53

سوال- تمباکو نوشی یعنی سگریٹ/حقہ وغیرہ پینے اور بیچنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا یہ جائز ہے یا حرام؟ اور اگر یہ حرام ہے تو اسکی حرمت کے اسباب کیا ہیں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-365″
سوال- تمباکو نوشی یعنی سگریٹ/حقہ وغیرہ پینے اور بیچنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا یہ جائز ہے یا حرام؟ اور اگر یہ حرام ہے تو اسکی حرمت کے اسباب کیا ہیں؟

Published Date: 16-1-2022

جواب..!
الحمدللہ..!

*جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہونگے كہ اس وقت پوری دنیا چاہے مسلمان ہوں يا كافر سب سگریٹ كے خلاف جنگ كرنے لگے ہيں، كيونكہ انہيں اس كے شديد ضرر و نقصان كا علم ہو چكا ہے، اور پھر دين اسلام تو شروع ہى سے ہر نقصان دہ اور ضرر والى چيز كو حرام قرار ديتا ہے،*

📚كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: لَا ضَرَرَ وَلا ضِرَارَ .
” نہ تو خود نقصان اٹھاؤ اور نہ ہى كسى دوسرے كو نقصان دو ”
(سنن ابن ماجه_2341)
وصححه الألباني في صحيح ابن ماجه

*اور پھر اس ميں كوئى شک و شبہ نہيں كہ كھانے پينے والى اشياء ميں اچھى اور نفع مند بھى ہيں، اور كچھ ايسى بھى ہيں جو گندى اور نقصان دہ ہيں، اللہ تعالی نےانہیں اشیاء کوکھانے پینے کاحکم دياہے جو پاک اورطیّب و طاہر ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی جسم وجاں کے لئے صحت بخش اور مفید ہوں*

📚اللہ پاک ارشاد فرماتاہے :
’’يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ‘‘ (المائدة 4)
( اے محمدﷺ ) يہ لوگ آپ سےدريافت کرتے ہيں کہ کيا کچھ ان کےلئے حلال ہے ؟ توآپ بتا دیجئے کہ تمام پاک چیزیں تمہارےلئے حلال کی گئی ہيں ”
📚ايک دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے :
’’ يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُواْ مِمَّا فِي الأَرْضِ حَلاَلاًطَيِّباً ‘‘ (البقرة 168)
لوگو ! زمیں ميں جتنی بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں ہيں انہیں کھاؤ

📚 اور ايک مقام پر نبی اکرم صلی اللہ عليہ وسلم کاوصف بيان کرتے ہوئے فرماتاہے:
’’ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَآئِثَ ‘‘ ( الأعراف 157)
وہ ان کونیک باتوں کاحکم فرماتےہيں اور بری باتوں سےمنع فرماتےہيں،اور پاکیزہ چیزوں کوحلال بتاتے، ہيں اور گندی چیزوں کو ان پرحرام فرماتے ہيں۔

📚ابوھريرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمايا :
” إن الله تعالى طيب لايقبل إلاّ طيباً , وإن الله أمر المؤمنين بما أمربه المرسلين فقال تعالى :’’ يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحاً ‘‘ (المؤمنون 51) وقال تعالى: ’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُلُواْ مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ‘‘ (البقرة 172) ثم ذكرالرجل أشعث أغبر يمد يديه إلى السماء, يا رب! يا رب! ومطعمه حرام و مشربه حرام وملبسه حرام و غذى بالحرام فأنى يستجاب له”
(صحیح مسلم _1015)
“اللہ تعالی پاک ہے اورصرف پاک ہی کو پسند کرتا ہے،اس نےجن چیزوں کا حکم انبیاء کرام(عليھم السلام) کو ديا انہیں چیزوں کاحکم مومنوں کو بھی ديا ،فرمايا : ( اے رسولو ! تم لوگ پاک چیزوں ميں سےکھا ؤ اورنیک اعمال انجام دو) اور (مومنوں کوحکم دیتے ہوئے ) فرمايا : (مومنو! جوکچھ ميں نےتم کو دياہے ان میں سے پاک چیزیں کھاؤ ) پھرآپ صلی اللہ عليہ وسلم نے ايسے آدمی کا ذکر کيا جولمبےسفر پر ہوتا ہے پراگندہ بال اور گرد آلود ہوتا ہے پھر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاکر دعا کرتاہے : يارب! يارب!
جبکہ اس کا کھانا حرام ہے، پینا حرام ہے،پہننا حرام ہے، اور اس کی پرورش حرام ميں ہوئی ہےتو پھراس کی دعاء کہاں قبول کی جائےگی ؟ ) ۔

*تو كيا سگرٹ اور حقہ اچھى اور پاكيزہ اشياء ميں سے ہے يا كہ گندى اور خبيث اشياء ميں ؟*

______&______

*بیڑی ،سگریٹ ،تمباکو، ہيروئن، کوکین، افیون، گانجہ، چرس اوران جيسی ديگر اشیاء کيا انہیں چیزوں ميں سے نہیں جن سے انسانی جان کا زياں ہوتا ہے ؟ يہ چیز اتنی واضح ہےکہ ہرخاص و عام اس کی مضرّت رسانی سے واقف ہے اس کے باوجود ان کا استعمال کرکے اپنی جان کو ہلاکت ميں ڈالنا خودکشی اور ناقابل معافی جرم ہے*

اس کی حرمت کی ایک دلیل یہ ارشاد باری تعالیٰ بھی ہے!
📚وَلا تَقتُلوا أَنفُسَكُم…(سورة النساء_29)
“اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔”

اسی طرح اللہ تعالیٰ ايک دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں:
📚’ لاَ تُلْقُواْ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ‘‘
(سورہ البقرة_ 195)
اپنے آپ کو ہلاکت ميں مت ڈالو۔

📚ابوہريرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمايا :
“جس کسی نےپہاڑ سےکود کر اپنی جان ديدی وہ جہنّم کی آگ ميں ہوگا اس کے اندرہمیشہ اپنےآپ کو گراتا رہےگا ،اورجس نےزہرکا گھونٹ ليکر خودکشی کی اس کا زہرجہنّم ميں اس کےہاتھ ميں ہوگا اور وہ ہمیشہ اس سےگھونٹ لیتا رہےگا ،اورجس نے دھار دار آلہ سےخود کو ہلاک کيا تو اس کا آلہ جہنم ميں اس کےہاتھـ ميں ہوگا اور وہ ہمیشہ اس سے اپنے پیٹ ميں مارتارہےگا ”
(صحیح بخاری_5778)
(خودکشی کے متلعق مزید تفصیل کیلیے دیکھیے سلسلہ نمبر-241)

مذکورہ نصوصِ قرآن وسنت کے اندر واضح طور پر بيان کر ديا گيا ہےکہ کسی بھی چیز کو استعمال کر کے اپنے آپ کو ہلاک کرنا اللہ تعالی کےنزديک مبغوض اور ناپسنديدہ عمل ہے،جس کےارتکاب پرسخت وعيد سنائی گئی ہے،

اوپر ذکر کردہ آیات اور احادیث سے استدلال یہ ہے کہ طب اور میڈیکل سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تمباکو اور سگریٹ نوشی ایسی مہلک بیماریوں کا سبب بنتا ہے جو انسان کو موت کے منہ میں گرا دیتی ہیں مثلا کینسر کا ایک بڑا سبب بھی حقہ اور سگریٹ نوشی ہے تو تمباکو نوشی کرنے والا ایک ایسی چیز کو استعمال کرتا ہے جو ہلاکت کا سبب ہے،

_______&______

*اس کے حرام ہونے کی ایک اور دلیل حسب ذیل ارشاد باری تعالیٰ بھی ہے:*

📚وَكُلوا وَاشرَ‌بوا وَلا تُسرِ‌فوا ۚ إِنَّهُ لا يُحِبُّ المُسرِ‌فينَ (سورة الاعراف_31)
“اور کھاؤ اور پیو اور بے جا مال نہ اڑاؤ کیونکہ اللہ بے جا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔”

اس آیت کریمہ سے استدلال اس طرح ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مباح چیزوں میں بھی اسراف یعنی حد سے بڑھ کر خرچ کرنے سے منع فرمایا ہے، تو ایک ایسے کام میں مال خرچ کرنا تو بالاولیٰ منع ہو گا جس میں کوئی فائدہ نہ ہو۔

*اور رحمن كے بندوں كا وصف، اللہ سبحانہ و تعالى نے اس طرح فرمايا ہے:*

📚وَالَّذِينَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَٰلِكَ قَوَامًا
اور وہ لوگ جب خرچ كرتے ہيں نہ تو وہ فضول خرچى كرتے ہيں اور نہ ہى تنگى اور بخل دكھاتے ہيں، بلكہ وہ اس كے درميان سيدھى اور معتدل راہ اختيار كرتے ہيں .
(سورہ الفرقان_67 )

اب سارى دنيا ہى اس كا ادراك كرنے لگى ہے كہ سگریٹ اور حقہ نوشى ميں صرف كردہ مال ضائع كيا جا رہا ہے اور اس ميں كوئى فائدہ نہيں، يہى نہيں بلكہ يہ مال ضرر و نقصان دہ اشياء ميں خرچ كيا جا رہا ہے.
اور اگر پورى دنيا ميں سگرٹ اور تمباكونوشى پر خرچ كردہ مال جمع كيا جائے تو بھوك سے مرنے والے كئى معاشروں اور ملكوں كو بچايا جا سكتا ہے، تو كيا اس سے كوئى اور بڑھ كر بے وقوف ہو سكتا ہے جو ڈالر ہاتھ ميں لے كر اسے آگ لگا دے ؟

*سگرٹ اور تمباكونوشى كرنے والے اور روپے كو آگ لگانے والے ميں كيا فرق ہے ؟*

بلكہ روپے كو آگ لگانے والے سے تو بڑا بے وقوف تمباكو اور سگرٹ نوش ہے، كيونكہ روپے كو آگ لگانے كى بے وقوفى تو اس حد تک رہے گى، ليكن سگرٹ نوش كى بےوقوفى تو اس سے بھى آگے ہے كہ وہ مال بھى جلا رہا ہے اور اپنا بدن بھى.

*اس کی حرمت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے،*

📚صحیح بخاری
کتاب: ادب کا بیان
باب: والدین کی نافرمانی گناہ کبیرہ ہے
حدیث نمبر: 5975
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْمُسَيَّبِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَرَّادٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْعًا وَهَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِضَاعَةَ الْمَالِ.
ترجمہ:
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے مسیب نے ان سے وراد نے اور ان سے مغیرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے تم پر ماں کی نافرمانی حرام قرار دی ہے اور (والدین کے حقوق) نہ دینا اور ناحق ان سے مطالبات کرنا بھی حرام قرار دیا ہے، لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا (بھی حرام قرار دیا ہے) اور قيل وقال (فضول باتیں) کثرت سوال اور مال کی بربادی کو بھی ناپسند کیا ہے۔

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تمباکو اور سگریٹ خریدنے میں مال صرف کرنا مال کو ضائع کرنا ہے، کیونکہ کسی بے فائدہ کام میں مال صرف کرنا بلاشبہ اسے ضائع کرنا ہی ہے۔
_______&_____

*اور پھر كئى ايسے حادثات اور سانحے ہيں جن كا سبب صرف سگریٹ ہے، سگریٹ كے بچے ہوئے ٹكڑے اور اس كے علاوہ سگرٹ كى بنا پر كتنى آگ لگ چكى ہے، اور صرف سگریٹ كى بنا پر پورا گھر اور اس كے رہائشى سب جل كر راكھ ہو گئے، كيونكہ گھر كا مالك سگریٹ نوش تھا، گيس ليک ہونے كى بنا پر جب اس نے سگریٹ جلايا تو گھر ميں آگ بھڑک اٹھى اور سب جل كر راكھ ہو گئے.*

_______&______

*اسی طرح كتنے لوگ سگریٹ كى گندى بو سے اذيت محسوس كرتے ہيں، اور خاص كر جب آپ اس اذيت سے دوچار ہوں جب آپ كے ساتھ مسجد ميں كوئى سگرٹ نوش آ كر كھڑا ہو جائے، نيند سے بيدار ہونے كے سگرٹ نوش كے منہ سے نكلنے والى گندى بو كى بنسبت شائد دوسرى گندى قسم كى بدبو پر صبر كرنا زيادہ آسان ہے، اور پھر ان عورتوں پر تو بہت ہى تعجب ہوتا ہے جو اپنے خاوند كے منہ سے نلكنے والى گندى بو پر كيسے صبر كر ليتى ہيں ؟*

*حالانكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كچا پياز اور لہسن كھانے والے كو مسجد ميں آنے سے منع كيا ہے تا كہ نمازى اس كى بو سے اذيت محسوس نہ كريں، حالانكہ لہسن اور پياز كى بو سگرٹ نوش كے منہ سے نكلنے والى بو سے بہت ہى كم گندى ہوتى ہے.*
(اسکی مزید تفصیل کیلیے دیکھیں سلسلہ نمبر-9)

______&_____

*اس کی حرمت کے اگرچہ اور بھی بہت سے دلائل ہیں لیکن عقل مند کے لیے تو کتاب و سنت کی صرف ایک دلیل ہی کافی ہوتی ہے*

لہذٰا کسی بھی عقل مند کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ کسی ایسی چیز کو اختیار کرے جو اس کے لیے نقصان اور بیماری کا سبب بنے اور پھر اس میں مال بھی خرچ ہوتا ہو کیونکہ عقلمند تو اپنے جسم اور مال کی حفاظت کرتا ہے اور اس میں کوتاہی صرف وہی کرتا ہے جس کی عقل اور سمجھ بوجھ میں نقص ہو۔ اس کی حرمت کی عقلی دلیل یہ بھی ہے کہ جب اسے سگریٹ نہیں ملتی تو اس کا سینہ تنگ ہو جاتا ہے، افکار پریشان کا غلبہ ہو جاتا ہے اور سگریٹ نوش کو عبادت خصوصا روزہ رکھنا بہت مشکل محسوس ہوتا ہے کیونکہ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک سگریٹ چھوڑنا اسے بہت گراں معلوم ہوتا ہے اور اگر روزہ موسم گرما کے طویل دنوں کا ہو تو پھر سگریٹ نوش روزے کو انتہائی ناپسندیدہ نگاہوں سے دیکھتا ہے، لہذا ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو عموما اور سگریٹ نوشی میں مبتلا لوگوں کو خصوصا یہ نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سگریٹ اور تمباکو نوشی سے مکمل اجتناب کریں، اس کی خرید و فروخت بھی نہ کریں اور اس کا کاروبار کرنے والوں سے بھی کرایہ پر دکان دینے یا کسی بھی اور صورت میں ہرگز ہرگز تعاون نہ کریں۔

*کیونکہ یہ گناہ اور سرکشی کے کاموں میں تعاون ہے اور اس کی حرمت کی دلیل حسب ذیل ارشاد باری تعالیٰ ہے،*

📚 وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(سورہ المآئدۃ: 2)
اور نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالٰی نے دو باتوں کا حکم دیا ہے:
(1)نیکی اورپرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرنے کا۔
(2) گناہ اور زیادتی پر باہمی تعاون نہ کرنے کا۔

*اور پھر فرمایا (جو اللہ کے حکم کے خلاف جائے گا پھر وہ یاد رکھے) اللہ کا عذاب سخت ہے*

*یقیناً سگریٹ نوشی وغیرہ ایک برا اور حرام کام ہے لہذا اس کام کی کسی بھی صورت میں مدد کرنا جائز نہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اگر آپ اسکو سگریٹ/ تمباکو وغیرہ کیلئے دکان کرائے پر دینے سے منع کریں گے تو شائید وہ بھی سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ میں یہ گناہ کا کام کر رہا اور شائید اسکو اور دکان نا ملے اور یہ کام چھوڑ دے یا اور باقیوں کو بھی منع کرے اور آہستہ آہستہ یہ کاروبار بند ہو جائے، *

*لہذا سگریٹ نوشی حرام ہے اور اسکی خرید و فروخت بھی جائز نہیں*

(مآخذ: محدث فورم/ اردو فتویٰ/ الاسلام سوال وجواب)

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

_______&_____

📙سوال- کیا سگریٹ،حقہ اور بیڑی وغیرہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟نیز انکے استعمال کے بعد نماز پڑھنا اور مسجد جانا کیسا ہے؟
(جواب کیلئے دیکھیں سلسلہ نمبر-9)

📙سوال_خودکشی کرنے والے کا اسلام میں کیا حکم ہے؟ کیا اسکا جنازہ پڑھنا یا اسکے لیے مغفرت کی دعا کرنا جائز ہے؟
(جواب کیلئے دیکھیں سلسلہ نمبر-241)

________&&__________

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 👇

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں