560

سوال_ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد قربانی کرنے والے کے لیے بال وغیرہ کاٹنا منع ہیں؟ اور کیا اس گھر کی عورتیں اور بچے بھی اپنے بال اور ناخن وغیرہ نہ کٹوائیں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-68″
سوال_ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد قربانی کرنے والے کے لیے بال وغیرہ کاٹنا منع ہیں؟ اور کیا اس گھر کی عورتیں اور بچے بھی اپنے بال اور ناخن وغیرہ نہ کٹوائیں؟

Published Date:11-8-2018

جواب!!
الحمدللہ۔۔۔

*قربانى كا ارادہ ركھنے والے شخص كے ليے ذوالحجہ كا چاند نظر آنے كے بعد سب كچھ جائز ہے، صرف اس كے ليے بال اور ناخن كٹوانے اور اپنى جلد كاٹنى ممنوع ہے اور جس نے قربانی نہیں کرنی اسکے لیے کچھ منع نہیں ہے*

🌷نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
” جب تم ذوالحجہ كا چاند ديكھ لو تو تم ميں سے جس نے قربانى كرنے كا ارادہ کیا ہو وہ شخص اپنے بال اور ناخن نہ كاٹے، یہاں تک کہ قربانی کر لے،
(صحيح مسلم حديث نمبر_ 1977)

🌷اور صحیح مسلم کی ہی ايک روايت ميں یہ الفاظ ہیں:
إِذَا دَخَلَتْ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَبَشَرِهِ شَيْئًا
” تو وہ اپنے بال اور جلد ميں سے كچھ بھى نہ كاٹے ”
(صحیح مسلم،1977)

(بشرہ)انسان كى ظاہرى جلد كو كہتے ہيں.

*جب ذوالحجہ كا چاند نظر آ جائے تو جو شخص قربانى كرنے كا ارادہ ركھتا ہو اس كے ليے اپنے جسم كے بال اور ناخن كاٹنے يا پھر جلد كاٹنا جائز نہیں،ليكن اس كے ليے نيا لباس زيب تن كرنا اور مہندى اور خوشبو لگانا يا پھر بيوى سے جماع اور مباشرت كرنا حرام نہيں*

*چاہے اس نے اپنے ہاتھ سے قربانى كرنى ہو يا كسى كو قربانى كرنے كا وكيل بنايا یو دونوں صورتوں میں یہ حکم اس پہ لاگو ہو گا،*

🌷کچھ علماء کے مطابق بال کاٹنے کی ممانعت صرف ایک شخص کے لیے ہے جس نے قربانی کرنی ہو مگر درست بات یہ ہے کہ یہ حكم اس شخص كے ليے ہے جو شخص قربانى كرنا چاہتا ہے،اگر وہ قربانی پورے گھر کی طرف سے ہے تو پھر سب گھر والے،عورتیں،بچے،بوڑھے سبھی بال وغیرہ نہ کٹوائیں،

اسکی دلیل وہ حدیث ہے جس میں ایک بکری پورے گھر کی طرف سے قربان کی جاتی،

🌷ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے پوچھا گیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانیاں کیسے ہوتی تھیں؟ انہوں نے کہا: ایک آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا،
(سنن ترمذی، 1505)

*جب قربانی تمام گھر والوں کی طرف سے ہے تو پھر بال نا کاٹنے کا حکم بھی تمام گھر والوں پہ لاگو ہو گا،اور مزید اسکی دلیل میں یہ روایت ہے کہ!*

🌷سیدنا عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے ایام ذی الحجہ میں ایک عورت کواپنے بچے کے بال کاٹتے دیکھ کر فرمایا؛”اگر قربانی والے دن تک موخر کر دیتی تو بہتر تھا۔”
(المستدرک علی الصّحیحین للحاکم :ج4/ص246)
حدیث نمبر- 7520 وسندہ، حسنٌ)

*یعنی اگر قربانی صرف ایک فرد کی طرف سے ہو تو پھر اہل خانہ كے باقى افراد بال کٹوا سکتے ہیں،اس حكم ميں عورت اور مرد دونوں برابر ہيں،*
*اس ليے اگر عورت اپنى جانب سے قربانى كرنے كا ارادہ ركھتى ہو چاہے وہ شادى شدہ ہو يا غیر شادى شدہ تو عمومى نصوص كى بنا پر قربانی کرنے تک اس كے ليے بھی اپنے بال اور ناخن كاٹنے منع ہيں*

🌷شیخ عبدالعزيز بن باز رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
جب کوئي شخص قربانی کرنا چاہے اورچاندنظرآنے یا ذی القعدہ کے تیس دن پورے ہونے کی بنا پرذی الحجہ کا مہینہ شروع ہوجائے تو قربانی ذبح کرنے تک اس کے لیے اپنے بال اورناخن یا جلد وغیرہ سے کچھ کاٹنا حرام ہے ۔

*اور اگر کوئي شخص عشرہ ذی الحجہ کے دوران قربانی کرنے کی نیت کرے تواسے اپنی نیت کے وقت سے ہی بال اورناخن کٹوانے سے رک جانا چاہیے ، اوراس نے قربانی کرنے کی نیت سے پہلے جوکچھ کاٹا ہے اس کا کوئي گناہ نہيں ہوگا*

اس ممانعت میں حکمت یہ ہے کہ جب قربانی کرنے والا شخص قربانی کرکے اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کےلیے حاجی کے بعض اعمال میں شریک ہوا تو بال اورناخن وغیرہ نہ کٹوانے سے رکنے کے ساتھ احرام کے بعض خصائص میں بھی شریک ہوگيا۔۔۔۔۔۔۔۔.!!

*اورجب قربانی کرنے کا اراہ رکھنے والا عشرہ ذی الحجہ میں اپنے بال ، ناخن یا اپنی جلد سے کچھ کاٹ لے تواسے اللہ تعالی کے ہاں توبہ کرنی چاہیے اورآئندہ وہ ایسا کام نہ کرے ، اوراس پرکوئي کفارہ نہيں ہوگا اورنہ ہی یہ اس کے لیے قربانی کرنے میں مانع ہے جیسا کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ اس سے قربانی میں ممانعت پیدا ہوجاتی ہے*

اوراگرکسی شخص نے بھول کریا جہالت میں بال وغیرہ کٹوا لیے یا اس کے بال بغیر قصد و ارادہ کے گر گئے تواس پرکوئي گناہ نہیں ، اور اگر اسے اتارنے کی ضرورت پیش آجائے تواسے کاٹنے میں کوئي گناہ اورحرج نہيں ہوگا مثلا کسی کا ناخن ٹوٹ جائے اوراسے ٹوٹا ہوا ناخن تکلیف دیتا ہو تو اس کے لیے کاٹنا جائز ہے ، اوراسی طرح اگر اس کے بال آنکھوں میں پڑنے لگیں تواس کے لیے اسےزائل کردے ، یااسے کسی زخم کے علاج کے لیے بال کٹوانے کی ضرورت ہوتواس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے ۔ .
(دیکھیں :فتاوی اسلامیۃ_ 2 / 316)

*قربانی کی استطاعت نہ رکھنے والا اگر ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے پہلے جسم کے فاضل بال،زیر ناف سر کے بال اور مونچھیں کا ٹ لے، ناخن تراشے،*
*پھر قربانی تک اس سے پرہیز کرے ،تو اسے قربانی کا اجروثواب ملے گا،*
ان شاءاللہ

🌷 عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اضحی کے دن ( دسویں ذی الحجہ کو ) مجھے عید منانے کا حکم دیا گیا ہے جسے اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے مقرر و متعین فرمایا ہے،
ایک شخص کہنے لگا: بتائیے اگر میں بجز مادہ اونٹنی یا بکری کے کوئی اور چیز نہ پاؤں تو کیا اسی کی قربانی کر دوں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تم اپنے بال کتر لو، ناخن تراش لو، مونچھ کتر لو، اور زیر ناف کے بال لے لو، اللہ عزوجل کے نزدیک ( ثواب میں ) بس یہی تمہاری پوری قربانی ہے ۔
(مسند أحمد : حدیث نمںر-6575) سندہ حسن
سنن ابو داؤد :حدیث نمبر-2789)
سنن نسائی : حدیث نمبر-4365)
اسے امام ابنِ حبان (٥٩١٤)، امام حاکم (٤/٢٢٣)، اور حافظ ذہبی نے ”صحیح ” کہا ہے ۔،

*قربانی کرنے کے بعد بال کٹوانا ضروری نہیں،اگر کٹوا لیں تو جائز ہے، نا کٹوائیں تو کوئی حرج نہیں
جیسا کہ ایک روایت میں آتا ہے،

🌷سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نے (مدینہ میں ) قربانی کرنے کے بعد سر کے بال منڈوائے اور فرمایا: یہ واجب نہیں۔
(موطّأ امام مالک : 2ج /ص483 ، وسندہ، صحیحٌ

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج وزٹ کریں۔۔.
یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں