451

سوال_کیا خواتین نماز جنازہ پڑھ سکتی ہیں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-45″
سوال_خواتین کیلئے نماز جنازہ پڑھنا اور جنازوں کے ساتھ چلنے کے بارے شرعی حکم کیا ہے؟ دلائل کے ساتھ جواب دیں!

Published Date :7-4-2018

جواب..!!
الحمدللہ۔۔۔!!

*جی ہاں نماز جنازہ مرد اور عورت دونوں كے ليے مشروع ہے، اس كى دليل نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ذیشان ہے*

📚صحیح بخاری
کتاب: ایمان کا بیان
باب: جنازے کے ساتھ جانا ایمان میں داخل ہے
حدیث نمبر: 47
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَنْجُوفِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَسَنِ ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَكَانَ مَعَهُ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا وَيَفْرُغَ مِنْ دَفْنِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّه يَرْجِعُ مِنَ الْأَجْرِ بِقِيرَاطَيْنِ كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ،.
ترجمہ:
ہم سے احمد بن عبداللہ بن علی منجونی نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، انہوں نے حسن بصری اور محمد بن سیرین سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہ  نبی کریم  ﷺ  نے فرمایا، جو کوئی ایمان رکھ کر اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ جائے اور نماز اور دفن سے فراغت ہونے تک اس کے ساتھ رہے تو وہ دو قیراط ثواب لے کر لوٹے گا ہر قیراط اتنا بڑا ہوگا جیسے احد کا پہاڑ، اور جو شخص جنازے پر نماز پڑھ کر دفن سے پہلے لوٹ جائے تو وہ ایک قیراط ثواب لے کر لوٹے گا،

وضاحت:
لفظ ’ من ‘ کےعموم میں مرد اور عورت دونوں داخل ہیں۔ کسی ایک کو بھی استثناء حاصل نہیں ہے،

*اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام کے دور میں بھی خواتین نماز جنازہ پڑھا کرتی تھیں*

📚صحیح مسلم
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: نماز جنازہ مسجد میں ادا کرنے کے بیان میں
حدیث نمبر-973
اسلام360 حدیث نمبر- 2253

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمُرُّوا بِجَنَازَتِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَيُصَلِّينَ عَلَيْهِ فَفَعَلُوا فَوُقِفَ بِهِ عَلَى حُجَرِهِنَّ يُصَلِّينَ عَلَيْهِ أُخْرِجَ بِهِ مِنْ بَابِ الْجَنَائِزِ الَّذِي كَانَ إِلَى الْمَقَاعِدِ فَبَلَغَهُنَّ أَنَّ النَّاسَ عَابُوا ذَلِكَ وَقَالُوا مَا كَانَتْ الْجَنَائِزُ يُدْخَلُ بِهَا الْمَسْجِدَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى أَنْ يَعِيبُوا مَا لَا عِلْمَ لَهُمْ بِهِ عَابُوا عَلَيْنَا أَنْ يُمَرَّ بِجَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ
ترجمہ:
محمد بن حاتم، بہز، وہیب، موسیٰ بن عقبہ، عبدالواحد، عباد بن عبداللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں جب سعد بن ابی وقاص ؓ کا انتقال ہوگیا تو نبی ﷺ کی بیویوں نے پیغام بھجوایا کہ ان کا جنازہ مسجد میں سے لے کر گزرو تاکہ وہ بھی نماز جنازہ ادا کرلیں لوگوں نے ایسا ہی کیا اور ان کے حجروں کے آگے جنازہ روک دیا تاکہ وہ اس پر نماز جنازہ ادا کرلیں پھر ان کو باب الجنائز سے نکالا گیا جو مقاعد کی طرف تھا پھر ازواج مطہرات کو یہ خبر پہنچی کہ لوگوں نے اس کو عیب جانا ہے اور لوگوں نے کہا ہے کہ جنازوں کو مسجد میں داخل نہیں کیا جاتا تھا یہ بات سیدہ عائشہ ؓ کو پہنچی تو انہوں نے کہا لوگ ناواقفیت کی بنا پر اس بات کو معیوب سمجھ رہے ہیں اور ہم پر جنازہ کے مسجد میں گزارنے کی وجہ سے عیب لگا رہے ہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن بیضاء کا جنازہ مسجد کے اندر ہی پڑھا تھا۔

📚 ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺟﻌﻔﺮ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻦ ﻫﺎﻧﺊ، ﺛﻨﺎ اﻟﺤﺴﻴﻦ ﺑﻦ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻣﻬﺎﺟﺮ، ﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ اﻟﻄﺎﻫﺮ، ﻭﻫﺎﺭﻭﻥ ﺑﻦ ﺳﻌﻴﺪ، ﻗﺎﻻ: ﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻭﻫﺐ، ﺃﺧﺒﺮﻧﻲ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ اﻟﺤﺎﺭﺙ، ﻋﻦ ﻋﻤﺎﺭﺓ ﺑﻦ ﻏﺰﻳﺔ، ﻋﻦ ﺇﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﻠﺤﺔ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﺃﻥ ﺃﺑﺎ ﻃﻠﺤﺔ «ﺩﻋﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﺇﻟﻰ ﻋﻤﻴﺮ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﻠﺤﺔ ﺣﻴﻦ ﺗﻮﻓﻲ، §ﻓﺄﺗﺎﻫﻢ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻓﺼﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﻓﻲ ﻣﻨﺰﻟﻬﻢ، ﻓﺘﻘﺪﻡ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻭﻛﺎﻥ ﺃﺑﻮ ﻃﻠﺤﺔ ﻭﺭاءﻩ ﻭﺃﻡ ﺳﻠﻴﻢ ﻭﺭاء ﺃﺑﻲ ﻃﻠﺤﺔ، ﻭﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻣﻌﻬﻢ ﻏﻴﺮﻫﻢ»
ﻫﺬا ﺣﺪﻳﺚ ﺻﺤﻴﺢ ﻋﻠﻰ ﺷﺮﻁ اﻟﺸﻴﺨﻴﻦ، ﻭﺳﻨﺔ ﻏﺮﻳﺒﺔ ﻓﻲ ﺇﺑﺎﺣﺔ ﺻﻼﺓ اﻟﻨﺴﺎء ﻋﻠﻰ اﻟﺠﻨﺎﺋﺰ، ﻭﻟﻢ ﻳﺨﺮﺟﺎﻩ ”
ترجمہ:
ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیٹا جب فوت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسکا جنازہ انکے گھر میں پڑھایا،
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے کھڑے تھے،
پیچھے ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے تھے اور ابو طلحہ کے پیچھے ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کھڑی تھیں،
(مستدرک علی الصحیحین للحاکم،حدیث نمبر_1350_ ج1/ ص519)

*ان احادیث مبارکہ سے پتا چلا کہ خواتین نماز جنازہ پڑھ سکتی ہیں،بشرطیکہ الگ پردے کا انتظام ہو،اور مردوں کے پیچھے الگ صفوں میں کھڑی ہوں،*
_________&__________

*نماز جنازہ سے عورت كو منع نہيں كيا گيا چاہے نماز جنازہ مسجد ميں ادا كيا جائے يا گھر ميں يا جناز گاہ ميں، اور عورتيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پیچھے نماز جنازہ ادا كيا كرتى تھيں، اور ان كے بعد بھى ادا كرتى رہيں،لیکن عورتوں کے لئے جنازہ کے پیچھے چلنا منع ہے،*

جیسا کہ..!!

📚صحیح بخاری
کتاب: جنازوں کا بیان
باب: باب: عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1278
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ الْهُذَيْلِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ نُهِينَا عَنْ إتباع الجنائز وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا.
ترجمہ:
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے خالد حذاء نے ‘ ان سے ام ہذیل حفصہ بنت سیرین نے ‘ ان سے ام عطیہ ؓ نے بیان کیا کہ  ہمیں  (عورتوں کو)  جنازے کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا مگر تاکید سے منع نہیں ہوا۔

*یعنی عورتوں کے لئے جنازے  کے پیچھے چلنا مکروہات میں سے ہے،کیونکہ یہاں فتنے کا ڈر ہے، اس لیے منع کیا گیا*

_________&&_________

📙سعودی مفتی اعظم شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا بھی یہی فتویٰ ہے کہ مرد و خواتین سب کیلئے نماز جنازہ پڑھنا مشروع ہے، چاہے گھر میں ہو یا مسجد کوئی حرج نہیں، اور سعد ابی وقاص رضی اللہ عنہ جب فوت ہوئے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور دیگر عورتوں نے انکی نماز جنازہ پڑھی،
ہاں البتہ عورتوں کیلئے جنازوں کے پیچھے چلنا اور قبروں پر( کثرت سے) جانا ممنوع ہے،

فتویٰ ملاحظہ فرمائیں!

السؤال:
رسالة وصلت إلى البرنامج من المستمعة فاطمة سعيد السرحاني من جيزان، أختنا تسأل جمعًا من الأسئلة، في سؤالها الأول تقول: هل للمرأة أن تصلي على الجنازة أم لا؟

الجواب:
نعم، الصلاة على الجنازة مشروعة للجميع للرجال والنساء، تصلي على الجنازة في البيت أو في المسجد، كل ذلك لا بأس به، وقد صلت عائشة والنساء على سعد بن أبي وقاص لما توفي.
فالمقصود: أن الصلاة على الجنائز مشروعة للجميع، وإنما المنهي عنه ذهابها للقبور، اتباع الجنائز إلى المقبرة، وزيارة القبور، أما صلاتها على الميت في مسجد أو في مصلى أو في بيت أهله فلا بأس بذلك. نعم.
المقدم: جزاكم الله خيرًا.

(مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ فضيلۃ الشيخ بن باز رحمہ اللہ تعالى ( 13 / 133)

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦         سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
     کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں