503

سوال_مروّجہ جہیز کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور کیا نبیﷺ نے حضرت فاطمہ(رض) کو جہیز دیا تھا؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-210”
سوال_مروّجہ جہیز کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور کیا نبیﷺ نے حضرت فاطمہ(رض) کو جہیز دیا تھا؟

Published Date: 19-2-2019

جواب:
الحمدللہ:

*شادی کی مختلف ہندوانہ رسومات میں سے ایک رسم بد جہیز کی ہے، جس نے ہمارے معاشرے پر ایسے پنجے گاڑھے ہیں کہ یہ رسم ہمارے معاشرے کے لیے زہر قاتل بن گئی ہے،جسکی وجہ سے جہاں غریب بچیاں بیچاری بن بیاہی گھر بیٹھی ہیں، وہیں انکے بوڑھے والدین نے بیٹیوں کا جہیز پورا کرنے کے لیے اپنی زندگیوں کاسودا کر رکھا ہے،اور آج بیٹی کی سیرت و صورت سے زیادہ اسکے جہیز پر نظر ہوتی ہے جسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شادی دو گھروں کا رشتہ جڑنے کی بجائے دو لوگوں کی باہمی تجارت نظر آتی ہے اور پھر یہ تجارت مال ختم ہوتے ہی جھگڑوں اور جدائی کا سبب بن جاتی ہے*

*وقت اور ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے ضرورت اس بات کی تھی کہ اس رسم بد کا قلع قمع کیا جاتا، اور اسکی حوصلہ شکنی کی جاتی تا کہ یہ رسم ہمارے معاشرے سے ختم ہوتی مگر بد قسمتی کہ ہمارے علماء کا ایک طبقہ اس رسم بد کو عین شرعی ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے،*

*جہیز ایک ایسی رسم ہے کہ اس کی اصل حیثیت میں علماء کے ہاں اختلاف ہے، کہ یہ واقعی دیگر غیر ضروری رسومات کی طرح ایک محض رسم ہے یا کسی لحاظ سے اس کا شرعی جواز بھی ہے؟*

*ہمارے نزدیک اس رسم کے دو پہلو ،دو رخ یا دو صورتیں ہیں۔ ایک صورت میں اس کا جواز ہے اور دوسری صورتوں میں ناجائز*

اس کو سمجھنے کے لیے ان صورتوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے جن کے پیش نظر جہیز کا اہتمام کیا جاتا ہے،
یہ حسبِ ذیل ہیں:

1_شان و شوکت یا امارت کا اظہار

2_نمو دو نمائش، شہرت اور تفاخر کا اظہار

3_اسراف و تبذیر کی حد تک اس کا اہتمام

4_وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ

5_محض ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی رسم کے طور پر

6_عدم استطاعت کے باوجود قرض لے کر اس کا اہتمام کرنا

7_تعاون، ہدیہ اور صلہ رحمی کے طور پر

*جہیز کی ناجائز صورت*

اوّل الذکر پہلی چھ کی چھ صورتوں میں یہ ایک محض رسم ہے، اس لیے ناجائز ہے۔ اور اس ناجائز صورت میں اکثر و بیشتر مذکورہ ساری ہی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ اس اعتبار سے جہیز کی رسم تمام مذکورہ خرابیوں کا مجموعہ ہے، اسے کس طرح جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس میں شان و شوکت کا اظہار بھی ہوتا ہے، نمودو نمائش کا جذبہ بھی۔اسراف و تبذیر کی حد تک اس کا اہتمام کیا جاتا ہے، اس لیے ہر چیز دینے کی کوشش کی جاتی ہے، چاہے ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو اور لڑکے والوں کے پاس اتنا غیر ضروری سامان رکھنے کی جگہ بھی ہو یا نہ ہو۔
اور امیر لوگوں کی دیکھا دکھائی پھر غریب لوگ بھی جس کے پاس استطاعت نہیں ہوتی، وہ قرض لے کر، حتیٰ کہ قرض حسنہ نہ ملے تو سود پر قرض لے کر یہ رسم پوری کرتا ہے۔ تا کہ اسکی ناک برادری میں رہ جائے، عزت رہ جائے،

بھرپور جہیز دینے میں وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ بھی کار فرما ہوتا ہے،
بالخصوص اصحابِ حیثیت اس نیّت سے لاکھوں روپے جہیز کی نذر کر دیتے ہیں اور پھر واقعی ان کے بیٹے اپنے جائداد والے باپ کی وفات کی بعد اپنی بہنوں کو وراثت سے ان کا شرعی حق نہیں دیتے اور یہی کہتے اور سمجھتے ہیں کہ باپ نے جہیز کی صورت میں اپنی بیٹیوں کو جو دینا تھا دے دیا، اب یہ ساری جائداد صرف بیٹوں کی ہے۔ اس طرح یہ رسم ہندؤوں کی نقل ہے۔ ہندو مذہب میں وراثت میں لڑکیوں کا حصہ نہیں ہے، اس لیے وہ شادی کے موقعے پر لڑکی کو ’دان‘ دے دیتے ہیں۔یہی دان کا تصور(وراثت سے محرومی کا بدل) مسلمانوں میں جہیزکے نام سے اختیار کر لیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ خالص ہندوانہ رسم ہے۔اگر جہیزمیں مذکو رہ تصورات کار فرما ہوں تو جہیز کی یہ رسم سراسر ناجائز ہے، اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے اس کے خلاف بھی تحریک ضروری ہے، کیونکہ جہیز دینے والے بالعموم ایسے ہی تصوارت کے تحت جہیز دیتے ہیں اور اس رسم کو بھی پورا کرنا نا گزیر سمجھتے ہیں

*جہیز کی جائز صورت*

البتہ جہیز کی ایک جائز صورت بھی ہے جس کا ذکر اوپر ساتویں شکل میں کیا گیا ہے اور وہ ہے تعاون، صلہ رحمی اور ہدیے(تحفے،عطیے) کے طور پر اپنی لڑکی کو شادی کے موقعے پر کچھ دینا۔

اسلام میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی بڑی فضیلت ہے، اس طرح ایک دوسرے کو ہدیہ، تحفہ دینے کی بھی ترغیب ہے۔ اور اگر تعاون یا ہدیے کا معاملہ اپنے قریبی رشتے داروں کے ساتھ کیا جائے تو اس کوصلہ رحمی کہا جاتا ہے اور اس کی بھی بڑی تاکید ہے اور اس کو دگنے اَجر کا باعث بتلایا گیا ہے۔
اس اعتبار سے اپنی بچی کو،اگر وہ واقعی ضرورت مند ہے یا بطورِتحفہ کچھ دینا، بالکل جائز، بلکہ مستحسن اور پسندیدہ ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ

1_والدین اپنی طاقت کے مطابق اس کی ضروریات پوری کریں۔

2_اس کے لیے قرض لے کر زیر بار نہ ہوں۔

3_نمائش اور رسم کے طور پر ایسا نہ کریں۔

ضروریاتِ زندگی کی اس فراہمی میں شادی کے موقعے پر ضروریات کا جائزہ لیے بغیر تعاون کرنا جائز نہیں ہوگا۔ بلکہ شادی کے بعددیکھا جائے کہ اس گھر میں کن چیزوں کی ضرورت ہے اورلڑکے والے اُن کو مہیا کرنے سے واقعی قاصر ہیں، تواُ ن کو وہ اشیا مہیا کرنے میں حسبِ استطاعت ان سے تعاون کیا جائے لیکن حسب ذیل شرائط کے ساتھ

*ایک تو اس تعاون کو وراثت کا بدل سمجھ کر اسے وراثت سے محروم کرنے کا جذبہ نہ ہو*

*اور دوسرا بیک وقت تعاون کی استطاعت نہ ہو تو مختلف اوقات میں تعاون کردیا جائے*

اگر بچی کو گھریلو اشیاے ضرورت کی ضرورت نہ ہو اور والدین صاحب استطاعت ہوں اور وہ بچی کو تحفہ دینا چاہتے ہوں تو داماد کی مالی پوزیشن کے مطابق اس کو ایسا تحفہ دیں جس سے اس کا مستقبل بہتر ہوسکے۔ مثلاً، اس کے پاس سرماے کی کمی ہے جس کی وجہ سے وہ کاروباری مشکلات کا شکار ہے، اس کو نقد رقم کی صورت میں ہدیہ دے دیا جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار بہتر کر سکے، یا اُس کو پلاٹ لے دیا جائے تاکہ وہ آہستہ آہستہ اپنا مکان بنا سکے، اگر اس کے پاس مکان نہیں ہے یا وہ مشترکہ خاندان میں رہائش پذیر ہے اور وہاں جگہ کی تنگی ہے، ان دونوں صورتوں میں یہ پلاٹ، یا گھر کی تعمیر، یا کاروبار میں مالی تعاون میاں بیوی(بیٹی اور داماد) کے لیے ایسا بہترین تحفہ ہے جو صرف انہی کے نہیں بلکہ آئندہ نسل کے بھی کام آئے گا۔ نیزتعاون کی ایسی صورت ہے جس میں رسم، نمود ونمائش، بلا ضرورت زیر بار ہونے کی کار فرمائی نہیں بلکہ خیر خواہی اور تعاون کا صحیح جذبہ ہے جو عنداللّٰہ نہایت پسندیدہ ہے۔یہ جہیز نہیں بلکہ صلہ رحمی، تعاون اور خیرخواہی ہے۔

*یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اس صورت کو جہیزنہیں کہنا چاہیے بلکہ یہ تعاون اور صلہ رحمی یا ہدیہ ہے*

جہیز کا کوئی تصور اسلام میں نہیں ہے۔ احادیث میں اس مروّجہ جہیز کا کوئی ذکر نہیں۔ رسول اللّٰہﷺ کی متعدد ازواجِ مطہرات میں سے کوئی بھی اپنے ساتھ جہیز لے کر نہیں آئی، اسی طرح رسول اللّٰہﷺ نے اپنی چار بیٹیوں میں سے کسی ایک بیٹی کو بھی…قبل از نبوت اور بعد از نبوت…جہیز نہیں دیا۔ صرف حضرت فاطمہ ؓ کی بابت مشہور ہے کہ آپ نے اُن کو تین چار چیزیں بطورِ جہیز دی تھیں۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے، اس کا کوئی تعلق مروّجہ رسم جہیز سے نہیں ہے،جیسا کہ اس کی وضاحت آگےآرہی ہے

*عربی زبان میں تجہیز(جہیز بنانے) کا مفہوم*

جہیز،عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ جہاز(سامان) ہے۔

📚قرآن مجید میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے:

﴿ وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ﴾
(سورۃ یوسف:۵۹)
’’جب(یوسف کے کارندوں نے ) برادرانِ یوسف کا(واپسی کا) سامان(سفر) تیار کر دیا۔‘‘

لفظ جَهَّزَ(باب تفعیل) کے معنی میں ہے:
اس نے سامان تیار کیا۔

ہر موقعے کے لیے الگ الگ سامان ہوتا ہے، اس کے حساب سے اس کے ساتھ یہ لفظ لگ کر اپنا مفہوم ادا کرتا ہے۔
جیسے جہاز العروس( دلہن کو تیار کرنا)، جہاز المیت(میت کا سامان تیار کرنا) ،
جہاز السفر(سفر کا سامان)،
جہاز الغازی(غازی کو سامان اسلحہ وغیرہ دینا)۔

*احادیث میں یہ لفظ دو مو قعوں کے لیے استعمال ہوا ہے:*

ایک غازی کے لیے اس کو میدانِ کا ر زار میں کام آنے والی اشیا(خَود، زرہ، اسلحہ وغیرہ) مہیا کر کے تیار کرنا۔

دوسرا دلہن کو شبِ زفاف کے لیے تیار کر کے یعنی اُس کو عمدہ لباس وغیرہ سے آراستہ کر کے دولہا کے پاس بھیجنا۔

*چنانچہ احادیث میں تین خواتین کا ذکر اس ضمن میں ملتا ہے۔ ایک سیدہ صفیہؓ، دوسرا سیدہ ام حبیبہ ؓ اور تیسرا سیدہ فاطمہ الزہراؓ کا*

1۔ جنگِ خیبر میں واپسی پر رسولﷺ نے سیدہ صفیہؓ کو آزاد کر کے اُن سے نکاح کر لیا تھا،اس حدیث میں آتا ہے:

📚«جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنْ اللَّيْلِ» (صحیح بخاری: 371)
’’حضرت اُمّ سلیم ؓ نے حضرت صفیہؓ کو تیار کیا اور اُن کو شب باشی کی لیے نبیﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔‘‘

2۔ نجاشی(شاہ حبشہ) کی طرف سے سیدہ اُمّ حبیبہؓ کو، ان کا نکاح بذریعہ وکالت نبیﷺ کے ساتھ کر کے، نبیﷺ کی خدمت میں ایک صحابی حضرت شرحبیل بن حسنہ کے ساتھ روانہ کیا گیا تھا۔ اس حدیث میں آتا ہے:

📚«ثم جهزها من عنده وبعث بها إلىٰ رسول اﷲﷺ… وجهازها کل من عند النجاشی»
(مسند احمد: ۶؍ ۴۲۷،/27408 )
’’پھر نجاشی نے سیدہ اُمّ حبیبہؓ کو اپنے پاس سے تیار کیا اور ان کو رسول اللّٰہﷺ کی طرف بھیج دیا…اور اُن کی ساری تیاری نجاشی کی طرف سے تھی۔‘‘

ان دونوں احادیث میں تجهیز دلہن سازی، یعنی دلہن کو عروسی لباس اور آرائش وزیبائش سے آراستہ کرنے کے معنی میں ہے۔ أثاث البیت( گھریلو سامان) دینے کے معنیٰ میں نہیں ہے جس کو آج کل جہیز کا نام دے دیا گیا ہے، حالانکہ ان احادیث میں جہیز کا لفظ ان معنوں میں ہرگز استعمال نہیں ہوا ہے۔مسند احمد میں مزید جهاز کا لفظ استعمال ہوا ہے، اس کا مطلب یہاں حق مہر کی ادائیگی ہے جو کہ سامانِ آرائش و زیبائش کے علاوہ مکمل طور پر نجاشی ہی کی طرف سے ادا کیا گیا تھا، اس لیے جهازها کل من عند الله کہا گیا ہے۔

*سيده فاطمہ رضی اﷲ عنہا کا جہیز*

3۔ رہا تیسرا واقعہ حضرت فاطمہؓ کو جہیز دینے کا، جس سے جہیز کے جواز پر استد لال کیا جاتا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے؟

اس واقعے پر غور و خوض کرنے اور اس سے متعلقہ روایات کے مختلف طرق کا جائزہ لینے سے یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اس کا تعلق بھی أثاث البیت(گھریلو سامانِ ضرورت) سے نہیں ہے بلکہ یہ بھی دراصل دلہن کو پہلی مرتبہ دولہا کے پاس بھیجنے ہی کی تیاری تھی اور اس موقعے پر رسول اللّٰہﷺ نے حضر ت فاطمہ ؓکو جو چیزیں دی تھیں، ان کا تعلق رات کو سونے کيلیے کام آنے والی چیزوں سے تھا، جیسے چادر، تکیہ، پانی کی مشک۔

جیسے سنن نسائی میں ہے:

📚«جَهَّزَ رَسُولُ الله ﷺ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلٍ وَقِرْبَةٍ وَوِسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ»
(سنن نسائی: 3382) سند ضعیف
(مسند احمد،حدیث نمبر-643) اسنادہ قوی
’’رسول اللّٰہﷺنے(حضرت علیؓ کے پاس بھیجنے کے لیے) حضرت فاطمہؓ کو تیار کیا، ایک چادر، مشک اور تکیہ کے ساتھ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی۔‘‘

اس روایت میں جهز اور جهازکے معنی وہی ہیں جو اس سے پہلے حضرت صفیہ اور حضرت اُمّ حبیبہ رضی اﷲ عنہما والی دونوں حدیثوں میں اس لفظ کے گزرے ہیں یعنی دلہن کو شبِ زفاف کے لیے تیار کر کے دولہا کے پاس بھیجنا۔

📚چنانچہ حضرت صفیہؓ سے متعلقہ روایت، جس میں آتا ہے :
جهزتها أم سلیم فاهدتها إلیه من اللیل
’’اُن کو حضرت امّ سلیم نے تیار کر کے (دلہن بنا کر) شب باشی کے لیے رسول اللّٰہﷺکی خدمت میں پیش کیا۔‘‘

اس روایت کوامام نسائی باب البناء في السفر میں لائے ہیں۔
بناء کا لفظ شبِ زفاف ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ کی اس تبویب اور اس کے تحت جهّزتها والی روایت درج کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ جهَّز کے معنی دلہن سازی کے ہیں، نہ کہ سامانِ جہیز کے۔

ہماری بیان کر دہ وضاحت کی ایک اور دلیل یہ بھی ہے کہ حضرت فاطمہ سے متعلقہ روایت سنن ابن ماجہ میں اس طرح بیان ہوئی ہے کہ

📚رسول اﷲﷺ حضرت علی و فاطمہ رضی ﷲ عنہما کے پاس تشریف لے گئے اور وہ دونوں ایک چادر (خمیل) میں تھے۔
قَدْ كَانَ رَسُولُ الله ﷺجَهَّزَهُمَا بِهَا وَوِسَادَةٍ مَحْشُوَّةٍ إِذْخِرًا وَقِرْبَةٍ
’’اسی چادر کے ساتھ ہی رسول اللّٰہﷺ نے ان دونوں کو تیار کیا تھا اور ایک تکیہ، اِذخر گھاس کا بھرا ہوا، اور ایک مشک بھی عنایت کی تھی۔‘‘
(سنن ابن ماجہ:4152) صحیح

امام ابن ماجہ نے اس روایت کو باب ضجاع آل محمد ﷺکے تحت بیان کیا ہے۔ یعنی ’’آل محمد(محمد ﷺ کے گھرانے)کا بستر۔‘‘

امام ابن ماجہ کی اس تبویب سے بھی واضح ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہاسے متعلقہ روایت میں جہیز کے معنی شب باشی کے سامان یا شب باشی کے لیے تیار کرنا ہیں، نہ کہ مروّجہ سامانِ جہیز کے ۔

*احادیث میں ان تین واقعات کے علاوہ (سوائے حدیثِ جہاد «من جهز غازيا … الحديث کے) تجہیز کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے، بالخصوص شادی بیاہ کے مسائل میں اور ان تینوں واقعات میں جس سیاق میں یہ لفظ آیا ہے، اس کا وہی مفہوم ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔ اس سے مروّجہ جہیز مراد لینا یکسر بے جواز اور خلافِ واقعہ ہے۔ بنا بریں پورے یقین اور قطعیت کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ مروّجہ جہیز کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں ہے،*

اور پھر موجودہ جہیز کی رسم یہ تو ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ لڑکی والوں سے اپنی پسند اور خواہش کے مطابق جہیز کا مطالبہ کیا جائے حالانکہ لڑکی کے ماں باپ کا یہ احسان کیا کم ہے کہ وہ بچی کو ناز و نعمت میں پال کر اور اسے تعلیم و تربیت سے آراستہ کر کے اللّٰہ کے حکم کی وجہ سے اپنے دل کے ٹکڑے کو دوسروں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اس احسان مندی کے بجائے ان سے مطالبات کے ذریعے سے احسان فراموشی کا اظہار کیا جاتا ہے

جب کہ اللّٰہ کا حکم احسان کے بدلے احسان کرنے کا ہے :
📚﴿ هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ﴾
(سورۃ الرحمن: 60)

نہ کہ محسن کے لیے عرصۂ حیات تنگ کرنے کا۔ یا بھاری بھر کم جہیز نہ لانے پر لڑکی کا جینا دو بھر کردینے کا حتیٰ کہ اس کو خود کشی تک کردینے پر مجبور کردینا،

جبکہ اللّٰہ تعالیٰ نے مرد کو قوام(عورت کا محافظ، نگران اور بالا دست قرار دیا ہے،
📚﴿ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ ﴾
مرد عورتوں پر نگران ہیں
(سورۃ النساء:34)

اس نگرانی کی ایک وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ عورت کی مالی ضروریات پوری کرتا ہے، اور جہیز مانگ کر مرد اپنے اس مقام و مرتبہ کو فراموش کر کے عورت سے لینے کا مطالبہ کرتا ہے،
حالانکہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ
📚وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ﴾ (النساء 34)
اس وجہ سے کہ انہوں ( مرد) نے اپنے مالوں سے خرچ کیا

یعنی عورت کی معاشی و مالی کفالت کی ذمے داری مردوں پر ہے،اور اسکے برعکس مردوں کا جہیز مانگنا ان کے شیوۂ مردانگی کے بھی منافی ہے،

*کوئی جہیز مانگے یا نا مانگے بہرحال جس حیثیت سے بھی اس رسم کو دیکھا جائے،اس کی شناعت و قباحت واضح ہوجاتی ہے، اسکی صرف ایک ہی صورت درست ہے کہ بنا دکھلاوے، بنا رسم و رواج کے اور بنا وراثت کا حق مارے اگر کوئی صاحب استطاعت والدین قرض لیے بنا اپنی بیٹی کو خوشی سے کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں وہ بھی اس طریقہ سے دینا چاہیے کہ وہ تحفہ یا مالی مدد کہلائے نا کہ اسے جہیز کا نام دیا جائے*

(ماخذ: محدث فارم/ از شیخ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ_ کچھ کمی بیشی کے ساتھ )

اصل مضمون اس لنک پر دیکھیں:
جہیز کی شرعی حیثیت محدث فارم

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں