351

سوال-كيا غير مسلم ضرورت مندوں کو صدقہ، زکوٰۃ وغیرہ دينا جائز ہے؟ قرآن و سنت سے وضاحت کریں!

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-319”
سوال-كيا غير مسلم ضرورت مندوں کو صدقہ، زکوٰۃ وغیرہ دينا جائز ہے؟ قرآن و سنت سے وضاحت کریں!

Published Date: 28-2-2020

جواب۔۔!
الحمدللہ۔۔!

*غير مسلم فقراء و مساكين كو نفلى صدقہ و خيرات دينا جائز ہے اور خاص كر جب وہ قريبى عزيز اور رشتہ دار ہوں ليكن شرط يہ ہے كہ وہ ہمارے خلاف جنگ كرنے والوں ميں شامل نہ ہوں، اور ان ميں سے كسى نے ايسى زيادتى نہ كى ہو جس كى بنا پر ان كے ساتھ احسان كرنا ممنوع ٹھہرے، اور فرضى زكاۃ و خيرات انہيں دينا جائز نہيں ہے*

دلائل ملاحضہ فرمائیں!

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

📚أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يَنۡهٰٮكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ لَمۡ يُقَاتِلُوۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ وَلَمۡ يُخۡرِجُوۡكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡهُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَيۡهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ‏ ۞
اِنَّمَا يَنۡهٰٮكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ قَاتَلُوۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ وَاَخۡرَجُوۡكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ وَظَاهَرُوۡا عَلٰٓى اِخۡرَاجِكُمۡ اَنۡ تَوَلَّوۡهُمۡ‌ۚ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
اللہ تمہیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
اللہ تو تمہیں انھی لوگوں سے منع کرتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی کہ تم ان سے دوستی کرو۔ اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں،
(سورہ الممتحنة،8-9)

یعنی جو کافر جنگ کرنے والے نہیں ان کے ساتھ تعلقات رکھنا، انکے ساتھ بھلائی کرنا جائز ہے،

📚ایک اور جگہ پر اللہ فرماتے ہیں،
لَيۡسَ عَلَيۡكَ هُدٰٮهُمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَلِاَنۡفُسِكُمۡ‌ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡنَ اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡهِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ يُّوَفَّ اِلَيۡكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
تیرے ذمے انھیں ہدایت دینا نہیں اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو گے سو تمہارے اپنے ہی لیے ہے اور تم خرچ نہیں کرتے مگر اللہ کا چہرہ طلب کرنے کے لیے اور تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا ادا کیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا
(سورہ البقرہ آیت نمبر-272)

تفسیر:
لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰىھُمْ ۔۔ : اس آیت سے پہلے اور بعد میں صدقے کے مسائل و فضائل بیان ہو رہے ہیں، درمیان میں یہ کہنا کہ ” تیرے ذمے ان کی ہدایت نہیں “ کیا مناسبت رکھتا ہے ؟ اکثر مفسرین نے تو ” لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰى ھُم “ سے مراد کفار کی ہدایت لی ہے اور اس کی تفسیر یہ فرمائی کہ رشتے دار یا ضرورت مند اگر کافر ہے تو اس پر بھی صدقہ کرو، کافر ہونے کی وجہ سے صدقے سے ہاتھ نہ روکو، کیونکہ ان (کفار) کی ہدایت تمہارے ذمے نہیں،۔۔۔۔۔!
وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ ۭ :
یعنی مسلمانوں پر خرچ کرو یا کفار پر، جس مال یا وقت یا اثر و رسوخ یا علم سے کسی کو فائدہ پہنچاؤ اس کا فائدہ تمھی کو ہے، یعنی دنیا میں سعادت و برکت اور آخرت میں ثواب اور دخول جنت،
(تفسیر القرآن از عبدالسلام بھٹوی حفظہ اللہ )

📚اور ابن عباس (رضی اللہ عنھما) فرماتے ہیں کہ صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کو تھوڑی سی چیز دینا بھی ناپسند کرتے تھے، پھر انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دے دی اور یہ آیت اتری : (لَيْسَ عَلَيْكَ ھُدٰى ھُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ )
( السنن الکبرٰی للنسائی، التفسیر، باب قولہ : لیس علیک ھداھم ) : ج10/ص37، حدیث، 10986)

📚 [عن سعيد بن جبير:] لا تَصدِّقُوا إلّا على أهلِ دِينكمْ، فأنزلَ اللهُ تعالى: لَيْسَ عَلَيْكَ هُداهُمْ إلى قوْلِهِ وما تُنْفِقُوا من خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ قال: قال رسولُ اللهِ ﷺ: تَصدَّقُوا على أهلِ الأدْيانِ
سعید بن جبیر مرفوعاً بیان کرتے ہیں،
کہ اپنے دین والوں کے علاوہ کسی دوسرے پر صدقہ مت کیا کرو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آئیت نازل فرمائی،
“تمھارے ذمے ان کی ہدایت نہیں ہے”
تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمام ادیان والوں پر صدقہ کیا کرو۔
(الألباني السلسلة الصحيحة 6ج/ص628 • إسناده مرسل • )
(أخرجه ابن أبي شيبة في«المصنف» 10499)

📚حافظ ابن حجر رحمہ اللہ درایہ تخریج ہدایہ میں اس حدیث پر لکھتے ہیں:
حديث:
«تصدقوا على أهل الأديان كلها» ابن أبي شيبة من رواية سعيد بن جبير رفعه،((لا تصدقوا إلا على أهل دينكم ))فنزلت: (لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ) فقال: تصدقوا على أهل الأديان»
. ومن طريق محمد بن الحنفية نحوه، ولابن زنجويه فى الأموال عن سعيد بن المسيب:أن النبى عَلَيْكُمْ تصدق على أهل بيت من اليهود، وهذه مراسيل يشد بعضها بعضاانتهي ”
سعید بن جیر نے مرفوعاً حدیث روایت کی کہ آپ نے فرمایا اپنے دین والوں کے علاوہ اور کسی پر صدقہ نہ کیا کرو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تمھارے ذمے ان کی ہدایت نہیں ہے تو آپ نے فرمایا تمام ادیان والوں پر صدقہ کیا کرو۔
اور ایک روایت میں سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایک یہودی گھرانے کو صدقہ دیا،
(ابن حجر العسقلاني الدراية 1ج/ص266 • هذه مراسيل يشد بعضها بعضاً)

سبحان اللہ!
*اسلام کی رحمت عام کو دیکھیے کہ مشرک پر خرچ کرنا بھی باعث ثواب ہے، بشرطیکہ وہ حالت جنگ میں نہ ہو، بلکہ کسی جانور پر خرچ کرنا بھی باعث ثواب ہے،*

📚 جیسا کہ پیاسے کتے کو پانی پلانے والے شخص کی اس عمل کی وجہ سے بخشش ہوگئی۔ صحابہ نے پوچھا : ” کیا جانوروں کے بارے میں بھی ہمیں اجر ملتا ہے ؟ “ فرمایا : ” جو بھی تر جگر والا (جاندار) ہے اس میں اجر ہے۔ “
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-6009)

📚 اسماء بنت ابى بكر رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:” ميرى والدہ اپنے والد كے ساتھ ميرے پاس آئى جو كہ مشرک تھى ـ اس معاہدے كى مدت كے دوران جب نبى كريم صلى اللہ عليہ و سلم نے قريش كے ساتھ معاہدہ كيا تھا ـ تو ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرے پاس ميرى والدہ رغبت ركھتے ہوئے ـ مدد طلب كرنے ـ آئى ہے، تو كيا ميں اس كے ساتھ صلہ رحمى كروں؟ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ہاں اس سے صلہ رحمى كرو ”
(صحيح بخارى حديث نمبر_5979)

📚سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور خوشبو مانگی، سو جب میں نے اسے خوشبو دے دی تو اس نے کہا: اللہ آپ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے۔اس دعا سے میرے دل میں تردّد ہونے لگا، یہاں تک کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی اور پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا قبر میں عذاب ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں،مردوں کو قبر میں ایسا عذاب ہوتا ہے کہ چوپائے اس کی آواز کو سنتے ہیں۔
(مسند احمد حديث نمبر_ 24178)

📚مجاہد سے مروی ہے کہ: عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے گھر انکے لئے ایک بکری ذبح کی گئی ، چنانچہ جب وہ تشریف لائے تو انہوں نے پوچھا: کیا تم نے ہمارے یہودی پڑوسی کو اس میں سے تحفہ دیا ہے؟ کیا تم نے ہمارے یہودی پڑوسی کو اس میں سے تحفہ دیا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: (جبریل مجھے مسلسل پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے، حتی کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ اب اسے وارث ہی بنا دے گا)
(سنن ترمذی حدیث نمبر-1943)
اسے البانی سے صحیح کہا ہے،

📚ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
“یہ بھی جائز ہے کہ اس [قربانی کے گوشت]سے کافر کو بھی کھلایا جائے۔۔۔، کیونکہ یہ نفلی صدقہ ہے، اس لئے یہ ذمی اور قیدی کو کھلانا جائز ہے، جیسے کہ دیگر صدقات انہیں دیئے جا سکتے ہیں”انتہی
(“المغنی” ص9/450)

📚اور سعودی دائمی فتوی کمیٹی میں ہے کہ:ہمارے لئے جائز ہے کہ ہم معاہد کافر اور قیدی کو [عید قربان کی]قربانی کا گوشت کھلائیں، اور کافر کو غربت، یا قرابت داری، یا پڑوس، کی وجہ سے یا پھر تالیف قلبی کیلئے اسے دینا جائز ہے۔۔۔
(فتاویٰ ص11ج/424)

📚سعودی مفتی اعظم شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
“ایسا کافر جس کیساتھ ہماری لڑائی نہیں ہے، مثلا: جس نے ہمارے پاس پناہ لے رکھی ہو یا اسکے ساتھ ہمارا معاہدہ ہو تو اسے عید قربان کی قربانی اور صدقہ سے دیا جائے گا “انتہی
(مجموع فتاوى ابن باز_18/ 48)

*ان تمام دلائل سے یہ بات ثابت ہوئی کہ نفلی صدقات وغیرہ ایسے مشرکین و کفار کو دیے جا سکتے ہیں جو مسلمانوں سے جنگ کرنے والے نا ہوں،لیکن واضح رہے فرضی صدقات یعنی زکوۃ و عشر کا مال کفار و مشرکین کو دینا جائز نہیں، كيونكہ زكاۃ صرف انہيں دى جاسكتى ہے جو قرآن میں مصارف زكاۃ ذكر ہوئے ہيں*

📚اور حدیث معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکو یہ حکم دے کر بھیجا کہ،
” أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ غَنِيِّهِمْ ، فَتُرَدُّ عَلَى فَقِيرِهِمْ،
اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے، جو ان کے امیروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں کو لوٹا دی جائے گی
(صحیح بخاری حدیث نمبر -7372)

📚اس حدیث کےتحت حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں
“وأن الزكاة لا تدفع إلى الكافر لعود الضمير في فقرائهم إلى المسلمين”
کافروں کو زکوۃ نہیں دی جا سکتی کیونکہ فقیرھم میں” ھم” کی ضمیر مسلمانوں کی طرف لوٹتی ہے،
(فتح الباری شرح صحیح بخاری)

📚ہدایہ میں ہے:
“ولا يجوز أن يدفع الزكاة إلى ذمي لقوله عليه الصلاة والسلام لمعاذ رضي الله تعالیٰ عنه: خذها من أغنيائهم وردها في فقرائهم قال ويدفع إليه ما سوى ذلك من الصدقة ) وقال الشافعي رحمه الله : لا يدفع ، وهو رواية عن أبي يوسف رحمه الله اعتبارا بالزكاة . ولنا قوله عليه الصلاة والسلام { تصدقوا على أهل الأديان كلها }ولولا حديث معاذ رضي الله عنه لقلنا بالجواز فى الزكاة انتھی،
ذمی کافر کو معاذ کی حدیث کی وجہ سےز کوۃ نہیں دی جائے گی اور اس کے علاوہ دوسرے صدقات دئیے جا سکتے ہیں امام شافعی اس کے بھی قائل نہیں ہیں ابویوسف کی ایک روایت بھی یہی ہے انھوں نے ان کو زکوۃ پر قیاس کیا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام اہل دین پر صدقہ کرو معاذ کی حدیث نہ ہوتی تو ہم فرض زکوۃ بھی کافر کو دینا جائز سمجھتے۔

📚امام شافعى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
نفلى صدقہ و خيرات ميں سے مشرک كو دينے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن فرضى زكاۃ و صدقہ وغيرہ ميں اس كا كوئى حق نہيں، اور اللہ تعالى نے ايسے لوگوں كى تعريف بيان كرتے ہوئے فرمايا ہے:
﴿ اور وہ كھانا كھلاتے ہيں ﴾الآيۃ
(ديكھيں: كتاب الام للشافعى جلد_ 2 )

*اور مسلمان فقراء و مساكين كو نفلی صدقہ و خيرات دينا افضل اور بہتر ہے؛ كيونكہ انہيں صدقہ دينے ميں اللہ تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى ميں ان كى معاونت ہے، اور ان كے دينى اور دنياوى امور ميں ان كى معاونت ہو گى، اور پھر اس ميں مسلمانوں كے مابين آپس ميں ترابط و تعلقات بھى پيدا ہوتے ہيں، اور خاص كر آج كے دور ميں تو مسلمان فقراء مالداروں سے زيادہ تعداد ميں ہيں، اللہ تعالى ہى مدد كرنے والا ہے*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📚مزید تفصیل کیلیے دیکھیں
کیا کسی کافر/مشرک سے تعلقات رکھنا، دعوتیں قبول کرنا اور تحفوں کا لین دین کرنا جائز ہے؟ ((( سلسلہ نمبر-104 )))

🌹اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں