789

سوال_ٹڈی کونسا جانور ہے؟ اور اس کے بارے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ حلال ہے اور اسکو کھانا جائز ہے؟نیز اگر یہ حلال ہے تو کیا یہ ٹڈی کی کوئی خاص قسم ہے یا ہر طرح کی ٹڈی حلال ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-305″
سوال_ٹڈی کونسا جانور ہے؟ اور اس کے بارے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ حلال ہے اور اسکو کھانا جائز ہے؟نیز اگر یہ حلال ہے تو کیا یہ ٹڈی کی کوئی خاص قسم ہے یا ہر طرح کی ٹڈی حلال ہے؟

Published Date: 15-11-2019

جواب:
الحمدللہ:

*ٹڈی کھانا حلال ہے اور بہت سی احادیث میں اسکے حلال ہونے کا ثبوت ملتا ہے،لیکن یاد رہے کہ یہ ٹڈی وہ نہیں ہے جو گھروں میں پائی جاتی اور کپڑوں کو کاٹتی ہے، بلکہ اس سے مراد الجراد یعنی ٹڈی دل ہے،جنکا لشکر فصلوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور انہیں کھا جاتا ہے، انہیں پٹ سن کی بوریوں میں قید کیا جاتا ہے , کیونکہ انکے لیے پٹ سن کھانا محال ہے،*

ٹڈی جمع(ٹڈیاں) الجَرَادُ (عربی) واحد کے لیے جَرَادَةٌ استعمال ہوتا ہے جَرَادَةٌ کا اطلاق نر یا مادہ دونوں پر ہوتا ہے یہ حشرات کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ٹڈیوں کی دو قسمیں ہیں بری، بحری،
یہاں بیان بری یعنی خشکی والی ٹڈی کا ہوگا، حلیہ کے اعتبار سے ٹڈیاں مختلف قسم کی ہوتی ہیں بعض بڑی ہوتی ہیں اور بعض چھوٹی اور بعض سرخ رنگ کی ہوتی ہیں اور بعض زرد رنگ کی اور جبکہ بعض سفید رنگ کی بھی ہوتی ہیں، ٹڈی کی چھ ٹانگیں ہوتی ہیں دو سینے میں دو بیچ میں اور دو آخر میں۔اس جانور کے انڈے دینے کا طریقہ عجیب ہوتا ہے جب انڈے دینے کا ارادہ کرتی ہے تو ایسی سخت اور بنجر زمین کا انتخاب کر تی ہے جہاں کسی انسان کا گزر نہ ہوا ہو، پھر اس زمین پر دم سے اپنے انڈے کے بقدر سوراخ کرتی ہے جس میں وہ انڈا دیتی ہے نیز وہیں رکھے رکھے زمین کی گرمی سے بچہ پیدا ہوجاتا ہے۔ ٹڈی ان پرندوں میں سے ہے جو لشکر کی طرح ایک ساتھ پرواز کرتی ہے اور اپنے سردار کے تابع اور مطیع ہوتی ہیں اگر ٹڈیوں کا سردار پرواز کرتا ہے تو یہ بھی اسی کے ساتھ پرواز کرتی ہیں اور اگر وہ کسی جگہ اترتا ہے تو یہ بھی اسی کے ساتھ اتر جاتی ہیں،

اسکی تصویر دیکھنے اور اس بارے مزید جاننے کے لیے ویکیپیڈیا کا لنک دیکھیں،👇

https://ur.m.wikipedia.org/wiki/ٹڈی

عربی میں الجراد اور الجندب بڑی ٹڈی کے نام ہیں، بعض اوقات حملہ کرتے ہوئے یہ اتنے زیادہ آتے ہیں کہ اگر لوگ ان کا شکار کر کے کھانا چھوڑ دیں تو یہ انسانوں کا رہنا ناممکن کر دیں، جیسے کہ ابھی چند دن پہلے انڈیا کے بارڈر پر ہندوستان کی طرف اور پاکستان میں سندھ کے اندر ٹڈیوں کا حملہ ہوا جس سے بہت سے فصلوں کو نقصان ہوا،

آج بھی ایشیا، شمالی افریقہ ، سوڈان ، ایتھوپیا، اریٹیریا اور مصر سمیت بعض عرب ممالک میں جراد کھائی جاتی ہے ۔
یہود جن پر اس کا عذاب بھیجا گیا تھا ان کی تاریخ اور مذہبی روایات میں بھی یہ غذا کے طور پر استعمال ہوئی ہے ۔ آپ Kosher Locust کے بارے میں مطالعہ کریں تو مزید معلومات ملیں گی،

بہرحال یہ حلال ہے اور دنیا بھر میں مسلمانوں سمیت بہت سے لوگ ان کو کھاتے ہیں،

بعض لوگوں کو اللہ تعالی کی حلال کردہ کھانے کی چیزوں پر اعتراض ہوتے ہیں، اور اپنی ذاتی پسند نا پسند کی وجہ سے اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام یا مکروہ ٹھہرا دیتے ہیں، لیکن گوری چمڑی سے متاثر ہو کر خنزیر کے گوشت کے” ہاٹ ڈاگز” وغیرہ کھانے والوں پر کوئی شرم نہیں آتی، ایک مسلمان کا یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کی حلال کردہ چیزیں ہی طیب اور پاکیزہ ہیں اور اس کی حرام کردہ چیزیں گندی ہیں ۔اگر کوئی حلال غذا سے نفرت کا اظہار کرے تو اسے سورہ المائدہ کی یہ آیات یاد دلائیں،

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں،

اعوذباللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

📚يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّ‌مُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ، وَكُلُوا مِمَّا رَ‌زَقَكُمُ اللَّـهُ حَلَالًا طَيِّبًا ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ الَّذِي أَنتُم بِهِ مُؤْمِنُونَ
ترجمہ:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ نے جو پاکیزه چیزیں تمہارے واسطے حلال کی ہیں ان کو حرام مت کرو اور حد سے آگے مت نکلو، بےشک اللہ تعالیٰ حد سے نکلنے والوں کو پسند نہیں کرتا، اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں سے حلال مرغوب چیزیں کھاؤ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو،
(سورہ المائدہ آئیت نمبر- 87،88)

*ٹڈی کے حلال ہونے کے دلائل احادیث سے*

📚عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں!
غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَوْ سِتًّا كُنَّا نَأْكُلُ مَعَهُ الْجَرَادَ
کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، سات یا چھ غزووں میں شریک ہوئے، ہم آپ کے ساتھ ٹڈی کھاتے تھے،
(صحیح بخاری، حدیث نمبر-5495)
(صحیح مسلم حدیث نمبر-1952)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-3812)
(سنن ترمذی حدیث نمبر-1821)

📚ابو یعفور کہتے ہیں،
سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى،‏‏‏‏ وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْجَرَادِ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَكُنَّا نَأْكُلُهُ مَعَهُ .
میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا اور میں نے ان سے ٹڈی کے متعلق پوچھا تھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات غزوات کئے اور ہم اسے آپ کے ساتھ کھایا کرتے تھے۔
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر- 3812)

*ٹڈی مردار حالت میں بھی حلال ہے*

📚 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
أحلَّت لَكُم ميتتانِ ودَمانِ ، فأمَّا الميتَتانِ ، فالحوتُ والجرادُ ، وأمَّا الدَّمانِ ، فالكبِدُ والطِّحالُ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کر دئیے گئے ہیں: رہے دونوں مردار تو وہ مچھلی اور ٹڈی ہے، اور رہے دونوں خون: تو وہ جگر ( کلیجی ) اور تلی ہے،
(سنن ابن ماجہ حدیث-3314)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردار میں مچھلی اور ٹڈی حلال ہے بقیہ ہرقسم کا مردار حرام ہے سوائے مجبور کے کہ وہ اپنی جان بچانے کی غرض سے مردار کھا سکتا ہے۔

_________&___________

*ٹڈیوں کے متعلق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آثار*

📚ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ اﺑﻦ ﻋﻴﻴﻨﺔ، ﻋﻦ ﺷﺒﻴﺐ، ﻋﻦ ﺟﻨﺪﺏ ﺭﺟﻞ ﻣﻨﻬﻢ: ﺳﺄﻝ اﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﻋﻦ ﺃﻛﻞ اﻟﺠﺮاﺩ، ﻓﻘﺎﻝ: «ﻻ ﺑﺄﺱ ﺑﻪ،
ابن عباس رضی اللہ عنھما سے ٹڈی کھانے کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں،
(مصنف ابن ابی شیبہ،حدیث نمبر-24562)

📚ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺃﺳﺎﻣﺔ، ﻋﻦ ﻋﺒﻴﺪ اﻟﻠﻪ، ﻋﻦ ﻧﺎﻓﻊ، ﻋﻦ اﺑﻦ ﻋﻤﺮ، ﻗﺎﻝ:
ﺫﻛﺮ ﻟﻌﻤﺮ ﺟﺮاﺩ ﺑﺎﻟﺮﺑﺬﺓ، ﻓﻘﺎﻝ:
«ﻟﻮﺩﺩﺕ ﺃﻥ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﻣﻨﻪ ﻗﻔﻌﺔ ﺃﻭ ﻗﻔﻌﺘﻴﻦ
ابن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ سے ربذہ کی ٹڈیوں کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے پسند ہے کہ ان میں سے ایک مٹھی یا دو مٹھی ہمارے پاس ہو،
( مصنف ابن ابی شیبہ،24563)

📚ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺣﻔﺺ، ﻋﻦ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﻋﺒﻴﺪ اﻟﻠﻪ، ﻗﺎﻝ: ﺳﻤﻌﺖ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ، ﻗﺎﻝ: «ﻛﻦ ﺃﻣﻬﺎﺕ اﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﻳﺘﻬﺎﺩﻳﻦ اﻟﺠﺮاﺩ»
ابراہیم کہتے ہیں کہ امہات المومنین رضی اللہ عنھن ایک دوسرے کو ٹڈیوں کا تحفہ دیتی تھیں،
(مصنف ابن ابی شیبہ، 24564)

📚ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪﺓ، ﻋﻦ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﺣﻜﻴﻢ، ﻋﻦ اﻟﺤﺴﻦ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ:
«ﺃﻧﻪ ﻛﺎﻥ ﻳﺒﻐﻲ ﻟﻌﻠﻲ اﻟﺠﺮاﺩ ﻓﻴﺄﻛﻠﻪ»
حسن بن سعد کہتے ہیں وہ علی رضی اللہ عنہ کے لیے ٹڈیاں تلاش کر کے لاتے، پس علی رضی اللہ عنہ انہیں کھاتے تھے،
(مصنف ابن ابی شیبہ، 24565)

📚ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ ﺑﻜﺮ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﺮﺣﻴﻢ، ﻭﻳﺰﻳﺪ ﺑﻦ ﻫﺎﺭﻭﻥ، ﻋﻦ ﺩاﻭﺩ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﻨﺪ، ﻗﺎﻝ: ﺳﺄﻟﺖ ﺳﻌﻴﺪ ﺑﻦ اﻟﻤﺴﻴﺐ ﻋﻦ اﻟﺠﺮاﺩ، ﻓﻘﺎﻝ: ﺃﻛﻠﻪ ﻋﻤﺮ، ﻭاﻟﻤﻘﺪاﺩ ﺑﻦ اﻷﺳﻮﺩ، ﻭﺻﻬﻴﺐ، ﻭﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ، ﻗﺎﻝ: ﻭﻗﺎﻝ ﻋﻤﺮ:
«ﻭﺩﺩﺕ ﺃﻥ ﻋﻨﺪﻱ ﻗﻔﻌﺔ، ﺃﻭ ﻗﻔﻌﺘﻴﻦ»
سعید بن مسیب سے ٹڈیوں کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ حضرت عمر، مقداد بن اسود، صھیب، اور ابن عمر رضی اللہ عنھم انکو کھاتے تھے، اور انہوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کہتے کہ میں پسند کرتا ہوں کہ ان( ٹڈیوں) کی ایک یا دو مٹھی میرے پاس ہو،
(مصنف ابن ابی شیبہ،24566)

*نوٹ ان آثار کی تخریج اس لیے نہیں کی گئی کیونکہ اگر یہ آثار ضعیف بھی ہوں تو بھی صحیح احادیث سے ٹڈیوں کی حلت ثابت ہے*
________&__________

*ٹڈی کی کونسی قسم حلال ہے اس بارے احادیث میں کوئی صراحت نہیں،لہذا ٹڈی دل کی تمام اقسام کھانا جائز ہیں، سوائے انکے جن کے کھانے سے کوئی صحت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو،تو انکو نہیں کھانا چاہیے*

📚جیسا کہ علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب نیل الاوطار میں لکھا ہے کہ
ونقل النووي الإجماع على حل أكل الجراد. وفصل ابن العربي في شرح الترمذي بين جراد الحجاز وجراد الأندلس، فقال في جراد الأندلس:
لا يؤكل لأنه ضرر محض۔۔۔۔!

امام نووی رحمہ اللہ نے ٹڈیوں کے حلال ہونے پر اجماع نقل کیا ہے،
اور ابن العربی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ
وہ ترمذی کی شرح میں جراد کی دو قسمیں بیان کرتے ہیں، ایک حجاز کی ٹڈیاں اور دوسری اندلس کی ٹڈیاں، پھر اندلس کی ٹڈیوں سے متعلق لکھا کہ اس کو نہیں کھایا جائے گا؛ اس لیے کہ اس کے کھانے میں ضررِ محض ہے، اس لیے اس کا کھانا درست نہیں،
(نيل الأوطار _8ج/ ص169)

____________&_________

*لہذا ان تمام احادیث اور آثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ٹڈی دل حلال ہے اور اسے کھانا جائز ہے، جسے پسند نا ہو وہ نا کھائے لیکن اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام یا مکروہ نا ٹھہرائے*
_________&____________

*ٹڈیوں کے متلعق چند ایک ضعیف روایات*

🚫سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرَادِ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏لَا آكُلُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أُحَرِّمُهُ ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے بہت سے لشکر ہیں، نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام کرتا ہوں،
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-3813)
⁦⚠️⁩تخریج الحدیث:
«سنن ابی داود/الأطعمة 35 (3813، 3814)، (تحفة الأشراف: 4495)
(حدیث کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے، اور اصل یہ ہے کہ یہ مرسل ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1533)
قال الشيخ الألباني: ضعيف

🚫انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ٹڈیوں کو پلیٹوں میں رکھ کر بطور ہدیہ بھیجتی تھیں۔
سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر-3220)
⁦⚠️⁩تخریج الحدیث:
«تفرد بہ ابن ماجہ،
(تحفة الأشراف: 864،
(ومصباح الزجاجة: 1108)
(ضعیف)»
‏‏‏‏ (سند میں ابوسعید البقال ضعیف ہیں)
(قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد)
(الألباني ضعيف ابن ماجه ٦٣٢ • إسناده ضعيف)

🚫جابر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈیوں کے لیے بد دعا کرتے تو فرماتے: اے اللہ! بڑی ٹڈیوں کو ہلاک کر دے، چھوٹی ٹڈیوں کو مار ڈال، ان کے انڈے خراب کر دے، اور ان کی اصل (جڑ) کو کاٹ ڈال اور ان کے منہ کو ہماری روزیوں اور غلوں سے پکڑ لے (انہیں ان تک پہنچنے نہ دے)، بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے“ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کیسے اللہ کی ایک فوج کی اصل اور جڑ کاٹنے کے لیے بد دعا فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹڈی دریا کی مچھلی کی چھینک ہے“۔ ہاشم کہتے ہیں کہ زیاد(راوی حدیث) نے کہا: تو مجھ سے ایسے شخص نے بیان کیا جس نے مچھلی اسے (ٹڈی کو) چھینکتے دیکھا۔
(سنن ترمذی حدیث نمبر-3221)

⁦⚠️⁩تخریج الحدیث:
«تفرد بہ ابن ماجہ،
(تحفة الأشراف: 1451، 2585)،
ومصباح الزجاجة: 1109،
وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 23 (1823)
(حکم الحدیث موضوع)
‏‏‏‏ (سند میں موسیٰ بن محمد ضعیف اور منکر احادیث والے ہیں، ابن الجوز ی نے حدیث کو الموضوعات میں داخل کیا ہے، اور موسیٰ کو متہم قرار دیا ہے، نیز ملاحظہ ہو:
(سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 112)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده ضعيف جدًا /1823 )

__________&______________

( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سوال_ٹڈی کونسا جانور ہے؟ اور اس کے بارے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا یہ حلال ہے اور اسکو کھانا جائز ہے؟نیز اگر یہ حلال ہے تو کیا یہ ٹڈی کی کوئی خاص قسم ہے یا ہر طرح کی ٹڈی حلال ہے؟” ایک تبصرہ

  1. کیا ٹدی کے لئے آج کل جو سوشل میڈیا پر بدعا والی حدیث چل رہی ہے وہ پڑھنا صحیح ہے کیا

اپنا تبصرہ بھیجیں