733

سوال_ عقیقہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ فرض ہے یا سنت؟ کیا عقیقہ کا لفظ بولنا مکروہ ہے؟ اور کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقیقہ سے منع فرمایا تھا؟ تفصیل سے جواب دیں

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-271″
سوال_ عقیقہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ فرض ہے یا سنت؟ کیا عقیقہ کا لفظ بولنا مکروہ ہے؟ اور کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقیقہ سے منع فرمایا تھا؟ تفصیل سے جواب دیں

Published Date: 20-8-2019

جواب:
الحمدللہ:

*شریعت اسلامیہ میں پیدا ہونے والے بچے کی طرف سے عقیقہ کرنا مشروع ہے ، اور تمام مستند احادیث اور روایات کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بچوں کا عقیقہ سنت مؤکدہ ہے اور عہد نبویؐ اور خلفائے راشدینؓ کے ادوار خلافت میں تمام صحابہؓ و تابعین کا اس سنت پر عمل رہا ہے، بعد کے ادوار میں بھی تمام اہل علم طبقہ میں اس سنت پر سختی کے ساتھ عمل کیا جاتا رہا ہے، نیز اس پر خود رسولﷺ کا عمل کرنا اور آج تک اس پر تواتر کے ساتھ عمل ہوتے چلے آنا بذات خود اس کی مشروعیت کی واضح دلیل ہے،لیکن اسکے باوجود کسی عذر کے بغیر عقیقہ نا کرنے والے کو ہم گناہگار نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ فرض نہیں اور نا ہی اسکو چھوڑنے پر شریعت نے کوئی وعید سنائی ہے،ہاں البتہ ایسا شخص اجر عظیم سے ضرور محروم ہو جائے گا*

*عقیقہ سنت یا واجب…؟*

علماء کے مابین اس بارے اختلاف پایا جاتا ہے کہ عقیقہ فرض ہے یا سنت؟

اس بارے علماء کی تین آراء ہیں

1_ ائمہ مجتہدین کا ایک گروہ جو عقیقہ کے سنت ہونے کا قائل ہے، اس میں امام مالک، اہل مدینہ، امام شافعی اور ان کے اصحب ، امام احمد، امام اسحاق، امام ابوثور، اور فقہ و علم و اجتہاد کے کبار علماء کی ایک بڑی جماعت شامل ہے۔(رحمهم اللہ تعالیٰ)

2_ فقہاء کا ایک دوسرا گروہ جنکا کہنا ہے کہ عقیقہ واجب ہے اس میں امام حسن بصری، امام لیث، امام ابن سعد رحمھم اللھم وغیرہ شامل ہیں ،اور امام ابن حزم رحمہ اللہ تو عقیقہ کو فرض قرار دیتے ہیں۔

3_فقہاء کا ایک تیسرا گروہ وہ ہے جو سرے سے عقیقہ کی مشروعیت کا قائل ہی نہیں ہے۔ اس گروہ میں فقہائے حنفیہ کا شمار ہوتا ہے،

*ہمارے علم کے مطابق علماء کے پہلے گروہ کا مؤقف راجح اور درست ہے یعنی عقیقہ کرنا مسنون ہے اور اس پر بہت سے شرعی دلائل موجود ہیں*

*پہلی دلیل*

📚 عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،
ومَن وُلِدَ وَلَدٌ فأَحَبَّ أن يَنْسُكَ عنه فَلْيَنْسُكْ ، عن الغلامِ شاتانِ مُكافَأَتانِ، وعن الجاريةِ شاةٌ
”جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے ذبیحہ کرنا چاہے تو لڑکے کی جانب سے دو بکریاں اور لڑکی کی جانب سے ایک بکری ذبح کرے۔”
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-2842)
(الألباني_ صحيح الجامع 7630 • صحيح)

*دوسری دلیل*

📚عمرو بن عبداللہ رضی اللہ عنھما روای کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا جسکے ہاں بچہ پیدا ہو، تو آپ نے فرمایا،
من أحبَّ منكم أن ينسِكَ عن ولدِه فلْيفعلْ
‘(جس کے ہاں بچہ پیدا ہو) اور وہ اپنےبچہ کی جانب سے ذبح کرنا چاہے تو کرے،
(مسند احمد حدیث نمبر-6713)
(الألباني السلسلة الصحيحة 4 /213 حسن)
(شعيب الأرنؤوط تخريج المسند 6713 • إسناده حسن)

*تیسری دلیل*

📚سلمان بن عامر الضبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لڑکے کے ساتھ اس کا عقیقہ لگا ہوا ہے اس لیے اس کی طرف سے جانور ذبح کرو اور اس سے بال دور کرو ( سر منڈا دو یا ختنہ کرو )
(صحیح بخاری حدیث نمبر-5471/5472)

*چوتھی دلیل*

📚 سمرة بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
كلُّ غلامٍ رهينٌ بعقيقتِه، تُذبحُ عنه يومَ سابعِه، ويُحلق رأسُه ويُسمّى
”ہر بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے،اس کی طرف سے ساتویں روز ذبح کیا جائے، اس کا سر مونڈا جائے، اور اس کا نام رکھا جائے“
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر-3165)
(سنن نسائی حدیث نمبر-4220)
(الألباني صحيح النسائي 4231 • صحيح )

*پانچویں دلیل*

📚مؤطا امام مالک میں مذکور ہے:
”جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن عمرؓ او عروۃ بن زبیر تابعی اپنی اولاد کا عقیقہ کیا کرتے تھے۔” اور مؤطا اما محمد کے حاشیہ پر یہ تصریح موجود ہے کہ:
”آنحضرتﷺ کے وصال کے بعص صحابہ کرامؓ عقیقہ کیا کرتے تھے۔”
(تعلیق الممجد _حاشیہ مؤطا امام محمد، طبع کراچی صفحہ 291 حاشیہ نمبر 2)

ان تمام روایات سے عقیقہ کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے

*جمہور علمائے کرام کا مؤقف*

📚جمہور علماے کرام کا موقف بھی یہی ہے کہ عقیقہ سنت ہے
( نیل الأوطار : ۵؍۱۴۰)

📚امام ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
«وَالْعَقِیْقَةُ سُنَّةٌ فِي قَوْلِ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ ابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ وَفُقَهَاءِ التَّابِعِیْنَ وَأَئِمَّةِ أَهْلِ الْأَمْصَارِ»
“اکثر اہل علم مثلاً ابن عباس، ابن عمر، عائشہ رضی اللہ عنھم ، فقہاے تابعین اور ائمہ کا قول ہے کہ عقیقہ سنت ہے۔”
( المغنی مع الشرح الکبیر : ۱۱؍۱۲۰)

📚حافظ ابن قیم رحمہ اللہ الجوزیۃ کا بیان ہے :
«فَأَمَّا أَهْلُ الْحَدِیْثِ قَاطِبَةً، وَفُقَهَاءُهُمْ وَجَمْهُوْرُ أَهْلِ السُّنَّةِ فَقَالُوْا: هِيَ مِنْ سُنَّةِ رَسُوْلِ اللهِﷺ »
“جمیع محدثین و فقہا اور جمہور اہل سنت کہتے ہیں کہ یہ ( عقیقہ) رسول اللہﷺکی سنت ہے۔”
( تحفۃ الودود باحکام المولود: ص ۲۸)

*اور سب سے بڑی دلیل تو اوپر ذکر کردہ وہ حدیث ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ یَنْسُكَ عَنْهُ فَلْیَنْسُكَ”جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے نسیکہ (جانور ذبح ) کرنا چاہے تو نسیکہ کرے،*
*اس حدیث مبارکہ سے پتہ چلتا ہے کہ عقیقہ واجب نہیں،*

📚 امام شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: حدیث میں: «مَنْ أَحَبَّ» کے الفاظ سے عقیقہ میں اختیار دینا وجوب کو ختم کرتا ہے اور اس کو استحباب پر محمول کرنے کو متقاضی ہے
( نیل الأوطار : ۵؍۴۴)

📚حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث میں«مَنْ أَحَبَّ»کے الفاظ میں اشارہ ہے کہ عقیقہ کرنا واجب نہیں بلکہ سنتِ موٴکدہ ہے
( التمہید لا بن عبد البر : ۴؍۳۱۱)

📚امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
«وَلَیْسَتِ الْعَقِیْقَةُ بِوَاجِبَةٍ، وَلَکِنَّهَا یُسْتَحَبَّ الْعَمَلُ بِهَا، وَهِیَ مِنَ الْأَمْرِ الَّذِیْ لَمْ یَزَلْ عَلَیْهِ النَّاسُ عِنْدَنَا
“عقیقہ واجب نہیں بلکہ مستحب عمل ہے اور ہمارے ہاں ہمیشہ سے لوگ اس پر عمل پیرا رہے ہیں۔”
( موطا امام مالک: ۲۹۵)

*اوپر ذکر کردہ احادیث سے اور محدثین کرام کی وضاحت کی سے یہ بات سمجھ آئی کہ عقیقہ واجب نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے،*

__________&___________

*اور علماء کا دوسرے گروہ جو کہتے ہیں کہ عقیقہ واجب ہے اب ان کے دلائل کا جائزہ لیتے ہیں*

📚 فقہاء میں سے حسن بصری، داؤد ظاہری اور ظاہریہ کا مذہب ہے کہ عقیقہ واجب ہے۔
( نیل الأوطار : ۵؍۱۴۰)
( المغنی مع الشرح الکبیر : ۱۱؍۱۲۱)

جس کے دلائل درج ذیل ہیں:

پہلی دلیل

📚۔صالح بن حیان ابی بریدہ سے اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
”إن الناس یعرضون یوم القیامة علی العقیقة کما یعرضون علی الصلوات الخمس’
بے شک قیامت کے دن لوگوں سے عقیقہ کے بارے اسی طرح پوچھ گچھ ہو گی جس طرح پنجگانہ نماز کے بارے ہو گی،
(مسند الرویانی،ص81/ح45)

🚫یہ حدیث نبویؐ نہیں بلکہ قول صحابیؓ ہے اور پھر اس کی سند میں صالح بن حیان متروک الحدیث ہے،

دلیل نمبر_2

📚. سمرہ بن جندبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :
«کُلُّ غُلاَمٍ رَهِیْنَةٌ بِعَقِیْقَةِ، تُذْبَحُ عَنْهُ یَوْمَ سَابِعِهِ وَیُحْلَقُ وَ یُسَمَّی،
“ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے ( عقیقہ) ذبح کیا جائے، اُس کا سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔”
(صحیح بخاری:5472)

📚امام خطابی بیان کرتے ہیں کہ ”اس حدیث کے مفہوم کے بارے علما کا اختلاف ہے، چنانچہ احمد بن حنبل کے مطابق اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس بچے کا عقیقہ نہ ہو اور وہ بچپن میں فوت ہو جائے تو وہ روزِقیامت اپنے والدین کی شفاعت نہیں کرے گا اور دوسرے قول کے مطابق اس سے مقصود یہ ہے کہ عقیقہ بہر صورت لازم ہے۔ اور نومولود کے لیے عقیقہ ایسے لازم ہے، جیسے مُرتہن(قرض کے عوض گروی رکھنے والا) کے ہاتھ میں گروی چیز لازم ہوتی ہے (یعنی جیسے گروی چیز حاصل کرنے کے لیے قرض خواہ کو قرض لوٹانا لازم ہے، اسی طرح نو مولود کیلئے عقیقہ لازم ہے) اور یہ وجوبِ عقیقہ کے قائلین کے موقف کو قوت دیتا ہے۔ ”
( نیل الأوطار : ۵؍۱۴۱؛ )
(عون المعبود : ۸؍۴۲)

دلیل نمبر-3
📚سلمان بن عامر ضبیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا :
«مَعَ الْغُلاَمِ عَقِیْقَةٌ فَأَهْرِیقُوَا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِیْطُوْا عَنْهُ الْأَذَی»
(صحیح بخاری: ۵۴۷۲)
“ہر بچے کے ساتھ عقیقہ ہے، سو اس کی طرف سے خون بہاؤ (عقیقہ کرو) اور اس سے گندگی محو کرو ( یعنی سر کے بال مونڈھ دو)۔”

دلیل نمبر-4
📚 سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں:
«أَمَرَنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ أَنْ نَعُقَّ عَنِ الْغُلاَمِ شَاتَیْنِ، وَعَنِ الْجَارِیَةِ شَاةً»
“رسول اللہﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کریں۔”
(جامع ترمذی: 1513)
(سنن ابن ماجہ: 3163)

یہ احادیث دلیل ہیں کہ نو مولود کی طرف سے عقیقہ واجب ہے، کیونکہ عقیقہ کرنے کا حکم وارد ہوا ہے، نیز “رَهِیْنَةٌ ” ( بچہ عقیقہ کے عوض گروی ہے) کے الفاظ نص ہیں کہ عقیقہ واجب ہے اور اسے کسی بھی صورت استحباب پر محمول نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جیسے گروی چیز کو قرض ادا کیے بغیر حاصل کرنا ناممکن ہے، اسی طرح نو مولود کی پیدائش کے شکریہ کی ادائیگی کے لیے عقیقہ لازم و واجب ہے۔

جواب_

*جو فقہاء کرام عقیقہ کے وجوب کے قائل نہیں ہیں، وہ ان دلائل کے حسب ذیل جواب دیتے ہیں*

وہ احادیث جن سے عقیقہ کی مشروعیت کے انکار پر استدلال کیا جاتا ہے، ان کی کوئی حقیقت نہیں اور وہ کچھ بھی نہیں ہیں۔ اس انکار کی کوئی دلیل بھی صحیح نہیں ہے۔ بلکہ تمام دلیلیں اپنے ظواہر کے اعتبار سے عقیقہ کے سنت و مستحب ہونے کی تائید و تاکید ہی ثابت کرتی ہے لہٰذا فقہاء اور اکثر اہل علم و اجتہاد اسی طرف گئے ہیں۔”

1۔ اگر عقیقہ کرنا واجب ہوتا تو اس کا وجوب دین و شریعت سے معلوم ہوتا۔
2۔ اگر عقیقہ واجب ہوتا تو رسول اللہ ﷺ نے امت پراس کا وجوب کافی اور واضح طریقہ پر بیان کیا ہوتا۔
3۔ اگر عقیقہ واجب ہوتا تو اس پر حجت قطعی موجود ہوتی اور اس کا وجوب صرف عذر شرعی کی موجودگی میں منقطع ہوتا۔
4۔ اگر عقیقہ واجب ہوتا تو عذر شرعی کی عدم موجودگی میں ترک کیا جانے والا عقیقہ گناہ کا سبب ہوتا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
5۔ رسول اللہ ﷺ کا خود عقیقہ کرنا اس کے وجوب کے بجائے استحباب پر دلالت کرتا ہے۔
6۔ اور احادیث کے الفاط ”’رھینة”، ”مرتھن” ، ”مع الغلام عقیقة” اور ”الناس یعرضون یوم القیٰمة علی العقیقة” وغیرہ عقیقہ کے وجوب کے بجائے اس کے استحباب پر دلالت کرتے ہیں۔

7۔ عقیقہ کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی مشہور حدیث ”من ولدله ولد فأحب أن ینسك عنه فلینسك الخ” اور ”من ولدله ولد فأحب أن ینسك فلیفعل”
یعنی جو عقیقہ کرنا چاہے تو وہ کرے۔۔۔!

کے یہ الفاظ بھی عقیقہ کے مستحب ہونے پر واضح دلیل ہیں۔

____________&________

*جب کہ علماء کا تیسرا گرو یعنی حنفی علماء کا یہ کہنا کہ عقیقہ نا سنت نا واجب بلکہ جہالت کی رسم ہے جسے اسلام نے ختم کیا ہے اور یہی امام ابو حنیفہ کا قول ہے،*

📚 امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام محمد رحمھما اللہ کہتے ہیں،
قال محمد:
أما العقيقة فبلغنا أنها كانت في الجاهلية، وقد فعلت في أول الإسلام ثم نسخ الأضحى كل ذبح كان قبله، ونسخ صوم شهر رمضان كل صوم كان قبله، ونسخ غسل الجنابة كل غسل كان قبله، ونسخت الزكاة كل صدقة كانت قبلها، كذلك بلغنا ”

ترجمہ :
امام محمدفرماتے ہیں عقیقہ کے متعلق ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ زمانہ جاہلیت میں رائج تھا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں جاری رہا پھر قربانی نے ہر ذبیحہ کو منسوخ کر دیا جیسے کہ ماہ رمضان کے روزوں نے تمام روزوں کے منسوخ کردیا جو اس سے پہلے رکھے جاتے تھے اور غسل جنابت نے ہرقسم کے غسل کو اور زکوة نے ہر صدقہ کومنسوخ کر دیا جو اسلام سے پہلے جاری تھے اور یہ بات اسی طرح ہم تک پہنچی ہے۔​
https://archive.org/…/MuwattaImamMuh…/Muwatta-Imam-Muhammad…

اور انکی پہلی دلیل یہ روایت ہے

📚 عمرو بن شعیب کی حدیث، جسے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ان کے دادا سے نقل کیا ہے کہ:
انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے متعلق سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا:
ان اللہ لاَ یُحِبُّ الْعُقُوْقَ»
اللہ تعالیٰ عقوق کو ناپسند کرتے ہیں
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-2842)

جواب_

علماء احناف کی یہ بات درست نہیں اور اس حدیث کا مطلب بھی یہ نہیں،

اس حدیث کا ایک مطلب یہ ہے کہ عقیقہ اور عقوق کے الفاظ مشابہ ہونے کی وجہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کا سوال یہ سمجھا کہ وہ آپ سے عقوق یعنی نافرمانی کے بارے سوال کر رہے ہیں تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ اللہ عقوق یعنی نافرمانی کو پسند نہیں کرتا،

اور اسکی وضاحت میں آپ مکمل حدیث ملاحظہ فرمائیں

📚عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
سُئِلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ الْعَقِيْقَةِ؟ فَقَالَ: إن الله لَا يُحِبُّ الْعُقُوقَ وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الْاِسْمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّمَا نَسْأَلُكَ أَحَدُنَا يُولَدُ لَهُ قَالَ: مَنْ أَحَبَّ مِنْكُم أَنْ يَّنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ عَنِِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نا فرمانی کو پسند نہیں کرتا گویا کہ آپ نے اس نام کو نا پسند کیا۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ہم اپنے کسی شخص کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس کے ہاں کو ئی بچہ پیدا ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: جو شخص پسند کرے کہ اپنی اولاد کی طرف سے قربانی کرے تو وہ کر لے لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری,
(سلسلہ الصحیحہ حدیث نمبر-1655)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-2842)

دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عقیقہ اور عقوق کے الفاظوں میں مشابہت کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقیقہ کا لفظ ناپسند فرمایا ،

جیسا کہ علماء نے اسکی شرح میں یہ بات لکھی ہے،

📚 عقیقہ کے متعلق سوال پر آپﷺ کا فرمانا کہ اللہ تعالیٰ عقوق (نافرمانی) کو نا پسند کرتا ہے، میں اشارہ ہے کہ ( نومولود کی جانب سے ذبح کیے جانے والے جانور) کا نام عقیقہ نا پسندیدہ ہے کیونکہ عقیقہ اور عقوق (مادہ) ایک ہے۔ اور اس جملے «فَأَحَبَّ أَنْ یَنْسُكَ عَنْهُ فَلْیَنْسُكَ» میں توضیح ہے کہ لفظ عقیقہ کو نسیکہ سے تبدیل کر دیا جائے۔ (یعنی عقیقہ کو نَسِیکہ کہا جائے)
دیکھیں..!
( نیل الأوطار : ۵؍۱۴۳)
(عون المعبود : ۸؍۴۶)

📚اور علامہ سندھی لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں مسئلہ عقیقہ کی توہین اور اس فعل کا سقوط مقصود نہیں، بلکہ اس سے تو یہ مراد ہے کہ آپﷺ نے اس فعل کے عقیقہ نام کو ناپسند کیا ہے اور یہ بتلایا کہ اس کا اس سے کوئی اچھا نام یعنی نسیکہ یا ذبیحہ رکھا جائے،
(شرح النسائی از اما م سندی : ۵؍۴۹۸)

*کچھ فقہاء یہ بھی کہتے ہیں کہ عقیقہ کہنا بھی درست ہے کیونکہ بہت سی احادیث ہیں جن میں اس موقع کے ذبیحہ کا نام”عقیقہ” خود رسول اللہ ﷺ سے بلا اظہار کراہت مروی ہے۔*

*اور علماء کا ایک تیسرا گروہ ان دونوں کے مابین اتحاد و اتفاق کی صورت یہ پیش کرتا ہے کہ اس موقع کے ذبیحہ کے لیے ”عقیقہ” اور ”نسیکہ” دونوں ناموں کااستعمال درست اور صحیح ہے لفظ ”نسیکہ” استعمال کرنا اگرچہ بہتر ہے، لیکن حکم بیان کرنے یا وضاحت یا مراد و مقصد کے اظہار کے لیے ”عقیقہ” کا لفظ استعمال کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے اور یہ طریقہ احادیت نبویؐ کے موافق بھی ہے،*

______&______

*نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقیقہ سے منع نہیں فرمایا*

علماء احناف کی طرف سے دوسری دلیل جو دی جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقیقہ سے منع فرمایا وہ یہ ہے،

📚ابی رافع ؓ کی حدیث میں ہے کہ جب حسن بن علیؓ کی والدہ حضرت فاطمہؓ نے ان کا عقیقہ دو مینڈھوں سے کرنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا:
”لَا تَعُقِّي عَنْهُ، وَلَكِنِ احْلِقِي شَعَرَ رَأْسِهِ،ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِ رَأْسِهِ مِنَ الْوَرِقِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ “. ثُمَّ وُلِدَ حُسَيْنٌ بَعْدَ ذَلِكَ، فَصَنَعَتْ مِثْلَ ذَلِكَ.
”عقیقہ نہ کرو مگر اس کا سرمونڈو اور اس کے بال کے وزن کی مقدار میں چاندی صدقہ دو۔ پھر جب حسینؓ کی ولادت ہوئی تو میں نے اسی کے مطابق عمل کیا۔”

(مسند احمد حدیث نمبر-23877)

پہلی بات کہ یہ روایت ضعیف ہے،

🚫امام الرباعي (١٢٧٦ هـ)، نے
فتح الغفار ١١٣٠/٢ • میں ضعیف کہا ہے
في إسناده ابن عقيل وفيه مقال)

🚫(البيهقي (٤٥٨ هـ)، نے ضعیف کہا ہے
السنن الكبرى للبيهقي ٩/٣٠٤ • تفرد به ابن عقيل )

🚫امام الشوكاني (١٢٥٥ هـ)، نے بھی ضعیف کہا ہے
( نيل الأوطار ٥/٢٢٩ • في إسناده ابن عقيل وفيه مقال وله شاهد )

🚫شعيب الأرنؤوط (١٤٣٨ هـ)، نے بھی ضعیف کہا ہے،
( تخريج المسند ٢٣٨٧٧ • إسناده ضعيف )

اور دوسری بات کہ اگر کوئی اس روایت کو صحیح کہے تو بھی اس روایت سے عقیقہ کی مشروعیت کے انکار یا اس کی کراہت پر دلالت نہیں ہوتی۔کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دونوں نواسوں حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ کی جانب سے خود کرنا پسند فرمائے تھے

رسول اللہ ؐ نے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے عقیقے خود کئے تھے، اس بات کی تائید میں بہت سی احادیث مروی ہیں،

چند ایک روایات یہ ہیں

📚 حضرت بریدہؓ روایت کرتے ہیں:
”عقَّ رسولُ اللهِ ﷺ عن الحسنِ والحُسينِ،
رسول اللہ ﷺ نے حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ کیا،
(سنن نسائی حدیث نمبر-4213) صحیح
(مسند احمد حدیث نمبر-23001/23058)

(علامہ الألباني نے اس حدیث کو
صحيح النسائي 4213 • میں صحيح کہا ہے،)

(امام النووي نے مجموع ٨/٤٢٦ • میں إسناده صحيح کہا ہے)

📚 عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے کہ
عَقَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِكَبْشَيْنِ کبشین
رسول اللہ ﷺ نے حضرات حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا عقیقہ دو دو مینڈھوں سے کیا۔”
(سنن نسائی حدیث نمبر-4219)

(شعيب الأرنؤوط (١٤٣٨ هـ)، تخريج المسند ١١/٣٥١ • سنده قوي •)

(الألباني (١٤٢٠ هـ)، إرواء الغليل ٤/٣٧٩ • إسناده صحيح • )

چونکہ آپؐ نے ان حضرات کے عقیقے خود فرمائے تھے اس لیے انکو منع فرما دیا یا دوبارہ عقیقے کی ضرورت باقی نہ رہی۔ پس آپؐ نے حکم فرمایا کہ : ”ان کے عقیقے نہ کرو لیکن سر کے بال مونڈواؤ اور اس کے وزن کے مقدار میں چاند صدقہ دو۔”

*لہذا یہ حدیث بھی عقیقہ کے غیر شرعی ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی*

__________&____________

خلاصہ
*اس سارے سلسلہ کا خلاصہ یہ ہے کہ عقیقہ واجب نہیں بلکہ سنت مؤکدہ ہے،اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین کا ہمیشہ سے اس پر عمل رہا ہے،اور لفظ عقیقہ کو نسیکہ یا ذبیحہ کہنا بہتر ہے،اگر کوئی سمجھنے/ سمجھانے کے لیے عقیقہ بھی کہہ دے تو اس میں کوئی حرج والہ بات نہیں ہے،*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📚عقیقہ کے لیے کونسے جانور ذبح کرنے کا حکم ہے؟کیا بڑے جانور سے عقیقہ ہو جاتا ہے؟ نیز کیا اونٹ/گائے کی قربانی میں عقیقہ کا حصہ رکھ سکتے ہیں؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-30))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں