320

سوال_تاریخی معلومات مرتب اور مسخ کیسے ہوتی ہیں اور انکی تحقیق کا عمومی طریقہ کیا ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-88”
سوال_تاریخی معلومات مرتب اور مسخ کیسے ہوتی ہیں اور انکی تحقیق کا عمومی طریقہ کیا ہے؟

Published Date:28-9-2018

جواب..!!
الحمدللہ.!!

*قارئین کرام سے گزارش ہے کہ آپ اس مضمون کو لمبا یا غیر ضروری سمجھ کر ہرگز نظر انداز نا کریں،کیونکہ اسلامی تاریخ کو پڑھنے سے پہلے ہمیں ان چند باتوں کے بارے جاننا ضروری ہے، اگر ان بنیادی باتوں کا علم نا ہوا تو ہمیں تاریخی واقعات اور انکی جانچ پڑتال کی سمجھ نہیں آئیگی، پلیز اس سلسلے کو غور سے پڑھیں اور سمجھیں،*

اور اس سلسلے کے اختتام پر ہم اس قابل ہوں گے کہ تاریخی معلومات کو جانچنے اور پرکھنے کے عمومی طریق کار سے واقف ہوں، ان شاءاللہ!!!

⁦✏️⁩اس سلسلے میں ہم فن تاریخ کے بنیادی مباحث کا مطالعہ کریں گے تاکہ اس فن کے بارے میں یہ جان سکیں کہ تاریخی معلومات کیسے حاصل کی جاتی ہیں؟ انہیں مرتب کیسے کیا جاتا ہے؟ عہد صحابہ سے متعلق تاریخی معلومات کس شکل میں دستیاب ہیں؟ کیا یہ معلومات ہم تک درست شکل میں پہنچی ہیں؟ فن تاریخ میں ایسے کون سے طریقہ کار موجود ہیں جن کی مدد سے ان معلومات کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے اور انکی صحت ( Authenticity) کا جائزہ لیا جا سکتا ہے؟

*تاریخی معلومات کیسے مرتب کی جاتی ہیں؟*

تاریخی معلومات، خواہ ان کا تعلق کسی بھی زمانے سے ہو، کو مرتب کرنے کا ایک پراسیس ہوتا ہے جس میں متعدد مرحلوں سے گزر کر یہ معلومات بعد کی نسلوں تک پہنچتی ہیں۔ وہ مرحلے یہ ہیں:

*پہلا مرحلہ:*
واقعہ رونما ہونا اور عینی شہادت

جب کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، تو اس کے کچھ عینی شاہدین ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس واقعے کی تفصیلات کو نوٹ کرتے ہیں اور پھر اسے آگے بیان کر دیتے ہیں۔ اگر کسی واقعے کو عینی شاہدین میسر نہ آ سکیں تو اس کی تفصیلات بالعموم مخفی رہتی ہیں۔ عینی شاہدین اگر موجود ہوں تو وہ اپنے اپنے رجحان، دلچسپی اور افتاد طبع کے لحاظ سے معلومات کو مرتب کرتے ہیں۔ انسان کی یہ نفسیات ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی واقعے کے ہر پہلو کو جزوی تفصیلات کی حد تک یاد نہیں رکھتا بلکہ اس کی یہ فطرت ہے کہ وہ کسی بھی واقعے کو اپنے خیالات، نظریات، دلچسپیوں اور تعصبات کی عینک سے دیکھتا ہے۔

مثلاً اگر کسی جگہ کوئی قتل کا واقعہ ہو جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گواہ تو پوری تفصیل سے قاتل کا حلیہ بتا دیتا ہے لیکن اس کے قتل کرنے کے انداز کو زیادہ تفصیل سے بیان نہیں کر پاتا کیونکہ اس طریقے میں اس کی دلچسپی نہیں ہوتی اور وہ اسے مناسب حد تک نوٹ نہیں کر پا سکا ہوتا ۔

اس کے برعکس دوسرا گواہ قاتل کے حلیے کو تو زیادہ تفصیل سے نوٹ نہیں کرتا لیکن قتل کرنے کے انداز کو بڑے واضح انداز میں بیان کر دیتا ہے کیونکہ اس کی دلچسپی اسی میں ہوتی ہے۔

اسی طریقے سے اگر اس واقعے کو کوئی ایسا شخص بھی دیکھ رہا ہو جواسلحے میں بڑی دلچسپی رکھتا ہو تو وہ باقی چیزوں کی نسبت آلہ قتل کی جزئیات کو بڑی تفصیل سے بیان کر دیتا ہے۔ ایسا بھی ممکن ہوتا ہے کہ کسی شخص نے قاتل کو پہچان لیا ہو لیکن وہ کسی ذاتی مفاد یا خوف کی وجہ سے اس کے بارے میں غلط معلومات فراہم کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی واقعے کو بیان کرنے والوں میں تفصیلات کے بارے میں کچھ نہ کچھ اختلاف رونما ہو ہی جاتا ہے۔ اس طرح سے تاریخی معلومات کو مرتب کرنے کا پہلا مرحلہ طے پاتا ہے۔ یہ مرحلہ بالعموم واقعے کے فوراً بعد مکمل ہو جاتا ہے اور اس میں زیادہ سے زیادہ چند دن ہی لگتے ہیں۔

چنانچہ ہم اپنے زمانے میں دیکھتے ہیں کہ کوئی اہم واقعہ رونما ہوتے ہی مقامی صحافی اور پولیس موقع پر پہنچ جاتے ہیں اور اس کا ریکارڈ مرتب کر لیا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کر لیے جاتے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے علاوہ اخبارات میں اس کی رپورٹس شائع ہو جاتی ہیں۔

*دوسرا مرحلہ:*
معلومات کو یکجا کرنا

دوسرے مرحلے میں عینی شاہدین سے معلومات کو اکٹھا کر کے ایک جگہ درج کیا جاتا ہے۔ مختلف عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کیے جاتے ہیں اور ان تمام معلومات کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اگر معلومات کو درست طور پر مرتب کرنے کی کوشش کی جائے تو ایسا کرنے والا یہ کوشش کرے گا کہ جتنے زیادہ عینی شاہدین مل سکیں، ان سے معلومات اکٹھی کر لی جائیں۔ اگر کسی واقعے کو بہت سے لوگوں نے دیکھا ہے، تو اس میں قدرتی طور پر عینی شاہدین بہت زیادہ ہو نے چاہییں۔
اگر کوئی واقعہ کسی بند جگہ پر پیش آیا ہے اور موقع پر عینی شاہدین موجود نہیں ہیں، تو اس کے بارے میں بالعموم التباس پیدا ہو جاتا ہے۔ عام واقعات کو تو نظر انداز کر دیا جاتا ہے لیکن اگر کوئی جرم ہوا ہو یا تاریخی نوعیت کا اہم واقعہ ہو تو اس کی باقاعدہ تفتیش کی جاتی ہے اور مختلف طرز کے ثبوت اکٹھے کیے جاتے ہیں۔

*تیسرا مرحلہ:*
تصویر کا مکمل کرنا

جب ممکنہ حد تک معلومات کو اکٹھا کر لیا جاتا ہے تو پھر ان کی مدد سے واقعے کی تصویر کو مکمل کیا جاتا ہے، کڑیو ں سے کڑیاں جوڑی جاتی ہیں اور یہ کوشش کی جاتی ہے کہ واقعے کی حقیقی صورت سامنے آ جائے۔ یہ عمل بالکل
جگسا پزل (JigsawPuzzle)
سےمشابہت رکھتا ہے۔ جیسے جگ سا پزل میں تصویر کے مختلف کٹے ہوئے حصے ہوتے ہیں اور انہیں جوڑ کر ایک تصویر بنانا ہوتی ہے، بالکل ویسے ہی عینی شاہدین کے بیانات کو سن کر تصویر بنائی جاتی ہے۔ البتہ اس معاملے میں مختلف پہلو یہ ہے کہ یہاں ایک سے زائد تصاویر بننے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ اگر عینی شاہدین کے بیانات میں تضاد پایا جائے یا پھر دیگر شواہد کچھ مختلف بات پیش کرے تو یہ بات ممکن ہوتی ہے کہ واقعے کی ایک سے زائد تصاویر سامنے آئیں۔

یہ بالکل بصری التباس کی طرح ہوتا ہے، جس میں ایک ہی تصویر میں مختلف زاویہ نظر سے ایک سے زائد تصاویر نظر آتی ہیں۔ ایسا ہی ایک التباس نیچے کی تصویر میں دیا گیا ہے۔

(اسی پوسٹ کے پہلے کمنٹ میں تصوہر دیکھیں ، تصویر اگر آپکو اس میسج کے ساتھ نہیں ملی تو کوئی بھی تصویر ایسی گوگل سے دیکھ سکتے ہیں جس پر غور کرنے سے وہ ایک تصویر ایک سے زیادہ شکلوں کی صورت اختیار کر جاتی ہے، یعنی جس طرح آسمان پر چمکتے ستاروں کو ہر شخص اپنی مرضی سے شکل کبھی دائرہ اور کبھی تکون کی شکل دے دیتا ہے،)

اس تصویر کو آپ غور سے دیکھیں کالے حصے کو دیکھ کر کوئی پان کھانے والا شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ اگال دان کی تصویر ہے،
جبکہ اسی کالے حصے پر غور کرنے سے دوسرا یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ دو آدمیوں کی تصویر ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص اسے شراب کا جام قرار دے دے،

اس تصویر کے بارے اپنی رائے قائم کرنے کا انحصار ہر شخص کے طرز فکر، سماجی بیک گراؤنڈ اور ذہنی ساخت پر ہے۔

بالکل اسی طرح تاریخی راویات کی بنیاد پر حاصل ہونے والی معلومات سے ایک شخص اپنے طرز فکر، سماجی بیک گراؤنڈ اور ذہنی ساخت کے لحاظ سے ایک تصویر بنائے گا اور دوسرا شخص دوسری تصویر بنائے گا،

مثال کے طور پر ہمارے زمانے میں اہم واقعات کی ایک سے زائد توجیہات موجود رہتی ہیں۔ جیسے نائن الیون کے واقعے کے بارے میں بہت سے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ یہ امریکہ اور یہودیوں کی سازش تھی۔ اس کے برعکس امریکیوں کا موقف یہ ہے کہ اس کی ذمہ دار القاعدہ تھی۔ ایسا ہی اختلاف دنیا کے ہر اہم واقعے کے بارے میں موجود رہتا ہے۔

*چوتھا مرحلہ:*
واقعات کے تسلسل کو تاریخ کی شکل میں مرتب کرنا

جب واقعات کو مرتب کر لیا جاتا ہے تو پھر اگلا مرحلہ ان واقعات کے تسلسل اور ان کے باہمی تعلق کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ کام مورخین کرتے ہیں اور اس کے لیے کتابیں لکھتے ہیں۔ اس طرح سے تاریخ ایک مسلسل عمل کی شکل میں ہمیں نظر آتی ہے۔ مورخ کے ذاتی رجحانات اور تعصبات اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر اورنگ زیب عالمگیر کی اپنے بھائیوں سے جو جنگیں ہوئیں اور ان کے نتیجے میں وہ سب مارے گئے۔ سیکولر قسم کے مورخین اس پر عالمگیر کے بارے میں طعنہ زنی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’اورنگ زیب نے کبھی نماز نہیں چھوڑی اور نہ ہی اپنا کوئی بھائی۔‘‘ اس کے برعکس مذہبی مورخین عالمگیر کو پسند کرتے ہیں اور ان جنگوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بقا کی جنگ تھی۔ اگر اورنگ زیب اپنے بھائیوں کو قتل نہ کرتا تو وہ اسے قتل کر دیتے۔

اسی طرح تاریخ پاکستان کے مختلف واقعات جیسے قیام پاکستان، 1965 اور 1971 کی جنگیں، قیام بنگلہ دیش، افغان سوویت جنگ، نائن الیون، طالبان امریکہ جنگ اور اسی نوعیت کے دیگر واقعات سے متعلق مختلف مورخین اپنے اپنے تعصبات اور جھکاؤ کے مطابق تاریخی واقعات کو بیان کرتے نظر آتے ہیں۔

*تاریخی معلومات کی ترتیب و تدوین میں دور جدید اور زمانہ قدیم کے طریق ہائے کار کا موازنہ*

ہمارے زمانے کے اہم واقعات کی صورت میں عینی شہادت ، آثار و شواہد اور گواہیوں کو یکجا کرنے کا مرحلہ عام طور پر صحافی انجام دیتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اخباری رپورٹرز اور نیوز چینلز کے نمائندے وہاں پہنچ جاتے ہیں اور اس واقعے کو تحریری رپورٹ یا ویڈیو کی شکل میں ریکارڈ کر لیتے ہیں۔ جرم کی صورت میں یہ کام پولیس کرتی ہے اور وہی صحافیوں کو معلومات فراہم کرتی ہے۔ اس کے بعد تصویر کو مکمل کرنے کا عمل ہوتا ہے۔ یہ کام عام طور پر تجزیہ نگار کرتے ہیں۔ مختلف اخباروں اور ٹی وی چینلز کے تجزیہ نگاروں بھاری معاوضے پر یہ خدمت انجام دیتے ہیں۔ جو واقعہ جتنا اہم ہوتا ہے، اسے اتنی ہی زیادہ کوریج ملتی ہے۔ کم اہم واقعات کو زیادہ کوریج نہیں مل پاتی ہے۔ ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ تجزیہ نگاروں کے درمیان بہت سے واقعات کی تصویر کو مکمل کرنے میں اختلاف رائے پیدا ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد تاریخ کو مدون کرنے کا مرحلہ آتا ہے جو کہ مورخین انجام دیتے ہیں۔
عام طور پر مورخین کا کام واقعے کے کافی عرصہ بعد ہوتا ہے۔ روزانہ بنیادوں پر واقعات کی ریکارڈنگ اور تجزیہ نگاری کا کام تو واقعے کے چند دن کے اندر اندر ہو جاتا ہے لیکن مورخین اپنا کام کافی عرصہ بعد کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر مشہور سیاستدانوں جیسے بھٹو، ضیاء الحق اور بے نظیر بھٹو کے قتل کے واقعات (بالترتیب 1979, 1988, 2007) کو لیجیے۔ ان واقعات کی رپورٹنگ کا کام فوری طور پر کیا گیا۔ اب تک تجزیہ نگار، ان پر لکھتے چلے آ رہے ہیں۔ مگر مورخین نے اپنا کام کافی بعد میں شروع کیا۔ مثلاً تاریخ کی جو کتابیں 1990 کے عشرے میں لکھی گئیں، ان میں بھٹو کے قتل کی تفصیلات موجود ہیں۔ اسی طرح 2000 کے عشرے میں لکھی جانے والی کتب میں ہمیں ضیاء الحق کے قتل کا ذکر ملتا ہے۔ اور تقریباً (2012) تک بے نظیر بھٹو کے قتل کے واقعے پر مبنی تاریخ کی کوئی کتاب ہماری نظر سے نہیں گزری،
یعنی پتا چلا کہ کسی بھی واقع کو مؤرخ کئی سالوں بعد اپنی کتاب میں درج کرتے ہیں،

پہلے زمانوں میں یہ سارا کام اس درجے کی تفصیل اور نفاست (Sophistication) سے انجام نہیں دیا جاتا تھا کیونکہ اس زمانے میں نہ تو اخبارات تھے اور نہ ٹی وی چینل، نہ کمپیوٹر تھا اور نہ کیمرہ، نہ صحافیوں کا کوئی الگ طبقہ تھا اور نہ ہی معلومات کو ریکارڈ کرنے کا کوئی انتظام۔ عہد صحابہ میں تو کیفیت یہ تھی کہ کاغذ بھی آسانی سے دستیاب نہ ہوتا تھا بلکہ اسے دور دراز ممالک سے امپورٹ کرنا پڑتا تھا، اس وجہ سے کاغذ نایاب اور مہنگا تھا۔ ان وجوہات کی بنیاد پر لوگ تاریخی واقعات کو اپنے ذہنوں میں محفوظ رکھا کرتے تھے۔

قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے بارے میں البتہ اتنا اہتمام کر لیا گیا کہ انہیں لکھا جانے لگا۔ دوسری اور تیسری صدی ہجری میں جب کاغذ عام ہوا تو علم کے پورے ذخیرے کو کتابوں کی صورت میں مدون کر لیا گیا۔

عہد صحابہ کے واقعات پہلی صدی ہجری میں وقوع پذیر ہوئے تھے۔ جو لوگ ان واقعات کے عینی شاہد تھے، ان میں سے بعض نے انہیں اگلی نسل کے سامنے بیان کیا، اس اگلی نسل نے اپنے سے اگلی نسل اور اس نے اپنے سے اگلی نسل کے سامنے یہ واقعات بیان کیے۔ ایسا کم ہی ہوا کہ کسی بیان کرنے والے نے پورے واقعے کو مکمل تفصیلات کے ساتھ بیان کیا ہو بلکہ کسی نے مختصراً بات بیان کی اور کسی نے کچھ تفصیل سے۔ اس طرح سے یہ واقعات بیان کرنے والوں کے “بیانات” کی صورت میں مرتب ہوئے۔ ان بیانات کو اصطلاح میں “روایت” کہا جاتا ہے اور بیان کرنے والے کو “راوی” کہا جاتا ہے۔ عالم اسلام میں یہ رواج عام ہو گیا کہ ہر روایت کو بیان کرتے ہوئے اس کے راویوں کی پوری سند (Trail) کو بیان کر دیا جائے۔

مثلاً ایک راوی احمد نے زید سے بات سنی، اس زید نے عمرو سے سنی، عمرو نے خالد سے سنی تو احمد اس روایت کو بیان کرنے سے پہلے یہ کہے گا: “زید نے ہم سے یہ روایت بیان کی، انہوں (زید)نے کہا کہ ان سے عمرو نے یہ بیان کیا اور عمرو نے کہا کہ میں نے خالد سے یہ بات سنی۔” اس کے بعد وہ اصل روایت کو بیان کرے گا۔

یہ سب کام زبانی ہو رہا تھا یا زیادہ سے زیادہ اتنا تھا کہ کسی نے اپنی ذاتی ڈائری پر یہ واقعات لکھ رکھے تھے۔ سو برس اسی طرح گزر گئے اور دوسری صدی ہجری میں کاغذ کا وہ انقلاب آ گیا جس کی تفصیلات ہم آگے بیان کریں گے۔ دیگر علوم کی طرح علم تاریخ پر کتابیں لکھنے کا بھی آغاز ہوا۔

اس زمانے میں بعض ایسے مورخین پیدا ہوئے جنہوں نے تاریخی روایات کو اکٹھا کرنے پر غیر معمولی محنت سے کام کیا اور عالم اسلام کا سفر کر کے جس جس کے پاس جو جو روایتیں موجود تھیں، انہیں اکٹھا کیا۔ یہ لوگ “اخباری” کہلاتے تھے کیونکہ ان کا کام خبروں اور واقعات کو اکٹھا کرنا تھا۔

ان مؤرخین میں خاص کر

محمد بن اسحاق
(151ہجری/768عیسویں)

محمد بن عمر الواقدی
(ہجری207 / عیسویں822)

سیف بن عمر التیمی
(ہجری 185/عیسویں800)

ابو مخنف لوط بن یحیی
(ہجری 170/ عیسویں786)

محمد بن سائب الکلبی
(ہجری 185/ عیسویں800)

اور محمد بن سائب الکلبی کے بیٹے ہشام بن محمد الکلبی
(ہجری 204/عیسیوں 819)

ان تمام مؤرخین کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔

یہ وہی زمانہ تھا جب ماہرین حدیث (جنہیں محدثین کہا جاتا ہے) بھی اسی انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مرتب کر رہے تھے۔
یہ احادیث بھی اسی طرح روایات کی شکل میں موجود تھیں۔ ان محدثین نے احادیث نبوی کو مرتب کرنے میں غیر معمولی احتیاط سے کام لیا جبکہ اخباریوں کے طبقے نے اس درجے کی احتیاط کو ملحوظ خاطر نہ رکھا جس کی وجہ سے تاریخی روایات میں اعلی درجے کا معیار برقرار نہ رہ سکا۔ اس کی تفصیل کو ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔

*تاریخی معلومات کیسے مسخ ہو جاتی ہیں؟*

آپ نے دور جدید اور عہد قدیم تاریخی معلومات کے مرتب کرنے کے پراسیس کا جو مطالعہ کیا ہے، اس کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ یہ بات جان سکتے ہیں کہ اس پورے پراسیس میں بہت سے ایسے خلا موجود ہیں ، جن کی مدد سے تاریخی معلومات مسخ ہو سکتی ہیں۔ یہ کام غیر ارادی طور پر ہوتا ہے اور ارادی طور پر بھی۔ ہم ان دونوں امور کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔

*غیر ارادی طور پر تاریخی معلومات کا مسخ ہو جانا*

آپ نے وہ کھیل تو دیکھا ہو گا جس میں شریک ایک شخص کے کان میں کوئی بات کہی جاتی ہے، وہ یہ دوسرے کے کان میں بیان کرتا ہے اور وہ تیسرے کے، لیکن جب یہ بات آخری شخص بیان کرتا ہے تو بات بالکل تبدیل ہو چکی ہوتی ہے۔ جو واقعات تو ایسے ہوں کہ انہیں ہزاروں افراد نے دیکھا ہو، وہ بالکل ٹھیک ٹھیک اگلی نسلوں تک منتقل ہو جاتے ہیں لیکن جن واقعات کے گواہ ایک دو افراد ہی ہوں، ان کی صحیح تصویر اگلی نسلوں تک منتقل نہیں ہو پاتی ہے۔ اس کی وضاحت ہم ایک مثال سے کرتے ہیں۔ جیسے کوئی جنگ ہوئی۔ ظاہر ہے کہ اس میں ہزاروں افراد شریک ہوں گے، جن میں سے اگر آٹھ دس بھی اس جنگ کے واقعہ ہونے کو بیان کر دیں تو بعد کے دور کے مورخین کے لیے تاریخ لکھنے کا کافی مستند مواد دستیاب ہو جائے گا۔ مورخ کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ وہ ان صاحبان کے بیانات کا ایک دوسرے سے موازنہ کر کے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ لیکن اس جنگ کے آغاز میں کسی کمانڈر نے اپنے تین قریبی ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر کیا خفیہ پلاننگ کی؟
یہ وہ بات ہے کہ جس تک رسائی بہت ہی مشکل کام ہے۔ ہماری انفارمیشن ایج میں بھی شاید کوئی صحافی یا مورخ اس کی صحیح تفصیلات بیان نہ کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے بڑے بڑے واقعات کے بارے میں تو مورخین میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہوتا ہے لیکن جزوی تفصیلات کے بارے میں ان کے ہاں اکثر اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔

جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے، واقعہ کی تصویر پر گرد پڑتی چلی جاتی ہے اور اس کے بارے میں تحقیق و تفتیش مشکل ہوتی چلی جاتی ہے۔ فرض کیجیے کہ اب سے سو سال بعد ایک مورخ ہمارے زمانے کی تاریخ لکھنا چاہتا ہے۔ اہم واقعات کی رپورٹنگ کا کام ہمارے زمانے کے صحافی کر رہے ہیں اورتجزیہ نگار ان کی تصویر مکمل کرتے جا رہے ہیں۔ سو سال بعد کا مورخ جب ہمارے زمانے کی تاریخ لکھے گا تو اس کے لیے یہ ممکن نہ ہو گا کہ وہ واقعات کی از سر نو چھان بین کرے کیونکہ اس وقت تک واقعے کے گواہوں میں شاید ہی کوئی زندہ بچا ہو ۔ دیگر قرائن و آثار بھی ضائع ہو چکے ہوں گے ۔ مورخ کے لیے صرف اور صرف صحافیوں اورتجزیہ نگاروں کا کیا ہوا کام باقی بچے گا۔ اگر اخبارات اور نیوز چینلز نے اپنے آرکائیوز میں پرانے اخبارات اور خبروں کی ویڈیوز سنبھال کر رکھی ہوں گی تو شاید یہ مورخ کو دستیاب ہو جائیں ورنہ صرف تجزیہ نگاروں کا کام ہی اس مورخ کو مل سکے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تجزیہ نگاروں کی تحریریں یا ویڈیوز اس مورخ کو نہ مل سکیں اور اسے دیگر وسائل جیسے سابقہ مورخین کے کام ہی پر اکتفا کرنا پڑے۔

اس مثال کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ دور جدید کے مورخین کے لیے بھی تاریخ کی تصویر پر پڑی گرد ہٹانا ایک مشکل کام ہے۔ ہمارے پڑوس میں رات کے وقت تنہائی میں کسی کو قتل کر دیا جائے تو بھی ہمارے لیے یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ تمام تر وسائل رکھتے ہوئے ہم صحیح مجرم تک پہنچ جائیں، کجا یہ کہ سینکڑوں برس پہلے کے کسی قتل یا اور واقعے سے متعلق ہم صحیح مجرم تک پہنچ سکیں جب نہ اخبارات تھے اور نہ صحافی، نہ نیوز چینل تھے اور نہ ہی تجزیہ نگار اور کمپیوٹر یا پریس تو بہت دور کی بات، کاغذ بھی پوری طرح دستیاب نہ تھا۔ آج کے اس دور میں جب کمیونیکیشن کا انقلاب آ چکا ہے اور وسائل نقل و حمل اس درجے میں ایجاد ہو چکے ہیں کہ چند گھنٹوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے کا سفر ممکن ہے، ہم یہ دعوی نہیں کر سکتے ہیں کہ ہر ہر بات بالکل صحیح طریقے پر ریکارڈ ہو رہی ہے اور بالکل ٹھیک ٹھیک اگلی نسلوں تک منتقل ہو رہی ہے۔پھر یہ دعوی پرانے زمانے کے بارے میں کرنا کیسے ممکن ہے؟

بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ محض غلط فہمی کی وجہ سے بات صحیح طور پر منتقل نہیں ہو پاتی۔ ایک شخص اس واقعے یا بات کو صحیح سمجھ نہیں سکا اور اپنی ناقص فہم کو اس نے آگے منتقل کر دیا۔ بعد میں یہ بات کتب تاریخ کا حصہ بن گئی۔

*جان بوجھ کر تاریخی معلومات کا مسخ کیا جانا*

اوپر دی گئی تفصیلات سے ہم یہ جان چکے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محض غلط فہمی یا لاپرواہی یا معلومات کی کمی کے باعث تاریخی معلومات صحیح طور پر اگلی نسلوں کو منتقل نہیں ہوتیں۔ اس عمل میں اس وقت زیادہ شدت پیدا ہو جاتی ہے جب کوئی شخص یا گروہ اپنے شخصی یا گروہی مفادات کے تحت جان بوجھ کر تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرے۔سیاسی معاملات میں چونکہ لوگ اقتدار کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہوتے ہیں، اس وجہ سے وہ تاریخ کو بھی محض اپنا ہتھیار ہی سمجھتے ہیں اور اسے مسخ کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ پہلی اور دوسری صدی ہجری میں متعدد سیاسی جماعتیں وجود پذیر ہو چکی تھیں۔ ان میں سے ہر ایک کی خواہش یہ تھی کہ اقتدار اسے نصیب ہو۔ اس دور کی سیاسی جماعتوں کو ہم اپنے دور کی پارٹیوں پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ اس زمانے میں جو بھی اقتدار کا خواہش مند ہوتا ، اس کے لیے ایک ہی راستہ تھا کہ وہ بغاوت برپا کرے اور لڑ جھگڑ کر اقتدار حاصل کر لے۔ ہر پارٹی کی کوشش یہ تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ عوامی حمایت حاصل کر لے تاکہ اسے سیاسی کارکن دستیاب ہو سکیں۔ اس کے لیے ہر پارٹی نے اپنے مقاصد کے حصول کے پراپیگنڈا کا ہتھیار استعمال کیا۔ ہٹلر کے قریبی ساتھی اور اس کی پراپیگنڈا مشینری کے انچارچ گوئبلز کا یہ قول بہت مشہور ہے کہ جھوٹ کو اتنی مرتبہ بولو کہ لوگ اسے سچ مان لیں۔
پراپیگنڈا گوئبلز کی ایجاد نہیں ہے بلکہ ہزاروں برس سے لوگ اسی قول پر عمل کرتے آئے ہیں جن میں مسلمانوں کی پہلی دو صدیوں کی سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہیں۔

دوسری صدی ہجری میں جن لوگوں میں تاریخ دانی کا شوق پیدا ہوا، وہ بالعموم انہی میں سے کسی ایک پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے سیاسی تعصبات کے مطابق سچی جھوٹی ہر قسم کی روایات اکٹھی کیں اور ان پر کتابیں لکھیں۔ ان متعصب مورخین کو اس سے غرض نہ تھی کہ بات مستند ہے یا نہیں، انہیں تو بس اپنی (پزل والی) تصویر مکمل کرنا تھی اور اس کے لیے انہیں جو بھی رطب و یابس ملا، قبول کر کے انہوں نے اپنے ذہن کے مطابق تصویر مکمل کرنے کی کوشش کی۔ بعد میں جب تاریخ طبری اور دیگر کتب لکھی گئیں، تو یہی سچی جھوٹی روایتیں ان کا حصہ بھی بن گئیں۔ اس کے بعد ہر ہر گروہ اپنے اپنے نظریات کے مطابق جب تاریخ کی کوئی تصویر بنانا چاہتا ہے تو اسے اس کا پورا مصالحہ انہی تاریخی کتب سے مل جاتا ہے۔

🌷تاریخ سے متعلق یہ تمام حقائق ہم اپنے پاس سے بیان نہیں کر رہے ہیں بلکہ علم التاریخ کے بانی ابن خلدون (732-808/1332-1405)نے بھی یہی بات کہی ہے۔ اپنے شہرہ آفاق مقدمہ تاریخ میں لکھتے ہیں:
چونکہ خبر میں جھوٹ اور سچ کا امکان ہوتا ہے، اس لیے تاریخ میں بھی جھوٹ اور سچ اور غلطی کااحتمال رہتا ہے۔ تاریخ میں غلطیوں کے کئی اسباب ہوتے ہیں:

*پہلا سبب اختلاف آراء و نقطہ ہائے نظر ہے*

جب کسی کا ذہن راہ اعتدال پر ہوتا ہے،
اور وہ کوئی بات سنتا ہے تو اس کی تحقیق کرتا ہے اور اس میں غور و فکر کرتا ہے یہاں تک کہ اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ خبر سچی ہے یا جھوٹی۔
لیکن جب کسی کا ذہن کسی ایک رائے یا نقطہ نظر میں ڈوبا ہوتا ہے تو وہ فوراً اس خبر کو درست مان لیتا ہے جو اس کی رائے یا نقطہ نظر کے موافق ہو کیونکہ اس کی بصیرت پر تعصب و محبت کی پٹی بندھی ہوتی ہے جو اسے تحقیق و تنقید سے روک دیتی ہے۔ اب وہ جھوٹی خبر قبول کر کے غلطی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس جھوٹی خبر کو بلا تامل آگے نقل کر دیتا ہے۔

*دوسرا سبب نقل کرنے والوں پر اندھا بھروسہ ہے*
کہ کسی واقع کو بیان کرنے والے کے خیال میں وہ دوسرے اشخاص قابل اعتماد ہیں اور غلط بیانی ان کے شایان شان نہیں ہے۔ اس وجہ سے وہ جرح و تعدیل کے اصول پر ان کے احوال کی جانچ پڑتال نہیں کرتا ہے۔اور بغیر تحقیق کے انکی بات کو نقل کر دیتا،

*تیسرا سبب مقصد سے لاپرواہی ہے۔*

بہت سے راوی اپنی مشاہدہ کی ہوئی یا سنی ہوئی خبروں کے اغراض و مقاصد سے آگاہ نہیں ہوتے ہیں۔ وہ محض اپنے گمان اور اٹکل پچو کی بنیاد پر روایت کر دیتے ہیں۔ اس لیے وہ غلطی کا شکار ہو جاتی ہیں۔

*چوتھا سبب کسی خبر کے بارے میں سچا ہونے کا وہم ہے۔*

یہ کئی طرح سے پیدا ہوتا ہے۔ زیادہ تر اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ راویوں پر اعتماد کر لیا جاتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خبروں کو (اس دور کے) دیگر خارجی واقعات سے میچ نہیں کیا جاتا ہے تاکہ اس خبر اور دیگر واقعات میں مطابقت پیدا ہو جائے۔ اس تطبیق سے عدم واقفیت کے باعث جعلی اور من گھڑت باتوں کو بھی فروغ حاصل ہو جاتا ہے اور صحیح و غلط کی تمیز نہیں رہتی ہے۔ سننے والا خبر کو جوں کا توں نقل کر دیتا ہے حالانکہ وہ جعلی ہونے کے سبب سچائی سے کوسوں دور ہوتی ہیں۔

*پانچواں سبب معزز اور بڑے لوگوں کی خوشامد کر کے انہیں خوش کرنا اور ان کا قرب حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے۔*

اکثر خوشامدی لوگ بڑے لوگوں کی ہر بات خوبصورت رنگ میں رنگ کر اسے پھیلا دیتے ہیں اور س طرح وہ جھوٹی خبریں دنیا میں پھیل جاتی ہیں کیونکہ انسان کو فطری طور پر اپنی تعریف اچھی لگتی ہے۔ لوگ دنیا اور اس کے مال و متاع کے انتہائی حریص ہوتے ہیں اور حقیقی فضیلت اور اہل فضیلت کو نہیں چاہتے ہیں۔

*چھٹا سبب جو مذکورہ بالا تمام اسباب سے زیادہ اہم ہے، اس معاشرے کے احوال سے ناواقفیت ہے (جس کی وہ خبر ہو۔)*

ہر زمانے کا ایک مخصوص ماحول ہوتا ہے اور اس زمانے کے ہر واقعے کے لیے، اس زمانے کی خصوصیات سے مطابقت ضروری ہوتی ہے۔ اگر خبر سننے والا، اس ماحول کے تقاضوں اور واقعات کی مخصوص خصوصیات سے باخبر ہو تو اسے اس خبر کی تحقیق میں بڑی مدد ملے گی۔ ۔۔۔
بعض اوقات لوگ بالکل ہی محال و ناممکن خبروں پر یقین کر کے انہیں نہ صرف مان لیتے ہیں بلکہ دوسروں سے روایت بھی کر دیتے ہیں۔ لوگ ان سے یہ خبریں نقل کرتے چلے آئے ہیں۔
(ابن خلدون، مقدمہ 1ج /ص46، الکتاب الاول فی طبیعتہ العمران، بیروت دارلفکر)

اس کے بعد ابن خلدون نے تاریخ کی سابقہ کتب سے بعض مثالیں نقل کی ہیں جیسے اسکندر یونانی کے بارے میں مشہور ہے کہ جب اس نے اسکندریہ شہر آباد کرنا چاہا تو سمندری بلاؤں نے اس کی مخالفت کی۔ اس نے شیشے کا ایک صندوق بنوایا اور اس میں بیٹھ کر سمندر میں اترا۔ یہاں اس نے تہہ میں موجود کچھ شیطانی جانوروں کی تصاویر کھینچ لیں اور واپس آ کر ان کے مجسمے بنوا کر ساحل پر لگوا دیے۔ بلائیں جب رکاوٹ ڈالنے آئیں تو ڈر کر بھاگ گئیں اور اس طرح اسکندریہ کے شہر میں رکاوٹ دور ہو گئی۔ اس قسم کی بہت سی داستانیں داستان گو حضرات نے محض اس لیے گھڑیں کہ ان کی مدد سے وہ لوگوں کو محظوظ کر سکیں۔ بعض مورخین نے زیادہ تردد کیے بغیر انہیں بھی کتب تاریخ کا حصہ بنا دیا۔

*تاریخی معلومات کیسے منتقل ہوتی ہیں؟*

1-تواتر ،
2-انفرادی رپورٹس

عہد صحابہ بلکہ ہر دور ہی سے متعلق معلومات ہمیں بالعموم دو شکلوں میں دستیاب ہوتی ہیں۔
ان میں سے ایک شکل تواتر (Perpetuity) کہلاتی ہے ،

جبکہ دوسری خبر واحد (جمع اخبار احاد ) یعنی انفرادی رپورٹس (Solitary Reports)۔

تاریخ میں کسی بھی قسم کی معلومات خواہ وہ مذہبی ہوں یا نہ ہوں، کو دوسرے لوگوں اور اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے بنیادی طور پر یہی دو طریقے استعمال ہوئے ہیں۔

1- تواتر سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے مطابق کسی خبرکو ہر دور میں اتنے زیادہ افراد بیان کرتے ہوں کہ اس کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ اس کے برعکس خبر واحد وہ طریقہ ہے جس کے مطابق کسی خبر کو ایک دو یا چند افراد بیان کرتے ہوں اور ان کے بیان میں غلطی یا شک و شبہ کی گنجائش باقی رہ جائے۔

تواترکی مثال یوں پیش کی جاسکتی ہے کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر2001 کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر تباہ ہوگیا۔ یہ واقعہ رونما ہوتے ہی اس کی خبر دنیا بھر کے ٹی وی چینلز، اخبارات اور انٹر نیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں پھیل گئی۔ اس واقعے کو موقع پر جا کر ہزاروں افراد نے دیکھا اور بیان کردیا۔ اس معاملے میں دنیا بھر میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ واقعہ رونما ہوا تھا کیونکہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اب سے پندرہ بیس برس تک کے بعد اس واقعے کو دنیا بھر کے اربوں افراد اپنی آنے والی نسل کو سنائیں گے، اس واقعے کے بارے مضامین لکھے جاتے رہیں گے، ویڈیو فلمیں دیکھی جاتی رہیں گی اور اس کا تذکرہ ہوتا رہے گا۔ ہمارے بعد والی نسل کے افراد انہی طریقوں سے ان معلومات کو اپنے سے اگلی نسل میں منتقل کریں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اب سے ہزار سال بعد بھی اس بات میں کوئی شک و شبہ موجود نہیں ہوگا کہ 11 ستمبر 2001کو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر جہازوں کے ٹکراؤ سے تباہ ہوگئے تھے۔ یہ پورا پراسیس “تواتر” کا عمل کہلاتا ہے۔

اس ذریعے سے حاصل ہونے والی معلومات حتمی اور قطعی ہوتی ہیں اور ان کے بارے میں کسی شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ چنانچہ ہم لوگ پوری قطعیت کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ1947 میں برصغیر آزاد ہوا تھا، 1857 میں برصغیرمیں جنگ آزادی ہوئی تھی، سولہویں صدی عیسوی میں اکبر نام کا ایک بادشاہ ہندوستان پر حکومت کرتا تھا، پندہرویں صدی میں کولمبس نے امریکہ دریافت کیا، بارہویں صدی میں صلاح الدین ایوبی نے صلیبی جنگیں لڑی تھیں، ساتویں صدی میں سانحہ کربلا وقوع پذیر ہوا تھا، اور اسی ساتویں صدی کے عرب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بعثت ہوئی تھی اور آپ کے بعد آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس وقت کی مہذب دنیا کا بڑا حصہ فتح کر لیا تھا۔ پہلی صدی عیسوی میں فلسطین میں سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے دین حق کا علم بلند کیا تھا، 1400 قبل مسیح میں سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلے پر آنے والا فرعون سمندر میں غرق ہوگیا تھا،2000 قبل مسیح میں سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے نمرود کی خدائی کو چیلنج کیا تھا، اور اس سے بھی کہیں پہلے سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں زمین پر ایک بہت بڑا سیلاب آیا تھا۔ یہ وہ معلومات ہیں، جن کا کوئی ذی عقل اپنے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے انکار نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی ان حقائق کا انکار کرتا ہو تو وہ سورج کے روشن ہونے ، دن اور رات کی تبدیل ہونے اور زمین کے گول ہونے کا بھی انکار کر سکتا ہے۔

ہمارے علمی ذخیرے میں ایسی بہت سی معلومات ہیں جو تواتر کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں اور ان کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا ضرور ہوسکتا ہے کہ بعض معلومات کے منتقل کرنے کا سلسلہ اگلی نسلوں میں پہنچ کر کسی وجہ سے منقطع ہو جائے اور یہ تواتر ٹوٹ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے بادشاہوں کے وجود اور زمانوں کے بارے میں تاریخ میں اختلاف پایا جاتا ہے کیونکہ ان معلومات کی اتنی اہمیت نہ تھی کہ کوئی انہیں محفوظ رکھنے کا اہتمام کرتا۔ اس کے برعکس انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور بعض دیگر مذاہب کے بانیوں کے بہت سے واقعات تواتر کے ساتھ منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں کیونکہ ان کی اہمیت کے پیش نظر انہیں محفوظ رکھنے کا بھرپور اہتمام کیا گیا تھا۔ یہی اہتمام تواتر کہلاتا ہے۔

2_تاریخ میں بہت سی معلومات ہمیں خبر واحد (ایک دو افراد کی دی ہوئی خبر) کی صورت میں بھی ملتی ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی کا منظر کسی عینی شاہد نے دیکھا۔ اس نے اپنے ذہن میں موجود تفصیلات کو کسی دوسرے تک منتقل کردیا۔ دوسرے شخص نے ان معلومات کو تیسرے تک ، تیسرے نے چوتھے تک اور چوتھے نے پانچویں شخص تک منتقل کردیا اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ان معلومات میں اس قسم کی باتیں ہو سکتی ہیں کہ اس نے جہازوں کے ٹکرانے سے پہلے کسی شخص کو مشکوک انداز میں اس عمارت سے نکل کر بھاگتے ہوئے دیکھا تھا، سب سے پہلے 79 ویں منزل تباہ ہوئی تھی، پچاسویں منزل پر موجود فلاں شخص کس طرح زندہ بچا، وغیرہ وغیرہ ۔

اس مثال سے ہمیں یہ سمجھ آئی کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا تباہ ہونا تو تواتر سے ثابت ہے لیکن اس کی جزوی تفصیلات خبر واحد سے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی واقعے کے بارے میں مختلف اخبارات کی خبروں میں جزوی سا فرق پایا جاتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد ایک دو انسانوں کے مشاہدے اور یاد رکھنے پر ہوتی ہے۔

جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ ہمارے اخبارات کسی بھی بڑے واقعے کی جب رپورٹنگ کرتے ہیں تو ان میں اس کے بارے میں بعض تفصیلات میں اختلاف موجود ہوتا ہے۔ کسی حادثے کی صورت میں مرنے والے یا زخمی ہونے والوں کی تعداد کیا تھی، حادثے میں قصور کس کا تھا، جیسے معاملات میں اخباری رپورٹرز کے بیانات کے فرق کی وجہ سے مختلف اخبارات مختلف معلومات دیتے ہیں جبکہ اس بات پر سب کا اتفاق ہوتا ہے کہ یہ واقعہ رونما ہوا ہے۔ یہ چیز بھی عام مشاہدے میں دیکھنے میں آتی ہے کہ ایک شخص دوسرے کے سامنے واقعے کو بالکل درست بیان کردیتا ہے لیکن دوسرا تیسرے کے سامنے بیان کرتے وقت اپنے کسی مفاد کے تحت، یا پھر محض غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے اس میں کچھ کمی بیشی بھی کر دیتا ہے۔ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ کانوں کان بات پہنچانے کے کھیل میں جب اصل جملہ آخری فرد سے پوچھا جاتا ہے تو اس کا جواب اصل جملے سے خاصا مختلف ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں تواتر سے حاصل ہونے والی معلومات سو فیصد قطعی اور یقینی(Confirm) ہوتی ہیں اور ان میں کسی قسم کے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس خبر واحد سے حاصل ہونے والی معلومات سو فیصد یقین کے درجے پر نہیں پہنچتیں بلکہ ان میں کسی نہ کسی حد تک شک و شبہ پایا جاتا ہے۔ اس شک و شبہ کو تحقیق کے طریقوں سے کم از کم سطح پر لایا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے اصول حدیث کا فن ایجاد کیا تاکہ خبر واحد سے حاصل کردہ معلومات کو پرکھا جا سکے۔

تواتر سے حاصل کردہ معلومات میں کسی قسم کی ہیرا پھیری کرنا ممکن نہیں ہوتا جبکہ انفرادی روایتوں میں جان بوجھ کر حقائق کو مسخ کیا جا سکتا ہے۔ جیسے ہمارے دور سے متعلق کبھی بھی کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکے گا کہ مثلاً نائن الیون تو کبھی ہوا ہی نہیں یا امریکہ نے تو کبھی افغانستان یا عراق پر حملہ نہیں کیا۔

ہاں جزوی واقعات سے متعلق غلط بیانی کی جا سکتی ہے۔ جیسے اگر امریکیوں کے لٹریچر کا جائزہ لیا جائے تو وہ نائن الیون کا الزام مسلمانوں پر دھرتے ہیں جبکہ مسلمان اس کا الزام یہودیوں یا خود امریکیوں پر دھرتے ہیں۔

ممکن ہے کہ اب سے پانچ سو یا ہزار برس بعد تک یہی اختلاف موجود رہے۔

*تواتر کے معاملے میں ایک ایسی صورت ہے جس میں گڑبڑ کی جا سکتی ہے*

اور وہ یہ ہے کہ مصنوعی سا تواتر پیدا کر دیا جائے۔ یہ پروپیگنڈا کے اصول کے مطابق ہوتا ہے۔ جیسے آج کوئی شخص A قتل ہو جائے تو اس کا کوئی دوست Bیہ دعوی کر دے کہ شخص C اس کا قاتل تھا۔ اس کے بعد وہ اس بات کی تشہیر کر دے، میڈیا پر بیان دے اور اخبارات میں خبریں چھپوائے۔ اس کی بات پر یقین کر کے اور دس بیس لوگ یہی بات دوہرانے لگ جائیں اور پانچ دس سال بعد یہ لوگ تعداد میں اتنے زیادہ ہو جائیں کہ ان کی بات پر تواتر کا گمان ہونے لگے۔ بعد میں کوئی مورخ اسی کی بنیاد پر اگر اپنی کتاب میں یہ لکھ دے کہ C نے A کو قتل کیا تھا تو بات پوری طرح پھیل جائے گی اور لوگ بلا تامل اسے مان لیں گے۔

ایسے مصنوعی تواتر کی جانچ پڑتال آسان ہے کیونکہ اگر B کے زمانے میں اس کے دعوے سے ہٹ کر دیگر وسائل سے اس واقعے کا جائزہ لیا جائے گا تو بات واضح ہو جائے گی کہ سوائے اس ایک شخص کے اور کوئی یہ بات نہیں کہتا ہے۔ اس سے معلوم ہو جائے گا کہ تواتر کا یہ دعوی بے بنیاد ہے اور مصنوعی قسم کا تواتر پیدا کیا گیا ہے۔

*عہد صحابہ کی تاریخ کے کون سے واقعات تواتر سے منقول ہیں اور کون سے اخبار احاد سے؟*

عہد صحابہ کی تاریخ کے بڑے بڑے واقعات تواتر سے منقول ہیں جیسے خلفاء راشدین کون کون تھے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں مرتدین سے جنگیں ہوئیں اور روم و ایران سے جنگوں کا آغاز ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں روم اور ایران کو شکست دی گئی اور یہ اعلی درجے کی خوشحالی کا دور تھا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نہایت نیک دل خلیفہ تھے اور باغیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں خانہ جنگیاں ہوئیں۔
حضرت حسن نے معاویہ رضی اللہ عنہما سے صلح کر لی وغیرہ وغیرہ۔

انہی واقعات کی جزوی تفصیلات ہمیں اخبار احاد کے ذریعے ملتی ہیں۔
ان میں سچی جھوٹی ہر قسم کی روایات شامل ہیں۔
مثلاً حضرت علی رضی اللہ عنہ یا دیگر صحابہ کے اپنے ساتھیوں سے کیا مشورے ہوئے؟
آپ کی بیعت کن حالات میں ہوئی؟
جنگ جمل و صفین کے اسباب کیا تھے؟ یہی وہ تفصیلات ہیں جن میں ہمیں بے شمار تضادات اور اختلافات ملتے ہیں ۔

*اخبار احاد میں سند اور متن کی اہمیت کیا ہے؟*
علم روایت میں کسی بھی انفرادی روایت کے دو حصے مانے جاتے ہیں:

ایک حصہ اس کی سند اور دوسرا متن۔

“سند”
سے مراد وہ حصہ ہوتا ہے جس میں تاریخ کی کتاب کے مصنف سے لے کر واقعے کے عینی شاہد تک کے تمام راویوں (روایت بیان کرنے والوں) کی مکمل یا نامکمل زنجیر (Chain of Narrators) کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں۔ اس کی مثال ہم اوپر بیان کر چکے ہیں اور یہاں دوبارہ بیان کر رہے ہیں: “زید نے ہم سے لکھ کر بیان کیا، انہوں نے کہا کہ انہوں نے خالد سے یہ بات سنی۔ خالد نے کہا کہ انہوں نے اسلم سے یہ بات سنی اور اسلم نے کہا کہ میں نے یہ واقعہ ہوتے دیکھا: ۔۔۔۔۔” سند کے بعد روایت کا متن شروع ہوتا ہے جو کہ روایت کا اصل حصہ ہوتا ہے جس میں اصل واقعہ بیان کیا گیا ہوتا ہے۔

جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں تاریخی تحقیق (Historical Method) کے ماہرین سند اور متن دونوں کا تجزیہ کرتے ہیں اور یہ جانچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ روایت کس حد تک قابل اعتماد ہے۔

یہاں ہم اسی طریقہ کار کی تفصیل بیان کر رہے ہیں تاکہ اس طریقہ کار کو سیکھ کر اس کا اطلاق عہد صحابہ سے متعلق معلومات سے کیا جا سکے،

*تاریخی روایات کی جانچ پڑتال کا طریقہ کیا ہے؟*
جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے سیاسی مفادات کے لیے روایات ایجاد کیں اور انہیں پروپیگنڈا کے ذریعے پھیلا دیا۔ ان میں سے بہت سی روایات کتب تاریخ کا حصہ بن گئیں اور سچ کے ساتھ جھوٹ کی آمیزش ہو گئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جھوٹ کو سچ سے الگ کیسے کیا جا سکتا ہے تاکہ ہم واقعات کی صحیح تصویر تک پہنچ سکیں؟

مثل مشہور ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ جھوٹ گھڑنے والا کوئی نہ کوئی ایسی غلطی کر بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے اس کا جھوٹ پکڑا جاتا ہے۔ اس کے بیان میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ سچ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے جبکہ جھوٹ متعدد ہو سکتے ہیں۔ اس کی ایک مثال وہ مشہور واقعہ ہے جس میں ایک راوی (Narrator) نے بیان کیا کہ میں نے فلاں شخص سے یہ حدیث سنی ہے۔ سامعین میں ایک بڑے محدث بیٹھے تھے۔ انہوں نے پوچھا: “آپ کی عمر کتنی ہے؟” بولے: “اسی سال۔” محدث نے کہا: “پھر آپ یہ حدیث ان صاحب سے نہیں سن سکتے کیونکہ وہ آپ کی پیدائش سے دس برس پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔”

اسی طرح کسی عباسی خلیفہ کے زمانے میں خیبر کے یہودیوں نے ایک دستاویز پیش کی جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ حقوق عطا فرمائے تھے۔
وقت کے ایک محدث نے اس دستاویز کو دیکھتے ہی جعلی قرار دیا کیونکہ اس میں بطور گواہ حضرت سعد بن معاذ اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے دستخط تھے۔
یہ وہ صحابہ تھے جن میں سے ایک صحابی تو اس واقعے سے پہلے ہی شہید ہو چکے تھے اور دوسرے ابھی ہجرت کر کے مدینہ نہیں آئے تھے۔

علم تاریخ کے محققین نے اس مقصد کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا ہے جسے ” تاریخی تحقیق کا طریقہ (Historical Method)” کہا جاتا ہے۔ اس طریقہ تحقیق کے اصول ہم یہاں اس کے ماہرین کے حوالے سے بیان کر رہے ہیں۔ تفصیل کے لیے آپ کسی بھی انسائیکلو پیڈیا میں Historical Method کا عنوان دیکھ سکتے ہیں۔

بنیادی طور پر تاریخی معلومات کی جانچ پڑتال کے لیے چار اعتبار سے تحقیق کی جاتی ہے:

1- ماخذ کی تحقیق
(Source Criticism)

2- داخلی تحقیق
(Internal Criticism)

3- خارجی تحقیق
(External Criticism)

4- تاریخی وجوہات کا تجزیہ
(Historical Reasoning)

اب ہم انہیں ایک ایک کر کے بیان کرتے ہیں۔

*1-ماخذ کی تحقیقSource Criticism*

اس تحقیق میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ تاریخی معلومات کا ماخذ (Source) کیا ہے اور وہ کس درجے میں قابل اعتماد ہے؟ یہ معلومات محض سنی سنائی ہیں یا ان کے لیے ٹھوس ثبوت موجود ہیں؟ کیا ان معلومات کا ماخذ ایک ہی شخص ہے یا متعدد افراد ہیں؟ اگر متعدد ہیں تو ان کے درمیان کوئی باہمی تعلق تو نہیں؟ کیا معلومات کے یہ مآخذ متعصب تو نہیں۔ اگر بہت سے مآخذ سے متفقہ طور پر ایک ہی بات سامنے آ رہی ہو، تو یہ مان لیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ ہوا ہے۔

علم حدیث کی اصطلاح میں اسے “تواتر (Perpetuity)” کہا جاتا ہے۔ جیسے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ یا سانحہ کربلا کا وقوع پذیر ہونا بے شمار مآخذ سے ثابت ہے۔ اگر مختلف افراد اس واقعے کے بارے میں متضاد باتیں پیش کر رہے ہوں تو تاریخی تحقیق کے ماہر کو یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ کس شخص کی بات درست ہے؟ اس ترجیح کے اصول یہ ہوتے ہیں:

اگر ایک شخص واقعے کا عینی شاہد ہے اور دوسرے نے کسی اور سے سن کر بات بیان کی ہے، تو عینی شاہد کی بات کو ترجیح ہو گی۔ مثلاً ایک شخص جنگ جمل میں شریک تھا، اس کا بیان اس شخص کی نسبت کہیں اہمیت رکھے گا جو سو سال بعد پیدا ہوا۔

اگر ایک شخص واقعے سے متعلق کسی قسم کا تعصب رکھتا ہے اور دوسرا تعصب نہیں رکھتا، تو غیر متعصب کو ترجیح حاصل ہو گی۔ جیسے کسی جنگ میں فریقین کے فوجیوں کی نسبت آزاد مبصرین اور صحافیوں کی بات کو ترجیح دی جاتی ہے۔

اگر ایک شخص کی بات کی تصدیق دوسرے آزاد ذرائع سے بھی ہو جاتی ہے، تو اس کی بات کو زیادہ اہمیت حاصل ہو گی۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص اپنے بیان میں محض منفرد ہے اور اس کے بیان کی تصدیق دوسرے آزاد ذرائع سے نہیں ہوتی، تو اس کی بات کی اہمیت کم ہو گی۔ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ تصدیق کرنے والے ذرائع کا آزاد ہونا ضروری ہے۔
مثلاً اگر ایک واقعے کو پانچ افراد A, B, C, D, E بیان کرتے ہیں۔ ان میں تین افراد A, B, Cکا بیان ملتا جلتا ہے جبکہ دو افراد D, E کا بیان ان سے مختلف ہے مگر وہ آپس میں متفق ہیں۔
اب محض اس وجہ سے پہلے تین افراد کے بیان کو ترجیح حاصل نہ ہو گی کہ وہ اکثریت میں ہیں۔ یہ دیکھا جائے گا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے کوئی تعلق تو نہیں رکھتے؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ تینوں ایک ہی سیاسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں؟
یا B,اور C دونوں کہیں A کے شاگرد تو نہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر ان کی گواہی کو تین نہیں بلکہ ایک فرد کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

اگر ایک فریق کی بات کی تصدیق دیگر ثبوتوں جیسے فنگر پرنٹس، DNA یا اسی نوعیت کی کسی اور چیز سے ہوتی ہے، تو اس کی بات قابل ترجیح ہو گی۔

اگر کسی ایک فریق کی بات کو ترجیح دینا ممکن نہ ہو، تو پھر مورخ اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے تحقیق کے دیگر طریقے اختیار کرے گا جن کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔

*2-داخلی تحقیقInternal Criticism)*

جو تاریخی روایت مل رہی ہے، اس کے متن کا تجزیہ کر کے دیکھا جاتا ہے کہ وہ کس حد تک قابل اعتماد ہے۔ چونکہ یہ تحقیق متن کے اندرونی تجزیے سے متعلق ہوتی ہے، اس وجہ سے اسے داخلی تحقیق کہا جاتا ہے۔ اس میں درج ذیل ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:

معلومات پر مبنی جو رپورٹ ہے، کیا اس کے اندر کوئی اندرونی تضاد موجود ہے؟

جو شخص رپورٹ دے رہا ہے، کیا وہ عینی شاہد ہے یا اس نے کسی اور سے سن کر یہ معلومات لکھی ہیں؟ اگر یہ زبانی روایت ہے تو پھر کیا اس کی سند (Chain of Narrators)مکمل ہے یا نامکمل؟
کیا یہ تمام کے تمام راوی قابل اعتماد ہیں یا نہیں؟

اس شخص نے واقعے کی رپورٹ کب اور کہاں بیان کی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ واقعے کی رپورٹ پچاس سال بعد بیان کر رہا ہے جب اس کے دیگر عینی شاہدین دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں؟

اس شخص نے وہ رپورٹ کن اشخاص کے سامنے بیان کی ہے؟ کیا وہ ان پر اثر انداز ہونا چاہتا تھا یا پھر محض معلومات کی منتقلی ہی اس کا مقصد تھا؟

جو بیان وہ دے رہا ہے، کیا وہ عقلاً ممکن ہے؟ جیسے آج کل کا کوئی شخص اگر یہ دعوی کرے کہ اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے اور کوئی حدیث بیان کرے تو یہ عقلاً محال ہے۔

جس واقعے کے بارے میں وہ شخص بیان دے رہا ہے، کیا اسے سمجھنے کے لیے کسی خصوصی مہارت کی ضرورت ہے؟ جیسے کسی تاریخی شخصیت کی بیماری کو کوئی طبیب ہی صحیح طور پر بیان کر سکتا ہے،

*3-خارجی تحقیقExternal Criticism*

اس قسم کی تحقیق میں تاریخی معلومات کے متن سے ہٹ کر دیگر بیرونی ذرائع سے ان معلومات کی تحقیق کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے خارجی تحقیق کہا جاتا ہے۔ اس میں یہ ٹیسٹ شامل ہوتے ہیں:

معلومات کو کب بیان کیا گیا؟
کیا انہیں اصل واقعے کے فوراً بعد بیان کیا گیا یا کافی عرصہ بعد؟

معلومات کہاں مرتب کی گئیں؟ کہیں معلومات کسی ایسے علاقے میں مرتب تو نہیں کی گئیں جو اس واقعے سے متعلق کسی متعصب فریق کا گڑھ تھا؟

معلومات کس شخص نے مرتب کیں؟ کہیں وہ کسی متعصب گروہ سے تعلق تو نہیں رکھتا تھا؟

معلومات کیا براہ راست ماخذ (Primary Source) سے حاصل کی گئی ہیں یا پھر کسی ثانوی ماخذ (Secondary Source)سے؟ اگر یہ ثانوی ماخذ سے حاصل کی گئی ہیں تو اس کا درجہ کیا ہے؟

کیا معلومات اپنی اصل حالت میں ہیں یا اس میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے؟

کیا لوگ طویل عرصے تک ان معلومات کو اسی طرح سے مانتے آئے ہیں یا کسی دور میں ان کا انکار بھی کیا گیا ہے؟

کیا ان معلومات کا تاریخی تجزیہ کرنے کی پہلے بھی کوشش کی گئی ہے یا انہیں بغیر تحقیق کے محض عقیدت مندی یا تعصب میں بس مان لینے کا رجحان رہا ہے؟

دیگر قرائن و آثار سے ان معلومات کی تصدیق (Corroboration) ہوتی ہے یا نہیں؟

ان میں سے پہلے چار اصولوں کو بالائی تحقیق (Higher Criticism) اور بقیہ دو کو زیریں تحقیق(Lower Criticism) کا نام دیا جاتا ہے۔

*4-تاریخی اسباب و علل کی تحقیق (Historical Reasoning)*

اس طریقہ کار میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ زیر تحقیق تاریخی معلومات دیگر تاریخی معلومات اور حالات سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں۔
تاریخ میں واقعات کا ایک تسلسل ہوتا ہے جس میں اسباب اور علل کی ایک زنجیر (Cause-and-effect chain) رونما ہو رہی ہوتی ہے۔ اگر ایک واقعہ اس زنجیر میں سرے سے فٹ ہی نہ بیٹھتا ہو تو اس کی حیثیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ زیر تحقیق واقعے کے اسباب اور وجوہات تلاش کی جاتی ہیں، پھر ان کے نتائج پر غور کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی واقعہ غیر متوقع ہو، تو اس سے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کی جاتی ہیں تاکہ کسی نتیجے پر پہنچا جا سکے،

🌷ابن خلدون
چونکہ علم التاریخ کے بانی ہیں، اس وجہ سے انہوں نے بھی اس معیار کو بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
خبروں کی تحقیق معاشرے کی طبیعت کو سمجھنے پر موقوف ہے اور تحقیق کا یہ طریقہ انتہائی قابل اعتماد اور اچھا ہے۔ اس سے سچی اور جھوٹی خبروں میں امتیاز ہو جاتا ہے ۔ اگرچہ خبروں کی سچائی ، راویوں کی دیانت داری سے بھی معلوم ہو جاتی ہے لیکن اس دیانت داری کی حیثیت ثانوی ہے جبکہ معاشرے کے طبعی حالات سے تحقیق کا درجہ مقدم ہے۔ راویوں کی دیانت داری کی تحقیق تو تب کی جائے گی جب خبر میں سچائی کا امکان ہو۔ جب خبر ہی ناممکن اور بعید از عقل ہو تو پھر جرح و تعدیل سے کیا فائدہ ہے۔ بعض عقل مند لوگوں نے خبر کے سلسلے میں ایک طریقہ یہ نکالا ہے کہ الفاظ سے ناممکن معانی لے لیے جائیں یا پھر عقل سے خارج ہو کر اس واقعے کی کوئی تاویل گھڑ لی جائے۔شرعی اخبار و آثار میں راویوں کی جانچ پڑتال ضروری ہے تاکہ کم از کم ان کی سچائی کا غالب گمان تو ہو،
(ابن خلدون، ج1/ص48)

*اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تحقیق ہر تاریخی واقعے سے متعلق کی جاتی ہے؟*

اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر تاریخی واقعے سے متعلق اتنی معلومات دستیاب نہیں ہوتی ہیں کہ اوپر بیان کردہ تمام پروسیجرز کا اطلاق اس پر کیا جا سکے۔ عام تاریخی واقعات کے بارے میں اگر کوئی اختلاف سامنے نہ آئے تو انہیں زیادہ تحقیق کے بغیر قبول کر لیا جاتا ہے۔ تفصیلی تحقیق عام طور پر ان واقعات کی ہوتی ہے جن سے کوئی بڑا علمی، سیاسی یا مذہبی اختلاف پیدا ہو رہا ہو۔ چھوٹے موٹے واقعات کی صورت میں ایسا نہیں ہوتا۔ جیسے کسی سفر کے دوران کسی بادشاہ نے کہاں پڑاؤ ڈالا؟
اس نے کسی شخص کو کیا انعام دیا؟ بادشاہ کی شادی کس خاتون سے ہوئی؟ اس قسم کے عام معاملات میں زیادہ تحقیق نہیں کی جاتی ہے لیکن اہم تاریخی واقعات ، جن کے بارے میں کوئی بڑا اختلاف موجود ہو، کے بارے میں یہ تحقیقات کی جاتی ہیں۔ جیسے کوئی بڑی جنگ کیوں ہوئی؟ اس کے اسباب کیا تھے؟ اس کے نتائج کیا نکلے؟ وغیرہ وغیرہ۔

*حدیث اور تاریخ سے متعلق تحقیق میں کیا فرق ہے؟*

حدیث چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق معلومات کا ریکارڈ ہے، اس وجہ سے اس کے معاملے میں تحقیق کا اعلی ترین معیار اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے خود اپنے متعلق فرمایا کہ مجھ سے جھوٹ منسوب کرنے والا اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہر قسم کی احادیث کے لیے تحقیق کا کڑا معیار برقرار رکھا گیا ہو بلکہ احکام کی احادیث کی چھان بین بہت ہی باریک بینی سے کی گئی جبکہ سیرت طیبہ سے متعلق عام تاریخی واقعات کی بہت زیادہ چھان بین نہیں کی گئی ہے۔ ہاں اگر کسی معاملے میں کوئی اختلاف پیدا ہوا ہے تو اس کی تحقیق تفصیل سے کی گئی ہے۔

تاریخی واقعات میں عام طور پر یہ معیار برقرار نہیں رکھا جا سکا ہے اور مورخین نے ہر قسم کا رطب و یابس اکٹھا کر دیا ہے۔ ان میں سے عام واقعات کی چھان بین تو بہت مشکل ہے تاہم ایسے واقعات جن سے امت کے اندر کوئی بڑا سیاسی یا مذہبی اختلاف پیدا ہوا ہے، کی چھان بین تفصیل سے کی جانی چاہیے۔ اس پر مزید بحث ہم اگلے سلسلہ میں کریں گے، ان شاءاللہ

*اس مکمل سلسلہ کا خلاصہ یہ ہے کہ*

تاریخی معلومات مرتب کیے جانے کا عمل چار مراحل سے گزرتا ہے:
(۱) واقعہ کا رونما ہونا اور عینی شہادتیں۔ (۲) واقعہ کی تفصیلات کو نوٹ کرنا
(۳) اس کا تجزیہ کر کے اس کی ایک مکمل تصویر بنانا
(۴) مختلف واقعات کی تصاویر کو لے کر تاریخ مرتب کرنا۔

تاریخی معلومات بہت مرتبہ راویوں کی بے احتیاطی، اضافی معلومات کی عدم دستیابی ، راویوں کے تعصب اور سیاسی و مذہبی وجوہات کے سبب مسخ ہو جاتی ہیں۔
جو تاریخی معلومات ’’تواتر‘‘ سے منتقل ہوتی ہیں، ان کے بارے میں شک نہیں ہوتا مگر جو انفرادی لوگوں کی خبروں سے منتقل ہوتی ہیں، ان کی صحت (Authenticity) کے بارے میں شک رہتا ہے۔ عہد صحابہ کی تاریخ کا بہت کم حصہ ہے جو تواتر سے منتقل ہوا ہے۔

تاریخی روایات کی چھان بین کے لیے متعدد طریق ہائے کار ہیں، جن میں سے یہ نمایاں ہیں:
(۱) ماخذ کی تحقیق۔
(۲) داخلی تحقیق۔
(۳) خارجی تحقیق۔
(۴) تاریخی وجوہات کی تحقیق۔

اور اس سلسلے کی آخری بات کہ تمام تاریخی روایات کی چھان بین نہیں کی جاتی ہے بلکہ صرف انہی روایات کی چھان بین ہوتی ہے جن میں کوئی بڑا سیاسی، علمی یا مذہبی اختلاف پیدا ہو۔

*اگلے سلسلہ میں ہم دیکھیں گے کہ عہد صحابہ سے متعلق تاریخی معلومات کیسے مرتب ہوئیں اور ان کی تحقیق کا طریقہ کیا ہے؟*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج لائیک ضرور کریں۔۔.
آپ کوئی بھی سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کر سکتے ہیں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں