1,391

سوال_قنوت وتر کی دعا رکوع سے پہلے پڑھنی چاہیے یا بعد میں؟ اور کیا قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانا سنت سے ثابت ہے؟ نیز قنوت وتر کی مسنون دعا کونسی ہے؟

سلسلہ سوال و جواب نمبر-177″
سوال_قنوت وتر کی دعا رکوع سے پہلے پڑھنی چاہیے یا بعد میں؟ اور کیا قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانا سنت سے ثابت ہے؟ نیز قنوت وتر کی مسنون دعا کونسی ہے؟

Published Date: 29-12-2018

جواب:
الحمدللہ:

*سب سے پہلے ایک بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ قنوت کہتے ہیں دعا کو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازوں میں قنوت دو طرح کی کرتے تھے،*

*ایک قنوت(دعا) جو ہنگامی/حادثاتی حالات میں تمام فرض نمازوں کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد کر سکتے ہیں اسے قنوت نازلہ کہتے ہیں یعنی مصیبت کے وقت کی دعا*
(قنوت نازلہ کی تفصیل کے لیے دیکھیں سلسلہ نمبر-178)

*دوسری قنوت(دعا) جو صرف نماز وتر کی آخری رکعت میں کرتے ہیں، اسے قنوت وتر کہتے ہیں،یعنی وتروں کی دعا*

اس وضاحت کے بعد اب یہ دیکھتے ہیں کہ وتروں کی دعا رکوع سے پہلے پڑھنی چاہیے کہ رکوع کے بعد؟؟؟

*اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے مگر صحیح بات یہی ہے کہ قنوتِ وتر کی دعا وتروں کی آخری رکعت میں قرآت کے بعد اور رکوع سے پہلے پڑھنا ہی مسنون، راجح اور افضل ہے،*

🌹سیدنا اُبی بن کعبؓ سے روایت ہے:
أن رسول اﷲ کان یوتر فیقنت قبل
الرکوع،
’’بے شک رسول اللہﷺ وتر پڑھتے تو رکوع سے پہلے قنوت کرتے تھے۔‘‘
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر-1182)

اور ایک دوسری روایت میں ہے،

🌹ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھتے تھے ، پہلی رکعت میں سورۃ الاعلى دوسری میں سورۃ الکافرون اور تیسری میں سورۃ الاخلاص کی تلاوت فرماتے اور رکوع سے قبل قنوت کرتے اور جب (وتر پڑھ کے) فارغ ہوتے تو تین مرتبہ یہ دعاء پڑھتے ” سبحان الملک القدوس اور آخری لفظ کو لمبا کھینچتے ۔
(سنن نسائی، حدیث نمبر-1699)
حدیث صحیح

🌹عن علقمة
أن ابن مسعود وأصحاب النبي صلى الله عليه وسلم كانوا يقنتون في الوتر قبل الركوع”
علقمہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک ابن مسعود (رض) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ وتروں میں رکوع سے قبل قنوت کرتے تھے،
(رواه أبو بكر بن أبي شيبة،

وقال الألباني في الإرواء الغلیل(2ج/166) وهذا سند جيد وهو على شرط مسلم]
(الألباني_ أصل صفة الصلاة ٣/٩٧١ • إسناده حسن)

🌹امام ترمذی کہتے ہیں،
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ بھی رکوع سے پہلے قنوت پڑھنا پسند کرتے تھے، اور یہی بعض اہل علم کا قول ہے سفیان ثوری، ابن مبارک، اسحاق اور اہل کوفہ بھی یہی کہتے ہیں،
(سنن ترمذی حدیث نمبر-464 حدیث کے بعد)

*محدث العصر علامہ البانی رحمہ اللہ کا کہنا یہ ہے کہ دعائے قنوت رکوع سے پہلے ہے اور جن روایات میں رکوع کے بعد کا تذکرہ ہے تو اس سے مراد قنوت نازلہ ہے،امام ابن حجر رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے ہے*

🌹قال المحدث الألباني:
“والخلاصة أن الصحيح الثابت عن الصحابة هو القنوت قبل الركوع في الوتر”
نامور محدث علامہ البانی رحمہ اللہ وتروں کی دعا بارے دلائل ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام سے جو صحیح ثابت ہے وہ وتروں میں رکوع سے پہلے قنوت کرنا ہی ہے،
( الإرواء الغلیل 2ج/ص166)

🌹قال الحافظ ابنِ حجر
“ومجموع ما جاء عن أنس من ذلك أن القنوت للحاجة بعد الركوع لا خلاف عنه في ذلك، وأما لغير الحاجة فالصحيح عنه أنه قبل الركوع”
امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
کہ انس (رض) سے جنتی روایات ہیں اس بارے ان تمام کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی حاجت،ضرورت کے لیے نمازوں میں قنوت (نازلہ) کرتے تو رکوع کے بعد کرتے اور اگر بغیر حاجت کے قنوت (وتر) کرتے تو صحیح یہی ہے کہ آپ رکوع سے پہلے قنوت کرتے، اور انس رض سے اسکے خلاف کوئی بات ثابت نہیں،
[فتح الباری_3ج/ص144)

*رکوع کے بعد قنوت والی احادیث کی مختصر وضاحت*

🌹انس بن مالک رض سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں پھر پوچھا گیا کہ کیا رکوع سے پہلے؟ تو آپ نے فرمایا کہ رکوع کے بعد تھوڑے دنوں تک،
(صحیح بخاری حدیث نمبر-1001)

اگلی حدیث میں مزید وضاحت ہے

🌹عاصم بن سلیمان کہتے ہیں ،
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ دعائے قنوت ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ) پڑھی جاتی تھی۔ میں نے پوچھا کہ رکوع سے پہلے یا اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا کہ رکوع سے پہلے۔ عاصم نے کہا کہ آپ ہی کے حوالے سے فلاں شخص نے خبر دی ہے کہ آپ نے رکوع کے بعد فرمایا تھا۔
انس (رض) کہنے لگے وہ جھوٹ بولتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد صرف ایک مہینہ دعائے قنوت پڑھی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے ستر قاریوں کے قریب مشرکوں کی ایک قوم ( بنی عامر ) کی طرف سے ان کو تعلیم دینے کے لیے بھیجے تھے، یہ لوگ ان کے سوا تھے جن پر آپ نے بددعا کی تھی۔ ان میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان عہد تھا، لیکن انہوں نے عہد شکنی کی ( اور قاریوں کو مار ڈالا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک ( رکوع کے بعد ) قنوت پڑھتے رہے ان پر بددعا کرتے رہے۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر-1002)
(سنن دارمی كِتَابُ الصَّلَاةِ. |
بَابٌ : الْقُنُوتُ بَعْدَ الرُّكُوعِ. حدیث نمبر-1637)

*ان تمام احادیث مبارکہ اور محدثین کی وضاحت سے پتا چلا کہ وتروں میں جو قنوت کی جاتی وہ رکوع سے پہلے ہی ہے اور جو قنوت رکوع کے بعد ہے وہ قنوت وتر نہیں بلکہ فرضی نمازوں میں کی جانے والی قنوت نازلہ ہے جو ہنگامی حالات میں کفار و مشرکین وغیرہ پر بد دعا کرنے یا اللہ سے مدد مانگنے کے لیے کسی بھی نماز میں کی جا سکتی ہے جیسا کہ انس رض کی صحیح احادیث سے وضاحت ملتی ہے*

___________&&________

نوٹ_
*جس روایت میں وتروں کے اندر رکوع کے بعد قنوت وتر کا ذکر ہے وہ یہ ہے،*

🌹سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وِتْرِي إِذَا رَفَعْتُ رَأْسِي وَلَمْ يَبْقَ إِلا السُّجُودُ:
مجھے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے سکھایا کہ اپنے وتر میں جب میں رکوع سے سر اٹھاؤں اور سجدہ کے سوا اور کچھ باقی نہ بچے تو یہ دعاء پڑھوں
اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ
(مستدرک الحاكم 4800)
(سنن البہقي_ 5055)
اس حدیث کی سند پر محدثین کا کلام ہے،
علامہ البانی رحمہ اللہ نے
(أصل صفة الصلاة ٣/٩٧١ میں اسکو إسناده ضعيف لکھا ہے،)
(اور إرواء الغليل ٢/١٦٨ میں حسن کہا ہے)

🌹اور بعض اہل علم مثلا امام حمد بن حنبل، امام شافعی رحمہا اللہ وغیرہ رکوع کے بعد دعائے قنوت کے قائل ہیں۔اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرضی نماز میں قنوت نازلہ کی احادیث پر قیاس کرتے ہیں، اور اسی طرح امام بخاری رحمہ اللہ بھی قنوت وتر کو رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دونوں طرح جائز کہتے ہیں،اور کچھ اہل عرب کے علماء بھی رکوع سے پہلے اور بعد دونوں طرح جائز کہتے ہیں،

*اس سب کا خلاصہ یہ ہے کہ قنوت وتر میں دعا رکوع سے پہلے پڑھنا ہی مسنون عمل ہے اور جو علمائے کرام رکوع کے بعد قنوت وتر پڑھنے کو جائز کہتے ہیں وہ زیادہ تر قنوت نازلہ والی احادیث پر قیاس کرتے ہیں*
________&________

*قنوت وتر میں ہاتھ اٹھانا*

وتروں میں ہاتھ اٹھا کے قنوت کی دعا پڑھنا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں،کچھ لوگ اسے قنوت نازلہ پر قیاس کرتے ہیں لیکن یہ قیاس کرنا درست نہیں کیونکہ یہ قیاس ، قیاس مع الفارق بنتا ہے جو کہ صحیح نہیں !!
________&_______

*اسی طرح قنوت وتر کے وقت رفع الیدین کرنا بھی ثابت نہیں*

وتروں میں دعائے قنوت پڑھتے وقت رفع الیدین کرنا کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں، اس بارے جس حدیث کو دلیل بنایا جاتا ہے وہ یہ ہے،

🌹كانَ عبدُ اللَّهِ يقرأُ في آخرِ الرَّكعةِ منَ الوترِ { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ } ثمَّ يرفعُ يديِهِ فيقنتُ قبلَ الرَّكعة
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ رض وتروں کی آخری رکعت میں قل ھو اللہ پڑھتے اور پھر (دعا کے لیے) ہاتھ اٹھاتے اور رکوع سے پہلے قنوت کرتے،

(الراوي: الأسود بن يزيد المحدث:الهيثمي – المصدر: مجمع الزوائد – الصفحة أو الرقم: 2/247)
خلاصة حكم المحدث: فيه ليث بن أبي سليم وهو مدلس وهو ثقة

علامہ ہیثمی حنفی رحمہ اللہ کے مطابق اس کی سند میں لیث مدلس ہیں، مدلس کا عنعنہ قبول نہیں ہوتا اور درج بالا اثر کی سند میں لیث کا عنعنہ ہے لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے،

پہلی بات : اس حدیث کی سند ہی ضعیف ہے!!

ثانیا : اس میں جو رفع الیدین کے الفاظ ہیں کا انکا مطلب ہے کہ دعاء کے لیے ہاتھ اٹھاتے کا نہ کہ کندھوں یا کانوں تک ہاتھ اٹھانے کا !!!

ثالثا: پھر اس میں اس تکبیر کا بھی ذکر نہیں ہے جو قنوت وتر سے قبل احناف بھائی کرتے ہیں !!

*لہذا صحیح سند کے ساتھ قنوت وتر سے پہلے کندھوں یا کانوں تک ہاتھ اٹھانا اور تکبیر کہنا کسی حدیث سے ثابت نہیں*
____________&_____

*قنوت وتر کی مسنون دعائیں*

🌹حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں پڑھا کروں،
وہ کلمات یہ ہیں:
«اَللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ فِیْمَنْ هَدَیْتَ وَعَافِنِيْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِيْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِكْ لي فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَقِنِيْ شَرَّ مَاقَضَیْتَ فَإنَّكَ تَقْضِيْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْك إنَّه لَا یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ»
’’اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں کے ساتھ جنہیں تو نے ہدایت دی،مجھے عافیت دے ان لوگوں کے ساتھ جنہیں تو نے عافیت دی، مجھ کو دوست بنا ان لوگوں کے ساتھ جنہیں تو نے دوست بنایا۔ جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما اور مجھے اس چیز کے شر سے بچا جو تو نے مقدر کردی ہے، اس لئے کہ تو حکم کرتا ہے، تجھ پر کوئی حکم نہیں چلا سکتا ۔جس کو تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پاسکتا۔ اے ہمارے ربّ! تو برکت والا ہے، بلند و بالا ہے۔‘‘
امام ترمذی کہتے ہیں:
میرے علم میں وتر کے قنوت کے سلسلے میں اس سے بہتر کوئی چیز( دعا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہو مجھے معلوم نہیں
(سنن ترمذی حدیث نمبر-464)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-1425)
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر-1178)
(سنن نسائی حدیث نمبر-1147)
(سنن دارمی حدیث نمبر-1633)
(مسند احمد حدیث نمبر-1718)

🌹علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں،
رسول صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے:
«اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ »
اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی، تیری سزا سے تیری معافی کی اور تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-1427)

________&_______
*نوٹ_*
عوام میں جو دعائے قنوت مشہور ہے
اللهم إنا نستعينك۔۔۔۔! والی
یہ دعا، وتروں میں میں پڑھنا کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں،

البتہ یہ دعا، قنوت نازلہ میں پڑھی جاسکتی ہے،اسکی دلیل درج ذیل حدیث ہے!

🌹سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دعاء نماز فجر کےقنوت نازلہ میں پڑھی تھی:

حدثنا حفص بن غياث، عن ابن جريج، عن عطاء، عن عبيد بن نمير،
قال: سمعت عمر، يقنت في الفجر يقول: «بسم الله الرحمن الرحيم،
اللهم إنا نستعينك ونؤمن بك، ونتوكل عليك ونثني عليك الخير كله، ولا نكفر»
ثم قرأ:
«بسم الله الرحمن الرحيم اللهم إياك نعبد، ولك نصلي ونسجد، وإليك نسعى ونحفد، نرجو رحمتك، ونخشى عذابك، إن عذابك الجد بالكفار ملحق، اللهم عذب كفرة أهل الكتاب الذين يصدون عن سبيلك»
في اسناده عنعنة ابن جريج ، وهو مدلس ،لكن صرح بالتحديث في رواية عبدالرزاق
ترجمہ :عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر کو فجر کی نماز میں دعائے قنوت پڑھتے سنا۔
انہوں نے پہلے یہ کہا
بسم اللہ الرحمن الرحیم ،
اے اللہ ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں، تجھ پر ایمان لاتے ہیں، تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں، تیری خیر کی تعریف کرتے ہں ہ، ترمی ناشکری نہیں کرتے۔
پھر انہوں نے یہ پڑھا
بسم اللہ الرحمن الرحیم،
اے اللہ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، تیرے لئے نماز پڑھتے ہیں، تیرے آگے سجدہ کرتے ہیں۔ تیری طرف چلتے ہیں، تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں، تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں اور بیشک تیرا عذاب کافروں تک پہنچنے والا ہے۔ اے اللہ ! ان اہل کتاب کافروں کو عذاب میں مبتلا فرما جو تیرے راستے سے روکتے ہیں۔
(وقال الالباني في ارواء الغليل 2-170)
قلت: وهذا سند رجاله كلهم ثقات رجال الشيخين , ولولا عنعنة ابن جريج لكان حرياً بالصحة.
(وقد رواه البيهقى (2/210) عن سفيان قال: حدثنى ابن جريج به)
(ورواه ابن أبى شيبة (2/60/2 و12/41/2)

*اس حدیث میں بھی واضح ہے کہ عمر (رض) نے فجر کی نماز میں قنوت نازلہ کے دوران اس دعا کو پڑھا تھا، وتروں میں نہیں پڑھا،جبکہ ہمارے ہاں کچھ احباب اس حدیث کو دلیل بنا کر یہ دعا وتروں میں پڑھتے ہیں،جو کہ مسنون عمل نہیں*

__________&_______

((واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب))

*نماز وِتر کا وقت، مسنون رکعات اور پڑھنے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ نیز وتروں کی قضا کا کیا حکم ہے؟*
(دیکھیں سلسلہ نمبر-172)

*قنوتِ نازلہ کسے کہتے ہیں اور یہ قنوت کب کی جا سکتی ہے،اور اسکا طریقہ کیا ہے؟*
(دیکھیں سلسلہ نمبر-178)

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں