357

سوال_ کیا تہجد اور تراویح دو الگ الگ نمازیں ہیں؟ جو شخص تراویح پڑھ لے کیا وہ تہجد بھی پڑھے گا؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث سے رہنمائی فرمائیں۔۔!

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-108″
سوال_ کیا تہجد اور تراویح دو الگ الگ نمازیں ہیں؟
جو شخص تراویح پڑھ لے کیا وہ تہجد بھی پڑھے گا؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث سے رہنمائی فرمائیں۔۔!

Published Date: 19-5-2018

جواب..!
الحمدللہ..!!

قرآن و حدیث میں ” تراویح” کا نام تک موجود نہیں، یہ نام بعد میں پڑا،

🌷بخاری کی شرح لکھنے والے حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے کہ تراویح، ترویحہ کی جمع ہے اور ترویحہ کے معنی:
ایک دفعہ آرام کرنا ہے،
جیسے تسلیمہ کے معنی ایک دفعہ سلام پھیرنا۔ رمضان المبارک کی راتوں میں نمازِ عشاء کے بعد باجماعت نماز کو تراویح کہا جاتا ہے، کیونکہ صحابہٴ کرام کا اتفاق اس امر پر ہو گیا کہ ہر دو سلاموں (یعنی چار رکعت ) کے بعد کچھ دیر آرام فرماتے تھے
(دیکھیے_فتح الباری،کتاب صلاة التراویح)

یعنی عام دنوں میں جو رات کے آخری حصہ میں تہجد، رات کی نماز یا نفل پڑھے جاتے انکو رمضان میں رات کے شروع میں ہی جماعت ساتھ پڑھنے اور ہر چار رکعت کے بعد آرام کرنے کی وجہ سے انکا نام تراویح پڑھ گیا،

اور قرآن و حدیث میں
تہجد، قیام، قیام اللیل، صلاة اليل، قیام رمضان یہ سب ایک نماز کے مختلف نام ہیں،
اور اسی نماز کو تراویح بھی کہا جاتا ہے،

اسکی دلیل درج ذیل آیات اور احادیث ہیں،

لیل (رات) میں نماز پڑھنا تہجد کہلاتا ہے اور اسے ہی قیام اللیل بھی کہا جاتا ہے۔

جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

🌷﴿وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ
(اور رات کے کچھ حصے میں اس (قرآن )کے ساتھ تہجد پڑھیں، یہ آپ کے لئےایک زائد عبادت ہے)
(سورہ الاسراء،آئیت نمبر_79)

اور فرمایا:

🌷﴿يٰٓاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ، قُمِ الَّيْلَ اِلَّا قَلِيْلًا﴾
(اے کپڑے میں لپٹنے والے! رات کو قیام کیجئے مگر تھوڑا)
(سورہ مزمل_آئیت نمبر_1٬2)

اور فرمایا

🌷{اِنَّ رَبَّکَ یَعۡلَمُ اَنَّکَ تَقُوۡمُ اَدۡنٰی مِنۡ ثُلُثَیِ الَّیۡلِ وَ نِصۡفَہٗ وَ ثُلُثَہٗ وَ طَآئِفَۃٌ مِّنَ الَّذِیۡنَ مَعَکَ ؕیقینا
ًآپ کارب جانتاہے کہ آپ دو تہائی رات کے قریب یا اس کا آدھا یا اس کا ایک تہائی حصہ قیام کرتے ہیں اور اُن لوگوں میں سے ایک گروہ بھی جوآپ کے ساتھ ہیں۔(سورہ مزمل_آئیت نمبر_20)

رمضان کی جن تین راتوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تہجد یعنی تراویح کی جماعت کروائی۔۔۔۔ اس میں بھی صلاة الليل کا لفظ آیا،

🌷رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اپنے حجرہ کے اندر ( تہجد کی ) نماز پڑھتے تھے۔ حجرے کی دیواریں پست تھیں اس لیے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ صبح کے وقت لوگوں نے اس کا ذکر دوسروں سے کیا۔ پھر جب دوسری رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اس رات بھی کھڑے ہو گئے۔ یہ صورت دو یا تین رات تک رہی۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ رہے اور نماز کے مقام پر تشریف نہیں لائے۔ پھر صبح کے وقت لوگوں نے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُكْتَبَ عَلَيْكُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ
میں ڈر گیا کہ کہیں رات کی نماز ( تہجد ) تم پر فرض نہ ہو جائے۔
( اس خیال سے میں نے یہاں کا آنا ناغہ کر دیا )

(صحیح بخاری،حدیث نمبر_729٬2790)
(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر_1373)
(سنن نسائی،حدیث نمبر_1604)
اس حدیث میں بھی تراویح کے لیے قیام اللیل کا لفظ ذکر فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے،

🌷رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے فرمایا،
“يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ
اے عبداللہ! فلاں کی طرح نہ ہو جانا وہ رات میں عبادت کیا کرتا تھا پھر چھوڑ دی
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_1152)
اس حدیث میں بھی قیام اللیل کا لفظ آیا،

🌷عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو رات کے اول وقت میں تراویح پڑھتے دیکھا تو فرمانے لگے،
أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي يَقُومُونَ يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ
( رات کا ) وہ حصہ جس میں یہ لوگ سو جاتے ہیں اس حصہ سے بہتر اور افضل ہے جس میں یہ قیام کرتے ہیں۔
(یعنی رات کا آخری حصہ) کیونکہ لوگ یہ قیام رات کے شروع ہی میں کر لیتے تھے۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_2010)
اس حدیث میں بھی عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تراویح کے لیے قیام کا لفظ استعمال کیا،

🌷ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ،
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے تو آپ نے ہمیں نماز ( تراویح ) نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ رمضان کے صرف سات دن باقی رہ گئے،
تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کی تیئسویں رات کو ہمیں تہائی رات تک قیام کرایا،
پھر پچیسویں رات کو آدھی رات تک قیام کرایا،
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ستائیسویں رات کو نماز پڑھائی۔اور اپنے گھر والوں اور اپنی عورتوں کو بھی بلایا، آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں فلاح کے چھوٹ جانے کا اندیشہ ہوا۔ ( راوی کہتے ہیں )
میں نے پوچھا: فلاح کیا چیز ہے؟
تو انہوں نے کہا: سحری ہے۔
(سنن ترمذی،حدیث نمبر_806)
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_1375)
اس حدیث میں بھی تراویح کی جگہ قیام کا لفظ استعمال ہوا،
اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کے بعد سے سحری تک یہ قیام اتنی دیر تک کیا کہ سحری فوت ہونے کا ڈر پیدا ہوا تو پھر سوال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تہجد کب پڑھی؟

🌷اوپر قرآنی آیات میں جو قیام اللیل کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا گیا وہ سال کی تمام راتوں کو شامل ہے خواہ وہ رمضان ہو یا غیر رمضان،
اور یہ بھی ثابت ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں ایک ہی نماز پڑھا کرتے تھے،
عام دنوں میں جو آپ تہجد پڑھتے رمضان میں وہی تہجد تراویح کہلاتی،
رمضان کی فضیلت کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کثرت سے قیام اللیل کرتے تھے تو کچھ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ شاید تراویح اور تہجد الگ الگ نمازیں ہیں،
جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رمضان میں تراویح کے علاہ تہجد پڑھنا کسی حدیث سے ثابت نہیں،

🌷امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی تہجد اور تروایح دونوں کو ایک سمجھتے تھے، تفصیل کے لئے دیکھئے :
[فیض الباری 420/2]

🌷 متعدد علماء نے اس شخص کو تہجد پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس نے نماز تراویح پڑھ لی ہو۔
[قيام الليل للمروزي : بحواله فيض الباري : 420/2]

🌷حنفی عالم انور شاہ کشمیری صاحب لکھتے ہیں،
جن راتوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز تراویح پڑھائی ان راتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تہجد کی نماز نہیں پڑھی،
(فیض الباری، ج2/ص420)
(عرف الشذی،329)

🌷حنفی عالم رشید احمد گنگوہی صاحب لکھتے ہیں،
اہل علم پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ قیام رمضان( تراویح ) اور قیام اللیل(تہجد) فی الواقع دونوں ایک ہی نماز ہیں،۔ جو رمضان میں مسلمانوں کی آسانی کے لیے اول شب میں مقرر کر دی گئی،لیکن اب بھی عزیمت اسی میں ہے کہ آخر شب میں ادا کی جائے،
(لطائف قاسمیہ،13_17 مکتوب سوم)

🌷 لہذٰا ان تمام دلائل سے ثابت ہوا کہ قیام اللیل ، صلاة الليل ،تہجد، قیام، قیام رمضاں ، یہ سب ایک۔نماز کے مختلف نام ہیں،
جنکو رمضان میں ہم تراویح کہہ لیتے ہیں،

جو تراویح پڑھ لے اسے تہجد پڑھنے کی ضرورت نہیں،کیونکہ تہجد ہی کا دوسرا نام تراویح ہے

🌷ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ تراویح ایک نفلی عبادت ہے، جسکا روزے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، تراویح کا الگ ثواب ہے اور روزے کا الگ،
جو لوگ روزہ نہیں رکھ سکتے وہ تراویح پڑھنا چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں،

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

🌷تراویح کی مسنون رکعات کتنی ہیں؟
دیکھیے سلسلہ نمبر_ 109

🌷کیا بیس رکعت تراویح پڑھنا جائز ہے؟
دیکھیے سلسلہ نمبر_110”

اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج لائیک ضرور کریں۔۔.
آپ کوئی بھی سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کر سکتے ہیں۔۔!!

الفرقان اسلامک میسج سروس
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں