44

سوال_کیا ایک نفلی کام میں متعدد نفلی نیتیں کر سکتے ہیں؟ اور کیا ایک ہی کام میں متعدد نیتیں جمع کرنے سے کیا اجر بھی زیادہ ملے گا؟ مثلاً: ایک شخص فجر کی سنتیں ادا کر رہا تھا اور ساتھ میں اس نے تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد کی دو رکعت پڑھنے کی بھی نیت کی تو کیا اسے ان تینوں اعمال کا اجر ملے گا؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-363”
سوال_کیا ایک نفلی کام میں متعدد نفلی نیتیں کر سکتے ہیں؟ اور کیا ایک ہی کام میں متعدد نیتیں جمع کرنے سے کیا اجر بھی زیادہ ملے گا؟ مثلاً: ایک شخص فجر کی سنتیں ادا کر رہا تھا اور ساتھ میں اس نے تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد کی دو رکعت پڑھنے کی بھی نیت کی تو کیا اسے ان تینوں اعمال کا اجر ملے گا؟

Published Date: 9-1-2022

*جواب:*
*الحمد للہ:*

اعمال کا سارا دارومدار نیتوں پر ہے،

📚نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
کہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملتا ہے جس کی وہ نیت کرے۔ اس لیے جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہو، اسے اللہ اور اس کے رسول کی رضا حاصل ہو گی لیکن جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کی نیت سے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے ارادہ سے ہو، اس کی ہجرت اسی کے لیے ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی،
( صحیح بخاری_ حدیث نمبر_ 5070)

*نیت اچھی ہو تو انسان کو گھوڑے کے قدموں کے نشان پر اور اسکے لید کرنے اور بھاگ کر نہر سے پانی پینے پر بھی اجر ملتا ہے، جی ہاں آپ نے صحیح پڑھا ہے..!*

دلیل ملاحظہ فرمائیں..!
📚 ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں!
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، گھوڑا ایک شخص کے لیے باعث ثواب ہے، دوسرے کے لیے بچاؤ ہے اور تیسرے کے لیے وبال ہے۔
جس کے لیے گھوڑا اجر و ثواب ہے، وہ وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ کے لیے اس کو پالے، وہ اسے کسی ہریالے میدان میں باندھے ( راوی نے کہا ) یا کسی باغ میں۔ تو جس قدر بھی وہ اس ہریالے میدان میں یا باغ میں چرے گا۔ اس کی نیکیوں میں لکھا جائے گا۔ اگر اتفاق سے اس کی رسی ٹوٹ گئی اور گھوڑا ایک یا دو مرتبہ آگے کے پاوں اٹھا کر کودا تو اس کے آثار قدم اور لید بھی مالک کی نیکیوں میں لکھے جائیں گے اور اگر وہ گھوڑا کسی ندی سے گزرے اوراس کا پانی پئے خواہ مالک نے اسے پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو تو بھی یہ اس کی نیکیوں میں لکھا جائے گا۔ تو اس نیت سے پالا جانے ولا گھوڑا انہیں وجوہ سے باعث ثواب ہے دوسرا شخص وہ ہے جو لوگوں سے بے نیاز رہنے اور ان کے سامنے دست سوال بڑھانے سے بچنے کے لیے گھوڑا پالے، پھر اس کی گردن اور اس کی پیٹھ کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کے حق کو بھی فراموش نہ کرے تو یہ گھوڑا پنے مالک کے لیے پردہ ہے۔ تیسرا شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر، دکھاوے اور مسلمانوں کی دشمنی میں پالے۔ تو یہ گھوڑا اس کے لیے وبال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کے متعلق کوئی حکم وحی سے معلوم نہیں ہوا۔ سوا اس جامع آیت کے ” جو شخص ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا، اس کا بدلہ پائے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا۔ “
(صحیح بخاری حدیث نمبر: 2371 )

اور اگر کام بھی اچھا ہو لیکن نیت اچھی نا ہو تو اسکا وہ عمل اسکے لیے وبال جان بن جاتا ہے
📚جیسا کہ ہم نے بڑی مشہور حدیث سن رکھی ہے کہ قیامت کے دن جہنم میں سب سے پہلے شہید، سخی اور قاری/عالم کو ڈالا جائے گا کہ انکی نیت اللہ کی رضا کی بجائے محض دکھلاوا تھا،
(سنن ترمذی_2557) صحیح

_________&_______

اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف !

*جی ہاں ! ایک ہی کام میں ایک سے زیادہ اعمال کی نیت کرنے سے اجر بھی زیادہ ہو جاتا ہے, چنانچہ جس وقت مسلمان مسجد میں با وضو داخل ہو اور دو رکعت پڑھتے ہوئے فجر کی سنتوں، وضو اور مسجد میں داخل ہونے کے نوافل کی نیت ایک ساتھ کرے تو اسے ان تمام اعمال کا اجر ملے گا، اللہ کا فضل بہت وسیع ہے*

📙امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“اگر کوئی شخص اس طرح نماز کی تکبیر تحریمہ کہے کہ فرائض اور تحیۃ المسجد دونوں کی نیت کرے تو اس کی نماز صحیح ہو گی، اور اس کے فرض بھی ادا ہو جائیں گے اور تحیۃ المسجد بھی۔” ختم شد
(” المجموع ” (1/ 325)

📙اسی طرح امام غزالی رحمہ اللہ ” إحياء علوم الدين ” (4/370-371) میں کہتے ہیں کہ:
“تمام تر نیک اعمال ۔۔۔ بنیادی طور پر صحیح ہونے اور فضیلت میں اضافے کے اعتبار سے نیت کے ساتھ منسلک ہیں۔
چنانچہ بنیادی طور پر صحیح ہونے کا مطلب یہ ہے کہ: نیکی کر کے صرف اللہ تعالی کی عبادت مقصود ہو کسی اور کی بندگی مطلوب نہ ہو، لہذا اگر کسی نے ریا کاری کے لیے بھی عبادت کی تو وہ گناہ بن جائے گی، نیکی نہیں رہے گی۔

اور فضیلت میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ جس قدر نیک عمل کرتے ہوئے نیتیں کرو گے اتنی ہی مقدار میں اجر و ثواب بڑھتا چلا جائے گا؛ کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ایک ہی نیکی کرتے ہوئے کئی اچھے امور کی نیت کر لی جائے، اس لیے ہر نیت کی الگ سے نیکی شمار ہو گی، اور ہر نیکی کا اجر دس گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے، جیسے کہ کتاب و سنت میں یہ چیز بالکل واضح ہے۔

📙 *اس کی مثال یوں سمجھیں کہ*
مسجد میں بیٹھنا نیکی ہے، اور آپ اس ایک نیکی میں متعدد نیتیں شامل کر سکتے ہیں، اور یہی مسجد میں بیٹھنا متقی لوگوں کے اعمال میں شامل ہو سکتا ہے، اور انسان مقرب لوگوں کے درجات تک پہنچ سکتا ہے۔

*پہلی نیت:*
یہ بات ذہن میں بٹھائے کہ یہ مسجد اللہ کا گھر ہے، اور اس میں داخل ہونے والا در حقیقت اللہ تعالی کی زیارت کرنے آتا ہے، لہذا مسجد میں بیٹھ کر اللہ تعالی کی زیارت کرنے کی نیت کرے، اور اللہ تعالی سے اس وعدے کی امید رکھے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وعدہ کیا ہے کہ
📚 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
عن سلمان الفارسي: من قعد في المسجدِ فقد زار اللهَ تعالى: وحقٌّ على المزورِ إكرامُ زائرِه
(جو شخص بھی مسجد میں بیٹھے تو وہ اللہ تعالی کی زیارت کرتا ہے، اور اللہ تعالی پر حق بنتا ہے کہ اس سے ملاقات کرنے والے کی تکریم کرے۔)
(الألباني إصلاح المساجد ١٦٩ • حسن)

*دوسری نیت یہ کہ:*
ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرے۔ اور مسجد میں بیٹھ کر اگلی نماز کا انتظار کرنا چہت فضیلت والا عمل ہے.!
📚 پہلی حدیث
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:”صَلَاةُ الْجَمِيعِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ، وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وَأَتَى الْمَسْجِدَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ خَطِيئَةً حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، وَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتْ تَحْبِسُهُ وَتُصَلِّي يَعْنِي عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ”.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے میں گھر کے اندر یا بازار (دوکان وغیرہ) میں نماز پڑھنے سے پچیس گنا ثواب زیادہ ملتا ہے۔ کیونکہ جب کوئی شخص تم میں سے وضو کرے اور اس کے آداب کا لحاظ رکھے پھر مسجد میں صرف نماز کی غرض سے آئے تو اس کے ہر قدم پر اللہ تعالیٰ ایک درجہ اس کا بلند کرتا ہے اور ایک گناہ اس سے معاف کرتا ہے۔
اس طرح وہ مسجد کے اندر آئے گا۔ مسجد میں آنے کے بعد جب تک نماز کے انتظار میں رہے گا۔ اسے نماز ہی کی حالت میں شمار کیا جائے گا اور جب تک اس جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے اس کے لیے رحمت خداوندی کی دعائیں کرتے ہیں ((اللهم اغفر له،‏‏‏‏ ‏‏‏‏اللهم ارحمه)) اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم کر۔ جب تک کہ ریح خارج کر کے (وہ فرشتوں کو) تکلیف نہ دے۔
الراوي : أبو هريرة | المحدث : البخاري | المصدر : صحيح البخاري | الصفحة أو الرقم : 477 | خلاصة حكم المحدث : [صحيح] | التخريج :أخرجه البخاري (477) واللفظ له، ومسلم (649)۔

📚دوسری حدیث
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” مَا تَوَطَّنَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاةِ وَالذِّكْرِ إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ لَهُ، كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ “.
حكم الحديث: صحيح
حضرتِ ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتےہ یں کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو مسلمان نماز اور ذکر کے لیے مساجد میں بیٹھتا ہے۔ تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس پر ایسے خوش ہوتا ہے۔ جیسے اہلِ غائب، اپنے کسی غائب (بچھڑے ہوئے) شخص کے آنے پر خوش ہوتے ہیں‘‘۔
(الألباني صحيح ابن ماجه ٦٥٩ • صحيح )
(أخرجه ابن ماجه _٨٠٠) واللفظ له، (وأحمد_٨٣٥٠)

📚 *تیسری حدیث*
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ فَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ وَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا قَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، وَقَدْ حَسَرَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ : ” أَبْشِرُوا ؛ هَذَا رَبُّكُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلَائِكَةَ، يَقُولُ : انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي قَدْ قَضَوْا فَرِيضَةً وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى “.
حكم الحديث: صحيح
حضرتِ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی۔ پس جو لوگ چلے گئے، چلے گئے اور جو بیٹھے رہے۔ پس رسول اللہﷺ جلدی جلدی آئے۔ آپ کا سانس پھولا ہوا تھا، اور جلدی کی وجہ سے کپڑا گھٹنوں سے اٹھا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’خوش ہوجاؤ کہ تمہارے رب نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھولا ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ تمہاری وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ ’’میرے بندوں کی طرف دیکھو ایک فریضہ ادا کرچکے ہیں،اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں‘‘۔
الراوي : عبدالله بن عمرو | المحدث : الألباني | المصدر : صحيح ابن ماجه | الصفحةأوالرقم : 660 | خلاصةحكم المحدث : صحيح | التخريج :أخرجه ابن ماجه (801) واللفظ له،وأحمد (6946)

📚چوتھی حدیث:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللهُ بِهِ الْخَطَايَا، وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ؟» قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَذَلِكُمُ الرِّبَاطُ»
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ایسی چیز سے آگاہ نہ کروں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے ؟ ‘‘ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا :’’ ناگواریوں کے باوجود اچھی طرح وضوکرنا ، مساجد تک زیادہ قدم چلنا ، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، سو یہی رباط ( شیطان کے خلاف جنگ کی چھاؤنی ) ہے ۔‘‘
(صحیح مسلم حدیث نمبر_251)

*تیسری نیت یہ کہ:*
اپنی سماعت، بصارت اور دیگر اعضا کو حرکت نہ دے کر جزوی راہبانیت اختیار کرے؛ کیونکہ اعتکاف میں بھی اپنے آپ کو بند اور قید کرنا ہوتا ہے، اور یہی مفہوم روزے میں بھی پایا جاتا ہے جو کہ راہبانیت کی جزوی شکل ہے۔

*چوتھی نیت:*
تمام تر توجہ اللہ تعالی پر مرکوز رکھنے کی نیت کرے، اور اپنی تمام تر سوچ فکر آخرت میں لگا دے، اللہ تعالی سے مشغول کرنے والی چیزوں سے دور رہنے کے لیے مسجد میں بیٹھے رہنے کی نیت کرے۔

*پانچویں نیت:*
اللہ تعالی کے ذکر ، یا ذکر الہی سننے اور اللہ کو یاد کرنے کی نیت سے تنہائی اختیار کرے۔

*چھٹی نیت:*
کسی کو نیکی کا حکم کرنے یا برائی سے روکنے کی نیت کر کے مسجد میں رکے؛ کیونکہ مسجد میں ایسے لوگ آ سکتے ہیں جو نماز صحیح انداز میں ادا نہ کریں، یا ایسا کام کریں کہ جو ان کے لیے حلال ہی نہ ہو۔

*ساتویں نیت:*
اللہ کے لیے کسی سے دوستی بنانے کی نیت کرے۔

*آٹھویں نیت:*
اللہ سے حیا کرتے ہوئے گناہوں کو ترک کر دے، اور اللہ کے گھر کا احترام کرتے ہوئے ایسی کوئی حرکت نہ کرنے کی نیت کرے جس سے مسجد کے احترام میں خلل آتا ہو۔

*تو یہ طریقے ہیں نیک کاموں میں ایک سے زائد نیت کرنے کے، آپ اسی طرح دیگر تمام جائز اور مباح کاموں میں کرتے چلے جائیں؛ کیونکہ ہر نیکی کے کام میں ایک سے زائد نیتیں کرنے کی گنجائش رہتی ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ ان نیتوں کا مومن کے دل میں استحضار اتنا ہی ہوتا ہے جتنی نیکیاں کرنے کی دل میں تمنا ہوتی ہے، جس قدر انسان کو نیکیوں کے لیے تڑپ ہوتی ہے، اور ان کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ اس طریقے سے اعمال کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے اور نیکیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔*

📙الشیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“جس وقت انسان دو رکعت پڑھتے ہوئے وضو کے نوافل کی نیت کرے ، اور پھر جب وضو کر کے مسجد میں داخل ہو اور دو رکعت نماز تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد کی نیت سے پڑھے تو اسے دونوں کا اجر ملے گا، تحیۃ الوضو کا بھی اور تحیۃ المسجد کا بھی۔ الحمد للہ، اللہ کا فضل بہت وسیع ہے۔ اسی طرح اگر یہی دو رکعتیں ظہر کی سنت مؤکدہ کی نیت سے پڑھنے کے لیے وضو کرے اور مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت ظہر کی سنت مؤکدہ، تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد کی نیت سے پڑھے تو اسے تینوں کا اجر ملے گا، الحمد للہ۔”(فتاوى نور على الدرب_ج11/ 57)
( ماخذ: الاسلام سوال و جواب)

*لہٰذا جب بھی کوئی کام کریں تو کوشش کریں اس میں متعدد اچھی نیتیں کر لیں تا کہ ایک عمل پر آپکو زیادہ اجر مل سکے*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

___________&______________

📙کیا شوال کے نفلی روزوں میں رمضان کے قضاء روزوں کی نیت کر سکتے ہیں؟
((جواب کیلئے دیکھیں سلسلہ نمبر-125))

__________&_______________

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 👇

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں