148

سوال- اسلام ميں مالی سزاؤں كا كيا حكم ہے ؟ اگر سکول یا گورنمنٹ کی فیس/چالان وغیرہ لیٹ ادا کریں تو اس پر جرمانہ ہوتا ہے، کیا یہ بھی سود ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-352”
سوال- اسلام ميں مالی سزاؤں كا كيا حكم ہے ؟ اگر سکول یا گورنمنٹ کی فیس/چالان وغیرہ لیٹ ادا کریں تو اس پر جرمانہ ہوتا ہے، کیا یہ بھی سود ہے؟

Published Date: 10-01-2021

جواب…!
الحمدللہ..!

*جمہور علماء كرام جن ميں ائمہ اربعہ شامل ہيں كا مسلک ہے كہ تعزيزا/سزا کے طو پر مال لينا جائز نہيں، اور ان ميں سے بعض علماء كرام نے ان معاملات جن ميں مالی سزا وارد ہوئی ہے كو منسوخ قرار ديا ہے كہ ابتداء اسلام ميں جائز تھی پھر اس كےبعد منسوخ كر دی گئی*

*انہوں نےتعزيرا مال لينےكےعدم جواز كي علت يہ بيان كی ہے كہ اس طرح كی سزا ظالم حكمرانوں كےليےمال حاصل كرنےكا ذريعہ بن جائےگا اور وہ لوگوں كا ناحق مال لينا شروع كرديں گے*

📚جبکے انکےشيخ الاسلام اور ان كےشاگرد ابن قيم رحمہم اللہ تعزيرا مال لينےكےجواز كےقائل ہيں كہ جب حكمران اس ميں مصلحت ديكھےاور ظالموں كو روكے اور شر و برائی ختم ہو تو وہ تعزيرا مال كي سزا نافذ كرسكتا ہے، كيونكہ تعزير كا باب بہت وسيع ہے.
اس كی ابتدائي چيز كلام كےساتھ ڈرانا دھمكانا ہے اور سب سے زيادہ تعزير قتل ہے يعني جب شروبرائي قتل كےبغير ختم نہ ہوتي ہو تو تعزيرا قتل كرنا صحيح ہے، اور تعزيرا مال لينا بھي تعزير كي ايک قسم ہے جس سے ظلم و زيادتي كرنےوالوں كو روكا جاتا ہے.
شيخان نے نسخ كا دعویٰ رد كيا اور اس كي مكمل طور پر نفي كي ہےاور اس كي دليل ميں بہت سےمعاملات پيش كيے ہيں جن ميں مالي سزا كا وجود ملتا ہے.

📙شيخ رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:
منسوخي كا دعویٰ كرنےوالوں كےپاس كوئي شرعي دليل نہيں نہ تو كتاب اللہ ميں سے اور نہ ہي سنت نبويہ ميں سے، امام احمد كےہاں يہ جائز ہے اس ليے كہ ان كےساتھيوں ميں كوئي اختلاف نہيں كہ ساري كي ساري مالي سزائيں غيرمنسوخ ہيں.

علامہ ابن تیمیہؒ اور ان کے شاگرد رشید علامہ ابن قیم جوزیؒ نے پوری قوت سے اس کی مخالفت کی ہے اور ان لوگوں پر سخت تنقید کی ے، جن لوگوں نے امام احمدؒ اورامام مالکؒ کی طرف تعزیر مالی کے عدم جواز کو نقل کیا ہے،
📚علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں :
ومن قال : إن العقوبات المالیۃ منسوخۃ، وأطلق ذلک عن أصحاب مالک وأحمد، فقد غلط علی مذہبہما، ومن قال مطلقاً من أی مذہب کان، فقد قال قولاً بلا دلیل، ولم یجیٔ عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم شیٔ قط یقتضی أنہ حرام جمیع العقوبات المالیۃ ؛ بل أخذ الخلفاء الراشدین وأکابر أصحابہ بذلک بعد موتہ دلیل علی أن ذلک محکم غیر منسوخ۔
’’جن لوگوں نے یہ کہا کہ مالی سزائیں منسوخ ہیں اور مطلق اصحابِ مالک و احمد کی طرف اس کی نسبت کی ہے، ان لوگوں نے ان کے مذہب کی طرف غلط نسبت کی ہے اور جن لوگوں نے مطلقاً یہ بات کہہ دی کہ کسی بھی مذہب میں مالی سزا جائز نہیں ہے، ان لوگوں کی یہ بات بالکل بلا دلیل ہے ؛ کیوں کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات ثابت نہیں ہے، جو اس بات کا تقاضہ کرتی ہو کہ تمام مالی سزائیں حرام ہیں ؛ بلکہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلفاء راشدین اور اکابر صحابہ کا اس ( مالی تعزیر ) پر عمل رہا ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غیر منسوخ ہے‘‘۔
(فتاویٰ ابن تیمیہ : ۲۸؍۱۱۱)

📚علامہ ابن قیمؒ نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ جو لوگ تعزیر مالی کے نسخ اور عدم جواز کے قائل ہیں، دراصل ان کا مذہب کسی یقینی دلیل کی بنیاد پر نہیں ؛ بلکہ قبول اور رد کے اندازہ پر قائم ہے :
المدعون للنسخ لیس معہم کتاب ولا سنۃ، ولا إجماع یصح دعواہم، إلا أن یقول أحدہم، مذہب أصحابنا عدم جوازہا، فمذہب أصحابہ عیار علی القبول والرد۔
’’جو لوگ نسخ کا دعویٰ کرتے ہیں، ان کے ساتھ نہ کتاب ہے، نہ ہی سنت اور نہ اجماع سے ہی ان کے دعویٰ کی تائید ہوتی ہے، پھر بھی ان میں سے ہر ایک یہی کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب عدم جواز کا ہے، چنانچہ ان کے اصحاب کا مذہب قبول و رد کے اندازہ پر قائم ہے‘‘۔
(جامع الفقہ لإبن القیم : ۶؍۵۰-۵۴۹، ترتیب، یسریٰ السید محمد ( ط : دارالصفاء، بیروت )

*مالي تعزير لگانےكےدلائل مندرجہ ذيل ہيں:*

📚1-نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے حرم مدني ميں شكار كرنےوالےكا سلب كرنا اس كےليےمباح كيا ہےجواسےپائے.

📚2-شراب كا مٹكا توڑنےاور اس كا برتن ضائع كرنےكا حكم ديا.

📚3-عبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالي عنہ كو معصفر ( ايك قسم كا زرد رنگ ) سے رنگےہوئے كپڑے جلانےكا حكم ديا.

📚4-حفاظت كي جگہ كےعلاوہ كسي جگہ سےچوري كرنےوالےپر ڈبل جرمانہ كيا.

📚5-نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نےمسجد ضرار كومنہدم كيا .

📚6-قاتل كو وصيت اور وراثت سے محروم كرديا.

📙شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالي كہتےہيں:

مالي سزاؤں كي تين اقسام ہيں:

*اول:*
ضائع اور تلف كرنا:
برائي اور منكر كےتابع ہوتےہوئے برائي والي جگہ كا تلف كرنا، مثلا بتوں كو توڑ اور جلا كر، اور موسيقي اور آلات لہو كوتوڑنا، اور شراب ركھےجانےوالےبرتن اور مشكيزے پھاڑنا، اور شراب فروخت كرنےوالي دوكانوں كو جلا كر، زنديقوں اورملحدوں كي كتابيں اور مخرب الاخلاق فلميں اور تصويريں اور مجسمے ضائع اور تلف كرنا .

*دوم:*
تغير وتبدل كےساتھ:
مثلا جعلي كرنسي توڑنا اورتصاوير والے پردوں كو پھاڑ كر اس كےتكيےوغيرہ بنانا.

*سوم :*
ملكيت:
مثلا لٹكي ہوئي كھجوروں كي چوري، اور ملاوٹ شدہ زعفران كا صدقہ كرنا، تواس طرح كي اشياء لےكراسےيا اس كي قيمت صدقہ كرنا
ماخذ: ديكھيں:
(توضيح الاحكام من بلوغ المرام ( 31 )

_______&_______

📙سعودی مفتیان سے سوال کیا گیا کہ:
سوال:
اس بات کا کیا حکم ہے کہ استاد ایسے طلبہ پر مالی جرمانہ عائد کرے جو ہوم ورک نہ کریں اور پھر ان سے یہ جرمانہ وصول کر کے ایسے طلبہ میں تقسیم کر دے جنہوں نے ہوم ورک کیا تھا؟ اور ایک استاد اس رقم کو اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیتا ہے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟

جواب:
محنت نہ کرنے والے طلبہ پر مالی جرمانہ کرنا جائز نہیں ہے، چاہے جرمانے کی مد میں حاصل ہونے والی رقم کو صدقہ کر دے یا محنتی طلبہ میں تقسیم کرے؛ کیونکہ مالی جرمانہ عائد کرنا شرعی حکمران کا حق ہے، یا پھر وہ لوگ مالی جرمانہ عائد کر سکتے ہیں جو حکمران کے نمائندے ہیں یا قاضی ہیں یا گورنر ہیں۔ اگرچہ اس بات میں بھی اہل علم کا اختلاف ہے کہ مالی جرمانے کی صورت میں سزا دی بھی جا سکتی ہے یا نہیں؟
بنیادی اور اصولی طور پر مسلمان کا مال دوسروں پر حرام ہے؛
📚کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (تمہارا خون، مال و دولت اور عزت آپس میں تمہارے لیے اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا آج کا دن ، اس ماہ میں اور اس شہر میں حرمت والا ہے، یہ یہاں موجود افراد یہ بات ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں)
( صحیح مسلم: 1679)

📙دائمی فتوی کمیٹی سے بھی یہ سوال پوچھا گیا کہ: کچھ قبائل کے لوگوں نے آپس میں اتفاق کر لیا ہے کہ جو فلاں فلاں کام کرے گا اس پر اتنا جرمانہ ہو گا، تو اس کا کیا حکم ہے؟
کمیٹی نے جواب دیا:
“ایسے کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ مالی تعزیری سزا ہے اور یہ ایسے افراد کی طرف سے لگائی گئی ہے جنہیں شرعی طور پر مالی سزا دینے کا حق ہی نہیں ہے، بلکہ مالی سزا دینا قاضی کا کام ہے، اس لیے مجوزہ جرمانوں کو فی الفور ترک کرنا واجب ہے۔” ختم شد
“فتاوى اللجنة الدائمة” (19/ 252)

______&_____

*ایک اور جگہ پر سعودی مفتی شیخ صالح المنجد سے پوچھا گیا کہ*

📙ایک مسلم شخص نے اسلامی سکول کی فیس ادا کرنےسے انکار کردیا ، بچہ وقت پرفیس جمع نہ کروا سکا توسکول نے بطورجرمانہ لیٹ فیس کا مطالبہ کیا تواس جرمانے کا کیا حکم ہے ، اور عمومی جرمانے کا حکم کیا ہے ؟
کیا یہ سود کی ایک قسم تونہیں ؟

*جواب کا متن:*
کسی کا حق ادا کرنے میں دیر اور لیت و لعل سے کام لینا جائزنہيں ہے ، اور حقدار کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مال کا مطالبہ کرے اورعقد میں جو وقت باقی بچا ہے اسے فسخ کردے ، لیکن اس کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ تاخیر کی بناپر اپنے مال سے زيادہ حاصل کرے ، لیکن معاھدوں میں بطور جرمانہ لیا جاسکتا ہے ۔
اور اسے شرط جزائي کے نام سے جانا جاتا ہے کہ جب اس پراتفاق کیا جائے کہ اگرلیٹ ہوتواتنا جرمانہ اد کیا جائے گا ، یا پھر دوسروں کے حقوق کی ادائيگي میں سستی وکاہلی سے روکنے اورڈرانے دھمکانے کے لیے شرعی حاکم کے حکم سے ادا کیا جائے ۔
واللہ اعلم .
(آئن لائن _ویب سائٹ الاسلام سوال جواب)

_______&______

*(اس بحث کا مفہوم)*

یہ ہے کہ مسلمان کا مال اس کی مرضی کے بغیر لینا جائز نہیں، کیونکہ یہ ظلم ہے

📚 اور کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ۔
مسلمان کا مال اس کی مرضی کے بغیر لینا حلال نہیں ہے
(مسند احمد ، حدیث نمبر 21082 )

*اور جب آپس میں معاہدہ ہو جائے کہ لیٹ فیس دینے پر یا کلاس میں کوئی رول توڑنے پر جرمانہ ہو گا ۔۔۔ اور طالب علم/والدین سکول داخلہ کے وقت اس بات/شرط پر راضی ہو جائیں تو جرمانہ دینا جائز ہے، اور اسی طرح اگر حکومت لوگوں کی فلاح کے لیے یا نقصان سے بچانے کے لیے کوئی قانون توڑنے پر جرمانہ عائد کرتی ہے تو وہ جرمانہ دینا بھی درست ہے،لیکن ان کے علاوہ اگر کوئی شخص یا استاد کسی غلطی پر پر معاہدے کے بنا ہی زبردستی کوئی مالی سزا عائد کرتا ہے جسکا مقصد اسکا مال ناحق کھانا ہو تو یہ حرام ہے،*

(ماخذ الاسلام سوال وجواب islamqa.info)

((واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📚((سود کی شرعی حیثیت؟ سودی کاروبار میں جاب کرنا کیسا ہے؟
دیکھیں سلسلہ نمبر-169))

📚((سود خور خاوند كے ساتھ رہنے كا کیا حكم ہے؟كيا بینک میں ملازمت کرنے والے یا سود پر قرض لينے/دینے والے خاوند كے ساتھ رہنے والى بيوى اور سکے بچے بھى گنہگار شمار ہوں گے؟ دیکھیں سلسلہ نمبر-170))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 👇
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں