601

سوال_کیا عورت کے لیے پاؤں ڈھانپنا واجب ہے؟ بالخصوص نماز کے اندر پاؤں ڈھانپنے کے بارے کیا حکم ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-49″
سوال_کیا عورت کے لیے پاؤں ڈھانپنا واجب ہیں؟ بالخصوص نماز کے اندر پاؤں ڈھانپنے کے بارے کیا حکم ہے؟ قرآن و حدیث سے واضح کریں..!

Published Date:17-4-2018

جواب..۔۔!
الحمدللہ..!

*اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے، کہ عورت کیلئے دوران نماز پاؤں کی پشت ڈھکنا واجب ہے یا نہیں، بعض علماء کرام یہ فرماتے ہیں کہ عورت کیلئے دوران نماز پاؤں کی پشت ڈھکنا واجب ہے اور اگر پاؤں ننگے ہوں تو نماز نہیں ہوتی،اور بعض علماء کے ہاں پاؤں ڈھکنا واجب نہیں مستحب ہے*

دلائل درج ذیل ہیں!!

📚سنن ابوداؤد
کتاب: نماز کا بیان
باب: عورت کو کتنے کپڑوں میں نماز پڑھنی چاہیئے؟
حدیث نمبر: 640
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ إِسْحَاقَ،‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَصَرُوا بِهِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
ترجمہ:
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ  انہوں نے نبی اکرم  ﷺ  سے پوچھا: کیا عورت کرتہ اور اوڑھنی میں جب کہ وہ ازار   (تہبند)   نہ پہنے ہو، نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ  ﷺ  نے فرمایا:  (پڑھ سکتی ہے)   جب کرتہ اتنا لمبا ہو کہ اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو ڈھانپ لے ۔
امام ابوداؤد کہتے ہیں:
اس حدیث کو مالک بن انس، بکر بن مضر، حفص بن غیاث، اسماعیل بن جعفر، ابن ابی ذئب اور ابن اسحاق نے محمد بن زید سے، محمد بن زید نے اپنی والدہ سے، اور محمد بن زید کی والدہ نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی نبی اکرم  ﷺ  کا ذکر نہیں کیا ہے، بلکہ ام سلمہ ؓ پر ہی اسے موقوف کردیا ہے۔  
تخریج دارالدعوہ:
(تحفة الأشراف: ١٨٢٩١)
(مؤطا امام مالک/36)
(مستدرک حاکم،ج1/ص380_915)
🚫(ضعیف)
( محمد بن زید بن قفند کی ماں ام محمد مجہول الحال راوی ہیں )
(مذکورہ سبب سے یہ مرفوع حدیث بھی ضعیف ہے( علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف کہا ہے،)
(الألباني (ت ١٤٢٠)، ضعيف أبي داود ٦٤٠ • ضعيف)
(شعيب الأرنؤوط (ت ١٤٣٨)، تخريج سنن أبي داود ٦٤٠  •  إسناده ضعيف مرفوعا)

📚سنن ابوداؤد
کتاب: نماز کا بیان
باب: عورت کو کتنے کپڑوں میں نماز پڑھنی چاہیئے؟
حدیث نمبر: 639
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ قُنْفُذٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ:‏‏‏‏ مَاذَا تُصَلِّي فِيهِ الْمَرْأَةُ مِنَ الثِّيَابِ ؟ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ تُصَلِّي فِي الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ السَّابِغِ الَّذِي يُغَيِّبُ ظُهُورَ قَدَمَيْهَا.
ترجمہ:
ام حرام والدہ محمد بن زید سے روایت ہے کہ  انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے پوچھا: عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے؟ تو انہوں نے کہا: وہ اوڑھنی اور ایک ایسے لمبے کرتے میں نماز پڑھے جو اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو چھپالے۔  
تخریج دارالدعوہ:
🚫  تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٢٩١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة ١٠(٣٦) (ضعیف موقوف)  (محمد بن زید بن قنفذ کی ماں أم حرام مجہول ہیں  )

*دوران نمازعورت کے لئے پاؤں کی پشت ڈھانپنے کے بارے میں سنن ابی داؤد وغیرہ  میں جو روایت ہے وہ ضعیف ہے،اور جو لوگ اس حدیث کی بنا پر عورت کے لیے پاؤں ڈھانپنے کے وجوب کے قائل ہیں، ان کا انحصار کمزور دلیل پر ہے*

*اگرچہ اوپر والی روایت کمزور ہے مگر اس مسئلے میں راجح اور صحیح مؤقف یہی معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے پاؤں کی  پشت بھی ستر ہے اور اسکو ڈھانپنا بہتر ہے*

حدیث ملاحظہ فرمائیں

📚حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ ، لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ “. فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : فَكَيْفَ يَصْنَعْنَ النِّسَاءُ بِذُيُولِهِنَّ ؟ قَالَ : ” يُرْخِينَ شِبْرًا “. فَقَالَتْ : إِذَنْ تَنْكَشِفُ أَقْدَامُهُنَّ، قَالَ : ” فَيُرْخِينَهُ ذِرَاعًا، لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ ”
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
حكم الحديث: صحيح
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جس نے تکبر سے اپنا کپڑا لٹکایا اللہ تعالى قیامت کے دن اسکی طرف نہیں‌ دیکھے گا 
ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے استفسار کیا کہ عورتیں‌ اپنے دامنوں کا کیا کریں (کیا وہ بھی مردوں کی طرح نصف پنڈلی پر رکھیں )
تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ (نصف پنڈلی سے ) ایک بالشت نیچے تک لٹکائیں،
وہ عرض گزار ہوئیں کہ پھر تو انکے پاؤں کھلے رہ جائیں‌ گے ۔۔؟
تو آپ‌ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر (نصف پنڈلی سے ) ایک ذراع نیچے لٹکائیں اور اس سے زیادہ نا لٹکائیں،
(سنن ترمذی،حدیث نمبر_1731)
سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر_3580)
یہ حدیث صحیح ہے

(ڈیڑھ فٹ / دو بالشت / ہاتھ‌ کی درمیانی انگلی سے کہنی تک کے حصہ کو ذراع کہتے ہیں‌ جوکہ دو بالشت کی ہوتی ہے اور متوسط آدمی کا ذراع ڈیڑھ فٹ‌کا ہوتا ہے ) 

اس سے معلوم ہوا کہ عورتیں
1) غیر محرموں سے اپنے پاؤں کو چھپائیں
2) کپڑا نصف پنڈلی سے عموما ایک بالشت اور گھر سے باہر نکلتے ہوئے دو بالشت تک لٹکائیں
3) جب نصف پنڈلی سے ایک بالشت نیچے تک لٹکائیں گی تو بالضرور انکے پاؤں‌ چھپ جائیں‌ گے
4) عورت کا یہ لباس نماز اور غیر نماز دونوں کے لیے یکساں ہے) ہے،

📚اور امام بیہقی رح نے لکھا ہے:
وفی ھذا دلیل علی وجوب ستر قدمیھا
” یہ حدیث دلیل ہے کہ عورت کے لئے قدموں کو ڈھانپنا واجب ہے-”
(بیہقی ج2، ص 233_ حدیث نمبر_3252)

📚علامہ البانی رح نے اس موضوع پر مختصرا نفیس بحث کی ہے:
وعلی ھذا جری العمل من النساء فی عھد صلی اللہ علیہ وسلم وما بعدہ
“عورتوں کے لیے پاؤں ڈھانپنے پر ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عمل رہا ہے-”
(حجاب المراۃ:ص 37)

لہذا عورت کے لئے ضروری ہے کہ عام حالات میں بھی پاؤں کی پشت ڈھانپ کر رکھے، کیونکہ یہ بھی “ستر” میں شامل ہے، اور جب عام حالت میں بھی یہ حکم ہے تو نماز میں بھی یہی حکم ہے کہ عورت کے پاؤں کی پشت ڈھکی ہوئی ہو، اس بارے میں ابی داؤد کی روایت تو بلا شبہ ضعیف ہے،
جیسا کہ محترم حافظ صاحب حفظہ اللہ نے ارواء الغلیل کے حوالے سے نقل کیا ہے مگر اجماع صحابہ رضی اللہ عنہ اس روایت کا موید ہے- 

📚علامہ ابن عبدالبر رح نے تو کہا ہے:
ولا اجماع فی ھذا الباب اقوی من الخبر فیہ
“اس بارے میں اجماع حدیث سے زیادہ قوی دلیل ہے”
(التہمید: ج 6، ص 368)

📚مزید فرماتے ہیں:
” میں صحابہ رضی اللہ عنہم میں عورت کے پاؤں ڈھانپنے کے بارے میں اختلاف نہیں جانتا- تمہارے لیے اس بارے میں امہات المسلمین رضی اللہ عنہن کے آثار کافی ہیں-”
(الاستذکار: ج 5، ص 444)

اس حوالے سے انھوں نے آثار کی طرف اشارہ بھی فرمایا ہے کہ صحابہ کرام “درع سابغ” میں نمازکا حکم دیتے تھے اور “درع سابغ” اسے کہتے ہیں جو عورت کے پاؤں کو ڈھانپے-

📚علامہ شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
ھو قمیص المراۃ الذی یغطی بدنھا ورجلیھا ویقال لھا سابغ
“در” عورت کی اس قمیص کو کہتے ہیں جس سے اس کا بدن اور پاؤں چھپ جائيں اور اسے “سابغ” کہا جاتا ہے-”
(نیل الاوطار: ج 2، ص 70)

📚علامہ البانی رحمہ اللہ ابن عمر والی حدیث کے بارے فرماتے ہیں کہ،
” یہ حدیث عورت کے قدم ڈھانپنے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے- اور یہ امام شافعی رح وغیرہ کا مذھب ہے اور یہ بھی جان لو کہ اس بارے میں آزاد اور غلام عورت کا کوئی فرق نہیں، کیونکہ دونوں میں فرق کی کوئی دلیل نہیں-”
(الثمر المستطاب فی فقہ السنہ والکتاب: ج 1، ص 324)

📚نماز میں پاؤں ڈھانپنے کے وجوب کے قائلین میں سعودی عرب کے مشہور محقق عالم علامہ عبدالعزیز بن بازؒ بھی شامل ہیں ،
ان کا فتویٰ ہے کہ
:سوال
حكم تغطية المرأة قدميها في الصلاة
هل هناك دليل على وجوب تغطية المرأة لقدميها في الصلاة ؟.
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
الجواب
الحمد لله
الواجب على المرأة الحرّة المكلفة ستر جميع بدنها في الصلاة ما عدا الوجه و الكفين لأنها عورة كلها (۱) ، فإن صلت و قد بدا شيء من عورتها كالساق والقدم والرأس أو بعضه لم تصح صلاتها لقول النبي صلى الله عليه و سلم : ” لا يقبل الله صلاة حائض إلا بخمار ” رواه أحمد وأهل السنن إلا النسائي بإسناد صحيح .

و لما روى أبو داود عن أم سلمة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنها سألت النبي عن المرأة تصلي في درع و خمار بغير إزار فقال : ” المرأة عورة ” (۲)

وأما الوجه فالسنّة كشفه في الصلاة ، إذا لم يكن هناك أجانب ، أما القدمان فالواجب سترهما عند جمهور أهل العلم ، وبعض أهل العلم يسامح في كشف القدمين ، ولكن الجمهور يرون المنع ، وأن الواجب سترهما ولهذا روى أبو داود عن أم سلمة – رضي الله عنها – أنها سئلت عن المرأة تصلي في خمار وقميص ، قالت ” لا بأس إذا كان الدرع يغطي قدميها ” فستر القدمين أولى وأحوط بكل حال ، أما الكفان فأمرهما أوسع إن كشفتهما فلا بأس ، وإن سترتهما فلا بأس ، وبعض أهل العلم يرى أن سترهما أولى والله ولي التوفيق

ترجمہ :
سوال : ۔کیا نماز میں عورت کے پاؤں ڈھانپنے کے واجب ہونے کی کوئی دلیل ہے ؟
الجواب :
سب تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں ،آزاد ، مکلف عورت پر نماز میں اپنا تمام جسم سوائے چہرے اور ہتھیلیوں کے ڈھانپنا واجب ہے ،
اور اگر نماز میں اس کے جسم کا کوئی قابل ستر حصہ جیسے پنڈلی ، قدم ، یا سر وغیرہ میں سے کچھ ننگا رہ گیا تو اس کی نماز صحیح نہیں ہوگی ۔
کیونکہ ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا“۔
(سنن ابوداود ۶۴۱ ،سنن الترمذی/الصلاة ۱۶۰ (۳۷۷)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ۱۳۲ (۶۵۵)
اور امام ابوداود نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل فرمائی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا عورت کرتہ اور اوڑھنی میں جب کہ وہ ازار (تہبند) نہ پہنے ہو، نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(پڑھ سکتی ہے ، جبکہ اس کا ستر مکمل ہو) اور عورت مکمل چھپانے کی چیز ہے “۔
اور (دوران نماز ) چہرے کو کھلا رکھنا سنت سے ثابت ہے ، اگر وہاں کوئی غیر مرد نہ ہو ۔ اور جمہور کے نزدیک دونوں قدموں کو ڈھانپنا واجب ہے ، جبکہ بعض اہل علم ستر قدم میں نرمی کا رویہ رکھتے ہیں ( یعنی واجب نہیں کہتے )
لیکن جمہور نماز میں عورت کے پاؤں ننگے کرنے سے روکتے ہیں ، اور انکے ستر کو ضروری سمجھتے ہیں ،
اور اس قول کی دلیل سنن ابوداود کی وہ روایت ہے جس میں :
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا عورت کرتہ اور اوڑھنی میں جب کہ وہ ازار (تہبند) نہ پہنے ہو، نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(پڑھ سکتی ہے) جب کرتہ اتنا لمبا ہو کہ اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو ڈھانپ لے“(🚫 لیکن دلیل میں پیش کی جانے والی دوسری حدیث ضعیف ہے جیسا کہ اوپر ہم ذکر کر چکے ہیں)

سو بہتر اور احتیاط والا عمل یہی ہے کہ قدموں کو ہر حال میں ڈھانپا جائے ، اور ہتھیلیوں کے بارے میں آسانی ہے اگر بےپردہ ہوں تب بھی ٹھیک ہے اور اگر پردہ میں ہوں تو بھی جائز ہے ۔ انتہی

(فتاوى المرأة المسلمة للشيخ عبد العزيز بن باز ص: 57)
https://islamqa.info/ar/1046

________&________

دوسرا فتویٰ:

📚علامہ محمد بن صالح العثیمینؒ کا فتوی ملاحظہ فرمائیں :
حكم كشف المرأة كفيها وقدميها في الصلاة
سوال :
ما حكم ظهور القدمين والكفين من المرأة في الصلاة، مع العلم أنها ليست أمام رجال ولكن في البيت؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جواب :
المشهور من مذهب الحنابلة – رحمهم الله – أن المرأة البالغة الحرة كلها عورة في الصلاة إلا وجهها، وعلى هذا فلا يحل لها أن تكشف كفيها وقدميها. وذهب كثير من أهل العلم إلى جواز كشف المرأة كفيها وقدميها. والاحتياط أن تتحرز المرأة من ذلك، لكن لو فرض أن امرأة فعلت ثم جاءت تستفتي فإن الإنسان لا يجرؤ أن يأمرها بالإعادة.
الشيخ ابن عثيمين

ترجمہ :
عورت کا نماز میں اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو ننگا کرنا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اگر نماز میں عورت کے دونوں ہاتھ اور پاؤں ننگے ہوں تو اس کا کیا حکم ہے ۔جب کہ وہاں کوئی نہ ہو اور عورت اپنے گھر میں نماز ادا کررہی ہو؟
الجواب ــــــــــــــــــــــ​

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
حنابلہ ۔کے مذہب میں مشہور قول یہ ہے کہ نماز میں آزاد اور بالغ عورت کا چہرے کے سوا سارا جسم پردہ ہے۔ لہذا اس کے لئے ہاتھوں اور پاؤں کو ننگاکرنا جائز نہیں لیکن بہت سے اہل علم کا مذہب یہ ہے کہ عورت کے لئے نماز میں ہاتھوں اور پاؤں کو ننگا رکھنا جائز ہے۔جب کہ احتیاط اسی میں ہے کہ اس سے پرہیز کیا جائے۔ لیکن فرض کیا کہ اگر عورت نے نماز میں اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو ننگا کرلیا اور پھر وہ اس سلسلے میں فتویٰ طلب کرے تو کوئی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اپنی نماز کو دوہرائے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
فتاویٰ اسلامیہ
ج1ص381
محدث فتویٰ​

*ان دلائل سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ عورت کے لیے دوران نماز پاؤں ڈھانپنا ضروری ہیں، اگر بالفرض ضروری نا بھی سمجھیں تو کم از کم مستحب ضرور ہے خاص کر جب عورت کے آس پاس غیر محرم ہوں تو  بہتر عمل یہ ہے کہ وہ پاؤں ڈھانپ کر ہی نماز پڑھے،لیکن اگر کوئی عورت پاؤں ڈھانپ کر نماز نہیں پڑھتی تو ہم اسکی نماز نا ہونے کا فتویٰ نہیں دے سکتے*

*مزید عرض ہے کہ اس مسئلے میں بہتر اور واجب  کی بحث سے قطع نظر دیکھا جائے کہ صحابیات رضی اللہ عنھن کا معمول کیا تھا اور وہ اس پاکیزہ معاشرہ میں پاؤں ننگے رکھ کر چلتی اور نماز پڑھتی تھی، یا ڈھانپ کر؟*

حافظ ابن عبدالبر رح کے بیان اور حصرت ام سلمہ رض کے استفسار سے تو اس کی تائید ہوتی ہے کہ ان کے پاؤں بہرحال ننگے نہیں ہوتے تھے،

جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ صحابیات اتنا کپڑا نیچے لٹکاتی کہ انکا کپڑا نیچے لگتا تھا،

📚سنن ابوداؤد
کتاب: پاکی کا بیان
باب: دامن میں نجاست لگ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 383
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ.
ترجمہ:
ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کی ام ولد  (حمیدہ)  سے روایت ہے کہ  انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے پوچھا کہ میں اپنا دامن لمبا رکھتی ہوں   (جو زمین پر گھسٹتا ہے)   اور میں نجس جگہ میں بھی چلتی ہوں؟ تو ام سلمہ ؓ نے کہا رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا ہے:  اس کے بعد کی زمین   (جس پر وہ گھسٹتا ہے)   اس کو پاک کردیتی ہے ۔  
تخریج دارالدعوہ: 
سنن الترمذی/الطھارة ١٠٩ (١٤٣)،
سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٩ (٥٣١)،
(تحفة الأشراف: ١٨٢٩٦)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطھارة ٤(١٦)، سنن الدارمی/الطھارة ٦٣ (٧٦٩) (صحیح  )

*لہذا مسلمان عورتوں کو امہات المسلمین رضی اللہ عنھن کی پیروی کرنی چاہیے اور مادر پدر آزاد معاشرے کی نقالی سے اجتناب کرنا چاہیے،اس لیے بہتر یہی ہے کہ عورت کے پاؤں بھی “ستر” ہیں اور انکو ڈھانپنا چاہیے*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

[[ کیا مردوں کے لیے کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا جائز ہے؟اور خواتین کے لیے شادی بیاہ کے موقعوں پر ایسے لمبے غرارے اور دوپٹے جو زمین پر گھس رہے ہوتے، انکے پہننے کے بارے کیا حکم ہے؟؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-101)

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦         سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
     کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں