766

کیا عورت غسل جنابت یا غسل حیض کے لیے اپنے سر کے بال کھولے گی؟ اور جن مردوں کے بال لمبے ہوں انکے لیے کیا حکم ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-3”
سوال_ کیا عورت غسل جنابت یا غسل حیض کے لیے اپنے سر کے بال کھولے گی؟ اور جن مردوں کے  بال لمبے ہوں انکے لیے کیا حکم ہے؟

Published Date: 22-10-2017

جواب۔۔!
الحمدللہ۔۔!!

*مرد ہو یا عورت اگر اس نے بالوں کی چٹیاں بنائی ہوئی ہیں یا بال باندھے ہوئے ہیں،تو غسل جنابت یا غسل حیض کے لیے اسے اپنے بال کھولنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اس میں زیادہ تکلیف ہے،اور خاص کر عورتوں کے بال چونکہ لمبے ہوتے ہیں انہیں بار بار دھونا اور پھر خشک کرنا آسان نہیں،اس لیے شریعت نے عورت کے لیے آسانی رکھی ہے*

اس بارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح روایات موجود ہیں،

📚حضرت ام سلمہؓ سے روایت ،
انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !
إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي، فَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ. قَالَ : لَا، إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ، ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ، فَتَطْهُرِينَ
میں ایک ایسی عورت ہوں کہ مضبوطی سے سر کے بالوں کی چوٹی بناتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے لیے اس کو کھولوں؟آپ نے فرمایا : ’’نہیں ، تمہیں بس اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالو ، پھر اپنے آپ پر پانی بہا لو تم پاک ہو جاؤں گی ۔،

اسی روایت کے دوسرے الفاظ یہ ہیں،

فَأَنْقُضُهُ لِلْحَيْضَةِ وَالْجَنَابَةِ. فَقَالَ : لَا،
تو کیا غسل جنابت اور غسل حیض کے کے لیے ان کو کھولوں؟
آپ نے فرمایا : ’’نہیں ،
تمہیں بس اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالو ، پھر اپنے آپ پر پانی بہا لو تم پاک ہو جاؤں گی ۔،
(صحیح مسلم، کتاب الحیض، حدیث نمبر،330)
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر،603)

📚اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏
وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ فَلَمْ تَنْقُضْ شَعْرَهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُهَا بَعْدَ أَنْ تُفِيضَ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهَا.
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
اہل علم کا اسی پر عمل پر ہے کہ عورت جب جنابت کا غسل کرے، اور اپنے بال نہ کھولے اور اس (تین چلو پانی) کے بعد کہ وہ اپنے سر پر پانی بہا لے کافی ہو جائے گا
(سنن ترمذی حدیث نمبر-105)

📚ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ،
لَا يَنْقُضْنَ عِقَصَهُنَّ مِنْ حَيْضٍ وَلَا مِنْ جَنَابَةٍ
عورتیں غسل حیض یا غسل جنابت کے لیے اپنے بال (میڈھیاں )نہیں کھولتی تھیں،
(سنن دارمی،حدیث نمبر-1195)
اسنادہ ضعیف

ایک دسری روایت میں کچھ اس طرح ہے،کہ

📚 ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنی بیویوں کو غسل کے وقت چوٹی کھولنے کا حکم دیتے ہیں، تو عائشہ صدیقہ نے فرمایا:
يَا عَجَبًا لِابْنِ عَمْرٍو هَذَا يَأْمُرُ النِّسَاءَ، إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ، أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ، لَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، وَلَا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثَ إِفْرَاغَاتٍ.
عبداللہ بن عمرو پر تعجب ہے، وہ عورتوں کو سر منڈانے کا حکم کیوں نہیں دے دیتے؟
بیشک میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، میں اپنے سر پر تین چلو سے زیادہ پانی نہیں ڈالتی تھی۔
(صحیح مسلم،کتاب الحیض،حدیث نمبر-331)
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر-604)

📒اسی طرح امام نووی رحمہ اللہ
“المجموع” (2/ 216) میں کہتے ہیں:
“ہمارے شافعی فقہائے کرام کا کہنا ہے کہ: اگر مرد کی بھی عورت کی طرح چٹیا ہو تو اسکا حکم بھی عورت والا ہی ہوگا۔ واللہ اعلم”  انتہی

📒ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“اس حکم میں مرد و خواتین سب برابر ہیں، اور عورت کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ عام طور پر صرف عورتوں کے بال ہی گھنے اور زیادہ لمبے ہوتے ہیں” انتہی
“المغنی” (1/299)

📒سعودی دائمی فتوی کمیٹی سے پوچھا گیا: 
“کیا مرد و خواتین کے غسل جنابت میں کوئی فرق ہے؟ اور کیا اپنے سر کے بال کھولے؟ یا اسے غسل کیلئے تین چلو ہی سر پر ڈالنا کافی ہونگے، جیسے کہ حدیث میں بھی وارد ہوا ہے، اسی طرح حیض اور جنابت کے غسل میں کیا فرق ہے؟”

تو کمیٹی کی جانب سے جواب دیا گیا: 
“غسل جنابت کی کیفیت میں مرد و خواتین میں کوئی فرق نہیں ہے، سب کیلئے ایک ہی  طریقہ کار ہے، نیز مرد  و خواتین میں سے کسی کو بھی اپنے سر کے بال  کھولنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اپنے سر پر صرف تین چُلو پانی ڈالے اور اس کے بعد سارے جسم پر پانی بہا لے” انتہی
جہاں تک عورت کے حيض سے پاکی کے لئے غسل کا تعلق ہے تو اس میں بالوں کی مینڈھیوں کو کھولنے کے حکم میں اختلاف ہے اور صحیح قول یہ ہے کہ اس کے لئے مینڈیاں کھولنا ضروری نہیں، جیساکہ امام مسلم نے حضرت ام سلمہ سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليہ وسلم سےعرض کی:میں اپنے بالوں کی مینڈیاں باندھتی ہوں۔ کیا غسل جنابت اور حیض میں ان کو کھول لینا چاہئے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، تمہارے لئے بس یہی کافی ہے کہ تم اپنے بالوں کو تین لپ پانی ڈال کر (اچھی طرح سے) دھولو، اس کے بعد اپنے پورے جسم پر پانی بہا کر اپنے آپ کو پاک کر لو،
پس یہ حدیث دلیل ہے کہ حیض اور جنابت سے طھارت کے لئے غسل میں میڈھیوں کا کھولنا واجب نہیں،
لیكن أفضل یہ ہے کہ عورت حیض سے پاکی کا غسل کرتے وقت اپنے بال کھول لے یہ بطور احتياط اختلاف سے بچنے اور دلائل کے مابین جمع کرتے ہوئے کہا گیا ہے،
(فتاوى اللجنة الدائمة” (5/349)

*ان تمام احادیث مبارکہ سے پتہ چلا کہ عورت جس نے بال باندھے ہوں وہ  غسل جنابت کرے یا غسل حیض، اور  وہ مرد بھی جس کے بال بندھے ہوں,وہ دوران غسل اپنے سر پر صرف تین چلو پانی ڈال لیں، اور پھر باقی جسم پر پانی بہا لیں تو انکا غسل مکمل ہو جائیگا، اور وہ پاک ہو جائینگے، سر کے مکمل بال کھولنے کی ضرورت نہیں*

___________&___________

*جو لوگ حیض سے غسل کرتے وقت بال کھولنے کا حکم دیتے ہیں انکی دلیل یہ حدیث ہے*

📚عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی  ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا دل چاہے تو اسے عمرہ کا احرام باندھ لینا چاہیے۔ کیونکہ اگر میں ہدی ساتھ نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔ اس پر بعض صحابہ نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا۔ میں بھی ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ مگر عرفہ کا دن آ گیا اور میں حیض کی حالت میں تھی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمرہ چھوڑ اور اپنا سر کھول اور کنگھا کر اور حج کا احرام باندھ لے۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ جب حصبہ کی رات آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا۔ میں تنعیم میں گئی اور وہاں سے اپنے عمرہ کے بدلے دوسرے عمرہ کا احرام باندھا ۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-317)

وضاحت_
*یہ غسل حیض نہیں بلکہ حج کے احرام کا غسل تھا، کیونکہ حدیث میں صاف واضح ہے کہ  عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ابھی حیض سے پاک نہیں ہوئی تھیں، بلکہ حیض کے دوران ہی حج کا احرام باندھنے کے لیے یہ غسل کیا تھا،لہذا اس حدیث کو حیض کے غسل میں بال کھولنے پر دلیل بنانا درست نہیں،*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📒کیا مرد و عورت کا سر کے بالوں کا جوڑا بنانا جائز ہے؟ اور اس جوڑے ساتھ نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
( دیکھئیے سلسلہ نمبر-142)

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ 
📖 سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں