202

سوال:کیا امام کی نماز فاسد ہونے سے مقتدی کی نماز بھی فاسد ہوجاتی ہے؟ یعنی اگر امام جان بوجھ کر یا بھول کر طہارت کے بغیر ہی نماز پڑھا دے تو کیا مقتدی بھی اپنی نماز دوبارہ پڑھیں گے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-355”
سوال:کیا امام کی نماز فاسد ہونے سے مقتدی کی نماز بھی فاسد ہوجاتی ہے؟ یعنی اگر امام جان بوجھ کر یا بھول کر طہارت کے بغیر ہی نماز پڑھا دے تو کیا مقتدی بھی اپنی نماز دوبارہ پڑھیں گے؟

Published Date: 9-4-2021
جواب:
الحمدللہ:

*اگرامام بے وضو یا جنبی ہو یا اس کے کپڑوں پر نجاست وغیرہ لگی ہو اور وہ اسی طرح نماز پڑھا دے، جبکہ مقتدیوں کو اسکا بات کا علم نہیں تھا، تو مقتدیوں کی نماز بالکل صحیح اور درست ہو گی، بعد میں انہیں نماز دہرانے کی ضرورت نہیں، ہاں البتہ پتہ چلنے پر امام کے لیے اس نماز کو دہرانا ضروری ہے،*

دلائل درج ذیل ہیں!

*پہلی دلیل*

📚صحیح بخاری
کتاب: اذان کا بیان
باب: باب: اگر امام اپنی نماز کو پورا نہ کرے اور مقتدی پورا کریں۔
حدیث نمبر: 694
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ يُصَلُّونَ لَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أَصَابُوا فَلَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَخْطَئُوا فَلَكُمْ وَعَلَيْهِمْ.
ترجمہ:
ہم سے فضل بن سہل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسن بن موسیٰ اشیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ امام لوگوں کو نماز پڑھاتے ہیں۔ پس اگر امام نے ٹھیک نماز پڑھائی تو اس کا ثواب تمہیں ملے گا اور اگر غلطی کی تو بھی (تمہاری نماز کا) ثواب تم کو ملے گا اور غلطی کا وبال ان پر رہے گا۔

📙حافظ بغویؒ لکھتے ہیں:
فیہ دلیل علی أنہ اذا صلی بقوم، و کان جنبا او محدثا ان صلاة القوم صحیحة ، وعلی الامام اعادة ، سواءکانالامام عالما بحدثہ متعمّد الامامة أوکان جاھلا۔۔۔
‘‘اس حدیث میں اس بات پر دلیل ہے کہ امام جب لوگوں کو نماز پڑھائے اور وہ جنبی یا بے وضو ہو تو لوگوں کی نماز صحیح ہو گی، امام پر نماز دہرانا ضروری ہوگا، خواہ اسے اپنے بے وضو ہونے کا علم ہو اور جانتے بوجھتے امامت کروارہا ہو یا وہ لاعلم ہو۔’’
(شرح السنة:۴۰۵/۳)

اسی طرح کی ایک حدیث مسند احمد، سنن ابو داؤد اور سنن ابن ماجہ میں ان الفاظ سے موجود ہے،

*دوسری دلیل*

📚سنن ابن ماجہ
کتاب: اقامت نماز اور اس کا طریقہ
باب: امام پر کیا واجب ہے ؟
حدیث نمبر: 983
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ خَرَجَ فِي سَفِينَةٍ فِيهَا عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏فَحَانَتْ صَلَاةٌ مِنَ الصَّلَوَاتِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرْنَاهُ أَنْ يَؤُمَّنَا، ‏‏‏‏‏‏وَقُلْنَا لَهُ:‏‏‏‏ إِنَّكَ أَحَقُّنَا بِذَلِكَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ أَمَّ النَّاسَ فَأَصَابَ، ‏‏‏‏‏‏فَالصَّلَاةُ لَهُ وَلَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ انْتَقَصَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعَلَيْهِ وَلَا عَلَيْهِمْ.
ترجمہ:
ابوعلی ہمدانی سے روایت ہے کہ وہ ایک کشتی میں نکلے، اس میں عقبہ بن عامر جہنی ؓ بھی تھے، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، ہم نے ان سے عرض کیا کہ آپ ہماری امامت کریں، آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں اس لیے کہ آپ صحابی رسول ہیں، انہوں نے امامت سے انکار کیا، اور بولے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس نے لوگوں کی امامت کی اور صحیح طریقہ سے کی تو یہ نماز اس کے لیے اور مقتدیوں کے لیے بھی باعث ثواب ہے، اور اگر اس نے نماز میں کوئی کوتاہی کی تو اس کا وبال امام پر ہوگا، اور مقتدیوں پر کچھ نہ ہوگا ۔
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة ٥٩ (٥٨٠)،
(تحفة الأشراف: ٩٩١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٤٥، ١٥٤، ١٥٦، ٢٠١) (صحیح )
اس حدیث کو امام ابن خزیمہؒ (۱۵۱۳)،
امام ابنؒ(۲۲۲۱) اور امام حاکمؒ(۲۱۳،۲۱۰/۱) نے ‘‘صحیح’’ کہاہے۔

📙عبدالرحمن بن حرملہ نے اس روایت میں ابوعلی الہمدانی سے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔
(سنن الکبرٰی للبیھقی:۱۴۷/۳)

نیز عبدالرحمن بن حرملہ المدنی جمہور محدثین کے نزدیک ”حسن الحدیث “ راوی ہے۔

📙امام ابن خزیمہ ؒ (م۳۱۱ھ )اس حدیث پر تبویب کرتے ہیں۔
والدّلیل علی انّ صلاة الامام قد تکون ناقصة وصلاة الماموم تامہ، ضدقول من زعم انّ صلاة الماموم متّصلة بصلاة امامہ، اذا فسدت صلاة الامام فسدت صلاة الماموم
یہ حدیث دلیل ہے کہ بسا اوقات امام کی نماز ناقص اور مقتدی کی کامل ہوتی ہے،(یہ حدیث) اس شخص کے خلاف ہے جس نے دعویٰ کیاہے کہ مقتدی کی نماز امام کی نماز کے ساتھ متصل ہے، اگر امام کی نماز فاسد ہوگی تو مقتدی کی بھی فاسد ہو جائے گی….
(صحیح ابن خزیمة:1513)

*تیسری دلیل*

📚سنن ابن ماجہ
کتاب: اقامت نماز اور اس کا طریقہ
باب: امام پر کیا واجب ہے ؟
حدیث نمبر: 981
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخُو فُلَيْحٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ يُقَدِّمُ فِتْيَانَ قَوْمِهِ يُصَلُّونَ بِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لَهُ:‏‏‏‏ تَفْعَلُ وَلَكَ مِنَ الْقِدَمِ مَا لَكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ الْإِمَامُ ضَامِنٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ أَحْسَنَ فَلَهُ وَلَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ أَسَاءَ، ‏‏‏‏‏‏يَعْنِي:‏‏‏‏ فَعَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا عَلَيْهِمْ.
ترجمہ:
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد ساعدی ؓ اپنی قوم کے جوانوں کو آگے بڑھاتے وہی لوگوں کو نماز پڑھاتے، کسی نے سہل ؓ سے کہا: آپ جوانوں کو نماز کے لیے آگے بڑھاتے ہیں، حالانکہ آپ کو سبقت اسلام کا بلند رتبہ حاصل ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: امام (مقتدیوں کی نماز کا) ضامن ہے، اگر وہ اچھی طرح نماز پڑھائے تو اس کے لیے بھی ثواب ہے اور مقتدیوں کے لیے بھی، اور اگر خراب طریقے سے پڑھائے تو اس پر گناہ ہے لوگوں پر نہیں ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٧٠٠، ومصباح الزجاجة: ٣٥٤) (صحیح)
(دوسرے شواہد کے بناء پر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد الحمید ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٧٦٧ )
وضاحت: ١ ؎: امام ضامن ہے کا مطلب یہ کہ اگر وہ اچھی طرح سے نماز پڑھتا ہے، تو اس کا اجر و ثواب اس کو اور مقتدیوں دونوں کو ملے گا، اور اگر خراب طریقے سے نماز پڑھتا ہے، تو اس کا وبال اسی پر ہوگا، نہ کہ مقتدیوں پر۔

*چوتھی دلیل*

اور ایک جگہ اس طرح فرمایا:
📚سنن ابوداؤد
کتاب: نماز کا بیان
باب: مو ذن وقت کی پا بندی کرے
حدیث نمبر: 517
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَجُلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ.
ترجمہ:
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام (مقتدیوں کی نماز کا) ضامن ١ ؎ اور کفیل ہے اور مؤذن امین ہے ٢ ؎،
اے اللہ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ ٣ ؎ اور مؤذنوں کو بخش دے٤ ؎۔
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٤٢٩)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٣٨٢، ٤١٩، ٥٢٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٣٩ (٢٠٧) (حدیث صحیح)
(مؤلف کی سند میں رجل مبہم راوی ہے، اگلی سند بھی ایسی ہی ہے، البتہ دیگر بہت سے مصادر میں یہ حدیث ثقہ راویوں سے مروی ہے، اعمش نے بھی خود براہ راست ابو صالح سے یہ حدیث سنی ہے (دیکھیے: ارواء الغلیل حدیث نمبر: ٢١٧ )
وضاحت:
١ ؎: یعنی مقتدیوں کی نماز کی صحت و درستگی امام کی نماز کی صحت و درستگی پر موقوف ہے؛ اس لئے امام طہارت وغیرہ میں احتیاط برتے اور نماز کے ارکان و واجبات کو اچھی طرح ادا کرے۔
٢ ؎: یعنی لوگ مؤذن کی اذان پر اعتماد کر کے نماز پڑھ لیتے اور روزہ رکھ لیتے ہیں، اس لئے مؤذن کو وقت کا خیال رکھنا چاہیے، نہ پہلے اذان دے نہ دیر کرے۔
٣ ؎: یعنی جو ذمہ داری اماموں نے اٹھا رکھی ہے اس کا شعور رکھنے اور اس سے عہدہ برآ ہونے کی انہیں توفیق دے۔
٤ ؎: یعنی اس امانت کی ادائیگی میں مؤذنوں سے جو کوتاہی اور تقصیر ہوئی ہو اسے معاف کر دے۔

*پانچویں دلیل*

📚ﺃَﺧْﺒَﺮَﻧَﺎ ﺃَﺣْﻤَﺪُ ﺑْﻦُ ﻋَﻠِﻲِّ ﺑْﻦِ اﻟْﻤُﺜَﻨَّﻰ، ﻗَﺎﻝَ: ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻋَﺒْﺪُ اﻟﻠَّﻪِ ﺑْﻦُ ﻋُﻤَﺮَ ﺑْﻦِ ﺃَﺑَﺎﻥَ، ﻗَﺎﻝَ: ﺣَﺪَّﺛَﻨَﺎ ﻋَﺒْﺪُ اﻟﺮَّﺣِﻴﻢِ ﺑْﻦُ ﺳُﻠَﻴْﻤَﺎﻥَ، ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻲ ﺃَﻳُّﻮﺏَ اﻹِْﻓْﺮِﻳﻘِﻲِّ، ﻋَﻦْ ﺻَﻔْﻮَاﻥَ ﺑْﻦِ ﺳُﻠَﻴْﻢٍ، ﻋَﻦْ ﺳَﻌِﻴﺪِ ﺑْﻦِ اﻟْﻤُﺴَﻴِّﺐِ، ﻋَﻦْ ﺃَﺑِﻲ ﻫُﺮَﻳْﺮَﺓَ، ﻋَﻦِ اﻟﻨَّﺒِﻲِّ ﺻَﻠَّﻰ اﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﻗَﺎﻝَ: «ﺳَﻴَﺄْﺗِﻲ ﺃَﻗْﻮَاﻡٌ ﺃَﻭْ ﻳَﻜُﻮﻥُ ﺃَﻗْﻮَاﻡٌ ﻳُﺼَﻠُّﻮﻥَ اﻟﺼَّﻼَﺓَ، ﻓَﺈِﻥْ ﺃَﺗَﻤُّﻮا ﻓَﻠَﻜُﻢْ ﻭَﻟَﻬُﻢْ، ﻭَﺇِﻥْ ﻧَﻘَﺼُﻮا ﻓَﻌَﻠَﻴْﻬِﻢْ ﻭَﻟَﻜُﻢْ»
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
عنقریب کچھ لوگ (حکمران )آئیں گے ، وہ نمازیں پڑھائیں گے، اگر وہ پوری نماز ادا کریں تو تمہارے لیے بھی کافی اوران کے لیے بھی، لیکن اگروہ کوتاہی کریں گے تو ان کے لیے وبال اور تمہارے لیے کافی ہوں گی۔
(صحیح ابن حبان حدیث نمبر: 2228،وسندہ حسن)

اس کا راوی عبداللہ بن علی الافریقی‘‘حسن الحدیث ’’ ہے۔

📙امام ابن المنذرؒ لکھتے ہیں:
ھذا الحدیث یدّل علی اغفال من زعم انّ صلاة الامام اذا فسدت فسدت صلاة من خلفہ۔
‘‘یہ حدیث بتاتی ہے کہ وہ شخص غلطی پرہے، جویہ دعوی کرتاہے کہ جب امام کی نماز فاسد ہوجائے تو اس کے مقتدیوں کی نماز بھی فاسد ہوجائے گی۔’’
(الاوسط فی السنن والاجماع و الاختاف لابن المنذر:۱۶۴/۴)

*چھٹی دلیل*

📚وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ صَلَّى بِالنَّاسِ الصُّبْحَ، ثُمَّ غَدَا إِلَى أَرْضِهِ بِالْجُرُفِ، فَوَجَدَ فِي ثَوْبِهِ احْتِلَامًا، فَقَالَ : إِنَّا لَمَّا أَصَبْنَا الْوَدَكَ لَانَتِ الْعُرُوقُ. فَاغْتَسَلَ، وَغَسَلَ الِاحْتِلَامَ مِنْ ثَوْبِهِ، وَعَادَ لِصَلَاتِهِ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو فجر کی نماز پڑھائی۔ (نماز کے بعد) انہوں نے اپنے کپڑوں میں احتلام(منی) کا نشان دیکھا تو اپنے کپڑوں سے منی کو دھویا، غسل کیا اور (اپنی) نماز دوہرائی۔
(موطا امام مالك كِتَابٌ : الصَّلَاةُ | إِعَادَةُ الْجُنُبِ الصَّلَاةَ وَغُسْلُهُ إِذَا صَلَّى وَلَمْ يَذْكُرْ وَغَسْلُهُ ثَوْبَهُ_124)
حكم الحديث: حديث حسن.

*اس حدیث میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے انجانے میں جنبی حالت میں نماز پڑھا دی، لیکن جب پتہ چلا کہ مجھ پر غسل واجب تھا،تو غسل کر کے خود نماز دہرا لی، باقی مقتدیوں کو نماز دہرانے کا حکم نہیں دیا، جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ امام کی نماز فاسد ہونے سے مقتدیوں کی نماز فاسد نہیں ہوتی،*

_________&______

*سعودی فتاویٰ ویبسائٹ الاسلام سوال و جواب پر اسی طرح کا ایک سوال پوچھا گیا جسکا جواب علمائے کرام نے اس طرح سے دیا،*
ملاحظہ فرمائیں 👇

سوال:کون سی ایسی حالتیں ہیں جن میں کوئی شخص دوسرے کی نماز توڑ دیتا ہے؟ مثال کے طور پر امام کن حالتوں میں اپنے مقتدیوں کو پتہ بھی نہ لگنے دے اور ان کی نماز بھی باطل کر دے ؟

جواب:
الحمد للہ:

*مقتدیوں کی نماز کے امام کی نماز کے ساتھ منسلک ہونے کے بارے میں علماء کے تین اقوال ہیں*

1- دونوں کی نماز میں بالکل کوئی ربط و تعلق نہیں، اور ہر آدمی الگ الگ اپنے لئے نماز پڑھتا ہے ۔امام شافعی کی اصل کے مطابق [اصل کا مطلب یہ ہے کہ امام صاحب نے کسی مسئلہ میں ایک اصول بنایا ہے تو اس مسئلہ کے متعلقہ ذیلی صورتیں اسی اصل پر مبنی ہوں گی ] غالب حکم یہی ہے ۔

2- مقتدی کی نماز امام کی نماز کے ساتھ مربوط اور منسلک ہوتی ہے اور اس کی نماز امام کی نماز کا مطلق طور پر جز اور اسکی فرع ہے؛ چنانچہ جو خلل امام کی نماز میں واقع ہوگا وہ مقتدی کی نماز میں بھی سرایت کر جائے گا ، یہ ابو حنیفہ کا مذہب ہے اور امام احمد سے بھی ایک روایت ایسے ہی منقول ہے ۔

3- مقتدی کی نماز امام کی نماز سے ہی منسلک ہوتی ہے، لیکن مقتدی کی نماز میں نقص اس وقت واقع ہوگا جبکہ امام و مقتدی دونوں کا عذر نہ ہو، اگر کوئی شرعی عذر ہو تو پھر نقص واقع نہ ہوگا، چنانچہ جب امام یہ سمجھتا ہو کہ وہ با وضو ہے تو اس کا امامت میں اور مقتدی کا اقتدا میں عذر قابل قبول ہے، یہ امام مالک اور احمد وغیرہ کا قول ہے۔ اس مسئلہ میں منقول صحابہ کے اقوال سے بھی یہی مفہوم کشید ہوتا ہے، اور یہی معتدل موقف ہے ۔
“مجموع الفتاوی” از : شیخ الاسلام ابن تیمیہ (23/370-371)

چنانچہ صرف امام کی نماز کے باطل ہونے سے ہی مقتدی کی نماز کا بطلان لازم نہیں آئے گا؛ کیونکہ جب مقتدی نے نماز کی تمام شرائط، ارکان اور واجبات کو صحیح طور سے ادا کیا ہے تو اس کی نماز کے باطل ہونے کا حکم کسی صحیح دلیل سے ہی لگ سکتا ہے ­؛ چنانچہ ہمارے اس موقف کی دلیل وہ روایت ہے

📚 جسے بخاری نے حدیث نمبر : (694)،
اور احمد نے (8449)روایت کیا ہے اور یہ الفاظ احمد کے ہیں کہ: “ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :وہ ائمہ تم کو نماز پڑھائیں گے، اگر صحیح پڑھائیں تو تم سب کی نماز صحیح ہے، اور اگر غلطی کریں تو تمہاری نمازصحیح ہے اور غلطی کا وبال انہی پر ہوگا۔

📙حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“ابن منذر رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ: اس حدیث میں ان لوگوں کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ امام کی نماز فاسد ہونے سے مقتدی کی نماز بھی فاسد ہو جائے گی”

📙شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“یہ حدیث اس بارے میں نص ہے کہ اگر امام غلطی کرے تو اس کا وبال اسی پر ہوگا نہ کہ مقتدیوں پر”
“مجموع الفتاوی”(23/372)

📙اور سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“جس مقتدی کو امام کے بے وضو ہونے اور پلید ہونے کے بارے میں علم نہیں ہے اسے معذور سمجھا جائے گا چنانچہ اس کی نماز درست ہوگی ، چاہے امام کو اپنے بے وضو ہونے یا جنبی ہونے کا علم ہو؛ کیونکہ ہر انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار ہوتا ہے اور ان کا وبال بھی اسی پر ہوگا، ، چنانچہ مقتدی سے تو نماز کو فاسد اور باطل کرنے والا کوئی بھی فعل صادر نہیں ہوا ، تو اس کی نماز کے باطل ہونے کا حکم اس پر کیسے لگایا جاسکتا ہے ؟ درست بات یہ ہے کہ مقتدی کی نماز کسی بھی صورت میں امام کی نماز کے باطل ہونے سے باطل نہ ہوگی، حتی کہ اگر امام کی نماز دورانِ نماز میں باطل ہوئی اور وہ اس کو چھوڑ کر چلا گیا تو مقتدی اپنی نماز کو اکیلے جاری رکھے گا یا کوئی اور امام بن کر ان کو بقیہ نماز پڑھا دے۔ امام احمد کا یہ موقف بہت قوی ہے” انتہی
“الفتاوی السعدیہ “(7/120)۔(کامل مجموعے میں سے )

اس قول کے مطابق، جب امام کی نماز کسی وجہ سے باطل ہو جائے مثلاً بھول کر بے وضو نماز پڑھا دی یا حالت نماز میں بے وضو ہو گیا ،تو اس کا مقتدی کی نماز سے کوئی تعلق نہیں ہوگا لہذا مقتدی کی نماز باطل نہ ہوگی ۔

*البتہ چند صورتیں ایسی ہیں جن میں امام کی نماز باطل ہونے سے مقتدی کی نماز بھی باطل ہو جاتی ہے، چنانچہ ان صورتوں میں سے چند درج ذیل ہیں*

1- جب امام کی نماز کسی ایسے واضح اور ظاہری اسباب سے باطل ہو جو عام طور پر مقتدیوں پر مخفی نہیں رہتے، جیسا کہ امام قبلہ سے رخ پھیر لے، اس کا سترکھل جائے، یا جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ کی تلاوت چھوڑ دے، یا تکبیر تحریمہ چھوڑ دے، اور مقتدی علم ہو جانے کے بعد بھی نماز میں امام کی پیروی جاری رکھیں ۔

📙ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“جب کوئی ایسی شرط رہ جائے جو امام پر لازم تھی، جیسا کہ ستر کا ڈھانپنا اور قبلہ رخ ہونا، تو یہ مقتدی کیلئے بھی معاف نہ ہوں گی ؛کیونکہ اس جیسی صورت عام طور پر مخفی نہیں رہتی ،البتہ حدث اور نجاست کا معاملہ یہ نہیں ہے”
“المغنی”(1/420)

2- جب امام اور سترے کے درمیان میں سے کوئی ایسی چیز گزرے جس سے نماز منقطع ہو جاتی ہے جیسے عورت، گدھا اور کالا کتا، تو امام اور مقتدی دونوں کی نماز باطل ہو جائے گی، چنانچہ جب کوئی عورت امام اور سترے کے درمیان سے گزرے تو امام اور مقتدی سب کی نماز باطل ہو جائے گی ؛کیونکہ امام کا سترہ سب کے لئے ہے ؛
📚جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم میں سے کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگے تو اگر اس کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی کی مانند کوئی چیز ہوگی تو وہ اس کے لئے سترہ بن جائے گی، جب اس کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی کی طرح کوئی چیز نہ ہوگی تو گدھا، عورت اور سیاہ کتا اس کی نماز کو کاٹ دیں گے[جب اس کے سامنے سے گزریں گے]”۔
( اسے مسلم نے روایت کیا ہے ( انٹرنیشنل حدیث نمبر-510)

📙شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا : کیا امام کی نماز باطل ہونے سے مقتدی کی نماز باطل ہو جائے گی؟

تو انہوں نے جواب دیا:
“امام کی نماز باطل ہونے سے مقتدی کی نماز باطل نہ ہوگی؛ کیونکہ مقتدی کی نماز صحیح ہے اور نماز کی صحت کا باقی رہنا ہی اصل ہے، اور دلیلِ صحیح کے بغیر نماز کا باطل ہونا ممکن نہیں ہے، چنانچہ امام کی نماز تو دلیلِ صحیح کے تقاضے سے باطل ہوئی، لیکن مقتدی نماز میں اللہ کے حکم سے داخل ہوا ہے تو اللہ کے حکم کے بغیر اس کی نماز کا باطل ہونا ممکن نہیں ہے۔

ایک اصول ہے: “جو شخص کسی عبادت کو اسی طرح شروع کرتا ہے جیسے اللہ نے اسے حکم دیا تو ہم اس کی اس عبادت کو دلیل کے بغیر باطل قرار نہیں دے سکتے ”

ہاں ایسی حالت اس سے مستثنی ہوگی جس میں امام مقتدی کے قائم مقام ہو جیسے سترہ کے معاملے میں، کیونکہ امام کا سترہ ہی مقتدیوں کا سترہ ہوتا ہے ،چنانچہ اگر کوئی عورت امام اور سترے کے درمیان سے گزرتی ہے تو امام اور مقتدی دونوں کی نماز باطل ہوگی؛ اس لیے کہ یہ سترہ مشترک تھا اسی لئے تو ہم مقتدی کو الگ سے اپنے لئے سترہ رکھنے کا حکم نہیں دیتے، بلکہ اگر سترہ رکھے گا تو غلو کرنے والا اور بدعتی شمار ہوگا ”
“مجموع فتاوی ابن عثیمین”(12/372)

مآخذ:
https://islamqa.info/ar/answers/145834

___&______

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 👇

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں