56

سوال- کسی خاص مسجد یا مقدس مقام کو متبرک سمجھنا یا وہاں نماز پڑھنے کیلئے دور دراز کا سفر کرنا کیسا ہے؟ اور کیا حج و عمرہ کیلئے جاتے ہوئے روضہ رسول، غار حرا، غار ثور وغیرہ کی زیارت کی نیت کر سکتے ہیں؟ نیز صحابہ کرام یا اولیائے کرام کی قبروں/مزاروں کی زیارت کیلئے جانا اور وہاں نوافل پڑھنا کیسا ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-367”
سوال- کسی خاص مسجد یا مقدس مقام کو متبرک سمجھنا یا وہاں نماز پڑھنے کیلئے دور دراز کا سفر کرنا کیسا ہے؟ اور کیا حج و عمرہ کیلئے جاتے ہوئے روضہ رسول، غار حرا، غار ثور وغیرہ کی زیارت کی نیت کر سکتے ہیں؟ نیز صحابہ کرام یا اولیائے کرام کی قبروں/مزاروں کی زیارت کیلئے جانا اور وہاں نوافل پڑھنا کیسا ہے؟

Published Date: 25-1-2022
جواب!
الحمدللہ!

*کسی جگہ کو خصوصاً متبرک سمجھنا، وہاں حاضری کو افضل سمجھنا اور تقرب و خصوصی ثواب کی نیت سے دور دراز کا سفر کر کے مشقت اٹھا کر وہاں جانا جائز نہیں، خواہ وہ مسجد ہو یا کوئی قبر وغیرہ۔ یہ فضیلت صرف تین مساجد کو حاصل ہے: مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔ صرف ان کی زیارت کے لیے اور وہاں اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی نیت سے سفر کر کے جانا جائز ہے۔ ان کے علاوہ کسی اور مسجد یا قبر وغیرہ کے ساتھ ان جیسا خصوصی سلوک کرنا ان تین افضل مساجد کی توہین ہے جو قطعاً جائز نہیں،*

دلائل ملاحظہ فرمائیں..!

*دنیا میں کسی بھی مقدس مقام کو متبرک ماننا شرعی طور پر جائز نہیں یہ واقعہ پڑھیں!*

📚 سیدنا ابو واقد لیثیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ
أَنَّهُمْ خَرَجُوا عَنْ مَكَّةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ، قَالَ : وَكَانَ لِلْكُفَّارِ سِدْرَةٌ يَعْكُفُونَ عِنْدَهَا، وَيُعَلِّقُونَ بِهَا أَسْلِحَتَهُمْ، يُقَالُ لَهَا : ذَاتُ أَنْوَاطٍ ، قَالَ : فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ خَضْرَاءَ عَظِيمَةٍ، قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” قُلْتُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى : { اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةً قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ }، إِنَّهَا السُّنَنُ، لَتَرْكَبُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ سُنَّةً سُنَّةً ”
ہم لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ساتھ حنین کے لیے مکہ مکرمہ سے نکلے، کافروں کی ایک( متبرک) بیری تھی، وہ اس کے پاس قیام کرتے تھے اور اس کے ساتھ اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے (اور مجاور بن کر اس کے اردگرد بیٹھتے تھے)، اس بیری کو ذات ِ انواط کہتے تھے، پس ہم سبز رنگ کی ایک بڑی بیری کے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات ِ انواط بنائیں، جیسا کہ کافروں کی ذات ِ انواط ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے تو وہی بات کہی، جو موسیٰؑ کی قوم نے کہی تھی،
جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿ اِجْعَلْ لَّنَا اِلـٰهًا کَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ﴾
اے موسی! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں، آپ نے کہا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ (اعراف: ۱۳۸)
یہ مختلف طریقے ہیں، البتہ تم ضرور ضرور اور ایک ایک کر کے پہلے والے لوگوں کے طریقوں کو اپناؤ گے
(مسند أحمد | مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ | حَدِيثُ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ ،حدیث نمبر-21897)
اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین
(سنن ترمذی حدیث نمبر-2180)

📚عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَقَبَّلَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ
عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے بوسہ دیا اور فرمایا ”میں خوب جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، نہ کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے میں نہ دیکھتا تو میں بھی کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔“
(صحیح بخاری حدیث نمبر-1597)

*مقصد حجر اسود کو سنانا نہیں بلکہ لوگوں کو بتاتا،سمجھانا تھا کہ بذات خود حجر اسود بھی متبرک نہیں۔۔۔ بوسہ اس لیے دیتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کیا تھا اس لیے ہم بھی کرتے*

________&________

*تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد یا مقدس مقام کو متبرک سمجھنا یا اس کی زیارت کیلئے ثواب کی نیت سے دور دراز سفر کر کے جانا جائز نہیں*

📚صحیح بخاری
کتاب: نماز قصر کا بیان
باب: باب: مکہ اور مدینہ کی مساجد میں نماز کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1189
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ “لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، ‏‏‏‏‏‏الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى”.
ترجمہ:
(دوسری سند) ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تین مسجدوں کے سوا کسی کے لیے کجاوے نہ باندھے جائیں۔ (یعنی سفر نہ کیا جائے) ایک مسجد الحرام، دوسری رسول اللہ ﷺ کی مسجد (مسجد نبوی) اور تیسری مسجد الاقصیٰ یعنی بیت المقدس۔

📚سنن نسائی
کتاب: مسجد سے متعلق احکام و مسائل
کن مساجد کی طرف دور دراز سے قصداً آنا جائز ہے ؟
حدیث نمبر: 701
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِي هَذَا وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى _ (حكم الحديث صحيح )
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تین مساجد کے علاوہ کسی جگہ کی طرف دور دراز سے سواریاں کس کے نہ جایا جائے۔ (اور وہ تین مسجدیں یہ ہیں): مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔‘‘

*حدیث میں بیان ہے کہ مسجد حرام، مسجد نبوی اور بیت المقدس کے علاوہ تقرب الی اللہ اور حصول ثواب کی نیت سے کسی دوسری جگہ سفر کر کے جانا جائز نہیں ہے، جب ان تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سفر کرنا جائز نہیں ،تو مزارات اور صالحین کے آثار کی زیارت کےلئے سفر کیونکر جائز ہوسکتا ہے؟ ائمہ اربعہ اور دیگر فقہا کے نزدیک تو مسجد قبا کی زیارت کے لئے دور دراز سے سفر کرکے جانا بھی جائز نہیں ہے۔ ہاں مدینہ منورہ سے مسجد قبا کی طرف ارادہ کرکے جانا اور وہاں نماز پڑھنا مستحب ہے، جبکہ قباء مسجد میں نماز کی فضیلت صحیح حدیث سے ثابت ہے*

جیسا کہ حدیث میں ہے!

📚سنن ابن ماجہ
کتاب: اقامت نماز اور اس کا طریقہ
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت
حدیث نمبر: 1412
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكَرْمَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولَ:‏‏‏‏ قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَتَى مَسْجِدَ قُبَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى فِيهِ صَلَاةً كَانَ لَهُ كَأَجْرِ عُمْرَةٍ.
ترجمہ:
سہل بن حنیف ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر مسجد قباء آئے اور اس میں نماز پڑھے، تو اسے ایک عمرہ کا ثواب ملے گا ۔
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/المساجد ٩ (٧٠٠)، (تحفة الأشراف: ٤٦٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٨٧) (صحیح )

📚اور حدیث میں بیان ہے کہ
‘‘رسول اللہﷺ ہر ہفتہ کے دن پیدل یا سوار ہوکر مسجد قبا تشریف لے جاتے اور وہاں نماز ادا کرتے تھے۔’اور رسول اللہﷺ کی اس سنت پر عمل کرنے کے لئے حضرت عبدا للہ بن عمرؓ بھی مسجد قبا جایا کرتے تھے۔
(صحیح بخاری ،فضل الصلوۃ:1193)

*بعض لوگ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس عمل کو بھی دلیل بنا کر مزاروں اور مقدس مقامات پر جا کر نماز پڑھنے کو جائز کہتے۔۔۔۔!*

اسکا جواب یہ ہے کہ..!

*قبا مدینہ سے تقریباً تین میل کے فاصلہ پر ایک مشہور گاؤں ہے۔ جہاں ہجرت کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چند روز قیام فرمایا تھا اور یہاں آپ نے اولین مسجد کی بنیاد رکھی جس کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اس اولین مسجد سے اس قدر محبت تھی کہ آپ ہفتہ میں ایک دفعہ یہاں ضرور تشریف لاتے اور اس مسجد میں دو رکعت تحیۃ المسجد ادا فرمایا کرتے تھےآپ کے تشریف لے جانے کا اصل مقصد اپنی ابتدائی مسجد کی عزت افزائی اور وہاں کے مسلمانوں سے ملاقات تھا کیونکہ یہ مسجد مدینہ سے دور تھی۔ ان لوگوں کا آپ کے پاس آنا مشکل تھا، بجائے اس کے کہ وہ سب آتے، آپ کا وہاں تشریف لے جانا آسان تھا۔ اس طرح وہاں کے لوگوں سے ملاقات بھی ہو جایا کرتی تھی۔ اور حضرت ابن عمر رض چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر عمل کو بڑا نوٹ کرتے تھے ۔۔ اس لیے ابن عمر رض بھی قبا مسجد جا کر نماز پڑھتے، لیکن انکے اس عمل سے بھی دور دراز سے تقریب اور تبرک کا قصد کر کے مسجد قباء میں جانا درست نہیں کیونکہ یہ خصوصیت مساجد ثلاثہ (بیت اللہ، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ) ہی کو حاصل ہے، البتہ قرب و جوار سے مسجد قباء میں آنا فضیلت کا باعث ہے، اور ابن عمر رض بھی چونکہ پاس ہی تھے اس لیے انکا عمل جائز تھا،*

*یعنی جو شخص مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی زیارت کی نیت سے حاضر ہوا ہو یا مدینہ منورہ کا باسی ہو، وہ مسجد قباء کو جائے تاکہ یہ فضیلت حاصل کرسکے۔ لیکن کوئی شخص خاص صرف مسجد قباء کی زیارت یا وہاں نماز پڑھنے کیلئے دور دراز سے سفر کر کے نا جائے، اس طرح سب احادیث پر عمل ہو جائے گا۔ واللہ أعلم۔*

*اور شروع میں مذکورہ حدیث سے یہ نہ سمجھا جائے کہ سفر کےمتعلق امتناعی حکم صرف مساجد سے متعلق ہے ، مزار یا بزرگوں کے آثار اس کے حکم کے تحت نہیں آتے،کیونکہ نزول شریعت کے چشم دید گواہ حضرات صحابہ کرامؓ نے اس امتناعی حکم کو مساجد اور غیر مساجد کے لئے عام رکھا ہے، جیسا کہ آگے دلائل جو آ رہے ان سے واضح ہوتا ہے*

📙بعض لوگ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے عمل کو دلیل بناتے کہ وہ کوہ طور پر نماز پڑھنے کیلئے گئے تھے، لہذا مقدس مقامات کی زیارت یا نوافل پڑھنے کیلئے جانا جائز ہے، حالانکہ اس روائیت میں مکمل وضاحت موجود ہے مگر لوگ پوری حدیث نہیں سناتے،

وہ مکمل روائیت ملاحظہ فرمائیں!

📚 [عن أبي بصرة الغفاري:] عن أبي هريرةَ أنهُ قال أتيتُ الطورَ فصلَّيتُ فيهِ فلقيتُ جُمَيْلَ بنَ بصرةَ الغِفاريَّ فقال من أينَ جئتَ فأخبرتهُ فقال لو لقيتُكَ قبلَ أن تأتيَه ما جئتهُ ، سمعتُ رسولَ اللهِ ﷺ يقولُ لا تُضربُ المَطايا إلا إلى ثلاثةِ مساجدَ
(إلى المسجدِ الحرامِ، وإلى مسجِدي هذا، وإلى مسجدِ بيتِ المَقدِسِ.)
یعنی حضرت ابو بصرہ غفاریؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ جب کوہ طور سے واپس آئے تو وہ ان سےملے اور انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں؟حضرت ابوہریرہ ؓ نے بتایا کہ میں کوہ طور پر گیا تھا وہاں نماز پڑھ کر واپس آیا ہوں،حضرت ابو بصرہؓ نے کہا اگر مجھے آپ کے وہاں جانے کا پہلے علم ہوجاتا تو آپ وہاں نہ جاتے ،کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین مساجد کے علاوہ کسی دوسری مسجد کی طرف رخت سفر نہیں باندھنا چاہیے وہ یہ ہیں مسجد حرام،مسجد نبوی اورمسجد اقصیٰ
(سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث_1431)
کتاب: مساجد کے فضائل و مسائل/ باب: وہ مساجد جن کے لیے سفر کرنا جائز ہے۔
(الألباني صحيح النسائي ١٤٢٩ • صحيح)
(الألباني إرواء الغليل ٣‏/٢٢٨ • إسناده صحيح)
شعيب الأرنؤوط تخريج مشكل الآثار ٥٨٤ • إسناده صحيح على شرطهما)
(مسند أحمد_23848)
(شعيب الأرنؤوط تخريج سير أعلام النبلاء ١٩‏/ ٢٥٠ • إسناده صحيح)

*حضرت ابو ہریرہؓ کے متعلق کوہ طور پر جانے کا تذکرہ اس حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے،یہ حدیث سننے کے بعد حضرت ابوہریرہؓ اسے خود بیان کیا کرتے تھے،جیسا کہ بخاری کے حوالہ سے پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ یعنی کوہ طور پر جانے سے پہلے ابو ہریرہ رض کو اس حدیث کا علم نہیں تھا، اس لیے وہ کوہ طور پر زیارت اور نفل پڑھنے گئے، لیکن جب انکو علم ہوا تو وہ خود یہ حدیث آگے لوگوں کو سنایا کرتے تھے،*

مزید یہ روائیت ملاحظہ فرمائیں!
📚حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ شَهْرٍ ، قَالَ : لَقِينَا أَبَا سَعِيدٍ وَنَحْنُ نُرِيدُ الطُّورَ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ” لَا تُشَدُّ الْمَطِيُّ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ “.
حكم الحديث: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ ہم چند لوگ کوہ طور پر جانے کا ارادہ کئے ہوئے تھے، اس دوران ہماری حضرت ابوسعید ؓ سے ملاقات ہوئی اور ہم نے آپ سے اپنے ارادہ کا اظہار کیا تو آپ نے ہمارے سامنے رسول اللہﷺ کی ایک حدیث بایں الفاظ بیان فرمائی:‘‘ تین مساجد کے علاوہ کسی طرف(تقرب الہٰی کی نیت سے)سواری کو استعمال نہیں کرنا چاہیے ، ان میں سے ایک مسجدحرام ،دوسری مسجد مدینہ اور تیسری مسجد اقصیٰ ہے’’
یہ حدیث صحیح ہے مگر یہ سند ضعیف ہے،
(مسند احمد، مُسْنَدُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. _11883)

📚حضرت قزعہ ؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ سے فرمایا کہ میں جبل طور پر جانا چاہتا ہوں،آپ نے رسول اللہﷺ کے فرمان کا ذکر کیا کہ مسجد حرام،مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کے علاوہ کسی جگہ کا (تقرب الہٰی کی نیت)سے قصداًسفر کرنا منع ہے،لہٰذا تم جبل طور پر جانے کا ارادہ ترک کردو۔
(مجمع الزوائد ،ص:۴،ج ۴)

📙پھر حدیبیہ کے مقام پر جس درخت کے زیر سایہ’’بیعت رضوان‘‘ کا انعقاد ہوا تھا،
یعنی یہ وہ درخت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس درخت کے نیچے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بیعت لی تھی تو بعد میں کچھ لوگوں نے اسی درخت یا اسکے مغالطہ میں کسی اور درخت کو متبرک سمجھنا شروع کر دیا اور اسکے نیچے جا کر نمازیں پڑھنا شروع کر دیں،جب اس کے بارے میں خلیفہ راشد عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ لوگ اسے متبرک سمجھ کر اس کی زیارت کے لیے اہتمام کرتے ہیں، وہاں نمازیں پڑھتے ہیں تو اس کو جڑ سے کٹوا پھینکا باوجود کہ اس درخت عظیم کا تذکرہ کتاب الٰہی میں بھی موجود ہے۔ جو اس کی عظمت پر دالّ ہے،

📚حافظ ابن حجر رحمہ اللہ
كہتے ہيں:
أنَّ عمرَبلغَهُ أنَّ قومًا يأتونَ الشَّجرةَ فيصلُّونَ عندَها فتوعَّدَهُم ثمَّ أمرَ بقطعِها فقُطِعَت
عمر رضى اللہ تعالى عنہ كو علم ہوا كہ كچھ لوگ جا كر درخت كے نيچے نماز ادا كرتے ہيں تو انہوں نے انہيں وعيد(ڈانٹ،ڈنپٹ) پلائى اور پھر اس درخت كو كاٹنے كا حكم جارى كر ديا ”
(ابن حجر العسقلاني (٨٥٢ هـ)،
( فتح الباري لابن حجر ٧/٥١٣ • إسناده صحيح)
(علامہ العيني حنفی (٨٥٥ هـ)،
عمدة القاري ١٧/٢٩٤ • إسناده صحيح)
(مصنف ابن ابی شیبہ_7545)

📚مزید یہ روایت ملاحظہ فرمائیں!
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ، ﻋﻦ اﻷﻋﻤﺶ، ﻋﻦ اﻟﻤﻌﺮﻭﺭ ﺑﻦ ﺳﻮﻳﺪ ﻗﺎﻝ: ﺧﺮﺟﻨﺎ ﻣﻊ ﻋﻤﺮ ﻓﻲ ﺣﺠﺔ ﺣﺠﻬﺎ، ﻓﻘﺮﺃ ﺑﻨﺎ ﻓﻲ اﻟﻔﺠﺮ: ﺃﻟﻢ ﺗﺮ ﻛﻴﻒ ﻓﻌﻞ ﺭﺑﻚ ﺑﺄﺻﺤﺎﺏ اﻟﻔﻴﻞ، ﻭﻹﻳﻼﻑ ﻗﺮﻳﺶ، ﻓﻠﻤﺎ ﻗﻀﻰ ﺣﺠﻪ ﻭﺭﺟﻊ ﻭاﻟﻨﺎﺱ ﻳﺒﺘﺪﺭﻭﻥ ﻓﻘﺎﻝ: «ﻣﺎ ﻫﺬا؟» ﻓﻘﺎﻟﻮا: ﻣﺴﺠﺪ ﺻﻠﻰ ﻓﻴﻪ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﻓﻘﺎﻝ: «ﻫﻜﺬا ﻫﻠﻚ ﺃﻫﻞ اﻟﻜﺘﺎﺏ، اﺗﺨﺬﻭا ﺁﺛﺎﺭ ﺃﻧﺒﻴﺎﺋﻬﻢ ﺑﻴﻌﺎ، ﻣﻦ ﻋﺮﺿﺖ ﻟﻪ ﻣﻨﻜﻢ ﻓﻴﻪ اﻟﺼﻼﺓ ﻓﻠﻴﺼﻞ، ﻭﻣﻦ ﻟﻢ ﺗﻌﺮﺽ ﻟﻪ ﻣﻨﻜﻢ ﻓﻴﻪ اﻟﺼﻼﺓ ﻓﻼ ﻳﺼﻞ»
ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بحالت سفر ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ پھر دیکھا کہ لوگ ادھر اُدھر جا رہے ہیں۔ دریافت کیا کہ یہ کہاں جاتے ہیں؟ کہا گیا: اے امیر المومنین! ایک مسجد ہے جس میں رسول اللہﷺ نے نماز پڑھائی تھی یہ اسی جگہ نماز پڑھتے ہیں۔ فرمایا: پہلی امتیں اسی وجہ سے ہلاک ہو گئیں کہ انھوں نے انبیاء ؑ کے آثار کی پیروی میں ان جگہوں میں عبادت خانے اور گرجے بنا لیے۔
لہذا جس شخص کو ان مسجدوں میں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھے ورنہ گزر جائے،
( مصنف ابن ابی شیبۃ، کتاب الصلوات ، باب فی الصلاۃ عند قبر النبی ﷺ و إتیانہ ،رقم الباب:۶۶۱، (۲/۱۵۳)، حدیث نمبر: 7550)
یعنی جو شخص وہاں سے گزرے کہ جہاں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی تھی اور اس وقت نماز کا ٹائم بھی ہو جائے تو وہ وہاں پر نماز پڑھ لے، لیکن کسی کیلئے جائز نہیں کہ ان جگہوں کو تلاش کر کے یا سفر کر یہاں پر خاص نماز پڑھنے آئے،

*اوپر ذکر کردہ ان تمام احادیث سے معلوم ہوا کہ تین مساجد کے علاوہ کسی اور جگہ عبادت یا زیارت کی نیت سے جانا منع ہے،لہٰذ ا اس حکم امتناعی کو صرف مسجد سے خاص کرنا صحیح نہیں ،کیونکہ مذکورہ صحابہ کرام ؓ سے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کوہ طور پر قصداً عبادت یا زیارت کی نیت سے سفر کرنا منع ہے اور جبل طور پر مسجد نہیں بلکہ ایک مقدس مقام ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت موسیٰ ؑ نے رب کائنات سے گفتگو کی تھی،*
*لہذٰا جب شرعی طور پر تین مساجد کے علاوہ باقی مساجد جن میں نبی اکرم نے نمازیں پڑھیں انکی طرف رخت سفر باندھنا شرعاً جائز نہیں، اور جبل طور اور بیعت رضوان والی جگہ کی ثواب کی نیت سے زیارت یا وہاں پر نوافل پڑھنا جائز نہیں تو درباروں مزاروں کی زیارت یا وہاں نمازیں پڑھنا کیونکر جائز ہو سکتا ہے، جبکہ وہ شرک اور گناہوں کے اڈے ہیں اور ویسے بھی اسلام میں پکی قبریں مزارات وغیرہ بنانا حرام ہے*

__________&___________

*یہاں پر ہم سعودی فتاوٰی ویبسائٹ “الاسلام سوال وجواب islamqa.info” سے کچھ فتوے نقل کرتے ہیں*

📙سعودی مفتیوں سے سوال پوچھا گیا کہ!
غار حراء اور غار ثور ميں جانے كا کیا حكم ؟

📚 *جواب کا متن*
اگر تو غار حراء ميں جانے كا مقصد اللہ كا قرب حاصل كرنا ہو تو يہ نئى ايجاد كردہ بدعت ہے اس كى كوئى شرعى دليل نہيں ملتى، اور پھر عبادات ميں اصل توقيف ہے يعنى جس طرح عبادات مشروع ہيں اسى طرح بجا لانا ہونگى ان ميں كوئى كمى يا زيادتى نہيں كى جا سكتى، لہذا وہى مشروع ہو گى جو اللہ تعالى نے يا پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مشروع كى ہو.
اور اگر صرف ديكھنے اور مطالعہ كى غرض سے ہو تو اس سے نہيں روكا جا سكتا، ليكن اگر انسان كو خدشہ ہو كہ جاہل قسم كے لوگ اس سے دھوكہ كھائينگے اور جائز سمجھنا شروع كر دينگے اور وہ بھى اس كى اقتدا كرينگے اور وہاں جانا قرب كا باعث اور عبادت خيال كرينگے تو پھر ديكھنے اور مطالعہ كى غرض سے بھى وہاں جانا جائز نہيں.
📚شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:
” مكہ مكرمہ ميں مسجد حرام كے علاوہ باقى دوسرى مساجد كى زيارت كرنا مثلا صفا پہاڑى سے نيچے جو مسجد بنائى گئى ہے اور جو ابو قبيس پہاڑ كے دامن ميں مسجد ہے يا دوسرى مساجد ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اورصحابہ كرام كے آثار پر بنائى گئى ہيں، نہ تو ان كى زيارت كرنا سنت ہے، اور نہ ہى آئمہ كرام ميں سے كسى نے اس كى مستحب قرار ديا ہے.
بلكہ مشروع تو يہ ہے كہ خاص كر مسجد حرام ميں جايا جائے، اور باقى مشاعر مقدسہ يعنى ميدان عرفات اور مزدلفہ اور صفا و مروہ اور اسى طرح پہاڑوں پر جانا اور مكہ كے ارد گرد مشاعر مقدسہ كے علاوہ دوسرى جگہوں مثلا جبل حراء اور منى كے قريب پہاڑ جس كے متعلق كہا جاتا ہے كہ وہاں فداء كا قبہ تھا وغيرہ جگہوں ميں جانا نہ تو سنت ہے اور نہ رسول ان جگہوں كى زيارت كرنا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے، بلكہ ايسا كرنا بدعت شمار ہو گا ” انتہى
(ماخوذ از: مجموع فتاوى ابن تيميۃ (ج 26 / ص144 )

📚شيخ الاسلام رحمہ اللہ نے يہ بھى ذكر كيا ہے كہ:
” نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنا چوتھا عمرہ حجۃ الوداع كے ساتھ ادا كيا اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم كے ساتھ بہت سارے مسلمان تھے آپ سے پيچھے كوئى بھى مسلمان نہيں رہا مگر جسے اللہ نے چاہا، اور اس سارے عرصہ ميں نہ تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور نہ ہى كوئى صحابى غار حراء گئے اور نہ ہى اس كى زيارت كى اور اس كے علاوہ مكہ كے ارد گرد كسى اور جگہ كى زيارت بھى نہيں كى، وہاں صرف عبادت مسجد حرام ميں اور صفا و مروہ كے مابين سعى ميں اور منى و مزدلفہ اور ميدان عرفات ميں..
پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بعد خلفاء راشدين اور باقى سابقين اولين صحابہ كرام بھى كبھى غار حراء ميں نہيں گئے اور نہ ہى وہاں جا كر نماز ادا كى اور نہ ہى اس ميں دعاء كى.
يہ تو معلوم ہى ہے كہ اگر ايسا كرنا مشروع اور مستحب ہوتا جس پر اللہ تعالى اجروثواب ديتا ہے تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو سب لوگوں سے زيادہ اس كا علم ہوتا، اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام بھى اس كو جانتے ہوتے، كيونكہ صحابہ كرام سب سے زيادہ اس كا علم ركھتے تھے، اور اپنے بعد آنے والوں كو اس كى رغبت ديتے.
جب ان ميں سے كسى ايك نے بھى اس كى طرف التفات بھى نہيں كيا تو اس سے يہ معلوم ہوا كہ يہ نئى ايجاد كردہ بدعت ہے جسے وہ عبادت اور اللہ كا قرب اور اطاعت شمار نہيں كرتےتھے، اس ليے جس نے بھى اسے عبادت اور اللہ كا قرب اور اطاعت قرار ديا تو اس نے صحابہ كرام كے علاوہ كسى اور كا طريقہ اختيار كيا اور دين ميں وہ چيز مشروع كى جس كى اللہ نے اجازت نہيں دى ” انتہى
(ماخوذ از: اقتضاء الصراط المستقيم ( 425 ).

________&_______

📙مستقل فتوى كميٹى كے علماء سے درج ذيل سوال كيا گيا:
جبل نور پر چڑھتے اور اترتے ہوئے كئى ايك حجاج كے گرنے كا حادثہ ہو چكا ہے، بعض لوگ يہ تجويز ديتے ہيں كہ وہاں سيڑھياں تعمير كر كے باقى سارى اطراف ميں لوہے كى جالى لگا كر بند كر ديا جائے تا كہ صرف مخصوص كردہ راستہ سے ہى اوپر اور نيچے آ جا سكيں كيا ايسا كرنا صحيح ہے ؟

📚كميٹى كے علماء كا جواب تھا:
” مذكورہ غار پر جانا نہ تو حج كے شعار ميں شامل ہے اور نہ ہى اسلام كى سنت ميں، بلكہ يہ بدعت اور اللہ كے ساتھ شرك كے ذرائع ميں شامل ہوتا ہے، اس بنا پر لوگوں كو وہاں چڑھنے سے روكنا چاہيے، اور اوپر جانے ميں آسانى پيدا كرنے كے ليے وہاں سيڑھياں تعمير نہيں كريں؛
📚 تا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے اس فرمان پر عمل كيا جا سكے:
” جس كسى نے بھى ہمارے اس معاملہ ( دين ) ميں كوئى ايسا كام نكالا جو اس ميں سے نہيں تو وہ مردود ہے ” متفق عليہ.
وحى كے نزول كى ابتدا ہونے كو چودہ صديوں سے زيادہ عرص بيت چكا ہے، ہمارے علم ميں تو نہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے خلفاء ميں سے كسى ايك خليفہ نے اور يا كسى صحابى نے ايسا كيا ہو، بلكہ آئمہ كرام ميں سے بھى كسى ايك سے ايسا كرنا ثابت نہيں جنہيں ماضى كى تاريخ ميں مشاعر مقدسہ كى ذمہ دارى سونپى گئى كہ انہوں نے ايسا كيا ہو.
اور پھر يہ ياد ركھيں كہ سارى خير و بھلائى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام كے طريقہ كى اتباع كرنے ميں ہے، اور يہى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے منہج كے موافق ہے اور پھر شرك كے سد ذرائع ميں شامل ہوتا ہے ” انتہى
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 359 ).

📚اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:
” بعض لوگ عمدا غار حراء ميں يہ خيال كرتے ہوئے جاتے ہيں كہ ايسا كرنا سنت ہے، حالانكہ ايسا نہيں، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم تو نبوت سے قبل غار حراء ميں كئى راتيں عبادت كيا كرتے تھے، اور جب آپ پر وحى نازل ہوئى تو آپ غار حراء ميں ہى تھے، ليكن اس كے بعد نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم وہاں نہيں گئے اور نہ ہى صحابہ كرام ميں سے كوئى صحابى وہاں گيا.
مكہ ميں ايك اور غار بھى ہے جہاں لوگ جاتے ہيں اور وہ غار ثور كہلاتى ہے جس ميں ہجرت كے وقت رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم چھپے تھے، لوگ وہاں جانے كو بھى قرب كا باعث سمجھتے ہيں، نہ تو يہاں جانا سنت ہے، اور نہ ہى اللہ كے قرب كا باعث ہے، ليكن اگر كوئى شخص صرف اس ليے غار حراء يا غار ثور پر جاتا ہے كہ وہ اس كو ديكھ سكے ليكن وہ اسے قرب نہ سمجھتا ہو تو كيا اسے بھى روكا جائيگا اور يہ عمل غلط كہلائے گا ؟
اس كا جواب يہ ہے كہ:
ا س كا انكار نہيں كيا جائيگا، بلكہ انكار اس شخص پر ہو گا يا اس شخص كو روكا جائيگا جو وہاں جانے كو قرب سمجھتا ہو اور ايسا كر كے اللہ كا قرب حاصل كرتا ہو ” انتہى
ماخوذ از: اللقاء الشھرى ( 65 / 3 ).
واللہ اعلم.
______&_____

📙اسی طرح ایک اور سوال پوچھا گیا کہ
إذا أراد الحاج والمعتمر أن يزور المسجد النبوي فهل ينوي زيارة المسجد أم زيارة قبر النبي صلى الله عليه وسلم ، وما هي آداب زيارة المسجد النبوي ؟.
جب کوئی حاجی یا عمرہ کرنے والا مسجد نبوی کی زیارت کرنے کا ارادہ کرے تو وہ مسجد کی زیارت کی نیت رکھے یا قبر نبوی کی زیارت کی؟ اور مسجد نبوی کی زیارت کے کیا آداب ہیں؟

(جواب کا متن)
📚الشیخ محمد بن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“جب کوئی حاجی حج سے قبل یا بعد میں مسجد نبوی کی زیارت کرنا چاہیے تو وہ مسجد نبوی کی زیارت کی نیت کرے قبر نبوی کی زیارت کی نیت مت کرے؛ کیونکہ تعبدی رخت سفر قبروں کی جانب نہیں باندھا جا سکتا، یہ صرف تین مساجد کی جانب ہی باندھا جا سکتا ہے، اور وہ تین مساجد مسجد الحرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصی ہیں، جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت شدہ صحیح حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان موجود ہے کہ:
(تین مساجد کے علاوہ کسی جانب رخت سفر نہیں باندھا جا سکتا : مسجد الحرام، میری یہ مسجد، اور مسجد اقصی)
( بخاری: (1189) مسلم: (1397)

اس لیے جب حاجی مسجد نبوی پہنچے تو داخل ہونے کیلیے اپنا دایاں قدم پہلے رکھے اور کہے:

“بِسْمِ اللَّهِ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذُنُوْبِيْ وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، أَعُوذُ بِاللَّهِ العَظِيمِ، وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ، وَبِسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ”
ترجمہ: اللہ کے نام سے میں داخل ہوتا ہوں، درود و سلام ہوں رسول اللہ پر، یا اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ میں عظمت والے اللہ اور اس کے کرم والے چہرے اور اس کی قدیم سلطانیت کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے۔

یہ دعا پڑھنے کے بعد وہ جس قدر چاہے نفل نماز ادا کر سکتا ہے۔
بہتر یہ ہے کہ نوافل ریاض الجنت میں ادا کرے، یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے منبر اور اس حجرے کے درمیان والی جگہ ہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر مبارک ہے۔ تو یہاں پر نماز ادا کرنے کے بعد قبر نبوی کی زیارت کرنا چاہیے تو وہاں پورے ادب اور وقار کے ساتھ کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُوْلُ اللهِ حَقًّا وَأَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ وَأَدَّيْتَ الَأَمَانَةَ وَنَصَحْتَ الْأُمَّةَ وَجَاهَدْتَ فِيْ اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ، فَجَزَاكَ اللَّهُ عَنْ أُمَّتِك أَفْضَلَ مَا جَزَى نَبِيًّا عَنْ أُمَّتِهِ.
ترجمہ: “اے نبی آپ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہوں، یا اللہ! جناب محمد پر درود نازل فرما، اور جناب محمد کی آل پر بھی جیسے کہ تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر درود نازل فرمایا، بیشک تو ہی تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے۔ یا اللہ! جناب محمد پر برکت نازل فرما، اور جناب محمد کی آل پر بھی جیسے کہ تو نے ابراہیم پر اور آل ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بیشک تو ہی تعریف کے لائق اور بزرگی والا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالی کے سچے رسول ہیں، اور آپ نے پیغام رسالت پہنچا دیا، امانت ادا کر دی اور امت کی بھر پور خیر خواہی فرمائی، آپ نے راہ الہی میں کما حقہ جہاد بھی کیا، تو اس لیے اللہ تعالی آپ کو آپ کی امت کی جانب سے کسی بھی نبی کو اس کی امت کی جانب سے ملنے والے بدلے سے بھی اچھا بدلہ عطا فرمائے۔”

پھر قدرے دائیں جانب ہٹ کر سیدنا ابو بکر صدیق پر سلام پڑھے اور رضائے الہی کی دعا کرے۔
پھر مزید قدرے دائیں جانب ہٹ کر سیدنا عمر بن خطاب پر سلام پڑھے اور رضائے الہی کی دعا کرے، نیز دونوں کیلیے مناسب الفاظ میں دعائیں بھی کرے تو یہ بھی اچھا عمل ہے۔

کسی کیلیے یہ جائز نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے حجرہ کو ہاتھ لگا کر یا اس کا طواف کر کے قرب الہی حاصل کرے، نیز دعا کرتے ہوئے اپنا چہرہ حجرے کی طرف مت کرے بلکہ قبلہ رخ ہو کر دعا کرے؛ کیونکہ قرب الہی اسی طریقے سے حاصل ہو گا جو اللہ تعالی اور اس کے رسول نے شریعت میں رکھا ہے، نیز عبادات کی بنیاد اتباع پر ہوتی ہے، خود ساختہ طریقوں پر عبادت نہیں ہوتی۔
اسی طرح مردوں کو چاہیے کہ بقیع کے قبرستان کی بھی زیارت کرے، یہ مدینہ منورہ کا قبرستان ہے، اور اس قبرستان کی زیارت کرتے ہوئے یہ دعا پڑھے:
السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ، مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ، يَرْحَمُ اللهُ الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنَّا وَمِنْكُمْ وَالْمُسْتَأْخِرِيْنَ، نَسْأَلُ اللهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ، اَللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُمْ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُمْ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُمْ.
ترجمہ: “مومنوں اور مسلمانوں میں سے قبرستان کے مکینو تم پر سلامتی ہو، اور بیشک ہم بھی ان شاء اللہ تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں، اللہ تعالی ہمارے اور تمہارے گزشتہ و پیوستہ سب لوگوں پر رحم فرمائے، ہم اللہ تعالی سے اپنے لیے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۔ یا اللہ! ہمیں ان کے اجر سے محروم مت رکھنا اور ان کے بعد ہمیں آزمائش میں مت ڈالنا، یا اللہ! ہمیں اور انہیں بخش دے۔”
اسی طرح اگر چاہے تو جبل احد جائے اور وہاں جا کر وہ تمام واقعات اپنے ذہن میں اجاگر کرے جو غزوہ احد میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہ کے ساتھ اس غزوے میں ہوئے تھے کہ آپ نے یہاں جہاد کیا، پھر آزمائش آئی اور ایسے ہی اہل ایمان اور نفاق میں امتیاز سامنے آیا، نیز متعدد صحابہ کرام نے جام شہادت نوش کیا، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا حمزہ بن عبد المطلب سمیت تمام شہدائے احد پر سلام پڑھے ، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ ممکن ہے کہ یہ بھی زمین كى سیر میں شامل ہو جس کا حکم دیا گیا ہے، وا للہ اعلم”
واللہ اعلم.
(ماخذ: کتاب: المنهج لمريد العمرة والحج)
الاسلام سوال وجواب islamqa.info

__________&______

*سارے سلسلہ کا خلاصہ یہ ہے کہ تین مساجد کے علاوہ کسی اور جگہ کی زیارت اور فضیلت حاصل کرنے کیلئے رخت سفر نہیں باندھ سکتے، ہاں البتہ کسی جگہ دینی مجلس یا درس و تدریس کیلۓ یا تاریخی معلومات اور سیر و سیاحت کیلئے سفر کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہاں مقصد کسی جگہ کی برکت یا فضیلت حاصل کرنا نہیں بلکہ مقصد دین و دنیا کا علم سیکھنا یا سیر و سیاحت ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص حج و عمرہ کی نیت سے جائے تو وہ روضہ رسول یا صحابہ کرام کی قبروں یا غار ثور ،غار حرا وغیرہ کی زیارت کی نیت نا کرے، بلکہ اسکی نیت حج و عمرہ اور مسجد نبوی، مسجدِ حرام کی فضیلت حاصل کرنا ہو، ہاں البتہ وہاں جا کر وہ برکت حاصل کرنے کی نیت کے بغیر روضہ رسول یا باقی آثار نبوی یا صحابہ کرام کی قبروں پر جا سکتا ہے ، کہ وہاں جا کر وہ ان پر درود و سلام بھیجے اور دعا کرے یا آثار نبوی دیکھ کر علم و نصیحت حاصل کرے، لیکن روضہ رسول ،یا صحابہ کرام کی قبروں یا غار حرا یا غار ثور وغیرہ پر نماز پڑھنا یا قرآن پڑھنا جائز نہیں، اسی طرح انڈیا پاکستان میں لوگ عموماً ہر ہفتے ہر مہینے اور خصوصاً ہر سال درباروں مزاروں پر قافلوں کی صورت میں جاتے ہیں، وہاں نوافل پڑھتے اور جانور ذبح کر کے صدقہ کرتے ہیں جو کہ سرا سر گناہ اور شرک ہے، کسی قبر مزار پر نماز یا صدقہ خیرات جائز نہیں اور شریعت میں ایسا سفر صرف تین مساجد کیلئے خاص ہے جنکا ذکر اوپر ہم کر چکے ہیں، اللہ پاک ہمیں صحیح معنوں میں دین اسلام کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

_______&_______

📙سوال_کیا قبروں کو پکا بنانا،ان پر قبے/مزار بنانا اور نام وغیرہ کی تختیاں لگانا جائز ہے؟
(جواب کیلئے دیکھیں سلسلہ نمبر-21)

📙سوال_کسی قبر یا مزار وغیرہ کو چومنا اور تعظیمی سجدہ کرنا کیسا ہے؟اور کیا قبرستان میں یا دربار/مزار پر نماز،قرآن پڑھنا جائز ہے؟
(جواب کیلئے دیکھیں سلسلہ نمبر-19)

📙سوال_پاکپتن میں ایک دربار پر موجود بہشتی دروازے کی تاریخی اور شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس دروازے کی طرف رخت سفر باندھنے والوں اور جو لوگ اس دروازے سے گزرتے ہیں شریعت میں ان کے بارے کیا حکم ہے؟
(جواب کیلئے دیکھیں سلسلہ نمبر-280)

________&_______

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

الفرقان اسلامک میسج سروس کی آفیشل اینڈرائیڈ ایپ کا پلے سٹور لنک 👇

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.alfurqan

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں