703

سوال_حضرت علی رض کی شہادت کے بعد خلیفہ کون بنا؟ اور حضرت حسن اور معاویہ رض کا اتحاد کیسے اور کن حالات میں ہوا؟ اس کے کیا اسباب تھے اور اس کے نتائج کیا نکلے؟ کیا معاویہ رض نے اقتدار پر زبردستی قبضہ کیا تھا؟ انکی کردار کشی کیوں کی گئی؟ ان پر کیا الزامات لگائے گئے؟ اور انہوں نے باغی پارٹی ساتھ کیا سلوک کیا؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-181″
سوال_حضرت علی رض کی شہادت کے بعد خلیفہ کون بنا؟ اور حضرت حسن اور معاویہ رض کا اتحاد کیسے اور کن حالات میں ہوا؟ اس کے کیا اسباب تھے اور اس کے نتائج کیا نکلے؟ کیا معاویہ رض نے اقتدار پر زبردستی قبضہ کیا تھا؟ انکی کردار کشی کیوں کی گئی؟ ان پر کیا الزامات لگائے گئے؟ اور انہوں نے باغی پارٹی ساتھ کیا سلوک کیا؟

Published Date: 4-1-2019

جواب:
الحمدللہ:

*جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہر جمعہ کے دن ہم تاریخ اسلام کے مشہور واقعات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر کیے جانے والے اعتراضات اور انکے جوابات پڑھتے ہیں،پچھلے سلسلہ جات نمبر*
87٫88،92٫96٫102 131،133٫134، 139،145،151،156,166
*میں سب سے پہلے ہم نے تاریخ کو پڑھنے اور اور جانچنے کے کچھ اصول پڑھے پھر یہ پڑھا کہ خلافت کی شروعات کیسے ہوئی؟ اور خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رض کی خلافت اور ان پر کیے جانے والے اعتراضات کا جائزہ لیا، اور یہ بھی پڑھا کہ واقعہ فدک کی حقیقت کیا تھی؟ اور یہ بھی پڑھا کہ حضرت عمر فاروق رض کو کس طرح خلیفہ ثانی مقرر کیا گیا،اور حضرت عمر فاروق رض کے دور حکومت کے کچھ اہم مسائل کے بارے پڑھا ،کہ انکے دور میں فتنے کیوں نہیں پیدا نہیں ہوئے اور ،حضرت خالد بن ولید رض کو کن وجوہات کی بنا پر سپہ سالار کے عہدہ سے ہٹا کر ابو عبیدہ رض کی کمانڈ میں دے دیا،اور خلیفہ دوئم کی شہادت کیسے ہوئی، اور پھر سلسلہ 133٫134 میں ہم نے پڑھا کہ تیسرے خلیفہ راشد کا انتخاب کیسے ہوا؟اور کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیعت نہیں کی تھی؟اور کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس موقع پر بے انصافی ہوئی؟ اور دور عثمانی کی باغی تحریک کیسے وجود میں آئی؟ انہوں نے کس طرح عثمان رض کو شہید کیا اور صحابہ کرام نے عثمان رض کا دفاع کیسے کیا؟اور پھر سلسلہ نمبر-139 میں ہم نے پڑھا کہ باغی تحریک نے کس طرح عثمان غنی رض پر الزامات لگائے اور انکی حقیقت بھی جانی، اور پھر سلسلہ_145 میں ہم نے پڑھا کہ عثمان غنی رض کو شہید کرنے کے بعد فوراً صحابہ نے باغیوں سے بدلہ کیوں نا لیا؟ چوتھے خلیفہ راشد کا انتخاب کیسے ہوا؟*
*کیا صحابہ کرام سے زبردستی بیعت لی گئی؟اور کیا علی رض باغیوں سے بدلہ لینے کے حق میں نہیں تھے؟اور کیا علی (رض) نے عثمان رض کے قاتلوں کو خود حکومتی عہدے دیے تھے؟ اس ساری تفصیل کے بعد سلسلہ نمبر-151 میں ہم نے جنگ جمل کے بارے پڑھا کہ وہ جنگ* *باغیوں کی منافقت اور دھوکے کہ وجہ سے ہوئی تھی، جس میں باغیوں کی کمر تو ٹوٹی مگر ساتھ میں بہت سے مسلمان بھی شہید ہوئے، اور پھر سلسلہ نمبر_156 میں ہم نے جنگ صفین کے بارے پڑھا کہ جنگ صفین کیسے ہوئی،اسکے اسباب کیا تھے، اور پھر مسلمانوں کی صلح کیسے ہوئی اور پھر سلسلہ نمبر-166 میں ہم نے جنگ صفین کے بعد واقع تحکیم یعنی مسلمانوں میں صلح کیسے ہوئی، کون سے صحابہ فیصلہ کرنے کے لیے حکم مقرر کیے گئے اور حضرت علی و معاویہ رضی اللہ عنھما کے مابین تعلقات کیسے تھے،*
*اور پھر پچھلے سلسلہ نمبر-171 میں ہم نے یہ پڑھا کہ خوارج کیسے پیدا ہوئے اور باغی جماعت میں گروپنگ کیسے ہوئی؟
خوارج کا نقطہ نظر کیا تھا؟*
*حضرت علی نے خوارج سے کیا معاملہ کیا؟خوارج سے جنگ کے نتائج کیا نکلے؟اور بالآخر مصر کی باغی پارٹی کا کیا انجام ہوا؟* اور سلسلہ نمبر 176 میں ہم نے پڑھا کہ حضرت علی (رض) کیسے شہید ہوئے؟ حضرت علی (رض) کی شہادت کے وقت صحابہ کرام اور باغیوں کے کیا حالت تھی؟حضرت علی( رض) کی شہادت پر صحابہ کے تاثرات کیا تھے؟حضرت علی(رض) کے دور میں فرقوں کا ارتقاء کیسے ہوا؟حضرت علی (رض) کی خلافت کس پہلو سے کامیاب رہی؟حضرت علی (رض) کے دور میں بحران کیوں نمایاں ہوئے؟

آج کے سلسلے میں ہم۔پڑھیں گے ان شاءاللہ کہ
*حضرت علی رض کی شہادت کے بعد خلیفہ کون بنا؟*
*اور حضرت حسن اور معاویہ رض کا اتحاد کن حالات میں ہوا؟*
*اس کے کیا اسباب تھے اور اس کے نتائج کیا نکلے؟*
*کیا معاویہ رض نے زبردستی اقتدار پر قبضہ کیا تھا؟*
*حضرت معاویہ کی کردار کشی کیوں کی گئی؟*
*حضرت معاویہ پر کیا الزامات عائد کیے گئے اور ان کا جواب کیا ہے؟*
*حضرت معاویہ نے قاتلین عثمان کی باغی پارٹی کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟*

🌹حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد مسلمانوں نے باہمی مشورے سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا۔ حضرت علی سے ان کی شہادت سے پہلے پوچھا گیا: ” کیا آپ کے بعد ہم حسن کی بیعت کر لیں؟” آپ نے فرمایا: “میں نہ تو اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہوں،
(طبری 2/354/ H40)

حضرت حسن رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو آپ نے چھ ماہ کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اتحاد کر لیا اور خلافت کو ان کے سپرد کر دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جو وصیت ہم نے پچھلے سلسلہ میں بیان کی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا حکم انہیں حضرت علی ہی نے دیا تھا۔

اس طرح سے امت مسلمہ پھر اکٹھی ہوگئی اور باغی تحریک کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ ان کا خیال تھا کہ وہ حضرت حسن کو دبا کر ان سے اپنی باتیں منوا لیں گے لیکن آپ نے اس کے بالکل برعکس معاملہ کیا۔ باغی راویوں نے اس کا انتقام حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے بھی لیا اور آپ کے متعلق کچھ ایسی روایات وضع کیں جن میں آپ کی کردار کشی کی گئی۔ اس باب میں ہم انہی روایات کا جائزہ لیں گے۔

*حضرت حسن کی خصوصی حیثیت کیا تھی؟*

حضرت حسن رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین نواسے ہیں۔ جب آپ خلیفہ بنے تو آپ کی عمر محض 38 برس تھی۔ باغیوں نے بھی اس امید پر آپ کی بیعت کر لی تھی کہ آپ ناتجربہ کار ہیں، اس طرح وہ آپ سے وہ اپنی بات آسانی سے منوا لیں گے۔ دوسری جانب اہل شام بھی آپ کا احترام کرتے تھے کیونکہ آپ آخری دم تک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حفاظت کرتے رہے تھے اور جنگ صفین میں بھی آپ جنگ سے دور رہے تھے۔اس وجہ سے آپ کی شخصیت اتحاد کے اس مشن کے لیے انتہائی موزوں تھی۔ آپ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک پیش گوئی فرمائی تھی جو کہ صحیح بخاری میں بیان ہوئی ہے۔

*حضرت حسن نے اتحاد کیوں کیا؟*

یہ بات واضح ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی حکومت کی قیمت پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اتحاد اس لیے کیا تاکہ مخلص مسلمان متحد ہوں اور منافق باغیوں کی سرکوبی کی جا سکے۔ یہ حضرت حسن کے انتہا درجے کے خلوص کی نشانی تھی کہ آپ نے اپنے ذاتی مفاد پر امت مسلمہ کے مفاد کو ترجیح دی۔ باغی راویوں کو آپ کا یہ اتحاد ہضم نہیں ہو سکا اور انہوں نے تاریخی روایتوں میں اپنے جملے داخل کر کے اس اتحاد کو معاذ اللہ آپ کے لالچ، مفاد پرستی، بزدلی اور کمزوری سے تعبیر کیا ہے۔ یہ بات حقیقت سے بالکل ہی دور ہے۔ طبری ہی نے بعض ایسی روایات نقل کی ہیں جن سے واقعے کی اصل صورت سامنے آ جاتی ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل عراق کا لشکر تیار کیا تھا جو آذر بائیجان اور اصفہان سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے علاوہ ایک خاص لشکر عربوں کا تھا جس میں چالیس ہزار جنگجو تھے اور انہوں نے حضرت علی سے مرنے پر بیعت کی تھی۔ آپ نے ان پر قیس بن سعد رضی اللہ عنہما کو مقرر کیا تھا اور قیس مہم میں کچھ تاخیر کر رہے تھے۔ اسی اثناء میں حضرت علی شہید ہوئے اور اہل عراق نے حسن بن علی کو خلیفہ مقرر کیا۔ ۔۔۔

اہل عراق نے جب حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے خلافت کی بیعت کی تو حسن نے ان سے یہ شرط طے کی کہ آپ لوگ میری بات کو سنیں گے اور میری اطاعت کریں گے۔ میں جس سے صلح کروں، آپ اس سے صلح کریں گے اور میں جس سے جنگ کروں، اس سے جنگ کریں گے۔ اس شرط سے اہل عراق (یعنی باغی پارٹی) کے دلوں میں شک آ گیا۔ انہوں نے کہا: “یہ شخص ہمارے کام کا نہیں ، اس کا تو جنگ کا ارادہ لگتا نہیں ہے۔” حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کو ابھی چند ہی دن گزرے تھے کہ ان پر برچھی کا وار کیا گیا جو اوچھا پڑا۔
اب ان لوگوں کے لیے حسن کے دل میں بغض بڑھ گیا اور وہ ان سے محتاط ہو گئے۔ انہوں نے معاویہ سے خط و کتابت کی اور اپنی شرائط لکھ بھیجیں کہ اگر آپ انہیں منظور کر لیں تو میں اطاعت کروں گا اور آپ پر اس وعدے کا پورا کرنا لازم ہو گا۔
( طبری۔ 41H/4/1-26)

اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ذاتی نہیں بلکہ امت مسلمہ کے مفاد میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اتحاد کیا تھا۔ ایک شخص جس کے ساتھ چالیس ہزار جنگجو ہوں اور وہ بھی ایسے کہ جنہوں نے موت پر بیعت کی ہو، اسے کیا خوف لاحق ہو سکتا تھا۔ واضح ہے کہ حضرت حسن باغی پارٹی سے نفرت کرتے تھے اور انہیں اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتے تھے۔ دوسری طرف باغی پارٹی نے بھی بھانپ لیا تھا کہ آپ ان کے کام کے آدمی نہیں۔ اس وجہ سے انہوں نے آپ پر قاتلانہ حملہ بھی کیا اور آپ کے خیمے کو لوٹ لیا اور جس قالین پر آپ بیٹھے تھے، اسے بھی کھینچ لیا۔

اس حملے کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ کوفہ سے نکلے اور مدائن کے قریب مقصورۃ البیضاء کے مقام پر جا کر ٹھہرے۔ یہاں بھی آپ پر حملہ کیا گیا۔ یہ حملہ کرنے والا مختار ثقفی تھا جس نے پچیس برس بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے انتقام کے نام پر اپنی تحریک شروع کی اور پھر نبوت کا دعوی بھی کیا۔

روایت یہ ہے:

🌹سعد بن مسعود ، جو مختار کے چچا تھے اور یہ ابھی نوجوان لڑکا تھا، (حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے )مدائن کے گورنر تھے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بننے کے بعد مدائن تشریف لائے تو اس نے اپنے چچا کو تجویز پیش کی کہ آپ کو باندھ کر حضرت معاویہ کے حوالے کر دیا جائے اور اس کے صلے میں امان مانگ لی جائے۔ چچا نے اسے جھڑک دیا اور کہا: “اللہ تجھ پر لعنت کرے۔ کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے پر حملہ کر کے انہیں باندھ لوں۔ کیا برے آدمی ہو تم؟” حسن رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ ان کے معاملات میں تفرقہ پڑ گیا ہے تو انہوں نے حضرت معاویہ کے پاس صلح کا پیغام بھیجا۔ معاویہ نے عبداللہ بن عامر اور عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہم کو ان کے پاس روانہ کیا۔ دونوں شخص مدائن میں حسن رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور جو مطالبہ حسن نے کیا، اسے منظو رکر لیا۔
(طبری۔ 4/1-24)

*صلح کے معاملے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا کردار بھی غیر معمولی ہے۔*

روایت کے مطابق آپ ہی کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر جنگ و جدال کا یہ سلسلہ جاری رہا تو مسلمانوں ہی کو نقصان پہنچے گا۔ اس وجہ سے آپ نے صلح کی تحریک شروع کی اور ایک سادہ کاغذ پر دستخط کر کے اس پر مہر لگائی اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا۔

🌹 صحیح بخاری کی روایت ہے:

ابو موسی اسرائیل بیان کرتے ہیں کہ ان سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے خود بیان کیا کہ جب حسن بن علی ، معاویہ کے مقابلے کے لیے لشکر لے کر چلے تو عمرو بن عاص نے معاویہ سے کہا: “میں نے حسن کے پاس جو لشکر دیکھا ہے، وہ اس وقت تک واپس جانے والا نہیں ہے جب تک کہ مقابل کی فوج کو بھگا نہ لے۔” معاویہ نے کہا: “(اگر یہ جنگ ہو گئی اور فریقین کے بہت سے لوگ مارے گئے تو) مسلمانوں کی اولاد کی پرورش کون کرے گا؟” عمرو نے کہا: “ہم ان سے مل کر صلح کے لیے بات چیت کریں گے۔”
حسن بصری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: “میرا یہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالی اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کروائے گا۔
(صحیح بخاری۔کتاب الفتن۔حدیث7109)

اس سے حضرت حسن ، معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کے امت کے لیے خلوص کا اندازہ ہوتا ہے۔ اپنی انا او روقار کے لیے جان دینے والے تو بہت ملتے ہیں لیکن اپنے دین اور امت کی بہتری کے لیے اپنی انا کو قربان کرنے والے کم ہی ملتے ہیں۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی عظیم قربانی ایسی ہے کہ مسلمانوں کو تا قیامت اس پر خوشی محسوس کرنی چاہیے اور آپ کے اسوہ حسنہ سے سبق سیکھنا چاہیے لیکن چونکہ یہ باغی تحریک کے مفاد کے خلاف تھی، اس وجہ سے انہوں نے اس قسم کی روایتیں مشہور کیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ، معاذ اللہ کمزور آدمی تھے اور انہوں نے دب کر صلح کی تھی۔ اوپر صحیح بخاری کی روایت سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ حضرت حسن کس درجے میں طاقتور تھے۔

اس روایت میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ جیسے انتہائی تجربہ کار سپہ سالار کی رائے نقل ہو ئی ہے کہ حضرت حسن کے ساتھ بڑی فوج موجود تھی اور اس کے مورال کا عالم یہ تھا کہ وہ فتح کے بغیر پیچھے ہٹنے والے نہ تھے۔ فو ج کے سالار قیس بن سعد رضی اللہ عنہما جیسے ماہر سیاست اور جنگجو کر رہے تھے۔ طبری کی روایت میں اس فوج کے لیے “پہاڑ جیسی افواج” کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس کے بعد بھی کہا جائے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے دب کر صلح کی تو اسے تعصب کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

حضرت معاویہ نے اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عباس، قیس بن سعد اور زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہم سے بھی صلح کر لی۔ آپ جنگ سے اس درجے میں بچنا چاہتے تھے کہ کسی طور پر بھی اسے پسند نہ فرماتے تھے۔

🌹 طبری کی روایت ہے:
معاویہ نے قیس بن سعد کے پاس قاصد روانہ کیا کہ ان کو خوف خدا دلائے اور پوچھے کہ کس کے حکم سے آپ لوگ لڑنے کو تیار ہیں۔ جن کے تابع حکم تو آپ لوگ تھے، انہوں نے تو میری بیعت کر لی ہے۔ قیس نے معاویہ سے دب جانا گوارا نہ کیا۔ معاویہ نے ایک کاغذ پر مہر لگا کر انہیں بھیج دیا کہ جو آپ کا جی چاہے، اس کاغذ پر لکھ لیجیے، مجھے سب منظور ہے۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: “قیس کے ساتھ رعایت نہیں کرنا چاہیے۔” معاویہ نے کہا: “ہوش کیجیے! اتنے لوگوں کو ہم اس وقت تک قتل نہیں کر سکتے جب تک کہ اہل شام میں سے بھی اتنے ہی لوگ نہ مارے جائیں اور جن کے بعد زندگی بے لطف ہے۔
واللہ! جب تک کچھ بھی چارہ کار ممکن ہے، میں قیس سے نہ لڑوں گا۔”

جب حضرت معاویہ نے وہ مہر شدہ کاغذ بھیجا تو قیس نے اپنے لیے اور حضرت علی کے گروہ کے لیے، امان طلب کی۔ یہ امان اس معاملے میں تھی جو قتل ان کے ہاتھوں ہوئے یا جو مال غنیمت ان کے ہاتھ لگا (اس کا ان سے انتقام نہ لیا جائے گا۔) اس عہد نامہ میں انہوں نے حضرت معاویہ سے مال کی مطلق خواہش نہ کی اور حضرت معاویہ نے ان کی ہر شرط کو منظور کر لیا۔ ان کے سب ساتھی حضرت معاویہ کے حلقہ اطاعت میں داخل ہو گئے۔

اس فتنہ کے زمانے میں پانچ افراد بڑے صائب الرائے اور اہل سیاست میں شمار ہوتے تھے۔ یہ معاویہ بن ابی سفیان، عمرو بن عاص، مغیرہ بن شعبہ، قیس بن سعد اور مہاجرین میں عبداللہ بن بدیل خزاعی رضی اللہ عنہم تھے۔ ان میں قیس اور ابن بدیل ، علی کے ساتھ تھے اور مغیرہ و عمرو ، معاویہ کے ساتھ تھے۔
(طبری۔ 4/1-27)

*کیا حضرت حسین نے اتحاد کی مخالفت کی؟*
باغی راویوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اس اتحا دکا مخالف ثابت کیا جائے تاکہ ان کی باغیانہ سرگرمیوں کو جواز مل سکے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ حضرت حسین جیسی ہستی کے بارے میں یہ بات انتہائی بدگمانی پر مبنی ہے کہ آپ مسلمانوں میں نہایت ہی مبارک اتحاد ہوتا دیکھ کر دوبارہ فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائیں۔ حضرت حسین نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے پورے دور میں جو طرز عمل رکھا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ حضرت معاویہ کی دل و جان سے قدر کرتے تھے۔

اس کا اندازہ الاخبار الطوال کی اس روایت سے ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ ’’الاخبار الطوال‘‘کسی نامعلوم شیعہ مصنف کی کتاب ہے اور غلط طور پر ابو حنیفہ الدینوری سے منسوب ہے:

🌹(صلح کے بعد) حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی ملاقات سب سے پہلے حجر بن عدی سے ہوئی۔ اس نے حضرت حسن کو ان کے اس فعل (صلح) پر شرم دلائی اور دعوت دی کہ وہ (حضرت معاویہ سے) دوبارہ جنگ شروع کریں اور کہا: “اے رسول اللہ کے بیٹے! کاش کہ میں یہ واقعہ دیکھنے سے پہلے مرجاتا۔ آپ نے ہمیں انصاف سے نکال کر ظلم میں مبتلا کر دیا۔ ہم جس حق پر قائم تھے، ہم نے وہ چھوڑ دیا اور جس باطل سے بھاگ رہے تھے، اس میں جا گھسے۔ ہم نے خود ذلت اختیار کر لی اور اس پستی کو قبول کر لیا جو ہمارے لائق نہ تھی۔ ”

حضرت حسن کو حجر بن عدی کی یہ بات ناگوار گزری اور انہوں نے فرمایا : ’’میں دیکھتا ہوں کہ لوگ صلح کی طرف مائل ہیں اور جنگ سے نفرت کرتے ہیں۔ آپ کیوں اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ میں لوگوں پر وہ چیز مسلط کروں جسے وہ ناپسند کرتے ہیں۔ میں نے خاص طور پر اپنے شیعوں کی بقا کے لیے یہ صلح کی ہے۔ میری رائے کہ جنگوں کے اس معاملے کو مرتے دم تک ملتوی کر دیا جائے۔ یقیناً اللہ ہر روز نئی شان میں ہوتا ہے۔‘‘

اب حجر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، ان کے ساتھ عبیدہ بن عمرو بھی تھے۔ یہ دونوں کہنے لگے: “ابو عبداللہ! آپ نے عزت کے بدلے ذلت خرید لی۔ زیادہ کو چھوڑ کر کم کو قبول کر لیا۔ آج ہماری بات مان لیجیے، پھر عمر بھر نہ مانیے گا۔ حسن کو ان کی صلح پر چھوڑ دیجیے اور کوفہ وغیرہ کے باشندوں میں سے اپنے شیعہ کو جمع کر لیجیے ۔ یہ معاملہ میرے اور میرے ساتھیوں کے سپر د کر دیجیے۔ ہند کے بیٹے (معاویہ) کو ہمارا علم اس وقت ہو گا جب ہم تلواروں کے ذریعے اس کے خلاف جنگ کر رہے ہوں گے۔‘‘

حضرت حسین نے جواب دیا: “ہم بیعت کر چکے اور معاہدہ کر چکے۔ اب اسے توڑنے کا کوئی راستہ نہیں۔”
(الاخبار الطوال۔ ص 233-234)

اسی روایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی صلح چاہتے تھے۔ بعد میں بھی پورے بیس برس ان کے تعلقات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بہت اچھے رہے۔

1۔ جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حضرت حسین ، اپنے بھائی حضرت حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت معاویہ کے پاس جایا کرتے تھے۔ وہ ان دونوں کی بہت زیادہ تکریم کرتے ، انہیں خوش آمدید کہتے اور عطیات دیتے۔ ایک ہی دن میں حضرت معاویہ نے انہیں بیس لاکھ درہم دیے،
(ابن عساکر۔ 59/193)

2۔ حضرت حسن بن علی ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: میں آپ کو ایسا عطیہ دوں گا جو مجھ سے پہلے کسی نے نہ دیا ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے حضرت حسن کو چالیس لاکھ درہم دیے۔ ایک مرتبہ حسن و حسین رضی اللہ عنہما دونوں ان کے پاس آئے تو انہیں بیس بیس لاکھ درہم دیے۔
(ابن عساکر۔ 59/193)

3۔ اہل تشیع کے بڑے عالم اور نہج البلاغہ کے شارح ابن ابی الحدید لکھتے ہیں: معاویہ دنیا میں پہلے شخص تھے جنہوں نے دس دس لاکھ درہم بطور عطیہ دیے۔ ان کا بیٹا یزید پہلا آدمی تھا جس نے ان عطیات کو دوگنا کیا۔ حضرت علی کے دونوں بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو ہر سال دس دس لاکھ درہم دیے جاتے۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کو بھی دیے جاتے،
( ابن ابی الحدید۔ شرح نہج البلاغۃ۔ 11/265۔) http://www.shiaonlinelibrary.com (ac 11 Aug 2012)

4-حضرت حسن کا انتقال ہوا تو حضرت حسین برابر ہر سال حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کے پاس جاتے رہے۔ وہ انہیں عطیہ دیتے اور ان کی بھرپور عزت کرتے،
(ابن کثیر 11/477)

5۔ حضرت معاویہ کا حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو تحفے بھیجنا اتنی معروف بات ہے کہ ابو مخنف کو بھی اس سے انکار نہیں ہے۔ موصوف لکھتے ہیں: معاویہ ہر سال حسین رضی اللہ عنہما کو ہر قسم کے تحفوں کےعلاوہ دس لاکھ دینار بھیجا کرتے تھے۔
(ابو مخنف۔ مقتل الحسین علیہ السلام۔ قم: مطبعہ امیر۔ www.al-mostafa.com)

6۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ وہ قیصر روم کو خوفزدہ رکھنے کے لیے ہر سال دو مہمات ترکی کی جانب روانہ کرتے تھے۔ یہ سردی اور گرمی کی مہمات کہلاتی تھیں اور طبری نے ہر سال کے باب میں ان کی تفصیل بیان کی ہے۔ آپ نے ایک مہم اپنے بیٹے یزید کی سرکردگی میں قیصر کے دار الحکومت قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کی جانب روانہ کی۔ اس لشکر میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے،
(ابن کثیر۔ 11/477)

*بزرگ صحابی حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی اسی لشکر کا حصہ تھے اور ان کی وفات قسطنطنیہ ہی میں ہوئی جہاں ان کی قبر آج تک موجود ہے۔*

*اگر حضرت حسین، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کو دل و جان سے جائز حکمران تصور نہ کرتے تو یہ کیسے ممکن تھا کہ آپ ہر سال ان کے مہمان بنتے اور ان کے دیے گئے تحفوں کو قبول کرتے۔؟*

🌹یہاں ہم اس روایت کا جائزہ پیش کریں گے جو طبری نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے متعلق نقل کی ہے:

قال زياد بن عبد الله، عن عوانة؛ وذكر نحو حديث المسروقي، عن عثمان بن عبد الرحمن هذا، وزاد فيه:
حسن نے حسین اور عبداللہ بن جعفر (رضی اللہ عنہم) سے ذکر کیا کہ میں معاویہ کے ساتھ صلح کا معاہدہ لکھ چکا ہوں اور ان کی دی گئی امان کو تسلیم کر لیا ہے۔ یہ سن کر حسین کہنے لگے: ’’میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ معاویہ کی بات کی تصدیق اور علی کی بات کی تکذیب نہ کیجیے۔‘‘ حسن نے جواب دیا : ’’خاموش رہیے، میں آپ سے بہتر اس بات کا جانتا ہوں۔‘‘
(طبری۔ 4/1-25)

اس سند کو دیکھیے تو اس میں عوانہ کلبی (d. 147/765)
موجود ہیں جو ہشام کلبی کے استاذ ہیں،

دوسرے صاحب زیاد بن عبداللہ (d. 183/799) ہیں جو کہ ضعیف تھے۔

تیسرے صاحب عثمان بن عبد الرحمن الحرانی ہیں (d. 203/819) جو کہ خود تو اگرچہ سچے آدمی ہیں مگر ضعیف لوگوں سے بکثرت روایتیں قبول کر لیتے ہیں۔
(ذہبی۔ سیر الاعلام النبلا۔ شخصیت نمبر 2143, 3714, 4372 )

لہذا ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا راوی نہیں ہے جو حضرت حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے اتحاد (41/662) کا عینی شاہد ہو بلکہ یہ سب سو سال بعد کے لوگ ہیں۔ اس وجہ سے غالب امکان یہی ہے کہ سند کے نامعلوم راویوں میں سے کوئی باغی راوی موجود ہے جس نے اپنی بغاوت کو جسٹی فائی کرنے کے لیے اپنے الفاظ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے منہ میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

*کیا حضرت معاویہ نے معاہدے کی شرائط پوری نہ کیں؟*

حضرت حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے صلح کے معاہدے کو بیان کرتے ہوئے طبری نے ایک روایت نقل کی ہے جس کے مطابق حضرت معاویہ نے حضرت حسن کے ساتھ معاہدے کی شرائط کو پورا نہ کیا۔

روایت کے مطابق حضرت معاویہ نے حضرت حسن کو ایک سادہ کاغذ پر دستخط کر کے بھجوا دیا اور کہا کہ آپ جو جی چاہے، لکھ لیجیے۔

دوسری طرف حضرت حسن اپنی شرائط پہلے ہی لکھ کر انہیں بھجوا چکے تھے۔ جب انہیں سادہ کاغذ ملا، تو انہوں نے اس پر مزید شرائط لکھ کر اپنے پاس رکھ لیں اور بعد میں ان کا مطالبہ کیا لیکن حضرت معاویہ نے ان بعد میں لکھی گئی شرائط کو پورا نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوا بھی ہو تو حضرت معاویہ پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ وہ انہی شرائط کو پورا کرنے کے پابند تھے جو حضرت حسن نے انہیں بھجوا دی تھیں اور جن پر فریقین کا معاہدہ ہوا تھا۔ تاہم حضرت معاویہ کے حلم، تدبر، مروت اور کشادہ دلی کو مدنظر رکھا جائے تو یہ واقعہ بھی بے سروپا نظر آتا ہے۔

یہ واقعہ جس سند سے روایت ہوا ہے، اس پر ہم پہلے بھی کئی مرتبہ تبصرہ کر چکے ہیں۔

سند یہ ہے: حدثني عبد الله بن أحمد المروزي، قال: أخبرني أبي، قال: حدثنا سليمان، قال: حدثني عبد الله، عن يونس، عن الزهري۔

یہ سند ابن شہاب الزہری (58-124/58-124) سے شروع ہوتی ہے جو اس واقعہ کے سترہ برس بعد پیدا ہوئے۔ معلوم نہیں کہ انہوں نے کس شخص سے یہ بات سنی۔ عین ممکن ہے کہ وہ نامعلوم شخص باغی تحریک کا رکن رہا ہو۔ پھر زہری سے اس روایت کو یونس بن یزید ایلی بیان کرتے ہیں جو کہ ناقابل اعتماد ہیں اور زہری سے ایسی باتیں روایت کرتے ہیں جو اور کوئی نہیں کرتا ہے۔

*باغیوں نے حضرت حسن سے انتقام کیسے لیا؟*

حضرت حسن نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما سے اتحاد کر کے چونکہ باغی تحریک کی لٹیا ہی ڈبو دی تھی، اس وجہ سے ان کے دل میں حضرت حسن کے لیے بہت بغض تھا۔ اس موقع پر انہوں نے آپ کو ’’یا مذل المومنین‘‘ یعنی اے مومنین کو ذلیل کرنے والے کہہ کر پکارا۔ بعد میں ان کی طرح طرح سے کردار کشی کی گئی اور انہیں معاذ اللہ راسپوٹین جیسا کردار ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کہا گیا کہ حضرت حسن نے سو سے زائد شادیاں کیں۔ کسی خاتون سے شادی کرتے اور چند دن بعد اسے طلاق دے دیتے اور پھر کسی اور سے نکاح کر لیتے۔یہ ایسی گھناؤنی تہمت ہے جسے قرآن مجید کے حکم کے مطابق سنتے ہی مسترد کر دیا جانا چاہیے ۔

🌹ارشاد باری تعالی ہے:
لَوْلا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْراً وَقَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُبِينٌ.
ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب انہوں نے یہ بات سنی تھی، تو مومن مرد و عورت اپنے دل میں اچھا گمان کرتے اور کہہ دیتے کہ یہ تو کھلی تہمت ہے۔ (النور 24:12)

افسوس کہ روایت پرستی کے سبب بعض لوگ اس تہمت پر یقین کرتے ہیں، اس وجہ سے مناسب ہو گا کہ ان روایات کا بھی جائزہ لے لیا جائے۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے کثیر النکاح ہونے سے متعلق جتنی بھی روایات ہیں، وہ سب انہی واقدی، ہشام کلبی اور ابن جعدبہ سے مروی ہیں
(مزید تحقیق کے لیے دیکھیے: علی محمد محمد الصلابی۔ امیر المومنین الحسن بن علی بن ابی طالب: شخصیتہ و عصرہ۔ ص 27-28۔ قاہرہ: دار التوزیع ۔ www.waqfeya.com)

یہ روایات بھی حدیث یا تاریخ کی کسی مستند کتاب میں نہیں بلکہ ابن ابی الحدید ، ابو طالب مکی وغیرہ نے نقل کی ہیں۔ عرب عالم ڈاکٹر صلابی نے نہایت تفصیل کے ساتھ ان روایات کا تجزیہ کر کے ان کا ضعف بیان کیا ہے۔ یہاں ہم یہ اسناد درج کر رہے ہیں:

· روى المدائني عن أبن جعدبة عن ابن أبي مليكة

· عن محمد بن عمر (الواقدي) أنبأنا عبد الرحمن بن أبي الموال

· عن محمد بن عمر حدثنا عبد الله بن جعفر، عن عبد الله بن حسن قال

· حدثني عباس بن هشام الكلبي عن أبيه عن جده عن أبي صالح

آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ یہ روایتیں بیان کرنے والے کون لوگ ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے حضرت معاویہ کی کردار کشی کی، ویسے ہی حضرت حسن رضی اللہ عنہما کی کردار کشی میں بھی کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا۔ اگر حضرت حسن نے سو سے زائد شادیاں کی ہوتیں تو ان کی اولاد کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہونی چاہیے تھی جبکہ ایسا نہیں ہے۔ چند دن کے تعلق میں بھی حمل ٹھہر ہی جاتا ہے۔

*حضرت معاویہ کی کردار کشی کیوں کی گئی؟*

باغی تحریک کے تمام کارکن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شدید بغض رکھتے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آپ ان کے عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے اور باغی تحریک کی ابتدا ہی سے آپ نے ایسے اقدامات کیے جن کی بدولت یہ تحریک پنپ نہ سکی۔ اگر حضرت معاویہ اس تحریک کے خلاف بند نہ باندھتے تو عین ممکن ہے کہ بعد کی صدیوں میں مسلمان بے شمار فرقوں میں تقسیم ہو جاتے۔ حضرت عثمان ، علی اور خود اپنے زمانے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے باغیوں کی بھرپور سرکوبی کی اور ان کے عزائم کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ باغیوں نے آپ کے خلاف جی بھر کر جھوٹی روایتوں کا طومار باندھ دیا اور آپ کو نعوذ باللہ ایک مکار سیاستدان کے روپ میں پیش کیا۔

🌹طبری نے انہی باغیوں کے ساتھی ابو مخنف کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں جس میں اس نے اپنی بات کو کسی “حسن” کی طرف منسوب کیا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ حسن کون ہیں۔

معاویہ کی چار خصلتیں ایسی ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی ہوتی تو مہلک تھی: (1) اس امت پر جاہلوں کو مسلط کر دینا اور امت سے مشورہ کیے بغیر خلافت پر قبضہ کر لینا حالانکہ اس وقت صحابہ میں سے کچھ لوگ بھی باقی تھے اور صاحبان فضل بھی موجود تھے۔
(2) اپنے بیٹے کو اپنے بعد خلیفہ مقرر کر دینا جو کہ شراب خور، سیاہ مست تھا اور ریشم پہنتا اور طنبورہ بجاتا تھا۔
(3) زیاد (بن ابی سفیان) سے رشتہ جوڑ لینا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما گئے ہیں کہ لڑکا اسی کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہو اور بدکار کے لیے پتھر ہیں۔
(4) حجر بن عدی کو قتل کرنا۔ لعنت ہو ان پر حجر اور اصحاب حجر کی طرف سے۔ لعنت ہو ان پر حجر اور اصحاب حجر کی طرف سے۔
(طبری۔ 4/1-102)

ابو مخنف کی اس روایت کے ایک ایک لفظ میں اس کا وہ بغض ٹپک رہا ہے جو وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی اور کاتب وحی کے لیے دل میں رکھتا ہے جن کی خلافت کو حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما نے دل وجان سے قبول کیا تھا۔ اب ہم اس روایت میں بیان کردہ ایک ایک الزام کو لیتے ہیں اور اس کی تحقیق کرتے ہیں۔

*کیا حضرت معاویہ نے خلافت پر جبراً قبضہ کیا؟*

بعض لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت جائز اور آئینی تھی؟ وہ کہتے ہیں کہ تمام خلفاء راشدین کی خلافت مسلمانوں کے باہمی مشورے سے قائم ہوئی جبکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ معاملہ نہیں تھا۔ اس وجہ سے ان کی خلافت کو جائز نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت بالکل جائز اور آئینی خلافت تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمان تین گروہوں میں منقسم تھے:

1۔ ایک گروہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو جائز حکمران تسلیم کر لیا تھا۔ یہ اہل شام تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت معاویہ کو “امیر المومنین” کہنے لگے تھے۔

2۔ دوسرا گروہ وہ تھا جس نے باہمی مشورے سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اس بات پر بیعت کر لی تھی کہ آپ جس سے جنگ کریں گے، وہ بھی اس سے جنگ کریں گے اور آپ جس سے صلح کریں گے، وہ بھی اس سے صلح کریں گے۔ اس معاہدے کے بعد جب حضرت حسن نے معاویہ رضی اللہ عنہما سے صلح کر لی تو اس پورے گروہ نے بھی حضرت معاویہ کی بیعت کر لی۔

3۔ تیسرا گروہ اس اختلاف میں غیر جانبدار رہا تھا۔ جب حضرت حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہما کا اتحاد ہوا تو یہ سب بہت خوش ہوئے اور انہوں نے بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔

اس طرح سے مسلمانوں کے تینوں کے تینوں گروہوں کے اتفاق رائے (اجماع) سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے۔ اس کے بعد آپ کی خلافت کے جائز اور آئینی ہونے میں کیا شبہ ہو سکتا ہے۔ اس زمانے کے مسلمانوں نے بھی اسے اسی حیثیت سے دیکھا اور اس سال 41/660 کو “عام الجماعۃ” کا نام دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وہ سال تھا جس میں تمام مسلمان ایک بات پر متفق ہو گئے اور انہوں نے مل کر ایک “جماعت” کی شکل اختیار کر لی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت سے اگر کسی کو انکار تھا تو وہ یہی باغی پارٹی تھی جس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا لیکن انہوں نے بھی کم از کم ظاہری طور پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کو تسلیم کر لیا۔ اس طرح سے آپ کی خلافت ایسے اجماع کی شکل اختیار کر گئی جو کہ اس سے پہلے صرف حضرات ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو نصیب ہوا تھا۔

اگر بالفرض اس سے پہلے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی غلطی بھی سر زد ہوئی تھی لیکن جب حضرات حسن اور حسین رضی اللہ عنہما اور ان کے علاوہ تمام صحابہ نے آپ کی خلافت پر اتفاق رائے کر لیا تو پھر اس معاملے میں آپ پر زبان طعن وہی دراز کر سکتا ہے جس کے نزدیک حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کی کوئی وقعت نہ ہو۔

*حضرت معاویہ اور باغی پارٹیاں*

خلیفہ بننے کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے دو باغی پارٹیاں موجود تھیں: خوارج اور بقیہ قاتلین عثمان۔ ان میں سے خوارج زیادہ منظم اور پر تشدد تھے۔ بقیہ باغیوں کے اہم لیڈر مارے جا چکے تھے اور ان سب نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی اطاعت قبول کر لی تھی۔ اس وجہ سے حضرت معاویہ نے سب سے پہلے خوارج کی بیخ کنی کی۔ اس جنگ کا آغاز بھی خوارج ہی کی طرف سے ہوا اور انہوں نے کوفہ پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے اہل کوفہ کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ اس کے بعد ان سے جنگوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس میں خوارج کو پے در پے شکستیں دے کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عراق میں امن قائم کیا۔

باغیوں کے دوسرے گروپ کی بصرہ شاخ کا تو اسی وقت خاتمہ ہو چکا تھا جب حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کی سرکوبی کی تھی۔ مصر میں ان کی پارٹی کا حضرت عمرو بن عاص اور معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہما نے خاتمہ کر دیا تھا۔ چنانچہ اب یہ ہر طرف سے سمٹ سمٹا کر کوفہ میں آ گئے اور اسے اپنا مرکز بنا لیا۔ انہوں نے اپنی سرگرمیاں خفیہ رکھیں اور اندر ہی اندر اپنی پارٹی کو منظم کر نا شروع کر دیا۔ انہوں نے حضرات حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی لیکن اس میں ناکام رہے۔ اس ضمن میں ہم اخبار الطوال کی ایک روایت اوپر پیش کر چکے ہیں جس کے مطابق باغی پارٹی کے حجر بن عدی نے ان دونوں حضرات کو قائل کرنے کی کوشش کی لیکن ان حضرات نے ان کی بات نہ مانتے ہوئے مسلمانوں کے اتفاق و اتحاد کو فوقیت دی۔

اب باغی پارٹی کو ان کے قائدین نے از سر نو منظم کرنا شروع کر دیا اور کم و بیش دس بارہ سال تک خفیہ کام کرتے رہے۔ اس کی تفصیلات خود ہشام کلبی اور ابو مخنف نے بیان کی ہیں اور چونکہ یہ گھر کی گواہی ہے، اس وجہ سے قابل اعتماد سمجھی جا سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ابو مخنف نے اپنے زمانے کی باغی پارٹی کے خون کو گرمانے کے لیے یہ تفصیلات بیان کی ہوں اور طبری نے انہیں نقل کر دیا ہو۔ 41/660 میں حضرت معاویہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا تھا اور آپ دس برس اس عہدے پر قائم رہے تھے۔ آپ نے باغی پارٹی کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کیا اور ان پر زیادہ سختی نہ کی۔آپ کا مقصد یہ تھا کہ ان لوگوں کو نرمی سے ڈیل کیا جائے تاکہ یہ کوئی بغاوت برپا نہ کریں۔ حضرت مغیرہ کا طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے باغی پارٹی کے معروف لیڈروں کو اس بات کا پابند کر رکھا تھا کہ وہ ہر نماز مسجد میں ان کے ساتھ ادا کریں۔ اس طرح آپ ان پر نظر رکھتے تھے۔ اپنی گورنری کے آخری زمانے میں ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے حضرت مغیرہ نے فرمایا:

اے اللہ ! عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر رحم فرما۔ ان سے درگز کر اور ان کی نیکیوں کی انہیں جزا دے۔ انہوں نے تیری کتاب پر عمل کیا اور تیرے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا اتباع کیا۔ انہوں نے ہم لوگوں میں اتفاق قائم رکھا ، ہم میں خونریزی نہ ہونے دی اور ناحق شہید کیے گئے۔ اے اللہ! ان کے انصار، ان کے دوستوں، ان سے محبت کرنے والوں اور ان کے خون کا قصاص لینے والوں پر رحم فرما۔ اس کے بعد آپ نے حضرت عثمان کے قاتلوں کے لیے بددعا فرمائی۔

یہ سن کر حجر بن عدی کھڑے ہو گئے اور مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر ایک نعرہ بلند کیا کہ مسجد میں جتنے لوگ بیٹھے تھے اور جو باہر تھے، انہوں نے سنا۔ حجر نے کہا: “کس شخص کے دھوکے میں تم آ گئے ہو۔ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ بڑھاپے کے سبب اس کی عقل جاتی رہی ہے۔ اے شخص! ہماری تنخواہوں اور عطیوں کو جاری کرنے کا اب حکم دو۔ تم نے ہمارا رزق بند کر رکھا ہے، اس کا تمہیں کیا اختیار ہے؟تم سے پہلے جو حکام گزرے، انہوں نے تو کبھی اس کی طمع نہیں کی۔ تم نے امیر المومنین (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کی مذمت اور مجرمین کی ستائش کا شیوہ اختیار کیا ہے۔” یہ سن کر مسجد میں دو تہائی سے زیادہ آدمی اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے: “واللہ! حجر نے سچ کہا اور نیکی کی۔ ہماری تنخواہوں اور عطیات کے جاری کر دینے کا حکم دو۔”
(طبری۔ 4/1-83)

حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے زیادہ تعرض نہ کیا اور منبر سے اتر گئے۔ 51/670 میں ان کی وفات ہوئی تو کوفہ زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے ماتحت آ گیا۔ زیاد نے بھی کوفہ آ کر جو پہلا خطبہ دیا، اس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں پر لعنت بھیجی۔ حجر بن عدی نے ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جو وہ اس سے پہلے حضرت مغیرہ کے ساتھ کر چکا تھا۔ زیاد نے عمرو بن حریث کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور بصرہ چلے گئے۔ بعد میں پتا چلا کہ حجر بن عدی کے پاس باغی پارٹی کا مجمع لگا رہتا ہے اور یہ لوگ اعلانیہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ انہوں نے عمرو بن حریث پر بھی مسجد میں کنکریاں اور سنگریزے برسائے ہیں۔ زیاد اب خود کوفہ گئے اور انہوں نے پہلے جلیل القدر صحابہ حضرت عدی بن حاتم، جریر بن عبداللہ بجلی اور خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہم کے ذریعے حجر کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن حجر نے ان سے نہایت بدتمیزی کی۔

طبری ہی کی دیگر روایت کے مطابق حجر بن عدی نے باقاعدہ بغاوت کر دی اور پولیس سے مقابلہ کیا۔ ان کے اکثر ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ گئے اور وہ فرار ہو کر مالک الاشتر کے بھائی عبداللہ بن حارث کے گھر جا چھپے۔ یہاں ایک لونڈی کی مخبری کی۔ حجر نے گرفتاری کے لیے شرط یہ عائد کی کہ مجھے شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا جائے۔ زیاد نے اس شرط کو منظور کیا اور انہیں گرفتار کر لیا۔ دو باغی عمرو بن حمق اور رفاعہ بن شداد کوفہ سے فرار ہو کر شمالی عراق میں موصل کے پاس پہنچے اور ایک پہاڑی غار میں چھپ گئے۔ یہاں قریبی گاؤں کے لوگوں کو علم ہوا تو انہیں گرفتار کر کے موصل کے گورنر کے پاس پیش کیا۔ ان دونوں کو قتل کر دیا گیا۔ دیگر بہت سے باغی بھی فرار ہو کر ادھر ادھر بھاگے۔ زیاد نے ان کا تعاقب کروا کر انہیں گرفتار کیا۔ انہوں نے پھر پورے واقعے کی تحقیقات کروائیں اور لوگوں کی گواہیاں اکٹھی کیں۔ ابو مخنف نے ان تمام گواہوں کے نام بھی درج کیے ہیں اور ان میں حضرت وائل بن حجر، خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابہ اور موسی بن طلحہ اور ابوبردہ رحمہما اللہ جیسے جلیل القدر تابعین بھی شامل ہیں۔

زیاد نے ان باغیوں کو گرفتار کر کے شام بھجوایا اور ساتھ ہی تمام تفصیلات بشمول گواہیوں کے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجیں۔ اب ان کے پاس سفارشیوں نے سفارشیں کرنا شروع کر دیں اور حجر اور ان کے ساتھیوں کو معاف کر دینے کا مطالبہ کیا۔ حضرت معاویہ نے تمام تحقیقات کا جائزہ لیا اور پھر حجر کو سات ساتھیوں سمیت موت کی سزا دی اور ان کے سات ساتھیوں کو معاف کر دیا۔ اس طرح سے اس بغاوت کے سرکردہ لوگ اپنے انجام کو پہنچے اور یہ پھول بن کھلے ہی مرجھا گیا۔

باغیوں کے ساتھیوں نے اس واقعے کو خوب نمک مرچ لگا کر پیش کیا اور حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں کے قتل کو ظلم قرار دیا۔ انہوں نے مرثیے کہے اور باغیوں کی اگلی نسلوں کو بھڑکایا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آج کے دور کے کسی بھی ملک میں کوئی باغی تحریک منظم کرے اور حکومت کے خلاف تحریک چلائے اور فتنہ و فساد پھیلانے کی کوشش کرے تو حکومت کیا اسے پھولوں کے ہار پہنائے گی؟ ظاہر ہے کہ اسے سزا ہی دی جائے گی اور یہ جرم کی مناسبت سے ہو گا۔ عام طور پر حکومتیں باغیوں کے بڑے لیڈروں کو موت کی سزا دیتی ہیں اور چھوٹے موٹے ورکروں کو کم سزا دیتی ہیں یا پھر معاف کر دیتی ہیں تاکہ باغی تحریک زیادہ پھلے پھولے نہیں۔ اس وجہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر نہ تو شرعاً کوئی اعتراض کیا جا سکتا ہے اور نہ عقلاً۔

بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ طبری کی روایت کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس قتل پر تنقید کی اور فرمایا: “اے معاویہ! آپ کو حجر کو قتل کرتے ہوئے خدا کا خوف نہ ہوا؟” یہ روایت ابو مخنف کی ہے اور انہوں نے حسب عادت اپنے الفاظ سیدہ کی طرف منسوب کیے ہیں۔
(طبری 4/1-101)

ظاہر ہے کہ سیدہ کو حکومت کی بجائے ان باغیوں سے کیا ہمدردی ہو سکتی تھی جن میں سے بعض حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت میں بلا واسطہ یا بالواسطہ شریک تھے اور انہی باغیوں کے خلاف سیدہ خود بھی جنگ جمل میں اقدام کر چکی تھیں۔

اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدہ نے عبدالرحمن بن حارث کو پیغام دے کر حضرت معاویہ کے پاس بھیجا تھا لیکن جب وہ پہنچے تو حجر اور اس کے ساتھی قتل ہو چکے تھے۔ عبدالرحمن نے کہا:
“ابو سفیان کا سا حلم جو آپ میں تھا، وہ آپ نے کب چھوڑ دیا۔” حضرت معاویہ نے جواب دیا: “جب سے آپ جیسے اہل حلم نے مجھے چھوڑ دیا۔”
ممکن ہے کہ یہ بات درست ہو۔ شاید سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خیال رہا ہو کہ حجر بن عدی کو سزا دینا سیاسی حکمت کے خلاف ہے کہ اس کے قتل سے بغاوت اور بھڑک اٹھے گی چنانچہ انہوں نے حضرت معاویہ کو حلم اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔

ابن عبد البر نے سیدہ کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: “حجر اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں آپ میں ابو سفیان والا حلم کہاں چلا گیا؟ آپ نے ایسا کیوں نہ کیا کہ انہیں قید خانوں میں بند رکھتے اور طاعون کا شکار ہونے دیتے۔”
(ابن عبد البر۔ 1/198۔ باب حجر بن عدی)

ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ سیدہ یہ چاہتی تھیں کہ حجر کے قتل کا الزام حضرت معاویہ پر نہ آئے تاکہ ان کے خلاف بغاوت نہ بھڑکے۔ یہ ایک سیاسی مشورہ ہو سکتا ہے ، لیکن شرعی اعتبار سے حجر کا قتل ایک بالکل درست معاملہ تھا۔ جس شخص نے بغاوتی تحریک منظم کی ہو اور فتنہ و فساد پھیلایا ہو، اسے قانون کے مطابق سزا دینے میں کیا چیز مانع ہو سکتی ہے؟

بعض باغیوں نے حجر بن عدی کے مرتبے کو بڑھانے کے لیے انہیں مرتبہ صحابیت پر فائز کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے۔ ابن حجر عسقلانی (773-852/1371-1448)نے صحابہ کرام سے متعلق اپنے مشہور انسائیکلو پیڈیا “الاصابہ من تمییز الصحابہ” میں حجر کو صحابہ میں شمار نہیں کیا۔ ابن الاثیر الجزری (555-630/1160-1233)نے اپنی کتاب “اسد الغابہ” میں ایسا کیا ہے لیکن انہوں نے اس بات کی کوئی سند پیش نہیں کی کہ حجر صحابہ میں شمار ہوتے ہیں یا نہیں۔

*بیت المال میں کرپشن کی تہمت*

یہ ایک ایسی تہمت ہے جو باغی راویوں نے چند روایتیں گھڑ کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر عائد کی ہے۔ تاریخ کی کتب میں ایسی روایات کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جن میں ایسی کوئی بات ہے جس کی بنیاد پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر یہ تہمت عائد کی گئی ہے اور جب ہم ان روایتوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ان سب کی سند میں کوئی نہ کوئی ایسا راوی نکلتا ہے جس کا تعلق اسی باغی تحریک سے ہو۔ حضرت معاویہ کے زمانے میں بہت سے جلیل القدر صحابہ ابھی زندہ تھے۔ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما بھی آپ کے دور میں موجود تھے۔ اگر حضرت معاویہ، نعوذ باللہ کوئی بدعنوانی کرتے تو یہ حضرات ان کا ہاتھ پکڑتے یا انہیں کم از کم تنبیہ تو کرتے۔ لیکن ایسی کوئی روایت موجود نہیں ہے۔ اب ہم ان تمام روایات کا ایک ایک کر کے جائزہ لیتے ہیں۔

🌹تاریخ طبری میں اس ضمن میں صرف ایک واقعہ ہمیں مل سکا ہے، جو ہم یہاں بیان کر رہے ہیں:

(جنگ اشل جو شمال مغربی ایران کے علاقے میں ہوئی تھی، کے بعد) حکم اپنی راہ سے الگ ہو کر ہرات (موجودہ افغانستان) کی طرف چلے آئے تھے۔ پھر یہاں سے مرو (موجودہ ایران) کی طرف پلٹ گئے۔ زیاد (بن ابی سفیان گورنر ایران) کو مال غنیمت کی خبر پہنچی تو حکم کو لکھا: “امیر المومنین نے مجھے لکھ بھیجا ہے کہ سونا چاندی اور تمام نادر اشیاء ان کے لیے نکال لی جائیں۔ جب تک یہ چیزیں نکالی نہ جائیں، ہرگز ہرگز مال غنیمت میں تصرف نہ کرنا۔ ” حکم نے اس کے جواب میں لکھا: “آپ کا خط ملا، آپ نے کہا ہے کہ امیر المومنین نے آپ کو لکھ بھیجا ہے کہ سونا چاندی اور تمام نادر اشیاء ان کے لیے نکال لی جائیں۔ جب تک یہ چیزیں نکالی نہ جائیں، ہرگز ہرگز مال غنیمت میں تصرف نہ کرنا۔ اللہ عزوجل کا حکم امیر المومنین کے حکم سے پہلے آ چکا ہے ۔ واللہ! خدا سے ڈرنے والے کے لیے زمین و آسمان کی راہیں بند بھی ہو جائیں، جب بھی حق سبحانہ وتعالی اس کے لیے کوئی راستہ نکال ہی دے گا۔ ” پھر لوگوں سے کہا کہ اپنا اپنا مال غنیمت لے لو۔ سب لوگ آئے۔ حکم نے 1/5 حصہ الگ کر کے تمام مال غنیمت لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ اس پر زیاد نے ان کو لکھا: “اگر میں زندہ رہا تو تمہارے ٹکڑے اڑا دوں گا۔ ” حکم نے دعا کی: “یا رب! تیرے پاس آنے میں میرے لیے بہتری ہو تو مجھے بلا لے۔” اس کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔
( طبری۔ 4/1-82)

اس واقعے کو بیان کر کے بعض لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مال غنیمت میں سے سونا چاندی اور نوادرات اپنے لیے الگ کروا لیتے تھے حالانکہ یہ تاثر سرے سے غلط ہے۔ اس سلسلے میں چند نکات قابل غور ہیں:

1۔ واقعے کی سند طبری میں یہ بیان ہوئی ہے: حدثني عمر، قال: حدثني حاتم بن قبيصة، قال: حدثنا غالب ابن سليمان، عن عبد الرحمن بن صبح۔

تینوں راوی حاتم بن قبیصہ، غالب بن سلیمان اور عبد الرحمن بن صبح کے حالات نامعلوم ہیں۔ ان کے بارے میں فن رجال کے انسائیکلو پیڈیاز میں کوئی معلومات موجود نہیں ہیں جن سے اندازہ ہو سکے کہ یہ کون لوگ تھے، کس درجے میں قابل اعتماد تھے اور کیا ان کا کوئی تعلق باغی تحریک سے تھا؟

2۔ کتب تواریخ میں یہ ایک ہی واقعہ ہے اور اس کے علاوہ کوئی ایسا واقعہ نہیں ملتا ہے جس میں ایسا حکم دیا گیا ہو۔

3۔ ابن کثیر نے یہ وضاحت کی ہے کہ اس سونا چاندی وغیرہ کو حضرت معاویہ کی ذات کے لیے نہیں بلکہ بیت المال کے لیے الگ کرنے کا حکم تھا تاکہ اسے عام لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔
( ابن کثیر ۔ 11/169)

اس کی وجہ یہ تھی کہ جبل اشل کی جس قوم کے ساتھ جہاد کیا گیا تھا، ان کے ہاں سونا اتنی کثرت سے موجود تھا کہ ان کے برتن بھی سونے کے تھے۔ شرعی قاعدہ ہے کہ جنگ کے دوران دشمن سے جو مال غنیمت حاصل ہو، اس کا 1/5 بیت المال میں جمع کر دیا جائے اور 4/5 فوج میں تقسیم کر دیا جائے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اندازہ ہو گا کہ یہ سونا چاندی مل کر 1/5 کے برابر ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ اس موقع پر بیت المال میں سونے چاندی کی کمی واقع ہو گئی ہو، جس کی وجہ سے یہ حکم دیا گیا ہو۔

4۔ طبری کی روایت کے مطابق یہ حکم حضرت معاویہ نے نہیں بلکہ ایران کے گورنر زیاد بن ابی سفیان نے دیا تھا۔ روایت میں ان کے خط کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ راوی نے اپنے الفاظ میں بات کی ہے اور بات کو بالکل مجمل انداز میں بیان کرتے ہوئے کوئی اضافی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

اس تجزیے کے بعد صرف وہی شخص حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بدگمانی کر سکتا ہے جسے ایسا کرنے کی عادت ہو۔ ظاہر ہے کہ جس شخص کے نزدیک بدگمانی ایک جائز فعل ہو، وہ تو معمولی سے نکتے سے رائی کا پہاڑ کھڑا کر دے گا لیکن جس شخص کے دل میں ذرا سا بھی خوف خدا ہو، وہ محض اس ایک روایت کی بنیاد پر بدگمانی کو جگہ نہ دے گا۔

🌹 اس کے برعکس طبری ہی میں ہمیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وہ نصیحت ملتی ہے جو آپ اپنے گورنروں کو فرماتے تھے۔ اس سے آپ کی پالیسی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:

عبیداللہ کی بات سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے والی خراسان مقرر کیا اور پھر یہ فرمایا: “آپ کے لیے بھی میرے وہی احکام ہیں جو دوسرے عہدے داروں کے لیے ہیں۔ اس کے علاوہ قرابت کے لحاظ سے آپ کو میں وصیت کرتا ہوں کہ آپ کا میرے ساتھ خاص رشتہ ہے۔

· کم کے لیے زیادہ کو ہرگز نہ چھوڑیے۔

· اپنے نفس کا محاسبہ اپنے ہی نفس سے کیجیے۔

· آپ کے اور آپ کے دشمن کے درمیان جو معاملہ ہو، اس میں وعدے کی پابندی کیجیے کیونکہ اس سے آپ پر اور آپ کے ذریعے ہم پر بوجھ کم پڑے گا۔

· لوگوں کے لیے اپنا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھیے کہ آپ کو ان کے حالات معلوم ہوتے رہیں گے۔ وہ اور آپ برابر ہیں۔

· جب کسی مہم کا قصد کیجیے تو لوگوں پر اسے ظاہر کر دیجیے لیکن کسی مفاد پرست کا اس میں دخل نہ ہونے پائے۔ جب اس مہم کو انجام دینا آپ کے لیے ممکن ہو تو ہرگز کوئی (مفاد پرست) آپ کی بات کو مسترد نہ کر پائے۔

· جنگ میں اگر دشمن زمین کے اوپر آپ پر غالب بھی ہو جائیں تو یہ سمجھ رکھیے کہ زمین کے اندر وہ آپ پر غالب نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ کے رفقاء پر ایسا وقت پڑے جائے کہ اپنی جان سے آپ کو ان کی مدد کرنا پڑے تو ایسا ہی کیجیے۔ کند تلوار بھی اگر کاٹ نہ سکتی ہو، تو اسے قبضے سے الگ نہ کیجیے (یعنی ہر صورت مقابلہ جاری رکھیے۔)

· اللہ سے ڈرتے رہیے اور اس سے بڑھ کر کسی چیز کو نہ سمجھیے کہ خوف خدا میں بے شک ثواب ہے۔

· اپنی آبرو کو داغ سے بچائے رکھیے اور کسی سے جب وعدہ کریں تو اسے پورا کیجیے۔

· اپنے کسی ارادے کو پختگی سے پہلے ظاہر نہ کیجیے لیکن جب ظاہر ہو جائے تو پھر کسی کو اس کی مخالفت نہ کرنے دیجیے۔

· جب دشمن سے لڑائی چھڑ جائے تو جتنی فوج آپ کے پاس ہے، اس سے زیادہ کا انتظام کیجیے (یعنی ریزرو افواج رکھیے۔)

·مال غنیمت کی تقسیم قرآن کے مطابق کیجیے اور کسی کو ایسی چیز کا لالچ نہ دیجیے جس کا وہ مستحق نہ ہو۔ اور نہ ہی کسی کو اس کے حق سے مایوس کیجیے۔
( طبری۔ 41-/112)

*روایت کے الفاظ سے واضح ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی پالیسی، اپنے سے پہلے خلفاء راشدین سے مختلف نہ تھی۔ اسی کی روشنی میں دیگر روایات کو دیکھنا چاہیے اور جس روایت میں باغی راویوں نے آپ کے خلاف بغض کا اظہار کیا ہو، اسے مسترد کر دینا چاہیے۔*

🌹حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر تہمت لگاتے ہوئے ایک اور روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ حضرت معاویہ بے تحاشا مال صرف کر کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا رہے ہیں، آپ بھی ایسا ہی کیجیے۔ انہوں نے انکار کر دیا اور فرمایا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ میں ایسے ناورا طریقوں سے کامیابی حاصل کروں۔

اس روایت کا جھوٹ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ

🌹خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زبان سے نہج البلاغہ میں یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں:
کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ معاویہ تو تند مزاج جفا کاروں کو دعوت دیتے ہیں اور وہ بغیر کسی بخشش اور عطیہ کے ان کی پیروی کرتے ہیں۔ میں تمہیں تمہارے مقرر کردہ عطیات کے علاوہ مزید رقم بھی دیتا ہوں، پھر بھی تم مجھ سے الگ ہوئے جاتے ہو۔
( سید شریف رضی۔ نہج البلاغہ۔ خطبہ 180)

طبری میں ہے:

🌹حضرت علی جب اہل بصرہ کی بیعت سے فار غ ہوئے تو انہوں نے بیت المال کا جائزہ لیا۔ اس میں ساٹھ لاکھ درہم سے زائد رقم موجود تھی جو انہوں نے ان لوگوں میں تقسیم کر دی جو آپ کے ساتھ جنگ میں شریک تھے۔ ہر شخص کے حصے میں پانچ پانچ سو کی رقم آئی۔ پھر ان سے فرمایا: “اللہ تعالی شام میں آپ لوگوں کو فتح یاب کرے تو اتنی ہی رقم عطیات کےعلاوہ تمہیں ملے گی۔”
( طبری۔ 3/2-160)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین کے خلاف لوگوں کے جذبات اس قدر شدید تھے کہ وہ بغیر کسی معاوضے کے لالچ کے، حضرت معاویہ کے پاس آ کر ان کی فوج میں دھڑا دھڑ شامل ہو رہے تھے۔ دوسری جانب باغی تحریک کے لوگوں کا مقصد چونکہ محض مال و دولت اکٹھا کرنا تھا، اس وجہ سے وہ حضرت علی سے عطیات تو وصول کرتے تھے مگر آپ کے ساتھ شریک نہ ہوتے تھے۔ حضرت علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں ہی نے بیت المال میں خیانت نہیں فرمائی۔ ان دونوں حضرات نے جس کسی کو جو بھی عطیات دیے، وہ عین اسی اصول کے مطابق تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ سے جاری تھا۔ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ اسلام کے نظام معیشت کا مقصد ہی دولت کی تقسیم تھا تاکہ ہر ہر شخص کی ضرورتیں پوری ہو سکیں۔ تمام خلفاء راشدین کا یہ دستور تھا کہ وہ بیت المال کی رقم کو زیادہ سے زیادہ تقسیم کرتے تھے تاکہ ہر ہر شخص تک مال پہنچ سکے۔ قبائلی سرداروں کے بارے میں جو تواریخ میں ذکر ملتا ہے کہ انہیں اتنے لاکھ یا اتنے ہزار درہم ملے تو یہ رقم ان کی ذات کے لیے نہیں بلکہ اپنے قبیلے کے لوگوں میں تقسیم کے لیے دی جاتی تھی۔ اس کے لیے وہ باقاعدہ رجسٹروں میں اندراج کرتے تھے اور حکومت کی جانب سے اس کا آڈٹ کیا جاتا تھا۔ حضرت عثمان، علی اور معاویہ رضی اللہ عنہم نے اپنے اپنے زمانوں میں اسی دستور کو جاری رکھا۔ ریگولر آرمی اور سول سروس کے ساتھ ساتھ ریزرو افواج موجود رہتیں اور انہی کے لیے قبائلی سرداروں اور خاندانوں کے سربراہوں کو لاکھوں کی مقدار میں عطیات دیے جاتے،

*تاریخ کے اگلے سلسلہ میں ہم پڑھیں گے کہ
کہ حضرت علی رض پر سب و شتم کس نے اور کیوں کیا؟*

((واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)))

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں