنا ہے کہ تم علی ؓ کو ابوبکرؓ اور عمرؓ فضیلت دیتی ہو ، حلمیہ نے کہا : حجاج ! خدا کی قسم میں اپنے امام کو اکیلی حضرت عمرؓ و ابوبکرؓ پر فضلیت نہیں دیتی ہوں ، ابوبکرؓ و عمرؓ میں کیا لیاقت ہے کہ حضرت علیؓ سے ان کا موازنہ کیا جائے ، میں تو اپنے امام کو آدم ، نوح ، ابراہیم ، سلمیان ، موسی اور عیسی پر بھی فضیلت دیتی ہو، حجاج نے برآشفتہ ہو کر کہا میں تجھ سے دل برداشتہ ہوں ، میرے بدن میں آگ لگ گئی ہے ، اگر تو نے اس دعوٰی کو ثابت کردیا تو ٹھیک ورنہ میں تجھے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا ، تاکہ تم دوسروں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے ، پھر حلمیہ نے ایک ایک کر کے دلائل کے ساتھ علیؓ کی برتری ثابت کردی ـ یہاں تک کہ جب حجاج نے کہا تو کس دلیل سے علیؓ کو عیسی علیہ السلام پر ترجیح دیتی ہے ؟ حلمیہ نے کہا
اے حجاج سنو ! جب مریم بن عمران بچہ جننے کے قریب ہوئی جب کہ وہ بیت المقدس میں ٹھہری تھی ، حکم الہی آیا کہ بیت المقدس سے باہر نکل جاؤ اور جنگل کی طرف رخ کرو تاکہ بت المقدس تیرے نفاس سے ناپاک نہ ہوجائے ، اور جب حضرت علیؓ کی ماں فاطمہ بن اسد وضع حمل کے قریب ہوئیں تو وحی آئی کہ کعبہ میں داخل ہو جاؤ اور میرے گھر کو اس مولود کی پیدائش سے مشرف کر، پھر حلمیہ کہنے لگی اے حجاج اب تم ہی انصاف کروکہ دونوں بچوں میں کون شریف ہو گا ؟ حجاج یہ سن کر راضی ہو گیا اور حلمیہ کا وظیفہ مقرر کردیا،

(آئینہ مذاہب امامیہ ترجمہ اردو تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز صاحب محد دہلوی ص 111-113)

*چوتھی دلیل*

📚ایک اور روایت امام زین العابدین کی طرف یون منسوب کی جاتی ہے کہ انہوں نے فرمایا :
ام عمارہ بن عباد الساعدیہ کی طرف سے زہد بنت عجلان الساعدیہ نے مجھے خبردی ، کہا کہ میں ایک دن عرب کی چند عورتوں میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک ابوطالب غمگین ہو کر آیا ، میں نے کہا : کیا حال ہے ؟ تو ابوطالب نے کہا : فاطمہ بنت اسد دردزہ میں مبتلا ہے اور وقت ہو جانے کے باوجود بچہ پیدا نہیں ہو رہا ، پھر ابوطالب اپنی بیوی فاطمہ کو خانہء کعبہ کے اندر لے آیاـ اور کہا کہ اللہ کے نام پر بیٹھ جاؤ ، بیٹھ گئی اور پھر دردزہ شروع ہو گیا ، اور ایک پاکیزہ بچہ پیدا ہوا جس کا نام ابوطالب نے علی رکھاـ
(آئینہ مذاہب امامیہ ترجمہ اردو تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز صاحب محد دہلوی ص 111-113)

*پانچویں دلیل*

📚ایسی ایک روائیت ایک جگہ اس طرح سے بیان کی جاتی ہے کہ : امِ عارہ بنت ِعبادہ سے منسوب ہے کہ :
ایک دن میں عرب عورتوں کے پاس تھی کہ ابو طالب مغموم و پریشان تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا : ابوطالب! کیا ہوا؟وہ کہنے لگے : فاطمہ بنت ِاسد اس وقت سخت دردِ زِہ میں مبتلا ہیں۔یہ کہہ کر انہوں نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ لیے۔اسی اثنا میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : چچاجی کیامسئلہ ہے؟انہوں نے بتایا : فاطمہ بنت ِاسد دردِ زِہ سے دوچار ہیں۔ان کو کعبہ میں لا کر بٹھا دیا گیا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کا نام لے کر بیٹھ جائیے۔انہوں نے ایک خوش،صاف ستھرا اور حسین ترین بچہ جنم دیا۔ابو طالب نے اس کا نام علی رکھ دیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کو اٹھا کر گھر لائے۔
(مناقب عليّ بن أبي طالب لابن المغازلي، الرقم : 3)

*چھٹی دلیل*

📚سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ :
’’خانہ کعبہ میں سب سے پہلے سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔۔۔۔۔اور بنو ہاشم میں سب سے پہلے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ۔‘‘
(أخبار مکّۃ للفاکھي : 198/3، الرقم : 2018)

_______&___________

*یہ ہیں وہ دلائل جن کی بنیاد پر علیؓ کو مولود کعبہ کہا جاتا ہے آئندہ سطور میں ہم ان روایات کا تحقیقی جائزہ ملاحظہ فرمائیں گے ان شاءاللہ*

📚پہلی دلیل :
اس میں امام حاکم نے تواتر کا دعوٰی کیا ہے ، حالانکہ قابل اعتبار و قابل اعتماد مؤرخین میں سے کسی نے بھی اس بات کا یقین کے ساتھ تذکرہ نہیں کیا کہ حضرت علیؓ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے تھے ــ لہذا یہاں تواتر کا معنی پایا نہیں جاتا،

🚫یہ امام حاکم کی سخت خطا ہے۔۔امام حاکم اپنے تشیع کے سبب سیدنا علی ؓ کی فضیلت سے متعلق کئی وضعی روایات مستدرک میں لائے ہیں اور انکو صحیحین کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے جبکہ ان کی اکثریت مجروح و مجہول رواۃ پر مشتمل ہے۔ امام حاکم کی نقل کردہ اس روایت کا راوی ابو طاہر یحییٰ بن حسن علوی مجہول الحال ہے۔ اس کے علاوہ اس روایت کی مرکزی روایہ ام العارۃ بنت عبادہ بھی مجہول الحال ہیں،

🚫 نہج البلاغہ کے شارح علامہ بن ابی الحدید اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جائے پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے ، تاہم محدثین کرام نے علی ؓ کے مولود کعبہ کو تسلیم نہیں کیا ہے اور اس روایت کو محض جھوٹ و اختراع قرار دیا ہے ، ان کا خیال ہے کہ کعبہ میں جن کی ولادت ہوئی وہ حکیم بن حزام بن خولد ہیں ،
(شرح نہج البلاغہ لابن الحدید 14/1 لابی الحسن الندوی ص 49)

__________&________

📚دوسری دلیل :
ابن ظہیر نے بصیغہ مجہول یہ بیان یا : قیل : انہ ولد بالکعبہ ” یعنی یہ کہ علیؓ کعبہ میں پیدا ہوئے اور اس مجہول کے مقابل میں ایک معروف قول بھی نقل کیا اور اس میں علیؓ کی جائے پیدائش وہ جگہ بتلائی گئی جو شعب علی سے مشہور ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے پیدائش سے قریب واقع ہے
(الجماع اللطیف : 338 ، بحواله اخبار المکرم بآخبار المسجد الحرام : 194)
لہذا مولود کعبہ ہونے کی روایت مرجوح ہے

🚫 گیارہویں صدی ہجری کے نامور مصنف احمد بن محمد الاسد المکی نے بن ظہیرہ کے بصیغہ مجہول نقل کردہ قول ” انہ ولد بالکعبہ ” کو امام نوری کے قول کے ذریعہ ضعیف قرار دیا ہے ـ
(الجماع اللطیف : 338 ، بحواله اخبار المکرم بآخبار المسجد الحرام : 194)

__________&________

📚تیسری دلیل :
اس روایت میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ سر تا پا جھوٹ و کذب او بہتان سے لبریز ہے،اس میں بہت ساری باتیں جھوٹی اور من گھڑت ہیں،جنکی تفصیل درج ذیل ہے،

1_🚫کیونکہ :
تراجم کی کتاب میں کہیں یہ مذکور نہیں کہ حلمیہ بنت ابی ذویب السعدیہ حجاج بن یوسف کے عہد تک زندہ تھیں اور نہ ہی کہیں کسی نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے ـ
(ملاحظہ ہو : سیرت ابن ہشام 1/160 ، اسد العابہ 76/8)

2_🚫آئینہ مذاہب امامیہ کے مصنف علامہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ ” حلیمہ بن ابی ذویب مورخین کے اتفاق رائے سے حجاج بن یوسف کے زمانے تک زندہ نہیں رہی ـ
(آئینہ مذاہب امامیہ ترجمہ اردو تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز صاحب محد دہلوی ص 111-113)

3_🚫اس روایت کو صحیح ماننے سے اہل السنہ و الجماعہ کے اصولوں کی مخالفت لازم آئے گی کیونکہ اس روایت میں علیؓ کو عمرین یعنی ابو بکر و عمرؓ پر فوقیت دینے کی کوشش کی گئی ، جبکہ اہل النسہ والجماعہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ تمام صحابہ کرام میں سب سے زیادہ افضل ابوبکرؓ پھر عمرؓ پھر عثمانؓ پھر علیؓ اور ان کے بعد عشرہ مبشرہ ؓ ہیں،

*اور پھر جنکا واقعہ بیان کیا جاتا ہے خود ان حلمیہ سعدیہ کے ایمان لانے اور نہ لانے کے سلسلے میں مؤرخین کا اختلاف ہے*

4_🚫مجموعہ فتوٰی ابن تیمیہ رحمہ اللہ 152/2
اس اختلاف سے عیاں ہوتا ہے کہ حضرت سعدیہ بعثت نبوی کے آخر دور سے پہلے ہی وفات پا گئی تھیں ، اگر اس زمانے تک باحیات ہوتیں تو ان کے ایمان سے اختلاف منقول نہیں ہوتا،

5_🚫عیسی علیہ السلام کی ولادت سے متعلق جو بات اس روایت میں کہی گئی ہے وہ محض بکواس ہے اور تاریخ کے خلاف ہے کسی مؤرخ نے اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے ، اس کے برخلاف نص قرآن کی آئیت اس بات پر واضح دلالت کرتی کہ مریم علیہ السلام درد زہ سے پریشان ہو کر اس بات پر آمادہ ہوئیں کہ وہ کسی چیز پر تکیہ کریں اور جب اس حالت میں جنگل میں جانا اور کسی کی مدد کے بغیر وضع حمل ہونا دشوار محسوس کیا تو انہوں نےاختیار موت کی خواہش کی،
جسکی وضاحت قرآن میں اس طرح سے آئی ہے،

📚تفسیر القرآن الکریم – سورۃ نمبر 19 مريم_آیت نمبر 23

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَجَآءَهَا الۡمَخَاضُ اِلٰى جِذۡعِ النَّخۡلَةِ‌ۚ قَالَتۡ يٰلَيۡتَنِىۡ مِتُّ قَبۡلَ هٰذَا وَكُنۡتُ نَسۡيًا مَّنۡسِيًّا ۞

ترجمہ:
پھر درد زہ اسے کھجور کے تنے کی طرف لے آیا، کہنے لگی اے کاش ! میں اس سے پہلے مرجاتی اور بھولی بھلائی ہوتی۔

تفسیر:
فَاَجَاۗءَهَا الْمَخَاضُ:
جَاءَ یَجِيْءُ مَجِیْءًا “ کا معنی ہے آنا اور ” أَجَاءَ یُجِيْءُ “ (افعال) کا معنی ہے لانا، مگر اس کے مفہوم میں مجبور کرکے لانا پایا جاتا ہے۔ (زمحشری) ” الْمَخَاضُ “ عورت کو بچے کی پیدائش کے وقت ہونے والا درد، یعنی درد زِہ۔ ” مَخِضَتِ الْمَرْأَۃُ “ (ع) جب عورت کے ہاں پیدائش کا وقت قریب ہو۔ یہ ” مَخْضٌ“ سے ماخوذ ہے، جس کا معنی شدید حرکت ہے اور یہ نام رکھنے کی وجہ ولادت کے قریب ماں کے پیٹ میں بچے کا شدت سے حرکت کرنا ہے۔ یعنی درد زِہ کی شدت سے مجبور ہو کر وہ کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں اور آنے والے وقت کا تصور کر کے، جب ہر طرف سے برائی کی تہمت لگے گی، طعنے ملیں گے، گزشتہ زندگی کی ساری نیکی، پاک بازی اور شرافت کا خاکہ اڑایا جائے گا، کہنے لگیں کہ اے کاش ! میں اس سے پہلے مرگئی ہوتی اور کسی کو یاد ہی نہ ہوتا کہ کوئی مریم بھی تھی۔
(تفسیر القرآن)

6_🚫 اور یہ جو بیان کیا گیا ہے کہ فاطمہ بن اسد کو بھی وحی ہوئی کہ خانہ کعبہ میں جاکر وضع حمل کرے ،
یہ بلکل جھوٹ ہے ، کیونکہ اسلامی اور غیر اسلامی فرقوں میں سے کوئی بھی فاطمہ بن اسد کی نبوت کا قائل نہیں ہے ، جبکہ یہاں وحی جو لفظ ہے وہ انبیاٰء کے لئے خاص ہے،

________&___________

📚چوتھی دلیل:
میں امام زین العابدین کی طرف منسوب روایت پر جرح کرتے ہوئے

🚫 شاہ عبد العزیز دہلوری فرماتے ہیں کہ صحیح اسلام تاریخ کے خلاف یہ محض بکواس ہے
(آئینہ مذاہب امامیہ ترجمہ اردو تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز صاحب محد دہلوی ص 111-113)

__________&______

📚پانچویں دلیل:
امِ عارہ بنت ِعبادہ سے منسوب ہے کہ :
ایک دن میں عرب عورتوں کے پاس تھی کہ ابو طالب مغموم و پریشان تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا : ابوطالب! کیا ہوا؟وہ کہنے لگے : فاطمہ بنت ِاسد اس وقت سخت ۔۔۔۔۔انتہی!
(مناقب عليّ بن أبي طالب لابن المغازلي، الرقم : 3)

🚫یہ جھوٹی روایت ہے،کیونکہ :
1-اس کا راوی ابو طاہر یحییٰ بن حسن علوی کون ہے، کوئی پتہ نہیں۔
2-محمد بن سعید دارمی کی توثیق درکار ہے۔
3-زیدہ بنت قریبہ کے حالاتِ زندگی نہیں مل سکے۔
4ان کی ماں ام العارہ بنت ِعبادہ کون ہے، معلوم نہیں۔
پے در پے ’’مجہول‘‘راویوں کی بیان کردہ روایت کا کیا اعتبار ہو سکتا ہے؟

_______&__________

📚دلیل نمبر-6
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ :
’’خانہ کعبہ میں سب سے پہلے سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔۔۔۔۔اور بنو ہاشم میں سب سے پہلے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ۔‘‘
(أخبار مکّۃ للفاکھي : 198/3، الرقم : 2018)

🚫اس قول کی سند بھی ’’ضعیف‘‘ہے، کیونکہ امام فاکہی کے استاذ ابراہیم بن ابو یوسف کے حالاتِ زندگی نہیں مل سکے۔شریعت نے ہمیں ثقہ اور معتبر راویوں کی روایات کا مکلف ٹھہرایا ہے،نہ کہ مجہول اور غیر معتبر راویوں کے بیان کردہ قصے کہانیوں کا۔

_________&_______

*میں کہتا ہوں کہ شیعت کے پیروکار جس قدر علیؓ کو مولود کعبہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے دلائل اتنے ہی بے وقعت اور کمزور ہیں اور سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ایک اختراع ہے*

کیونکہ خانہ کعبہ جیسے معزر گھرمیں کسی کی بھی ولادت ہو وہ ایک عظیم شہرت کی بات ہے ، مؤرخین اس کا تذکرہ ہرگز ترک نہیں کر سکتے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ :

📚1- امام سیوطی نے اپنی کتاب ” تاریخ الخلفاء ” میں تقریبا 22 صفحات پر علیؓ کے فضائل کو بیان کیا ہے اس میں مولود کعبہ ہونے کا ذکرنہیں،
(تاریخ الخلفاء للسیوطی 185/207)

📚2- امام ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ” تاریخ اسلام و وفیات الاعلان ”میں تقریبا 32 صفحات پر علیؓ کی ولادت سے لیکر وفات تک زندگی کے مختلف گوشوں پر بحث کی ہے اور بے شمار خصوصیات کا ذکر کیا ہے لیکن اس میں مولود کعبہ ہونے کا ذکرنہیں ہے ـ
(تاریخ الاسلام للذھبی : 641/652)

📚3- استعیاب ابن عبدالبر نے 40 سے زائد صفحات پر خصائص علیؓ کا اور دیگر کامفصل تذکرہ کیا ہے ، لیکن مولود کعبہ ہونے کی بات نہیں لکھی ہے ـ
( استعیاب 11٫4- 1089 /3)

📚ان کے علاوہ قابل ذکر و معتبر مؤرخین و محدثین میں سے ابن الاثیر نے اپنی کتاب اسد الغابہ 134-100/4،

📚ابونعیم اصفہانی نے معرفتہ الصحابہ 1970-1986

📚امام مزی نے تہذیب الکمال 472/20
امام مسلم نے ” باب ” من فضائل علی ابن ابی طالب ” میں

📚امام المحدثین محمد بن عبداللہ بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ نے ” باب مناقب علی بن ابی طالب ”میں

*حضرت علی کے بے شمار فضائل ذکر کیا ہے ، لیکن کہیں بھی کسی نے مولود کعبہ ہونے کی بات نہیں لکھی،*

__________&________

*اس کے برخلاف حکیم بن حزام رض کے بارے میں جس نے بھی قلم اٹھایا تقریبا سبھی لوگوں نے ان کو مولود کعبہ کی بات کی ہے*

چند ایک اقوال درج ذیل ہیں،

📚حكيم بن حزام ولد في جوف الكعبۃ، ولا يعرف ذلك لغيره. وأما ما روي أن عليا ولد فيها فضعيف عند العلماء۔
حکیم بن حزام کعبے کے اندر پیدا ہوئے اور یہ بات کسی دوسرے کے متعلق سننے میں نہیں آئی اور اس قول کے متعلق کہ حضرت علی کی ولادت کعبہ میں ہوئی علما کے نزدیک یہ قول ضعیف ہے۔

(السيرة الحلبية۔إنسان العيون في سيرة الأمين المأمون، أبو الفرج، نور الدين ابن برهان الدين حلبی)

📚وذكر أبو الفرج بن الجوزي في كتابہ «مثير العزم الساكن إلى أشرف الأماكن»: وقول من قال: إن علي بن أبي طالب ولد في جوف الكعبۃليس بصحيح، لم يولد فيها غير حكيم۔
علامہ ابن جوزی نے اپنی کتاب مثیر العزم الساکن الی اشرف الاماکن میں اس قول کے بارے کہاکہ حضرت علی بن طالب کی ولادت کعبے میں ہوئی یہ صحیح نہیں حکیم بن حزام کے علاوہ کوئی کعبہ میں پیدا نہیں ہوا۔
(إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال، أبو عبد الله، علاء الدين)

📚ولد حكيم فى جوف الكعبۃ، ولا يُعرف أحد ولد فيها غيره
حکیم بن حزام کعبے کے اندر پیدا ہوئے اور یہ بات کسی دوسرے کے متعلق سننے میں نہیں آئی۔
(تهذيب الأسماء واللغات: أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي)

📚أنہ ولد في جوف الكعبہ، قال العلماء : ولا يعرف أحد شاركہ في هذا ،
حکیم بن حزام کعبے کے اندر پیدا ہوئے اور یہ بات کسی دوسرے کے متعلق سننے میں نہیں آئی۔
(فوائد مختارة من النووي جمع واختيار: سليمان بن محمد اللهيميد)

📚ولم يولد في جوف الكعبۃ سوى حكيم بن حزام ،
اور کوئی حکیم بن حزام کے علاوہ کعبے میں پیدا نہیں ہوا۔
(شرح صحيح الإمام البخاري، شمس الدين محمد بن عمر بن أحمد السفيري الشافعي)

📚أنہ ولد في جوف الكعبۃ، ولا يُعرف هذا لغيره وولد فِي جوف الكعبۃ، ولم يُسمع هَذَا لغيره،
حکیم بن حزام کعبے کے اندر پیدا ہوئے اور یہ بات کسی دوسرے کے متعلق سننے میں نہیں آئی اور نہ کسی کی پہچان ہے
(شرح سنن النسائي المسمى «ذخيرة العقبى في شرح المجتبى،محمد بن علي بن آدم بن موسى الإثيوبي الوَلَّوِي)

مزید درج ذیل علماء نے بھی یہی بات لکھی ہے،

📚وولد حكيم في جوف الكعبة كما سلف، ولا نعرف من ولد بها غيره وأما ما روي أن علياً ولد في جوفها فلا يصح۔
(الإعلام بفوائد عمدة الأحكام: ابن الملقن سراج الدين أبو حفص عمر بن علي بن أحمد الشافعي المصري)

📚بوَكَانَ وُلِدَ فِي جَوْفِ الْكَعْبَۃوَلَمْ يَصِحَّ أَنَّ غَيْرَهُ وُلِدَ فِي الْكَعْبَةِ۔
(المجموع شرح المهذب : أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي)

📚حكيم بن حزام المولود في جوف الكعبۃ، ولا توجد هذه الخصيصۃ إلا لہ۔
(شرح ألفيۃ العراقي : أبو الفضل زين الدين عبد الرحيم العراقي)

📚ثُمَّ حَكِيمٌ مُفْرَدٌ بَأَنْ وُلِدْ … بِكَعْبَةٍ وَمَا لِغَيْرِهِ عُهِدْ۔
(شرح أَلْفِيَّةِ السُّيوطي : الشيخ محمد ابن العلامۃ علي بن آدم ابن موسى الأثيوبي الولوي)

📚قال الزبير بن بكار كان مولد حكيم في جوف الكعبۃ۔ قال شيخ الإسلام ابن حجر: ولا يعرف ذلك لغيره،
(الوسيط في علوم ومصطلح الحديث: محمد بن محمد بن سويلم أبو شُهبة)

📚قَالَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ: كَانَ مَوْلِدُ حَكِيمٍ فِي جَوْفِ الْكَعْبَۃ۔ قَالَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ: وَلَا يُعْرَفُ ذَلِكَ لِغَيْرِهِ، وَمَا وَقَعَ فِي مُسْتَدْرَكِ الْحَاكِمِ مِنْ أَنَّ عَلِيًا وُلِدَ فِيهَا ضَعِيفٌ،
(تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي: عبد الرحمن بن أبي بكر، جلال الدين السيوطی)

📚بحَكِيم هَذَا ولد فِي جَوف الْكَعْبَۃ وَلَا يعرف أحد ولد فِيهَا غَيره،
(البدر المنير في تخريج الأحاديث والأثار الواقعۃ في الشرح الكبير: ابن الملقن سراج الدين أبو حفص عمر بن علي بن أحمد الشافعي المصري)

اور حقیقت بھی یہی ہے کہ صحیح سند سے مولود کعبہ ہونا صرف سیدنا حکیم بن حزامؓ کے لئے ثابت ہے، جو کہ ام المومنین سیدہ خدیجہؓ کے بھتیجے تھے اور حالت کفر میں ہونے کے باوجود شعب بنی ہاشم میں محصوری کے دور میں مسلمانوں کو چوری چھپے غلہ وغیرہ پہنچایا کرتے تھے۔ امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں ان حکیم بن حزام ؓ کی بابت تصریح کی ہے کہ ان کے مناقب میں سے ہے کہ وہ کعبہ میں متولد ہوئے اور بعض علماء کا ماننا ہے کہ ان کی اس فضیلت میں کوئی دوسرا صحابی ان کا شریک نہیں ہے۔ ان کے حالات میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انہوں نے طویل عمر پائی جس میں سے ساٹھ سال حالت کفر میں اور ساٹھ سال حالت اسلام میں بسر کئے اور مدینہ میں ۵۴ ہجری میں وفات پائی۔ امام بخاری نے اپنی تاریخ میں ان کی وفات ۶۰ ہجری کی بتائی ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے لیکن کبھی مسلمانوں کے مخالف نہ آئے۔ ابن حجر نے الاصابہ میں ان کے ترجمہ کے تحت لکھا ہے کہ یہ واقعہ فیل سے تیرہ سال قبل پیدا ہوئے اور واقعہ فیل کے وقت سمجھدار تھے۔ ان کے والد حزام بن خویلد جو کہ سیدہ خدیجہ ؓ بنت خویلدؓ کے بھائی تھے حرب فجار میں مقتول ہوئے۔

📚مزید تفصیل کیلیے دیکھیں
(اسد الغابہ 58/2 میں)
(تہذیب الکمال 173/7)
( تاریخ اسلام 277/2 ، )
(الاصابہ (رقم : 1800 )
(تہذیب التہذیب 447/2)
(البدایہ واالنہایہ 68/8)
( الاستعاب 362/1)
(جمہرہ انساب العرب 121 )

*مذکورہ تمام کتابوں کے مصنفین نے بھی حکیم بن حزامؓ کے بارے میں مولود کعبہ ہونے کی بات کہی ہے*

الغرض صحیح تاریخی روایات سے صرف سیدنا حکیم بن حزامؓ جن کا کعبہ میں متولد ہونا ثابت ہے۔ رہا سیدنا علیؓ کا مولود کعبہ ہونا تو اس کی تصریح کسی صحیح سند سے ثابت نہیں اور اہل تشیع کے ہاں بھی یہ بات بلا دلیل ہی رائج ہے۔ یہ سب صرف رافضیت کی خامہ فرسائی ہے کہ ہر صحابیؓ کے خصائص چھین کر سیدنا علیؓ کو دے دیئے جائیں کہ جیسا کہ اسد اللہ جو کہ سیدنا حمزہ ؓ کا لقب تھا جنکو جبرائیل علیہ السلام نے یہ لقب دیا تھا اور سیف اللہ جو کہ خالد بن ولیدؓ کا لقب تھا، آج کتنے ہی کم علم لوگ ان القابات کا مصداق سیدنا علیؓ کو باور کرواتے ہیں جبکہ حقیقت میں روایات کی رو سے ان القابات کا سیدنا علی ؓ سے کوئی تعلق نہیں، البتہ وہ بہادر اور دلیر تھے اور ہمارے لئے صحیح روایات میں آنے والے سیدنا علیؓ کے خصائص و فضلیت انکی منقبت کے لئے کافی ہونے چاہیئں کہ سیدنا علی ؓ ہمارے سروں کے تاج ہیں اور ان کی محبت ہمارے ایمان کا جز ہے،

*خلاصہء کلام*
یہ مذکورہ حقائق اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ علیؓ کو مولود کعبہ بتانا ایک اختراع باطل ہے ـ اس کی کوئی حقیقت نہیں ، صحیح تاریخ جو ثابت ہے وہ یہی ہے کہ حکیم بن حزامؓ ہی کعبہ میں پیدا ہوئے،

*تاہم علیؓ کی ولادت کہاں ہوئی؟*

📚اس میں سب سے زیادہ صحیح اور راجح قول یہی ہے کہ ان کی پیدائش نبی اکرم ؓ کی جائے پیدائش سے قریب ایک گھاٹی میں ہوئی جو کہ شعب علی سے معروف ہے
دیکھیں:
(الجماع اللطیف : 338 ، بحواله اخبار المکرم بآخبار المسجد الحرام : 194)

*لہذا بے اصل روایتوں کو سہار بنا کر علیؓ کو مولود کعبہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ، اس سے حضرت علیؓ کی ذات میں کوئی کمی نہیں آتی بلکہ علیؓ کی ذات عبقری ہے ، اور بے شمار فضائل کی مالک ہے اور جھوٹے واقعات و قصص سے بلکل بے نیاز ہے،*

ماخذ محدث فارم
کچھ کمی بیشی کے ساتھ:
محدث فارم لنک پر جائیں

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📚میں علم کا شہر اور علی اسکا دروازہ ہیں؟
اس روائیت کی تحقیق و تخریج کیلئے ((دیکھیں سلسلہ نمبر-135))

📚کیا حضرت علی رضی کو مولی کا لقب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیا تھا؟ دیکھیں تفصیل
(( سلسلہ نمبر-278))

🌹اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں