3

سوال_نکاح کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ کیا موجودہ دور کا نکاح جس میں کلمے وغیرہ پڑھائے جاتے ۔۔۔درست ہے؟ برائے مہربانی تفصیل سے بیان کریں!

“سلسلہ سوال وجواب نمبر -390”
سوال_نکاح کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ کیا موجودہ دور کا نکاح جس میں کلمے وغیرہ پڑھائے جاتے ۔۔۔درست ہے؟ برائے مہربانی تفصیل سے بیان کریں!

Published Date: 3-12-2025

جواب..!
الحمدللہ..!!

*جائز طریقے سے باہم ملنے کا نام نکاح ہے، اسلام میں اس نکاح کی بڑی اہمیت ہے، اسی سے انسانی نسل آگے بڑھی اور بڑھ رہی ہے اور یہ مومن و مسلم کے ایمان کی تکمیل کا باعث ہے۔ اس کا اہم مقصد عفت و عصمت کی حفاظت ہے۔ یہ انسانی زندگی کی اہم ترین ضرورت ہے اور اللہ کی طرف سے اس کے بندوں کے لئے نایاب تحفہ ہے۔ اول و آخر سارے انبیاء نے شادی کی اور اپنی اپنی امت کو شادی کا پیغام دیا تا کہ انسان اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرے اور جائز طریقے سے اپنی خواہشات پوری کرے۔*

📚اللہ تعالی نے قرآن میں ذکر کیا ہے ۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلاً مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً (الرعد:38)
ترجمہ : ہم آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا۔

یہ دور بہت ہی پرفتن ہے، ماں باپ کو چاہئے کہ اولاد کی جوان ہوتے ہی کہیں دینی اعتبار سے اچھا رشتہ دیکھ کر شادی کردے ۔

📚شادی کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں اللہ نے ارشاد فرمایا:
وَأَنكِحُوا الأَيَامَى مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِن يَكُونُوا فُقَرَاء يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ(النور:32)
ترجمہ :تم میں سے جو مرد، عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو، اور اپنے نیک بخت غلام لونڈیوں کا بھی۔ اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو غنی بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔

📚اورنبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :
يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنْ اسْتَطَاعَ منكُم الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ
ترجمہ :اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو کوئی استطاعت رکھتا ہو وہ ضرور شادی کرے کیونکہ یہ (شادی) نگاہوں کو بہت جھکانے والی اور شرمگاہ کی خوب حفاظت کرنے والی ہے اور جو شادی کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزہ رکھے ، پس یہ اس کے لئے ڈھال ہوگا
(صحیح بخاری:5066)
(صحیح مسلم :1400)

یہاں ہم نکاح کے مسائل پہ بات نہیں کریں گے بلکہ یہ بتلائیں گے کہ نکاح کیسے منعقد ہوتا ہے؟ نکاح پڑھانے میں نبی ﷺ کا نمونہ اور اسوہ کیا ہے؟

*نکاح جس قدر عظیم امر الہی ہےاس کا نعقاد بھی اسی قدر آسان ہے مگر لوگوں نے اسے تصنع اور رسم و رواج کا رنگ دے کر اسلامی رنگ سے بہت الگ کردیا ۔ ایک حدیث پیش کرتا ہوں اس سے اندازہ لگائیں کہ نکاح کیا ہے اور کیسے کیا جاتا ہے ؟*

📚نبی ﷺ کا فرمان ہے :
إذا خطبَ إليكم مَن ترضَونَ دينَه وخلقَه ، فزوِّجوهُ إلَّا تفعلوا تَكن فتنةٌ في الأرضِ وفسادٌ عريضٌ
ترجمہ:اگر تمہارے ہاں کوئی ایسا آدمی نکاح کا پیغام بھیجے جس کے دین اور اخلاق سے تم مطمئن ہو تو اس کے ساتھ (اپنی ولیہ) کی شادی کر دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو زمین میں بہت بڑا فتنہ اور فساد پھیلے گا۔
(سنن ترمذی:1084 صحیح حدیث)

*اس میں نکاح کا طریقہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ کوئی آدمی اپنی شادی کا پیغام کسی لڑکی کے والد/سرپرست کو دے کہ میں فلاں سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور لڑکی کے والد لڑکے میں دین واخلاق پائے تو اس سے لڑکی کی شادی کر دے یعنی لڑکی کا ولی لڑکے سے کہے کہ میں اپنی بیٹی کی شادی تم سے کرتا ہوں کیا تمہیں قبول ہے ، لڑکا کہے ہاں مجھے قبول ہے ۔ شادی ہوگئی*

یہی شادی کا اسلامی طریقہ ہے جس میں کسی محفل ، کوئی رسم و رواج اور کوئی تصنع کا ذکر نہیں ۔جو اس طریقہ یا اس طرح سے شادی نہیں کرتا تو اس سےفتنہ پھیلتا ہے ۔
آج زمین پر فتنہ و فساد کی کثرت اس سبب سے بھی ہےکہ شادی میں ہم نےسنت کا دامن چھوڑ دیا اور غیروں کی روش اختیار کرلی حتی کہ آج فلمی ستاروں کو دیکھ دیکھ کر مسلمان لڑکے کافرہ سے یا مسلم لڑکیاں کافر لڑکوں سے شادی کر رہی ہیں ۔ العیاذ باللہ

حتیٰ کہ جو شادیاں مسلمانوں کی آپس میں ہوتی ہیں ان میں بھی ذات و برادری، رنگ ونسل، حسن وجمال ، دولت ومنصب، رسم و راوج ، ریا و نمود ، تکلف وتصنع اور بدعات ومنکرات کی آمیزش ہوتی ہیں جبکہ نبی ﷺ کے زمانے کی شادیاں بالکل سادہ اور عام ہوتی تھیں ۔ ایک طرف سے پیغام آیا دوسری طرف سے پیغام قبول کرکے شادی ہوگئی ۔ دیکھیں عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی شادی ۔ بخاری شریف کی روایت ہے ۔

📚 حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ رأى عبدَ الرحمنِ بنِ عوفٍ أثرَ صُفرةٍ، قال :ما هذا؟ . قال : إني تزوجت امرأةً على وزنِ نواةٍ من ذهبٍ، قال :بارك لك اللهُ، أولمْ ولو بشاةٍ .
ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف پر زردی کا نشان دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے مہر پر نکاح کیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے دعوت ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کی ہو ۔
(صحيح بخاری:5155)

اس شادی میں حضرت عبدالرحمن نے امام کائنات حضرت محمدﷺ تک کو نہیں بلایا جبکہ دونوں ایک ہی جگہ موجود ہیں ۔کتنی سادگی ہوگی اس شادی میں ؟

نبی ﷺ جنگ خیبر کے سفر پہ تھے مال غنیمت میں بنوقریظہ کے سردار کی بیٹی صفیہ آئیں ان سے نبی ﷺ کی شادی کا ذکر چند لفظوں میں دیکھیں،

📚حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أعتَقَ صفيَّةَ وتزوَّجَهَا وجعَلَ عِتْقَهَا صدَاقَهَا ، وأولمَ عليها بِحَيْسٍ,
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا اور ان کا ولیمہ ملیدہ سے کیا ۔
(صحیح بخاری -5169)

📚بخاری شریف میں ایک عورت کی شادی کا اس طرح ذکر کیا جسے نبی ﷺ نے منعقد کروائی ۔
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کرتی ہوں ۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہی ۔ اتنے میں ایک مرد نے کہا کہ اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت نہ ہو تو اس کا نکاح مجھ سے فرمادیں ۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس انہیں مہر میں دینے کے لئے کوئی چیز ہے ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس اس تہمد کے سوا اور کچھ نہیں: (تہمد ایک کپڑے کو کہتے جسے کمر پر لپیٹا جاتا ہے، جیسے دھوتی۔۔ اسے تہبند اور ازار بھی کہتے)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اپنا یہ تہمد اس کو دے دوگے تو تمہارے پاس پہننے کے لئے تہمد بھی نہیں رہے گا ۔ کوئی اور چیز تلاش کرلو ۔ اس مرد نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ کچھ تو تلاش کرو ، ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی ! اسے وہ بھی نہیں ملی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ۔ کیا تمہارے پاس کچھ قرآن مجید ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ! فلاں فلاں سورتیں ہیں ، ان سورتوں کا انہوں نے نام لیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ہم نے تیرا نکاح اس عورت سے ان سورتوں کے کے بدلے کیا جو تم کو یاد ہیں ۔
(صحيح بخاری:5135)

————&&&&———-

*نکاح سے متعلق تمام احادیث کا حلاصہ یہ ہے کہ بس ایجاب وقبول کا نام نکاح ہے ، نہ قاضی و امام کی ضرورت ، نہ تقریب کا انعقاد ، نہ بارات و جہیز کا تصور اور نہ ہی کسی قسم کے رسم و رواج کی ضرورت ہے۔ سطور ذیل میں اب اختصار سے نکاح پڑھانے کا ذکر کرتا ہوں تاکہ نکاح خواں کے لئے آسانی ہو اور مسنون طریقہ سے نکاح پڑھائے*

نکاح سے پہلے شادی کا پیغام آچکا ہوتا ہے اور طرفین سے منگنی یا کسی نشانی وغیرہ کے ذریعہ رضامندی کے ساتھ شادی کی بات پکی ہوچکی ہوتی ہے ۔ اب مسجد، مدرسہ یا کسی گھر پہ لڑکے والے جمع ہیں جہاں لڑکی کا ولی (اگر ولی حاضر نہ ہو تو اس کی رضامندی کے ساتھ کوئی وکیل) اور اس کے رشتہ دار بھی جمع ہیں ۔ نکاح کے ذریعہ لڑکا اورلڑکی کا عقد مسنون کیسے کیا جائے ؟

1- پہلی بات :
بارات کا رواج غلط ہے لیکن نکاح کے موقع پر کچھ لوگوں کا جمع ہونا مستحب ہے اس سے نکاح کا اعلان ہوجائے گا جس کا حکم نبی ﷺ نے دیا ہے ۔
📚أعلِنوا هذا النِّكاحَ واضرِبوا عليْهِ بالغربالِ
(ابن ماجه:1895) سند ضغیف ہے!
ترجمہ: اس نکاح کا اعلان کیا کرو اور اس موقع پر دَف بجایا کرو۔

٭یہ روائیت ضعیف ہے مگر شیخ البانی نے اس حدیث کا پہلا ٹکڑا ثابت مانا ہے۔ کیونکہ وہ دوسری احادیث سے ثابت ہے

جیسا کہ اس سے اگلی حدیث میں ہے؛

📚سنن ابن ماجہ
کتاب: نکاح کا بیان
باب: نکاح کی تشہیر
حدیث نمبر: 1896
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَلْجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الدُّفُّ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ.
ترجمہ:
محمد بن حاطب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے، اور اس کا اعلان کیا جائے،
تخریج دارالدعوہ:
( سنن الترمذی/النکاح ٦ (١٠٨٨)،
( سنن النسائی/النکاح ٧٢ (٣٣٧١)،
(تحفة الأشراف: ١١٢٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٨، ٤/٢٥٩) (حسن )

*وضاحت: تا کہ سب لوگوں کو خبر ہوجائے کہ یہاں نکاح ہوا ہے، اب علماء کا اختلاف ہے کہ سوائے دف کے اور آلات موسیقی بھی درست ہیں یا نہیں؟ جیسے طبلے ،سارنگی، وغیرہ بعضوں نے دف کے سوا دوسرے سارے آلات کو ناجائز رکھا ہے اور بعضوں نے شادی اور عید میں جائز رکھا ہے، اور وقتوں میں جائز نہیں رکھا)*
*(موسیقی کی شرعی حیثیت کی تفصیل کیلیے دیکھیے الفرقان اسلامک میسج سروس کے تحت سلسلہ نمبر، 302/ 303)*

2- دوسری بات :
اس وقت سماجی اور حکومتی سطح پہ نکاح نامہ کی بڑی سخت ضرورت بن گئی ہے اس لئے قاضی صاحب جنہیں نکاح پڑھانے کے لئے مدعو کیا گیا ہے انہیں چاہئے کہ نکاح نامہ اور دیگر کاغذی امور مکمل کرلیں ۔

3-تیسری بات :
نکاح سے پہلے حق مہر طے کرنا بہتر ہے اور اسے بھی لکھ لیا جائےتا کہ زوجین یا ان کے خاندان والوں میں بعد میں کوئی تنازع نہ ہو اور مہر طے کرنے کی دلیل ملتی ہے ،
اللہ کا فرمان ہے :
📚وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ(البقرة:237)
ترجمہ: اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا۔

4-چوتھی بات :
لڑکی کی طرف سے اس کے ولی کی رضامندی حاصل ہو اور وہ وہاں موجود ہو یا اس کی رضامندی سے اس کا کوئی وکیل موجود ہو کیونکہ بغیر ولی کے کوئی نکاح نہیں ہوگا ۔
📚نبی ﷺ کا فرمان ہے :
لا نِكاحَ إلَّا بوليٍّ
( ابن ماجہ :1881 صحیح)
ترجمہ: بغیر ولی کے نکاح نہیں ہے
الراوي: أبو موسى الأشعري وابن عباس وجابر بن عبدالله وأبو هريرة • الألباني، إرواء الغليل (١٨٣٩) • صحيح۔

اسی طرح یہ بھی

📚 فرمان رسول ہے :
أيُّما امرأةٍ نَكَحَت بغيرِ إذنِ مَواليها ، فنِكاحُها باطلٌ ، ثلاثَ مرَّاتٍ۔
(سنن ابوداؤد: 2083 صحیح)
ترجمہ: جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اس کا نکاح باطل ہے۔یہ بات آپ ﷺ نے تین بار کہی ۔

5- پانچویں بات :
نکاح ہوتے وقت دو عادل گواہ کی بھی ضرورت ہے جو اللہ کے اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے ۔
📚فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ (الطلاق:2)
ترجمہ: پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعدہ کے ساتھ اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں الگ کردو اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ کرلو۔

اس معنی کی کوئی صحیح مرفوع روایت نہیں ہے لیکں موقوفا صحیح ہے شیخ البانی نے حضرت عائشہ، حضرت ابوہریرہ، حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت ابوموسی اشعری اور حضرت حسن سے موقوفا صحیح کہا ہے ۔
📚لا نكاحَ إلا بوليٍّ و شاهدَينِ
(إرواء الغليل:1858)
ترجمہ: ولی اور دو گواہ کے بغیر نکاح نہیں ہوگا۔

*یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ ولی گواہ نہیں بن سکتا*

6-چھٹی بات :
مذکورہ بالا کام ہوجانے کے بعد اب قاضی کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرکے خطبہ مسنونہ جسے خطبہ الحاجہ کہا جاتا ہے وہ پڑھیں ۔ یاد رہے خطبہ الحاجہ پڑھنا ضروری نہیں ہےاس کے بغیر بھی صرف ایجاب وقبول سے نکاح منعقد ہوجائے گا تاہم اس کا پڑھنامستحب ہے ۔

📚 خطبہ الحاجہ کے الفاظ بتحقیق شیخ البانی رحمہ اللہ جو نبی ﷺ سے منقول ہیں وہ اس طرح ہیں :
إن الحمد لله نحمده ، و نستعينه ، ونستغفره ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ، ومن سيئات أعمالنا .من يهده الله فلا مضل له ، ومن يضلل فلا هادي له ، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له .وأ شهد أ ن محمداً عبدُه و رسولُه .يَاأَيها الذين آ مَنُوا اتقُوا اللهَ حَق تُقَا ته ولاتموتن إلا وأنتم مُسلمُون,يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَتَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيباً, يَا أ يها الذين آ منوا اتقوا الله وقولوا قَو لاً سَديداً يُصلح لَكُم أَ عما لكم وَ يَغفر لَكُم ذُ نُو بَكُم وَ مَن يُطع الله وَ رَسُولَهُ فَقَد فَازَ فَوزاً عَظيماً[ أ ما بعد ] (خطبة الحاجة للالباني)

7-ساتویں بات :
لوگوں کی کثرت ہو تو اما بعد کے بعد خطبہ میں مذکور تینوں آیات کی مختصر تشریح کر دی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے مگر خطبہ کے بعد تقریر و بیان کوضروری سمجھنا یا تقریر کرنے والے نکاح خواں کو بلانا تا کہ زوردار تقریر کرے سنت سے ایسی کوئی دلیل نہیں ملتی ۔ عہد رسول میں نکاح کے موقع پر تقریر کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے ، خطبہ میں اپنی جانب سے قرآنی آیات اور احادیث کا پڑھنا بھی نکاح خواں کی طرف سے زیادتی ہے جس کا ثبوت نہیں ہے۔

8-آٹھویں بات :
خطبہ مسنونہ پڑھنے کے بعد امام / قاضی صاحب(جنہیں لڑکی کے ولی نے اپنا وکیل بنایا ہے) کو چاہئے کہ وہ لڑکے سے کہے کہ میں اپنی وکالت میں فلاں بنت فلاں کا نکاح آپ سے کرتا ہوں کیا آپ کو قبول ہے ؟ تو لڑکا کہے کہ مجھے قبول ہے ۔ نکاح مکمل ہوگیا۔ ایجاب وقبول میں مہر کا ذکر ضروری نہیں ہے طے ہوجانا ہی کافی ہے۔

9- نویں بات :
بعض جگہوں پر قاضی صاحب لڑکی سے بھی رضامندی لینے جاتے ہیں اس کی ضرورت نہیں ہے ، لڑکی کی رضامندی اس کے ولی کو چاہئے جو کہ منگنی کے وقت ہی ہوچکی ہوتی ہے پھر لڑکی کی جانب سے اس کا ولی شادی کی رضامندی کا اظہار کرتا ہے ۔
ہاں اگر نکاح پڑھانے والے کو محسوس ہو کہ لڑکی راضی نہیں یا اس کا نکاح جبراً ہو رہا ہے یا مشکوک معاملہ لگے تو پھر اسے خود پردے سے لڑکی کی اجازت لینی چاہیے اسکے ولی کے سامنے! تا کہ بات کلئیر ہو جائے،

10-دسویں بات :
اور جو شروع میں نکاح کا فارم پر کیا گیا تھا اس پہ زوجین کے دستخط لے لئے جائیں ، لڑکی کے پاس اس کا ولی یا اس کا کوئی محرم جاکر دستخط کروائے ۔

*ہر نکاح خواں ، ولی ، دلہا اور دلہن کو چاہئے کہ وہ نکاح کے ارکان وشروط کو جانے بلکہ ہر مسلمان کو جاننے کی ضرورت ہے۔*

*نکاح کے دوارکان ہیں ۔*
(1)زوجین کا وجود اور ان دونوں کا آپس میں شادی جائز ہونا یعنی شادی میں رضاعت ، نسب ،عدت ،حمل وغیرہ کی کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
(2) ولی یا اس کے وکیل کی طرف سے ایجاب یعنی تعیین کے ساتھ فلاں کی شادی کرانے کا ذکر اور لڑکے کی جانب سے قبول کرناحاصل ہو ۔

*اورنکاح کی دو شرطیں بھی ہیں ۔*
1-ایک ولی کی اجازت و رضامندی
2ـ اور دوسری دو عادل گواہ کی موجود گی ہیں،
دو ارکان اور دو شرطیں پائی گئیں تو نکاح درست ہے ۔

نوٹ:
نکاح کے بعد اجتماعی صورت میں دعا کرنا ثابت نہیں ہے بلکہ انفرادی طور پر دلہا اور دلہن کو مبارکبادی دینا چاہئے ۔
📚سيدنا ابوہريرہ رضي اللہ عنہ سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم جب کسي کو اس کي شادي کي مبارک باد ديتے تو فرماتے «بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما في خير» اللہ تمہيں برکت دے ، تم پر اپني برکت فرمائے اور تم دونوں کو خير کے ساتھ اکٹھا رکھے۔
(سنن ابی داود:2130صحیح)

*اور دلہا کو چاہئے کہ لڑکی کی رخصتی کے بعد ولیمہ کرے ۔ولیمہ سے متعلق عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی شادی کی حدیث گزری جس میں نبی ﷺ نے کہا کہ ولیمہ کرو خواہ ایک بکری کیوں نہ ہو۔*
ـــــــــــــــــــــــــــ&ـــــــــــــــــــــ

نکاح سے متعلق مزیدچند باتوں کی وضاحت

(1) نکاح پڑھانے کے لئے کسی دوسری جگہ سے عالم یا قاضی بلانے کی ضرورت نہیں ہے لڑکی کا ولی لڑکا سے کہے میں فلانہ بنت فلاں کی شادی آپ سے کرتا ہوں اور لڑکا کہےمیں قبول کرتا ہوں ۔ شادی ہوگئی۔ گاؤں میں عالم موجود ہو تو ان سے نکاح پڑھالینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

(2) نکاح کے وقت لڑکا یا لڑکی سے کلمہ پڑھانا ، توبہ کرانا اور ایمان مجمل وایمان مفصل بیان کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے یہ دین میں نئی ایجاد ہے ۔

(3) عقد نکاح کے لئے عربی کلمات مثلا زوجت، نکحت، قبلت کے الفاظ کہنا ضروری قرار دینا غلط ہے کسی بھی زبان میں ایجاب وقبول ہوسکتا ہے ۔

(4) لازما تین دفعہ ایجاب وقبول کروانا ضروری نہیں ہے بلکہ ایک مرتبہ بھی کافی ہے ۔

(5) نکاح کے بعد چھوہارا تقسیم کرنا رسول اللہ یا اصحاب رسول اللہ کی سنت نہیں ہے یہ محض رسم ہے اسے ہٹانا بہتر ہے کیونکہ اس کی وجہ سے اکثرجگہوں پر تنازع ہوتا ہے ۔ بیہقی کی روایت : كان إذا زوَّج أو تزوَّج نثَر تمرًا. ( السلسلة الضعيفة:4198)
ترجمہ: جب نبی ﷺ شادی کرتے یا کراتے تو کھجور تقسیم کرتے ۔
اس روایت کو شیخ البانی نے موضوع کہا ہے۔

(6) نکاح ہونے کے بعد آنگن یا صحن میں دلہا اور اس کے خواص کو طلب کرنا اور اجنبی لڑکیوں کا ان سب سےہنسی مذاق ، چوری چماری، نازیبا کلام وحرکات ناجائز وحرام ہےاس کا گناہ وہاں موجود دیکھنے سننے اور مددکرنے والے تمام لوگوں کو ملے گا۔

(7)نکاح کے وقت حق مہر طے کرنا چاہیے اگر نکاح کے وقت مہر طے نہیں ہوا تو بھی نکاح صحیح ہے لیکن نکاح ہوجانے کے بعد مہر مثل واجب ہوجاتا ہے جو ادا کرنا لازم ہے!
(حق مہر کی مکمل تفصیل اور شرعی حیثیت کیلئے دیکھیں – سلسلہ نمبر -338)

(8) مسجد میں نکاح کو سنت قرار دینا صحیح نہیں ہے کیونکہ مسجد میں نکاح سے متعلق روایت ضعیف ہے ، نکاح مسجد، غیر مسجد کہیں بھی کرسکتے ہیں ۔

(9) صرف چار لوگوں کی موجود گی ولی ، لڑکا اور دو عادل گواہان سے شادی ہوجائے گی تاہم کچھ لوگ مزید جمع ہوجائیں تو اعلان نکاح ہوجائے گا مگر مروجہ بارات کا تصور اسلام میں نہیں ہے اس سے اجتناب کیا جائے۔

(10) اوپر بیان کئے نکاح کے ارکان وشرائط پائے جائیں تو ٹیلی فون پر بھی نکاح درست ہے مگر لڑکی کو بھگاکر ایک دوسرے کے گلے میں ہار ڈال دینے یا انگوٹھی پہنا دینے یا کورٹ میں رجسٹریشن کرا لینے یا پارک میں جھولہ چھاپ نکاح خواں سے نکاح پڑھوا لینے سے نکاح نہیں ہوگا جب تک کہ لڑکی کا ولی راضی نہ ہو۔
مآخذ- محدث فورم:
(از شیخ مقبول احمد سلفی حفظہ اللہ )

کچھ کمی بیشی ساتھ۔۔

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

*اس موضوع سے ملتے جلتے سوال جواب alfurqan.info پر دیکھ سکتے ہیں*

📒سوال-ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا کیا حکم ہے؟ کیا گھر سے بھاگ کر کورٹ میرج شرعی طور پر جائز ہے؟ نیز اگر کسی نے کورٹ میرج کر لی تو انکے لیے کیا حکم ہے؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر -4)

📒سوال_کیا اسلام پسند کی شادی کرنے سے منع کرتا ہے؟ قرآن و حدیث سے جواب دیں!
(دیکھیں سلسلہ نمبر -54)

📒سوال_ اگر کوئی عورت/مرد زنا کر لیں تو کیا ان دونوں کا آپس میں نکاح جائز ہو گا؟ اور اگر شادی کے بعد پتا چلے کہ میاں بیوی میں سے کسی ایک نے ماضی میں زنا کیا تھا تو انکے نکاح کا کیا حکم ہو گا؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر -106)

📒سوال_مروّجہ جہیز کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور کیا نبیﷺ نے حضرت فاطمہ(رض) کو جہیز دیا تھا؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر -210)

📒سوال_کیا کسی مسلمان مرد/عورت کا کسی کافر/مشرک سے نکاح کرنا جائز ہے؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر -212)

📒سوال_ نکاح متعہ کسے کہتے ہیں؟ اور نکاح متعہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا موجودہ وقت میں نکاح متعہ جائز ہے؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر -235)

📒سوال_نکاح شغار یعنی وٹہ سٹہ کسے کہتے ہیں؟ اگر نکاح شغار میں حق مہر مقرر ہو تو کیا پھر بھی وہ نکاح ناجائز کہلائے گا؟ نیز اگر کسی نے جان بوجھ کر یا لاعلمی میں وٹہ سٹہ کی شادی کر لی ہے،اور انکے بچے بھی ہو گئے ہیں تو اب انکے لیے کیا حکم ہے؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر -259)

📒سوال_میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پڑھی جس میں شادی کرنے کی نیت سے لڑکی کو دیکھنا جائز ہے، میرا سوال ہے کہ منگیتر کو دیکھنے اور چھونے کی حد کیا ہے؟ کیا مرد کے لیے اس کے بال یا مکمل سر دیکھنا جائز ہے ؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر -287)

📒سوال_ کیا نکاح کرنے سے تنگدستی دور ہو جاتی ہے؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر -289)

📒سوال-حق مہر کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور حق مہر کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ مقدار کتنی ہے؟ نیز مسنون حق مہر کی وضاحت کر دیں؟اور جو شخص حق مہر ادا کیے بغیر فوت ہو جائے تو اسکے لیے حکم ہے؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر -338)

📒سوال_کیا نکاح کے بعد کھجوروں کی تقسیم سنت سے ثابت ہے؟ یا پھر یہ بھی ہندوانہ رسم ہے؟ برائے مہربانی قرآن و حدیث سے رہنمائی فرمائیں!
(دیکھیں سلسلہ نمبر -357)

ــــــــــــــــ-ـــــــــــــــــ-ـــــــــــــــــــــــــ-ـــــــــــــــــ

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں