722

سوال_زمین کی کس کس پیداوار میں کب اور کتنا عشر فرض ہے؟ اور کیا سبزیوں کی فصل میں زکوٰۃ نہیں ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-35″
سوال_زمین کی کس کس پیداوار میں کب اور کتنا عشر فرض ہے؟اور کیا سبزیوں کی فصل میں زکوٰۃ نہیں ہے؟

Published Date:10-3-2018

جواب۔۔!
الحمدللہ۔۔۔!

*ہمارے علم کے مطابق اللہ پاک نے زمین کی ہر پیداوار میں اپنا حق فرض کیا ہے جو ہر مسلمان کے لئے ادا کرنا ضروری ہے،لیکن علمائے کرام کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے*

📙اس سلسلہ میں چار اجناس تو وہ ہیں جن پر وجوبِ عشر کے حوالے سے اجماع ہوچکا ہے اور وہ یہ ہیں:
1. گندم، 2.جو، 3.کھجور اور 4.کشمش (دیکھئے:الاجماع لابن منذر: ص۴۳،)
( موسوعۃ الاجماع: ۱؍۴۶۶)

*جبکہ ان کے علاوہ دیگر اجناس کے بارے میں اہل علم کااختلا ف ہے*

📙حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور بعض تابعین اور امام احمد، موسیٰ بن طلحہ، حسن، ابن سیرین، شعبی، حسن بن صالح، ابن ابی لیلیٰ، ابن المبارک اور ابوعبید رحمہم اللہ کا یہی موقف ہے کہ صرف ان چار چیزوں پر زکوٰۃ ہے۔
(المحلّٰی: ج۵؍ ص۲۰۹)

📙اور یہ اصحاب اپنی تائیدمیں وہ روایات پیش کرتے ہیں جن میں صرف انہی چار اجناس کی زکوٰۃ کا ذکر ہے مگر ان کی اسناد ضعف سے خالی نہیں۔
تفصیل کے لئے دیکھئے
(فقہ الزکوٰۃ :ج۱ ؍ص۴۶۴،۴۶۵)

*جبکہ دیگر اہل علم ان تمام روایات کو ضعیف قراردیتے ہوئے دیگر زرعی اجناس پر بھی وجوبِ عشر کے قائل ہیں اور اپنی تائید میں قرآن و حدیث کے دیگر عمومی دلائل پیش کرتے ہیں مثلاً*

*قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔۔!*

📚القرآن – سورۃ نمبر 2 البقرة
آیت نمبر 267

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِنۡ طَيِّبٰتِ مَا كَسَبۡتُمۡ وَمِمَّاۤ اَخۡرَجۡنَا لَـكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ۖ وَلَا تَيَمَّمُوا الۡخَبِيۡثَ مِنۡهُ تُنۡفِقُوۡنَ وَلَسۡتُمۡ بِاٰخِذِيۡهِ اِلَّاۤ اَنۡ تُغۡمِضُوۡا فِيۡهِ‌ؕ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِىٌّ حَمِيۡدٌ ۞
ترجمہ:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ان پاکیزہ چیزوں میں سے خرچ کرو جو تم نے کمائی ہیں اور ان میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہیں اور اس میں سے گندی چیز کا ارادہ نہ کرو، جسے تم خرچ کرتے ہو، حالانکہ تم اسے کسی صورت لینے والے نہیں، مگر یہ کہ اس کے بارے میں آنکھیں بند کرلو اور جان لو کہ بیشک اللہ بڑا بےپروا، بےحد خوبیوں والا ہے۔

*دوسرے مقام پر اللہ فرماتے ہیں،*

📚تفسیر القرآن الکریم – سورۃ نمبر 6 الأنعام
آیت نمبر 141

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَهُوَ الَّذِىۡۤ اَنۡشَاَ جَنّٰتٍ مَّعۡرُوۡشٰتٍ وَّغَيۡرَ مَعۡرُوۡشٰتٍ وَّالنَّخۡلَ وَالزَّرۡعَ مُخۡتَلِفًا اُكُلُهٗ وَالزَّيۡتُوۡنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّغَيۡرَ مُتَشَابِهٍ ‌ؕ كُلُوۡا مِنۡ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثۡمَرَ وَاٰتُوۡا حَقَّهٗ يَوۡمَ حَصَادِهٖ‌ ‌ۖ وَلَا تُسۡرِفُوۡا‌ ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الۡمُسۡرِفِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کیے چھپروں پر چڑھائے ہوئے اور نہ چڑھائے ہوئے اور کھجور کے درخت اور کھیتی، جن کے پھل مختلف ہیں اور زیتون اور انار ایک دوسرے سے ملتے جلتے اور نہ ملتے جلتے۔ اس کے پھل میں سے کھاؤ، جب وہ پھل لائے اور اس کا حق اس کی کٹائی کے دن ادا کرو اور حد سے نہ گزرو، یقینا وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔

تفسیر:
وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَيْرَ مَعْرُوْشٰتٍ ۔۔ : ” مَعْرُوْشٰتٍ “ کا مادہ ” عرش “ (ن، ض) ہے۔ جب اس کا ذکر کسی پودے کی بیل کے ساتھ ہو تو اس کا معنی اس کی ٹہنیوں کو لکڑیوں وغیرہ پر اوپر اٹھانا ہے۔ ” عَرَشَ الْکَرْمَ “ یعنی اس نے انگور کی بیل کو لکڑی وغیرہ پر بلند کیا۔
مُتَشَابِهًا وَّغَيْرَ مُتَشَابِهٍ : اس جملے کی تفسیر کے لیے دیکھیے اس سورت کی آیت (٩٩) کا حاشیہ۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زمین سے پیدا ہونے والی ہر کھیتی، پھل، سبزی اور درخت کا ذکر فرما کر حکم دیا ہے کہ کٹائی کے دن اس کا حق ادا کرو، اس لیے زمین سے پیدا ہونے والے ہر پھل اور کھیتی میں سے اللہ کا حق ادا کرنا ضروری ہے، خواہ وہ ” مَّعْرُوْشٰتٍ “ ہوں، یعنی جن کی بیلیں چھتوں پر چڑھائی جاتی ہیں، مثلاً انگور، توری وغیرہ، یا ایسے باغات ہوں جن کی بیلیں زمین پر پھیلتی ہیں، مثلاً خربوزہ، تربوز، گرما وغیرہ، یا ایسے پھل دار درخت ہوں جو اپنے تنے پر قائم ہوں، مثلاً کھجور، زیتون اور انار وغیرہ، یا کوئی بھی کھیتی ہو، زمین سے پیدا ہونے والے ہر پھل اور کھیتی میں سے اللہ تعالیٰ کا حق نکالنا فرض ہے اور مال میں اللہ کا سب سے بڑا حق زکوٰۃ و عشر ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق بارش، چشموں اور نہروں سے سیراب ہونے والی ہر فصل میں عشر، یعنی دس من میں سے ایک من اور پانی کھینچ کر سیراب کی جانے والی ہر فصل میں نصف العشر، یعنی بیس من میں سے ایک من ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے کسی فصل کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔ مفصل احکام کتب احادیث میں ملاحظہ فرمائیں۔
بعض علماء فرماتے ہیں کہ سبزیوں میں اور ان پھلوں میں عشر نہیں ہے جن کا ذخیرہ نہ ہوسکتا ہو، مثلاً مالٹا، انار وغیرہ، دلیل کے طور پر ترمذی کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ سبزیوں میں صدقہ نہیں ہے، مگر خود امام ترمذی (رض) نے فرمایا کہ نہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور نہ اس مطلب کی کوئی اور حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے۔ اس آیت میں ہر کھیتی، زیتون اور انار کا ذکر ہے، حالانکہ انار کا ذخیرہ نہیں ہوتا۔ دور رسالت کے عمل کو دیکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت ایسی چیزوں کے عشر لینے کا اہتمام کرے جن کا ذخیرہ کرسکے، باقی باغوں اور کھیتوں والے اللہ کا حق خود مستحقین میں تقسیم کردیں۔ فتاویٰ علمائے حدیث کی ساتویں جلد میں متعدد جلیل القدر علماء کے مقالات میں ہر پھل اور کھیتی میں سے عشر کی بات نہایت مفصل اور مدلل بیان کی گئی ہے،

(تفسیر القرآن از عبدالسلام بھٹوی صاحب حفظہ اللہ)

*ان عمومی دلائل سے معلوم ہوا کہ ہر طرح کے غلے  میں سے عشر دینا چاہے وہ بیلوں والے باغات ہوں یا اناج والی فصلیں یا سبزیاں، سب میں زکوٰۃ فرض ہے*

*اس کے علاوہ اس گروہ کے پاس اوربھی کئی عمومی دلائل موجود ہیں، تاہم آگے چل کر ان میں بھی اختلاف ِرائے موجود ہے,مثلاً*

📙امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ہر اس اراضی پیداوار پرجس سے افزائش زمین مقصود ہو اور جس سے لوگ بالعموم فائدہ حاصل کرتے ہوں، زکوٰۃ فرض ہے۔جب کہ ان کے نزدیک لکڑی، گھاس پھونس، اور ایرانی بانس مستثنیٰ ہے۔ اس لئے کہ ان اشیا کی لوگ بالعموم پیداوار نہیں کرتے بلکہ اس سے زمین کو صاف کردیتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص (حصولِ منفعت کے لئے) لکڑی والے درخت یا بانس یا گھاس ہی زمین میں اُگالے تو اس پر عشر عائد ہوجائے گا…
امام ابویوسف اور امام محمد کی رائے ان اشیا کے بارے میں جن کا پھل باقی نہ رہے (جیسے سبزیاں اور ترکاریاں اور کھیرے ککڑی وغیرہ) امام ابوحنیفہؒ کی رائے سے مختلف ہے اور ان اشیا میں (بھی) ان کے نزدیک زکوٰۃ ہے۔”
(فقہ الزکوٰۃ: ج۱؍ ص۴۷۰ تا۴۷۱)

📙داود ظاہری وغیرہ کا نکتہ نظر بھی یہی ہے کہ
”ہر اراضی پیداوار پر زکوٰۃ ہے اور اس میں کوئی استثنیٰ نہیں اور یہی ابراہیم نخعی کا بھی ایک قول ہے اور یہی حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ، مجاہدؒ، حمادبن ابی سلمان ؒ سے مروی ہے۔”
(فقہ الزکوٰۃ: ج۱؍ ص۴۷۰ تا۴۷۱)

📙امام احمد بن حنبلؒ سے اس سلسلہ میں کئی طرح کے اقوال مروی ہیں تاہم ابن قدامہ نے المغنی میں ان کا جو مشہور قول بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ
”وکل ما أخرج اﷲ عزوجل من الأرض مما۔۔۔۔۔۔انتہی
ان تمام اشیا پر زکوٰۃ (عشر) ہے جن میں یہ تین وصف ہوں: 1. خشک ہونے کی خاصیت ہو 2. محفوظ کی جاسکتی ہوں 3. اور تولی جاسکتی ہوں۔”
(المغنی: ج۴؍ ص۱۵۵)

📙شوافع کا نکتہ نظر یہ ہے کہ
ہر وہ زرعی جنس جو غذا اور ذخیرہ بن سکتی ہے اس پرعشر ہوگا اور جن میں یہ شرائط نہ ہوں،ان پر عشر نہیں۔ مثلاً بادام، اخروٹ، پستہ، سیب، انار، امرود وغیرہ پر ان کے نزدیک عشر نہیں
(دیکھئے شرح المنہاج: ج۲؍ ص۱۶)

📙مالکیوں کی بھی یہی رائے ہے تاہم انہوں نے صرف ۲۰ متعین چیزوں پر عشر واجب قرار دیا ہے۔
(دیکھئے الشرح الکبیر مع حاشیہ الدسوقی :ج۱ ص۴۴۷)

*مذکورہ بالا اختلاف میں داود ظاہری کا نکتہ نظر ہمیں اَقرب الی السنۃ معلوم ہوتا ہے ۔امام ابو حنیفہ اور امام احمد کا فتویٰ بھی یہی ہے ۔متاخر علمائے اہلحدیث کی بڑی تعداد بھی اسی کی قائل ہے اور علامہ یوسف قرضاوی نے بھی اسی رائے کو ترجیح دی ہے،*

_________&______

*باقی رہی وہ احادیث جنکی بنا پر بعض علماء صرف چار یا پانچ چیزوں  پر عشر کا حکم لگاتے ہیں وہ تمام روایات ضعیف ہیں*

پہلی روائیت!

📚نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم،
نے ان پانچ چیزوں میں زکوۃ مقرر کی ہے:
گیہوں، جو، کھجور، انگور اور مکئی میں
(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر_1815)

🚫حکم الحدیث ضعیف
مگر یہ حدیث محمد بن عبیداللہ متروک راوی کی وجہ سے ضعیف ہے،

دوسری روائیت!

📚حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ،نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں  حکم دیا کہ
جو ،گندم،منقی اور کھجور کے علاوہ کسی غلے پر زکوٰۃ وصول نہ کرنا،
(مستدرک حاکم،ج1/ص401)
(طبرانی کبیر کما فی المجمع، ج3/ص75)

🚫حکم الحدیث ضعیف
اگرچہ علامہ البانی اور دیگر کچھ علماء  نے اسے صحیح کہا ہے مگر فی الواقع اس حدیث کی سند صحیح ثابت نہیں، کیونکہ اس میں

(1)ابو حذیفہ راوی صدوق سئی الحفظ ہے،
(2)ثفیان ثوری مدلس راوی کا عنعنہ ہے،
(3)اور طلحہ بن یحییٰ راوی مختلف فیہ ہے،
نیز شیخ البانی نے اس حدیث کو ثابت کرنے کے لیے جن راویات سے استشہاد کیا ہے وہ یا تو مرسل و ضعیف ہیں یا اس معنی کی نہیں ہیں،
مزید تفصیل کے لیے ملاحضہ ہو ،
(ارواء الغليل، تحت الحدیث/801)
(نصب الرایہ،ج2/ص386)

تیسری روائیت!

📚معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا،
وہ آپ سے سبزیوں کی زکاۃ کے بارے میں پوچھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا:
”ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے“
حدیث ذکر کرنے کے بعد  امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے،
۲- اور اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز صحیح(ثابت) نہیں ہے،
(سنن ترمذی، حدیث نمبر_638_ضعیف)

🚫حکم الحدیث ضعیف
اسکی سند میں حسن بن عمارہ ضعیف ہیں جیسا کہ امام ترمذی نے حدیث کے نیچے خود وضاحت فرما دی،
لہٰذا_اس حدیث سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سبزیوں میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے،

*چونکہ ہمارے علم کے مطابق اس معنی کی تمام احادیث کی سند صحیح ثابت نہیں ،لہذا عمومی دلائل کی وجہ سے ہر زمینی پیداوار میں نصاب تک پہنچنے کے بعد زکوۃ واجب ہے *

____________&________

*کتنی پیداوار ہو تو عشر فرض ہو جاتا۔۔؟*

📚رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ”
کہ پانچ اونٹ سے کم میں زکوٰۃ نہیں
اور پانچ اوقیہ سے کم ( چاندی) میں زکوٰۃ نہیں۔ اسی طرح پانچ وسق سے کم ( غلہ )میں زکوٰۃ نہیں۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_،1405، 1447، 1459)
(صحیح مسلم،حدیث نمبر_979)
(سنن ترمذی، حدیث نمبر_626)
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_1558)
(سنن نسائی،حدیث نمبر_2447٬، 2475،2485)

📙ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے،
اور 5 وسق تین سو صاع بنتے ہیں،
اور ایک صاع کا وزن 2100 گرام تقریباً بنتا ہے،اس اعتبار سے تین سو صاع کا وزن تقریباً 15 من 30 کلو گرام بنتا ہے، کچھ علماء حضرات 18 من اور کچھ 20 من بناتے ہیں،
اگر پیداوار اس سے کم ہو تو عشر فرض نہیں،
اور اگر فصل  اتنی ہو جائے تو پھر عشر فرض ہے،
___________&________

*اگر فی ایکڑ کی پیداوار  15 سے 20 من تک پہنچ جائے تو پھر کتنا عشر نکالنا ہو گا؟*

📚نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ، أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ”
وہ زمین جسے آسمان ( بارش کا پانی ) یا چشمہ سیراب کرتا ہو۔ یا وہ خودبخود نمی سے سیراب ہو جاتی ہو تو اس کی پیداوار سے دسواں حصہ لیا جائے اور وہ زمین جسے کنویں سے پانی کھینچ کر سیراب کیا جاتا ہو تو اس کی پیداوار سے بیسواں حصہ لیا جائے۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_1483)

یعنی اگر فصل بارانی ہو مطلب وہ بارشوں یا چشموں کے پانی سے سیراب کی جاتی ہو تو پھر اس فصل سے دسواں حصہ عشر نکالا جائے گا،
اور اگر فصل کو پانی کھینچ کر یعنی ٹیوب ویل یا قیمت ادا کر کے پانی لگایا جاتا ہو تو پھر اس فصل کا بیسواں حصہ عشر نکالا جائے گا،

*یعنی آجکل جسطرح ہمارے ہاں زیادہ تر ٹیوب ویل وغیرہ سے ہی فصلیں سیراب کی جاتی تو ایسی فصل کا غلہ اگر  15 سے 20 بیس من تک ہو جائے تو اس میں سے بیسواں حصہ عشر نکالنا فرض ہے، اور اگر تقریباً 15 من  سے کم ہو تو پھر عشر فرض نہیں، ہاں اگر مالک اپنی خوشی سے صدقہ کرنا چاہے تو وہ جس قدر چاہے صدقہ کر سکتا ہے،*

*اور ایک بات کہ کچھ لوگ کہتے کہ زمین کا ٹھیکہ نکال کر یا خرچہ نکال کر باقی غلے سے زکوٰۃ دینی چاہیے،یہ بات بے بنیاد اور من گھڑت ہے،زمین سے جو کچھ نکلے گا  اس تمام غلے میں سے سب سے پہلے عشر نکالیں گے پھر باقی اخراجات نکالیں گے،کیونکہ شریعت نے پہلے ہی پانی وغیرہ کے خرچے کیوجہ سے دسویں کی بجائے بیسواں حصہ مقرر کیا ہے عشر کا،لہذا کٹائی کے بعد خرچہ وغیرہ نکالنے سے پہلے جتنی جنس ہو اس میں سے پہلے عشر ادا کریں پھر باقی اخراجات وغیرہ*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦  سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
     کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “سوال_زمین کی کس کس پیداوار میں کب اور کتنا عشر فرض ہے؟ اور کیا سبزیوں کی فصل میں زکوٰۃ نہیں ہے؟

  1. سر ہماری 16سے17 ایکڑ زمین ہے اور ہر سال یہاں ہم دو فصلیں گندم اور کپاس یاچاو ام کاشت کرتے ہیں۔جبکہ پانی نہری ہے اور میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ اسکا عشر یا زکواۃ کیسے نکالیں

    1. نہری پانی سے مراد اگر فری کا پانی ہے، تو جب بھی فصل پک کر تیار ہو جائے تو اس فصل کی ٹوٹل پیداوار میں سے دسواں حصہ عشر دینا ہو گا،
      یعنی بالفرض اگر آپکی فصل کی پیداوار 100 من ہے تو اس میں 10 من عشر نکالیں گے،

      ۔اگر آپ پانی خرید کر فصل کو لگاتے ہیں تو اس فصل کی ٹوٹل پیداوار میں سے بیسواں حصہ عشر دینا ہو گا، یعنی سو من پیداوار میں سے 5 من،

اپنا تبصرہ بھیجیں