316

سوال-کیا حدیث کے مطابق کرونا وائرس 12 مئی تک ختم ہو جائے گا؟ کچھ علماء یہ حدیث بیان کر رہے ہیں کہ ثریا ستارہ نکلنے سے پھلوں کی بیماریاں، اور عام وبائی بیماریاں زمین سے ختم ہو جاتی ہیں؟ کیا یہ حدیث صحیح سند سے ثابت ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-333”
سوال-کیا حدیث کے مطابق کرونا وائرس 12 مئی تک ختم ہو جائے گا؟ کچھ علماء یہ حدیث بیان کر رہے ہیں کہ ثریا ستارہ نکلنے سے پھلوں کی بیماریاں، اور عام وبائی بیماریاں زمین سے ختم ہو جاتی ہیں؟ کیا یہ حدیث صحیح سند سے ثابت ہے؟

Published Date: 23-4-2020

جواب:
الحمدللہ:

*پچھلے کئی دنوں سے لوگوں میں ایک خبر گردش کررہی ہے کہ “جب ثریا ستارہ طلوع ہوتا ہے تو زمین پر وبائی امراض ختم ہوجاتے ہیں اور علم فلکیات کے حساب سے ثریا ستارہ 12 مئی کو طلوع ہونے والا ہے، اس لئےکورونا وائرس بھی ختم ہوجائے گا” کئی دنوں سے یہ خبر سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی تھی ،بعد میں ایک عالم طارق عثمانی دیوبندی صاحب نے احادیث میں موجود لفظ عاھۃ، لفظ ثریا اور لفظ نجم سے غلط استدلال کرتے ہوئے مذکورہ افواہ کو صحیح ثابت کرنے کی غلط کوشش کی ہے ، اس سے لوگوں میں پھیلی افواہ کو تقویت مل رہی ہے اور ستارہ پرستی کی طرف رجحان جارہا ہے،*

*طارق عثمانی صاحب کے مضمون میں اقوال سے درگزر کرتے ہوئے احادیث سے دو قسم کے دلائل پیش کئے گئے ہیں پہلی قسم کے دلائل کا تعلق پھلوں اور ان کی پختگی ودرستگی سے ہے، جن کا کسی قسم کی بیماری سے کوئی تعلق نہیں ہے اور دوسری قسم کے دلائل ضعیف ہیں ان سے استدلال باطل ہے، آئیے دلائل کا جائز لیتے ہیں،*

*پہلی قسم کے دلائل جن میں ہے کہ پھلوں کی خرید و فروخت نا کرنا جب تک ثریا ستارہ طلوع نا ہو جائے*

📚عثمان بن عبداللہ بن سراقہ کہتے ہیں:
سَاَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ بَیْعِ الثِّمَارِ فَقَالَ:
نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الثِّمَارِ حَتّٰی تَذْھَبَ الْعَاھَۃُ، فَقُلْتُ: وَ مَتٰی ذَاکَ؟ قَالَ: حَتّٰی تَطْلُعَ الثُّرَیَّا
میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے پھلوں کی فروخت کے بارے میں سوال کیا،انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آفت کا ڈر ختم ہو جانے تک پھلوں کی بیع سے منع کیا، میں نے کہا: اور یہ کب ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: جب ثریا ستارہ ظاہر ہوتا ہے،
(مسند احمد حدیث نمبر 5105)
حكم الحديث: إسناده صحيح على شرط البخاري

دوسری دلیل

📚 أنَّ رَسولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وَسَلَّمَ نَهَى عن بَيْعِ النَّخْلِ حتَّى يَزْهُوَ، وَعَنِ السُّنْبُلِ حتَّى يَبْيَضَّ، وَيَأْمَنَ العَاهَةَ نَهَى البَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کو پکنے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے اور بالی کو بھی یہاں تک کہ وہ سوکھ جائے اور آفت سے مامون ہو جائے بیچنے والے، اور خریدنے والے دونوں کو منع کیا ہے۔
(صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْبُيُوعُ | بَابٌ : النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلَاحِهَا حدیث نمبر:1535)

ان احادیث سے مولوی صاحب استدلال کرتے ہوئے کہتےہیں کہ دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھلوں کو بیماری لگ جاتی ہے تو جب ثریا ستارہ طلوع ہوتا ہے تو وہ بیماری ختم ہوجاتی ہے اور پھلوں کی بیماری عام ہے یعنی لوگوں میں بھی بیماری پھیلی ہوئی ہو تو ثریا ستارہ طلوع ہونے سے بیماری ختم ہوجاتی ہے اور ماہر فلکیات کہتے ہیں کہ مئی کے درمیانی عشرہ یعنی گیارہ دن گزرنے کے بعد ثریا طلوع ہوتا ہے، اس طرح امسال ام القری کلینڈر کے حساب سے بارہ مئی انیس رمضان کو پڑتا ہے لہذا رمضان کے دوسرے عشرہ کے اخیر میں کورونا وائرس کی بیماری ختم ہوجائے گی،

مولانا طارق صاحب کی تحریر میں ان کے نام کے ساتھ محقق و علامہ لگاہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ رحم فرمائیں اگر اس طرح سے تحقیق کرنے لگے تو دنیا کے لوگوں کو پھل کھانے کے لئے سال بھر انتظار کرنا پڑے گا اور طلوع ثریا کے بعد ہی کوئی پھل بیچ سکے گا اور کھا سکے گا اور سردی میں جو پھل تیار ہوگا اس کا بیچنا حرام ہوجائے گاکیونکہ ثریا تو طلوع نہیں ہوا اور پھل کی وبائی بیماری ابھی ختم نہیں ہوئی،

*دراصل ان احادیث کا مطلب کیا ہے؟*

ان احادیث کا مطلب سمجھنے کیلئے سب سے پہلے محدثین کرام کی ان احادیث پر تبویب دیکھتے ہیں کہ ان احادیث سے انہوں نے کیا بات مراد لی ہے،

📒صحيح مسلم
كِتَاب الْبُيُوعِ
لین دین کے مسائل
باب النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلاَحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ:
باب: پھل جب تک ان کی صلاحیت(پختگی) کا یقین نہ ہو درخت پر بیچنا درست نہیں جب کاٹنے کی شرط نہ ہوئی ہو۔

📒وفي سنن الترمذي،
(بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا)
کتاب: خرید وفروخت کا بیان
باب: پھل پکنے شروع ہونے سے پہلے بیچنا کی کراہت کا بیان،

📒سنن ابو داؤد،
كِتَابٌ : الْبُيُوعُ، وِالْإِجَارَاتُ | بَابٌ : فِي بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا
پھلوں کی بیع انکی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے

📒 امام مالک موطأ مالك میں اس عنوان کے تحت یہ حدیث لائے ہیں عنوان
(النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ، حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا)،
پھلوں کو ان کی پختگی اور بہتری ظاہر ہو جانے سے پہلے بیچنے کی ممانعت کا بیان،

📒 وقال مالك عقب روايته للحديث:
(وَبَيْعُ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا، مِنْ بَيْعِ الْغَرَرِ).
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پھلوں کو ان کی پختگی اور بہتری ظاہر ہو جانے سے پہلے بیچنا ،دھوکے کی بیع میں سے ہے،

📒مصنف عبد الرزاق الصنعاني في
(بَاب: بَيْعُ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا)
پھلوں کی بیع جب انکی پختگی ظاہر ہو جائے

📒وفي مصنف ابن أبي شيبة، في باب
(فِي بَيْعِ الثَّمَرَةِ مَتَى تُبَاعُ؟)
پھلوں کی بیع کے بارے کہ کب انکو بیچا جائے،

*محدثین کرام کی تبویب سے یہ بات واضح ہو رہی کہ اوپر ذکر کردہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ جب پھل پک کر تیار ہوجائے تب بیچا جائے تاکہ خریدنے والے کو درست پھل مل سکے ،اگر پھل تیار ہونے سے پہلے کسی کو بیچ دیا جائے تو ممکن ہے وہ ہوا، بارش ، طوفان اور موسم سے متاثر ہوکر خراب ہوجائے اور خریدنے والے کو پھل کاٹنے کے وقت نقصان ہوجائے ۔اس لئے حدیث میں وارد لفظ “عاھہ” کا مطلب پھل تیار اور پختہ ہوجانا یعنی کھانے اور ذخیرہ کرنے کے قابل ہوجا نا ہے*

اسکی مزید وضاحت کیلئے درج ذیل احادیث دیکھیں،

📚سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ، وَتَذْهَبَ عَنْهُ الْآفَةُ “. قَالَ : يَبْدُوَ صَلَاحُهُ : حُمْرَتُهُ وَصُفْرَتُهُ
”مت بیچو پھل کو درخت پر جب تک اس کی سلامتی معلوم نہ ہو جائے اور آفت کے جانے کا یقین ہو جائے۔“ سلامتی معلوم ہونے سے یہ غرض ہے کہ اس میں سرخی یا زردی نمودار ہو جائے،
(صحیح مسلم حدیث نمبر-1534)

📚‏‏‏‏سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،
نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ ، وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ، وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ ؛ نَهَى الْبَائِعَ، وَالْمُشْتَرِيَ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کھجور کے بیچنے سے جب تک وہ لال یا زرد نہ ہو (کیونکہ جب سرخی یا زردی اس میں آ جاتی ہے تو سلامتی کا یقین ہو جاتا ہے)اس طرح منع فرمایا بالی کے بیچنے سے جب تک سفید نہ ہو اور آفت کا ڈر نہ جائے اور منع کیا بائع کو بیچنے سے اور خریدار کو خریدنے سے۔
(صحیح مسلم حدیث نمبر-1535)

📚اسی طرح نبی ﷺ کا ارشاد ملاحظہ فرمائیں بخاری شریف کی روایت ہے
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ
نَهَى النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ عن بيعِ الثمارِ حتى يَبْدُو “صَلاحُهَا”
ترجمہ :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کو ان کی پختگی اور بہتری ظاہر ہو جانے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے
(صحیح بخاری حدیث نمبر-1487)

اس حدیث میں “صلاح” کاجو لفظ آیا ہے جس کے معنی پختگی اور بہتری ظاہر ہونے کے ہیں دراصل یہی معنی *عاھہ* کا ہے جو بخاری کی دوسری روایت سے واضح طور پر معلوم ہوتاہے،

📚 چنانچہ اس روایت کو بھی دیکھیں :
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ،
نَهَى النبيُّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ عن بيعِ الثمرةِ حتى يَبْدُو صَلاحُهَا ، وكان إذا سُئِلَ عن صَلاحِهَا ، قال : حتى تَذْهَبَ عَاهَتُهُ،
ترجمہ :
نبی ﷺ نے پھلوں کے پکنے سے پہلے اس کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے، جب آپ سے “صلاح” کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
حتى تَذْهَبَ عَاهَتُهُ
یہاں تک کہ نقصان کا اندیشہ نہ رہے،
(صحیح بخاری حدیث نمبر-1486)

علامہ البانی رحمہ اللہ نے غایۃ المرام میں صحیح سند کے ساتھ اس سے متعلق صاف اور واضح روایت ذکر کی ہے،

📚أن النبيَّ نهى عن بيعِ الثمارِ في الحقولِ أو الحدائقِ قبل أن يبدوَ صلاحَها ويعرفُ أنها سالمةٌ من العاهاتِ والآفاتِ
ترجمہ :
نبی ﷺ نے کھیتوں یا باغیچوں میں پھلوں کی درستگی (پکنے ) سے پہلے بیچنے سے منع کیا ہے ،یہاں تک کہ پھلوں کے نقصان اور آفت سے سلامتی کا یقین نہ ہوجائے،
(غاية المرام:370)

اب صحیح بخاری سے وہ حدیث پیش کرتا ہوں جس سے بات بالکل پوری طرح صاف اور واضح ہوجائے گی کہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے پھل پختہ ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا اور ثریا طلوع ہونے کا مطلب کیا ہے ؟

📚زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَايَعُونَ الثِّمَارَ ، فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ ، قَالَ الْمُبْتَاعُ : إِنَّهُ أَصَابَ الثَّمَرَ الدُّمَانُ ، أَصَابَهُ مُرَاضٌ ، أَصَابَهُ قُشَامٌ عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمَّا كَثُرَتْ عِنْدَهُ الْخُصُومَةُ فِي ذَلِكَ ، فَإِمَّا لَا فَلَا تَتَبَايَعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُ الثَّمَرِ كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ ، وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ : أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَمْ يَكُنْ يَبِيعُ ثِمَارَ أَرْضِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا فَيَتَبَيَّنَ الْأَصْفَرُ مِنَ الْأَحْمَرِ.
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگ پھلوں کی خرید و فروخت ( درختوں پر پکنے سے پہلے ) کرتے تھے۔ پھر جب پھل توڑنے کا وقت آتا، اور مالک ( قیمت کا ) تقاضا کرنے آتے تو خریدار یہ عذر کرنے لگتے کہ پہلے ہی اس کا گابھا خراب اور کالا ہو گیا، اس کو بیماری ہو گئی، یہ تو ٹھٹھر گیا پھل بہت ہی کم آئے۔ اسی طرح مختلف آفتوں کو بیان کر کے مالکوں سے جھگڑتے ( تاکہ قیمت میں کمی کرا لیں ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس طرح کے مقدمات بکثرت آنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اس طرح جھگڑے ختم نہیں ہو سکتے تو تم لوگ بھی میوہ کے پکنے سے پہلے ان کو نہ بیچا کرو۔ گویا مقدمات کی کثرت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بطور مشورہ فرمایا تھا۔ خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اپنے باغ کے پھل اس وقت تک نہیں بیچتے جب تک ثریا نہ طلوع ہو جاتا اور زردی اور سرخی ظاہر نہ ہو جاتی۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر-2193)

*اس حدیث کے آخری الفاظ بتلا رہے کہ ثریا کا طلوع ہونا کسی بیماری کے ختم ہونے کی وجہ نہیں ہے بلکہ اس بات کا محض گمان وعلامت ہے کہ بلاد حجاز میں گرمی شروع ہوگئی اب ان ممالک میں گرمیوں کے پھل پک کر تیار ہو گئے ہوں گے،یعنی ثریا ستارے کے طلوع ہونے کو بطور موسم اور وقت کے دیکھا جاتا تھا، کیونکہ اس وقت ٹائم ٹیبل وغیرہ تو تھے نہیں، تو یہ جاننے کیلے کہ پھل کب تک اچھی طرح پک جاتے ہیں انہوں سے ثریا ستارے کے طلوع کا ہونے کا حساب لگا لیا کہ جب حجاز کے علاقے میں ثریا ستارہ طلوع ہو گا تو پھل خاص کر کھجور اچھی طرح پک جائیں گے اور کچا نا ہونے کیوجہ سے کوئی پھل خراب نہیں ہو گا، یا وائرس بیماری لگنے کا خطرہ ٹل گیا*

*یعنی ایک اشارہ کے طور پر ثریا ستارہ دیکھتے تھے کہ جیسے ہمارے ملک میں آم کا پھل جون جولائی میں اچھا پکتا، گندم کی فصل اپریل مئی میں تیار ہوتی، یعنی ہر موسم کے پھل کا ایک وقت مقرر ہے کہ فلاں پھل فلاں فصل اس مہینے میں اچھی طرح پک جائے گی، اور جیسے کہ فلاں موسم میں آندھی طوفان بارشیں آتی یا کچے پھلوں کو بیماریاں وائرس لگتا، جب وہ موسم گزر جائے یا پھل پک جائیں تو پھر وہ خدشہ ختم ہو جاتا ہے،*

*تو اسی طرح حجاز کے علاقے میں اس وقت ثریا ستارے کا حساب رکھا جاتا کہ جب ثریا ستارہ طلوع ہو گا تو پھل اچھی طرح پک جائے گا،اور پھلوں کو وبا وغیرہ لگنے کا خدشہ ختم ہو جائے گا،لہذا اس وقت پھل وغیرہ کی خرید و فروخت کی جا سکتی ہے*

*دنیا میں بہت سے پھل سردیوں میں تیار ہوتے ہیں اور پھر گرمیوں کی شروعات و انتہا تمام ممالک میں فرق ہو سکتے ہیں اس لئے ان تمام احادیث سے مراد یہ ہے کہ لوگ پھل لگائیں تو اس کو اچھے سے تیار اور پکنے دیں پھر بیچیں*

________________&____________

*اب ہم دیکھتے ہیں مولانا طارق قاسمی صاحب کے دوسری قسم کے وہ دلائل کہ جن سے وہ ثابت کرتے ہیں کہ ثریا ستارہ طلوع ہونے سے زمین سے وبائی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں*

پہلی روایت!

📚سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:
ما طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا قَطُّ ، وبقومٍ عاهةٌ ، إلا وَرُفِعَتْ عنهم أو خَفَّتْ
ترجمہ:
جب صبح کے وقت (ثریا) ستارہ طلوع ہوتا ہے اور اس وقت جو قوم جس بیماری میں مبتلا ہوتی ہے تو وہ بیماری سرے سے ختم ہو جاتی ہے یا اس میں تخفیف کر دی جاتی ہے۔
(مسند احمد حدیث نمبر-9039)
(الطبراني في «المعجم الأوسط» 1305)

مسند احمد کی اس روایت کو مسند کی تحقیق میں شعیب ارناؤط نے حسن کہا ہے مگر ان کی بات صحیح نہیں ہے کیونکہ اس میں ضعیف راوی ہے اور یہی حدیث عبداللہ محمد مقدسی کی کتاب الآداب الشرعیہ میں ضعیف لکھی ہے جس کی تحقیق شعیب ارناؤط اور عمر قیام نے کی ہے،

حدیث بیان کرنے والے امام احمد نے خود فرمایا کہ یہ حدیث قوی نہیں اور شیخ البانی نے بھی ضعیف الجامع(5096) میں اسے ضعیف کہا ہے۔

اسکے علاوہ دیگر تمام ائمہ کرام نے بھی اس روایت کو ضعیف ہی کہا ہے،
ملاحظہ ہو!

📒(محمد جار الله الصعدي (١١٨١ هـ)، النوافح العطرة ٣١٢ • ضعيف)

📒(البوصيري (٨٤٠ هـ)، إتحاف الخيرة المهرة ٣/٣٢٧ • [فيه] عسل بن سفيان ، وهو ضعيف)

📒(الألباني (١٤٢٠ هـ)، ضعيف الجامع ٥٠٩٦ • ضعيف •)

📒( العقيلي (٣٢٢ هـ)، الضعفاء الكبير ٣/٤٢٦ • [فيه] عسل بن سفيان في حديثه وهم قال البخاري فيه نظر وقال أحمد ليس بالقوي)

📒الطبراني (٣٦٠ هـ)، المعجم الأوسط ٢/٧٨ • لا يروى هذا الحديث عن عسل بن عسل وعطاء السليل إلا وهيب ولا عن وهيب إلا حرمي تفرد به الجراح

دوسری دلیل:

📚 إذا طلع النَّجمُ ، رُفِعَت العاهةُ عن أهلِ كلِّ بلدٍ(عن ابی ھریرہ)ترجمہ: جب ثریا طلوع ہوتا ہے تو شہر والوں سے بیماری ختم کردی جاتی ہے ۔
(أخرجه الطحاوي في «شرح مشكل الآثار» (2282) واللفظ له،
( والطبراني في «المعجم الصغير» 104)
(مسند احمد حدیث نمبر-8495)

اس روایت کو بھی اگرچہ شعيب الأرنؤوط (١٤٣٨ هـ)،تخريج مشكل الآثار ٢٢٨٢ • إسناده صحيح رجاله ثقات، وله شاهد کہا،

مگر یہ حدیث بھی ضعیف اس حدیث کو بھی شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے
(الألباني(١٤٢٠ هـ)السلسلة الضعيفة 397 • ضعيف)

_______________&_________

*ایک فلسطینی شیخ عيسى الجعبري اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ائمہ و محدثین کی بحث ذکرتے ہوئے لکھتے ہیں:*

📒وقد تكلم الطحاوي في كتابه
(شرح مشكل الآثار، 6/ 53) عن الحديث، وذلك بعد أن ساق رواياته، فقال: “وعقلنا به أيضا أن المقصود برفع العاهة عنه هو ثمار النخل”، ثم حدد الموعد المذكور في بعض روايات الحديث، وهو (طلوع الثريا)، فوجد أنه في شهر (بشنس) على حساب المصريين، وفي شهر (أيار) من الشهور السريانية، وقال معلقًا على ذلك: (وهذان الشهران اللذان يكون فيهما حمل النخل – أعني بحملها إياه ظهوره فيها لا غير ذلك – وتؤمن بالوقت الذي ذكرناه منهما عليها العاهة المخوفة عليها كانت قبل ذلك).
***
وعليه فهذا الحديث لا يتحدث عن زوال العاهات والأمراض والأوبئة بين الناس، والاستدلال به لإمكان زوال الوباء الذي نحن فيه إقحام للحديث في غير مجاله.
ومما يؤكد ذلك – أيضًا – أن الحديث روي عن عدد آخر من الصحابة، وهو يدور حول نفس الموضوع، فقد قال الترمذي عقب روايته حديث ابن عمر: (وفي الباب عن أنس، وعائشة، وأبي هريرة، وابن عباس، وجابر، وأبي سعيد، وزيد بن ثابت).

فمثلًا حديث عائشة – وهو مروي في مسند أحمد – فيه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: (لا تبيعوا ثماركم حتى يبدو صلاحها، وتنجو من العاهة).
وحديث زيد بن ثابت – ورواه الطبراني في (المعجم الكبير) – بلفظ (أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَنْجُوَ مِنَ الْعَاهَةِ)، وروى مالك في الموطأ – بسند صحيح – عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ؛ أَنَّهُ كَانَ لاَ يَبِيعُ ثِمَارَهُ، حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّا.
***
ويبقى الحديث الآخر – والذي جاء بلفظ عام – وهو حديث أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال (ما طلع النّجم صباحًا قطّ وبقوم عاهةٌ إلّا رفعت عنهم أو خفّت). فهو بهذا اللفظ مروي في (مسند أحمد)، وفي (شرح مشكل الآثار للطحاوي).
وهذا الحديث – بهذه الرواية – ضعيف في الأصل، ولكن علماء الحديث حسّنوه، وقبلوه لأنهم حملوه على الأحاديث السابقة، واعتبروها شاهدة له، ولذلك فإن شراح الحديث كانوا يذكرونه أثناء شرحهم للأحاديث السابقة في الأبواب المتعلقة بأحكام وقت بيع الثمار، ويمكن مراجع ذلك في بعض أهم كتب الشروح، ومنها ما قاله:
الطحاوي في (شرح مشكل الآثار، 6/ 53 – 57)، وابن عبد البر في (التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد، 2/ 192، 13/ 136)
وابن الملقّن في (التوضيح لشرح الجامع الصحيح، 14/ 488)،
وابن حجر في (فتح الباري، 4/ 395)،
وبدر الدين العيني الحنفي في (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، 12/ 4)،
والملا علي القاري في (شرح مسند أبي حنيفة، 1/ 141).
***
*وقد نقل صاحب المشاركة الأصلية نقولًا عن بعض العلماء، بعضهما مجتزأ، وحبّذا لو كان ذكر كلامهم بمجمله*

فقد نقل عن ابن عبد البر أنه قال في التمهيد: “هذا كلّه على الأغلب وما وقع نادرًا فليس بأصلٍ يبنى عليه في شيءٍ، والنّجم هو الثّريّا لا خلاف ها هنا في ذلك”.
والكلام يوحي بأن ابن عبد البر يقول بأن العاهات هنا عامّة، بينما كلامه في التمهيد جاء في أثناء حديثه عن النهي عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها – ينظر: التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد، 2/ 191 – 193)
– فقد ذكر في أثناء ذلك حديث أبي هريرة عن النبي ص أنه قال: (ما طلع النجم صباحا قط وبقوم عاهة إلا رفعت عنهم أو خفت)، ثم علق ابن عبد البر فقال: “هذا كله على الأغلب، وما وقع نادرا فليس بأصل يبنى عليه في شيء، والنجم هو الثريا لا خلاف ها هنا في ذلك، وطلوعها صباحا لا ثنتي عشرة ليلة تمضي من شهر أيار، وهو شهر ماي، فنهيُ رسول الله عن بيع الثمار حتى يبدو صلاحها معناه عندهم لأنه من بيوع الغرر لا غير، فإذا بدا صلاحها ارتفع الغرر في الأغلب عنها كسائر البيوع….”

وكلامه واضح في أنه يتحدث عن عاهات الثمار.
كما نقل عن القرطبي أنه قال في تفسيره
(تفسير القرطبي، 7/ 51):
وذلك أثناء تفسيره لقوله تعالى (انظروا إلى ثمره إذا أثمر وينعه): “وهذا الينع الذي يقف عليه جواز بيع التمر وبه يطيب أكلها ويأمن من العاهة، هو عند طلوع الثريا بما أجرى الله سبحانه من العادة وأحكمه من العلم والقدرة …. والثريا النجم، لا خلاف في ذلك. وطلوعها صباحا لاثنتي عشرة ليلة تمضي من شهر أيار، وهو شهر مايو”.

وكلام القرطبي جاء في أثنائه (مكان النقط أعلاه) قوله: “ذكر المعلى ابن أسد عن وهيب عن عسل بن سفيان عن عطاء عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (إذا طلعت الثريا صباحا رفعت العاهة عن أهل البلد)”.
ثم قال بعدها: “وقد استدل من أسقط الجوائح في الثمار بهذه الآثار، وما كان مثلها من نهيه عليه السلام عن بيع الثمرة حتى يبدو صلاحها، وعن بيع الثمار حتى تذهب العاهة”.
فكلامه أيضًا جاء في سياق الحديث عن حكم الوقت الذي يجوز فيه بيع الثمار وهي على الشجر، وليس فيه إشارة إلى أن العاهة هنا تعم ما يصيب البشر أيضًا.

ونقل عن ابن الأثير أنه قال في
(النهاية في غريب الحديث والأثر، 5/ 24): “وأراد بطلوعها طلوعها عند الصبح، وذلك في العشر الأوسط من أيار”.
وقد قال ابن الأثير بعد ذلك: “والعرب تزعم أن بين طلوعها وغروبها أمراضا ووباء، وعاهات في الناس والإبل والثمار…… قال الحربي: إنما أراد بهذا الحديث أرض الحجاز، لأن في أيار يقع الحصاد بها وتدرك الثمار، وحينئذ تباع؛ لأنها قد أمن عليها من العاهة. قال القتيبي: وأحسب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أراد عاهة الثمار خاصة”.

ونقل عن السمعاني في تفسيره (تفسير السمعاني،6/ 306) أنه قال: “وَقد ورد عَن النَّبِي أَنه قَالَ: إِذا طلع النَّجْم رفعت العاهة عَن كل بلد. وَذَلِكَ مثل الوباء والطواعين والأسقام وَمَا يشبهها” اهـ.
وقد جاء كلام السمعاني عَرَضًا أثناء تفسيره لقوله تعالى (وَمن شَرّ غَاسِق إِذا وَقب)، وهناك فرق بين ما يقوله العالم – عرضًا – أثناء حديثه، وبين ما يقوله قصدًا وهو يشرح الحديث نفسه، إذ يكون في الحال الثانية أكثر تدقيقًا في المسألة،

أما ما نقله عن المناوي في شرحه للجامع الصغير (التيسير بشرح الجامع الصغير، 2/ 352)، وهو قوله في شرح الحديث: “(مَا طلع النَّجْم) يَعْنِي الثريا فانه اسْمهَا بالغلبة لعدم خفائها لكثرتها (صباحا قطّ) أَي عِنْد الصُّبْح (وبقوم) فِي رِوَايَة وبالناس (عاهة) فِي أنفسهم من نَحْو مرض ووباء أَو فِي مَالهم من نَحْو ثَمَر وَزرع (إلا رفعت عَنْهُم) بِالْكُلِّيَّةِ (أَو خفت) أَي أخذت فِي النَّقْص والانحطاط “.

فوددت لو أنه أشار إلى ما قاله المناوي نفسه في (فيض القدير،5/ 454)، إذ يقول فيه في شرح نفس الحديث، بعد نحو الكلام السابق: “قيل: أراد بهذا الخبر أرض الحجاز لأن الحصاد يقع بها في أيار وتدرك الثمار وتأمن من العاهة فالمراد عاهة الثمار خاصة”

والخلاصة:
أن هذه الأحاديث موضوعها متعلق بحكم شرعي في المعاملات، وهو تحديد الوقت الذي يجوز فيه بيع الثمار وهي على الشجر، إذ لا يجوز عند الفقهاء بيع الثمار وحدها منفردة عن الشجر، وهي على الشجر، إلا بعد بدو صلاحها، وإن كانوا اختلفوا في تفسير بدوّ الصلاح، هل هو ظهور النضج والحلاوة ونحو ذلك كما يقول الجمهور؟ أو هو أمن العاهة كما يقول الحنفية.

(https://majles.alukah.net/t183014/)

خلاصہ عبارت
اس عربی عبارت کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ جن روایات میں یہ ہے کہ ثریا ستارے کے طلوع ہونے سے شہر یا زمین سے وبائیں ختم ہو جاتیں یا کم ہو جاتی۔۔۔۔۔ وہ روایات ضعیف ہیں، اور جن ائمہ نے انکو حسن لغیرہ کہا انہوں نے بھی انکو اس معنی میں حسن نہیں کہا کہ یہ انسانی بیماریوں کے خاتمے کا سبب ہے، بلکہ انہوں نے بھی اوپر ذکر کردہ پھلوں والی روایات کو بیان کرنے کے بعد انکو شاہد بنا کر ان روایات کو درختوں پر لگے پھلوں کی وباؤں کے معنی میں ہی اپنی شروحات میں ذکر کیا ہے،اور واضح یہ بات لکھی کہ اس ثریا ستارے کے طلوع ہونے سے انسانی بیماریوں یا وباؤں کا کوئی تعلق نہیں،نا انکا اس طرف کوئی اشارہ ہے،
اور بعض لوگ ائمہ و مفسرین کی شروحات میں سے بعض ٹکڑے بیان کر کے یہ ثابت کر رہے کہ انہوں نے اس ثریا ستارے کے طلوع سے مراد انسانی بیماریوں ،وباؤں کا خاتمہ لیا ہے، لیکن اگر انکی پوری بات کو پڑھا جائے تو جمہور علماء و مفسرین نے اس موضوع کی تمام روایات کو درختوں پر لگے پھلوں اور کھجوروں کی وباؤں کے بارے ہی لیا ہے،اور ان احادیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حجاز کے علاقہ ہے اور انکو بیچنے کے وقت کی تعین کرنا ہے کہ جب پھل درختوں پر لگے ہوں اور کچے ہوں تو انکو بیچنا جائز نہیں، اور جب ثریا ستارہ طلوع ہو جائے تو یہ اشارہ ہے کہ وہ پک چکے ہیں اور وباؤں مصیبتوں سے پاک ہو گئے ہیں پھر انکو بیچنا خریدنا جائز ہے،
کیونکہ اب بیچنے یا خریدنے والے کو نقصان نہیں ہو گا،

واللہ اعلم
_____&_______

*آپ نے دیکھا کہ دوسری قسم کے دلائل بھی ضعیف ہیں، اور انکا اشارہ بھی، لہذا ان سے استدلال نہیں کیا جائے گا اور تمام باتوں کا خلاصہ یہ سامنے آیا کہ قرآن وحدیث میں ایسی کوئی صحیح بات نہیں ہے کہ جب ثریا ستارہ طلوع ہوتا ہے تو زمین سے وبائی امراض ختم ہوجاتے ہیں لہذا بارہ مئی سے متعلق جو مسیج لوگوں میں گردش کررہاہے وہ غلط ہے اس پر ہرگز اعتماد نہ کریں بلکہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ سےاسے ڈیلیٹ کریں اور کسی کو بھی فارورڈ نہ کریں*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

______________&&___________

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!


📖 سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سوال-کیا حدیث کے مطابق کرونا وائرس 12 مئی تک ختم ہو جائے گا؟ کچھ علماء یہ حدیث بیان کر رہے ہیں کہ ثریا ستارہ نکلنے سے پھلوں کی بیماریاں، اور عام وبائی بیماریاں زمین سے ختم ہو جاتی ہیں؟ کیا یہ حدیث صحیح سند سے ثابت ہے؟” ایک تبصرہ

  1. اسلام و علیکم !
    کے بعد عرض ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی سے صلح نا کرنے کی زندگی بھر کی قسم کھالے مثلہً میں قسم کھاتا ہوں کے میں اس فرد سے صلح کروں تو خدا کے حضور اسلام و دین سے خارج ہوں مطلب کافر ہوں ۔۔۔
    اس کا حل دین کی روشنی میں کیا ہے ۔۔۔ میں آپکے جواب کا منت رہوں گا حفیظ ویر

اپنا تبصرہ بھیجیں