1,523

سوال_کیا حیض و نفاس کی حالت میں بیوی سے مباشرت جائز ہے؟ اور حیض کا خون رکنے کے بعد غسل کرنے سے پہلے جماع کر سکتے یا نہیں،؟ نیز اگر کوئی شخص حالت حیض میں اپنی بیوی سے جماع کر لے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-174”
سوال_کیا حیض و نفاس کی حالت میں بیوی سے مباشرت جائز ہے؟ اور حیض کا خون رکنے کے بعد غسل کرنے سے پہلے جماع کر سکتے یا نہیں،؟ نیز اگر کوئی شخص حالت حیض میں اپنی بیوی سے جماع کر لے تو اس کا کفارہ کیا ہے؟؟

Published Date: 26-12-2018

جواب:
الحمدللہ:

*حیض و نفاس کی حالت میں بیوی سے مباشرت اور لذت و تفریح کرنا جائز ہے،البتہ قرآنی نص اورمسلمانوں کے اجماع کے مطابق حیض و نفاس کے دوران شرمگاہ میں جماع کرنا حرام ہے*

🌹اللہ تعالی کا فرمان ہے :

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ الۡمَحِيۡضِ‌ۙ قُلۡ هُوَ اَذًى فَاعۡتَزِلُوۡا النِّسَآءَ فِى الۡمَحِيۡضِ‌ۙ وَلَا تَقۡرَبُوۡهُنَّ حَتّٰى يَطۡهُرۡنَ‌‌ۚ فَاِذَا تَطَهَّرۡنَ فَاۡتُوۡهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّوَّابِيۡنَ وَيُحِبُّ الۡمُتَطَهِّرِيۡنَ
ترجمہ:
اور وہ تجھ سے حیض کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دے وہ ایک طرح کی گندگی ہے، سو حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائیں، پھر جب وہ غسل کرلیں تو ان کے پاس آؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ہے۔ بیشک اللہ ان سے محبت کرتا ہے جو بہت توبہ کرنے والے ہیں اور ان سے محبت کرتا ہے جو بہت پاک رہنے والے ہیں۔
(سورہ البقرہ آئیت نمبر-222)

تفسیر:
الْمَحِيْضِ “ حَاضَ یَحِیْضُ (ض) سے اسم مصدر ہے، اس کا اصل معنی ” بہنا “ ہے۔ مراد عورت کا وہ خون ہے جو ہر ماہ عادت کے مطابق آتا ہے۔ عادت کے خلاف جو خون آئے وہ استحاضہ (بیماری) ہے۔
” اَذًى“ کا لفظ تکلیف، بیماری اور گندگی تینوں معنوں میں آتا ہے۔ نکرہ ہونے کی وجہ سے ” ایک طرح کی گندگی “ ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس کا گندگی ہونا تو ظاہر ہے، طبی حیثیت سے بھی عورت ان دنوں صحت کی نسبت بیماری کے زیادہ قریب ہوتی ہے اور اس حالت میں اس سے جماع خاوند اور بیوی دونوں کے لیے بیماری کا باعث ہوسکتا ہے۔

🌹شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی شرح الممتع میں کہتے ہیں :
محیض سے مراد حیض والی جگہ اورمدت مراد ہے ، اوراس کی جگہ شرمگاہ ہے لھذا جب تک وہ حالت حیض میں ہے جماع کرنا حرام ہوگا ۔ ا ھـ
(دیکھیں شرح الممتع ( 1 / 413 )

🌹ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
خون والی جگہ سے علیدہ رہنے کی تخصیص اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے علاوہ جائز ہے ۔ ا ھـ
(دیکھیں المغنی لابن قدامہ_ 1 / 415)

🌹انس رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہودیوں میں سے کوئي عورت حالت حیض میں ہوتی تو وہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے بھی نہیں تھے اورنہ ہی انہيں اپنے گھروں میں رکھتے تھے توصحابہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارہ میں سوال کیا تو اللہ تعالی نے یہ آيت نازل فرمائی :
آپ سے حيض کے بارہ میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دیجۓ کہ وہ گندگی ہے ، حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو ۔۔۔ آیت کے آخر تک ۔
تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جماع کے علاوہ باقی سب کچھ کرو ۔
جب یہودیوں کواس کا پتہ چلا تووہ کہنے لگے اس شخص کوہمارے ہر کام میں مخالفت ہی کرنی ہوتی ہے ۔
(صحیح مسلم حدیث نمبر_ 302)

*احادیث میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ اس حالت میں خاوند کے لیے عورت کا بوسہ لینا، اس سے چمٹنا، الغرض سب کچھ سوائے جماع کے جائز ہے۔ وہ اس حالت میں گھر میں رہ کر کھانا پکانا، بچے کو دودھ پلانا، غرض گھر کا ہر کام کرسکتی ہے، البتہ مسجد میں جانا اور نماز، روزہ اس کے لیے جائز نہیں۔*

🌹عکرمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی رضي اللہ تعالی عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حيض کی حالت میں کچھ کرنا چاہتے تو بیوی کی شرمگاہ پر کپڑا ڈال دیتے ۔
(سنن ابوداود حدیث نمبر_272 )
حافظ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ اس کی اسناد قوی ہے اور علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی عنہ نے صحیح ابوداود ( 242 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے

*اور مرد کےلیے بہتر ہے کہ اگر وہ بیوی سے حیض کی حالت میں استمتاع کرنا چاہے تو اسے کہے کہ وہ ناف سے لیکر گھٹنوں تک کوئي چيز پہن لے پھراس کے علاوہ حصہ میں مباشرت کرلے،*

*اس کی دلیل مندرجہ ذیل احادیث ہیں*

🌹ام المومنین عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب ہم میں سے کوئي ایک حیض کی حالت میں ہوتی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مباشرت کرنا چاہتے تواسے کہتے کہ وہ چادر باندھ لے ،حالانکہ خون کی زیادتی ہوتی، اس کے بعد بدن سے بدن ملاتے یعنی مباشرت کرتے
(صحیح بخاری حدیث نمبر_ 302 )
(صحیح مسلم حدیث نمبر _2293 )

🌹ام المومنین میمونہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے حیض کی حالت میں چادرکے اوپر مباشرت کیا کرتے تھے ۔
(صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْحَيْضُ | بَابٌ : مُبَاشَرَةُ الْحَائِضِ فَوْقَ الْإِزَارِ/حدیث 294 )

🌹ابن قیم رحمہ اللہ تعالی عنہ تھذیب السنن میں کہتے ہیں :
اس سے ظاہر ہے کہ تحریم توصرف حیض والی جگہ کے بارہ میں ہے جوکہ جماع ہے ، اس کے علاوہ باقی مباح ہے ، اور جن احادیث میں چادر کا ذکر ہے وہ اس سے تعارض نہیں رکھتیں ، اس لیے کہ وہ اس گندگی سے بچنے کےلیے زيادہ بہتر طریقہ ہے،
اور یہ بھی احتمال ہے کہ حيض کے ابتدائي اور آخری ايام میں فرق کردیا جائے ، اورخون کے زيادہ آنے کے وقت ناف سے لیکر گھٹنے تک چادر سے ڈھانپنا مستحب ہو جوکہ حیض کے ابتدائی ایام میں ہے ۔

🌹حافظ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
اس کی تائید مندرجہ ذيل حدیث کرتی ہے جسے ابن ماجہ رحمہ اللہ نے حسن سند کے ساتھ روایت کیا ہے :
ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین دن تک خون کی تیزی سے بچتے اوراس کے بعد مباشرت کرتے،

🌹سعودیہ کی مستقل فتوی کمیٹی ( اللجنۃ الدائمۃ ) نے یہ فتوی دیا ہے :
حیض کی حالت میں خاوند پر اپنی بیوی سے جماع حرام ہے ، لیکن اسے یہ حق ہے کہ جماع کے علاوہ میں وہ مباشرت کرسکتا ہے ۔ ا ھـ
(دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ_5 / 359 )

*لہذا ان تمام احادیث اور فتاویٰ جات سے یہ بات سمجھ آئی کہ حیض و نفاس کی حالت میں بیوی ساتھ شرمگاہ میں جماع کے علاوہ ہر کام جائز ہے،*

___________&&____________

*حیض سے پاک ہونے کے بعد اور غسل سے پہلے جماع درست نہیں*

🌹اللہ رب العزت کا فرمان ہے:
(وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡمَحِیۡضِ ؕ قُلۡ ہُوَ اَذًی ۙ فَاعۡتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الۡمَحِیۡضِ ۙ وَ لَا تَقۡرَبُوۡہُنَّ حَتّٰی یَطۡہُرۡنَ ۚ فَاِذَا تَطَہَّرۡنَ فَاۡتُوۡہُنَّ مِنۡ حَیۡثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ ؕ)
(سورہ البقرہ:222)
“وہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، فرما دیجئے کہ وہ ناپاکی ہے، تم دورانِ حیض عورتوں سے علیحدہ رہو(جماع نہ کرو) ، پاک ہونے تک(جماع کی نیت سے) انکے قریب نہ جاؤ ، جب وہ (نہاکر)اچھی طرح پاک ہوجائیں ، تو حکم الٰہی کے مطابق ان کے پاس آؤ۔”

🌹حافظ ابن کثیر ؒاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
(وقد اتفق العلماء علی ان المراۃ اذا انقطع حیضھا لاتحل حتیٰ تغتسل تعذر ذلک علیھا علیھا بشرطہ ، الا ان أباحنفیۃ رحمہ اللہ۔۔۔
“علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت خونِ حیض رکنے کے بعد اس وقت تک مرد کے لیے حلال نہیں ہوتئی، جب تک پانی سے غسل نہ کرلے یا مجبوری کی صورت میں تیّمم نہ کرلے، سوائے ابوحنیفہ کے (وہ غسل کو ضروری خیال نہیں کرتے)۔”
(تفسیر ابن کثیر: ۳۵۰/۱)

*معلوم ہوا کہ اس آیت میں (حتی یطھرن)سے مراد”خونِ حیض کا رکنا”اور (فاذا تھرن) سے مراد “غسل کرنا” ہے*

🌹جلیل القدر تابعی امام عکرمہ ؒ فرماتے ہیں :
(اذا نقطع عنھا الدّم فلا یأ تیھا، حتّٰی تطھر، فاذا طھرت فلیا تھا کما أمر اللہ)
“جب عورت کا خونِ حیض رک جائے تو بھی غسل کرنے تک اس کا خاوند (جما ع کے لیے ) اس کے پاس نہ آئے ، جب وہ غسل کرچکے، تو حکم الٰہی کے مطابق اس سے صحبت کرلے۔”
(مصنف ابن ابی شیہ: ۹۷،۹۶/۱، وسندۂ حسن)

🌹عظیم تابعی مجاہدین جبرؒ فرماتے ہیں :
لا یقربھا زوجھا حتیٰ تغتسل۔
” جب تک وہ (حائضہ ) غسل نہ کرے ، اس کا خاوند، (جماع کی نیت سے) اس کے قریب نہ آئے۔”
(سنن دارمی :۱۱۱۷،
مصنف ابن ابی شیبۃ:۹۶/۱، وسندۂصحیح)

🌹امامکحول تابعی فرماتے ہیں :
(لایغشی الرّجل المرأۃ اذا طھرت من الحیضۃ حتّٰی تغتسل”
عورت کے حیض سے پاک ہونے کےبعد غسل کرے سے پہلے مرد جماع نہیں کرسکتا۔”
(مصنف ابن ابی شیبۃ: ۹۶/۱، وسندۂ صحیح)

🌹امام عطاء بن ابی رباح ؒ سے اس بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا:
لا، حتّٰی تغتسل۔
“نہیں ! غسل سے پہلے (جماع درست نہیں )”
(سنن دارمی :۱۱۲۷، وسندۂ صحیح)

🌹امام طحاوی حنفی ؒ (م۳۲۱ھ) لکھتے ہیں :
” ہمارے علم کے مطابق اس تفسیر (تَطَھَّرْنَ سے مراد غسل کرنے) میں اہل علم کا اختلاف نہیں ، خون کا رُکنا بذاتِ خود پاکی نہیں ہے، کیونکہ خون رکنے سے وہ حیض سے تو نکل گئی ہے، لیکن خاوند کے لئے اس سےجماع جائز نہیں ، اسی طرح نماز اور بیت اللہ کا طواف بھی جائز نہیں ، تا آنکہ پانی سے غسل نہ کرلے یا پانی نہ ملنے کی صورت میں تمیّم نہ کرلے۔”
(أحکام القرآن للطھاوی: ۱۲۷/۱)

🌹امام ابن المنذ ر ؒ (م۳۱۸ھ) رقمطراز ہیں :
“میرا وہی مذہب ہے، جو تمام اہل علم کا ہے کہ مرد اپنی بیوی سے اس وقت تک جماع نہیں کر سکتا ، جب تک وہ پانی سے (غسل کرکے) طہارت حاصل نہ کرلے۔”
(الا وسط لا بن المنذر :۲۱۵/۲)

*کسی بھی صحابی یا تابعی سے حیض کے بعد غسل سے پہلے جماع جائز ہونے کا کوئی فتویٰ موجود نہیں، لہذا حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل سے پہلے جماع درست نہیں*

نوٹ_
*اوپر جوبھی احکام بیان کیے گئے ہیں ان میں حيض اورنفاس والی عورتیں سب برابر ہیں*
🌹ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی نے حیض کی حالت میں بیوی سے مباشرت کرنے کی اقسام بیان کرنے کے بعد کہا ہے :
اور نفاس والی عورتیں بھی اس میں حيض والیوں کی طرح ہی ہيں ۔ ا ھـ (دیکھیں المغنی لابن قدامہ_1ج / 419 )

_______________&&________

*اگر کوئی شخص حالت حیض میں بیوی سے جماع کر لے تو وہ کفارہ دے، اور اسکا کفارہ ایک دینار یا نصف دینار کے برابر صدقہ ہے*

🌹عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جو شخص حیض کی حالت میں بیوی کے پاس جائے وہ ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرے۔
(سنن أبو داوٗد، النکاح، باب فی کفارۃ من أتی حائضًا :حدیث نمبر_2168)
(سنن نسائی : 290)
(سنن ترمذی : 136)
(سنن ابن ماجہ : 640)
شیخ البانی (رض) نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔

*ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنے کا اختیار ہے ،چاہے تو ایک دینار صدقہ کرے اور چاہے تو آدھا دینار، ایک دینار تقریباً 4.25 گرام سونے کا ہوتا ہے*

(( واللہ تعالی اعلم باالصواب ))

[[ حیض و نفاس کی حالت میں قرآن پڑھنے اور اور قرآن پکڑنے کا کیا حکم ہے؟؟
دیکھیں سلسلہ نمبر-94 ]]

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں