480

سوال_کھانے کھاتے ہوئے پوری تسمیہ پڑھیں یا صرف بسم اللہ کہنی چاہیے؟ نیز بسم اللہ پڑھنے کی فضیلت کیا ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-209”
سوال_کھانے کھاتے ہوئے پوری تسمیہ پڑھیں یا صرف بسم اللہ کہنی چاہیے؟ نیز بسم اللہ پڑھنے کی فضیلت کیا ہے؟

Published Date:17-2-2019

جواب:
الحمدللہ:

*کھانا کھائیں یا پانی پیئیں کپڑے پہنیں یا جوتا پہنیں، حتیٰ کہ کوئی بھی اچھا اور جائز کام کرنے لگیں تو اسکے شروع میں اللہ کا نام لیں اس میں بہت برکت اور خیر ہے*

*کھانا کھاتے ہوئے تسمیہ کے مسنون الفاظ*

کھانا کھاتے ہوئے تسمیہ پڑھنے کے شرعی الفاظ: “بسم اللہ” ہیں؛

📚عمر بن ابی سلمہ رض سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں میں بچہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش میں تھا اور ( کھاتے وقت ) میرا ہاتھ برتن میں چاروں طرف گھوما کرتا۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ بیٹے! “بسم اللہ” پڑھ لیا کرو، داہنے ہاتھ سے کھایا کرو اور برتن میں وہاں سے کھایا کرو جو جگہ تجھ سے نزدیک ہو۔ چنانچہ اس کے بعد میں ہمیشہ اسی ہدایت کے مطابق کھاتا رہا
(صحیح بخاری حدیث نمبر-5376)
(سنن ترمذی حدیث نمبر-1857)

📚 سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فَإِنْ نَسِيَ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ
جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو
“بسم اللہ” کہے اور اگر شروع میں کہنا بھول جائے تو (جب کھانے کے درمیان میں یاد آئے) پھر کہے: بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ [میں اللہ کا نام لیتا ہوں ابتدا اور انتہا میں ]
(سنن ترمذی حدیث نمبر-1858)
البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

ان احادیث سے پتا چلا کہ کھانا وغیرہ کھانے سے پہلے “بسم اللہ ” کے الفاظ کہنا سنت طریقہ ہے،

*اور اگر کوئی شخص “بسم اللہ الرحمن الرحیم” پورا پڑھ دے تو اس بارے میں علمائے کرام کی مختلف آرا ہیں، تاہم اکثر اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے*

📚چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“اگر کھانا کھاتے ہوئے “بسم اللہ الرحمن الرحیم” پورا پڑھ لے تو یہ اچھا ہے؛ کیونکہ اس میں زیادہ کمال [کے ساتھ توصیف الہی بیان ہوئی ]ہے”
(الفتاوى الكبرى” (5/480)

📚اسی طرح : “الموسوعة الفقهية” (8/92) میں ہے کہ:
“فقہائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ کھانا کھاتے وقت تسمیہ پڑھنا سنت ہے، اور اس کے الفاظ: “بسم اللہ ” اور اسی طرح “بسم اللہ الرحمن الرحیم” ہیں۔۔۔”

📚اسی طرح امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“تسمیہ کے الفاظ کے متعلق معرفت بہت اہمیت کی حامل ہے۔۔۔ بہتر اور افضل یہ ہے کہ : “بسم اللہ الرحمن الرحیم” کہے تاہم اگر کوئی “بسم اللہ ” پر اکتفا کرے تو کافی ہے، اس سے سنت پر عمل ہو جاتا ہے”
(“الأذكار” (1/231)

📚تاہم امام نووی کی اس بات پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
“مجھے امام نووی کے دعوائے افضلیت کی کوئی خاص دلیل نہیں ملی”
(ماخوذ از: فتح الباری)

📚شیخ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
“میرے نزدیک یہ ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے، کیونکہ سب سے بہترین طریقہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ ہے، لہذا اگر کھانا کھاتے وقت تسمیہ کے لیے صرف “بسم اللہ” پڑھنا ہی ثابت ہے تو اس لیے اس سے زیادہ پڑھنا جائز نہیں ہے؛ چہ جائیکہ زیادہ پڑھنے کو افضل کہہ دیا جائے؛ کیونکہ افضلیت کا دعوی ہماری ذکر کردہ حدیث سے متصادم ہے، اور یہ بات مسلمہ ہے کہ بہترین طریقہ کار سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ ہے۔”
(دیکھیں: سلسلہ صحیحہ: (1/343)

📚اپنی فتاویٰ کی ویبسائٹ پر سعودی مفتی شیخ صالح المنجد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ دلائل کی بنا پر افضل یہی ہے کہ کھانا کھاتے وقت صرف “بسم اللہ ” پڑھنے پر ہی اکتفا کیا جائے، اور اس سے زیادہ مت پڑھیں، تاہم اگر کوئی زیادہ پڑھتے ہوئے “بسم اللہ الرحمن الرحیم” پوری پڑھ لیتا ہے تو اکثر علمائے کرام کے ہاں اس میں کوئی حرج والی بات نہیں ہے،
(الاسلام سوال جواب/نمبر_163573)

___________&_______

*بسم اللہ پڑھنے کی فضیلت​ میں بہت ساری احادیث موجود ہیں ان میں سے چند احادیث ملاحظہ فرمائیں*

*بسم اللہ پڑھنے سے کھانے میں برکت*

📚حضرت وحشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے ۔ ”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” شائد تم لوگ الگ الگ کھانا کھاتے ہو ؟ ” انہوں نے عرض کیا ” ہاں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کھانا اکھٹے کھایا کرو اور اس پر (بسم اللہ)
اللہ کا نام لے لیا کرو اللہ تعالی تمھارے کھانے میں برکت ڈال دیں گے ۔’
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر-3286)
(الألباني صحيح ابن ماجه ٢٦٧٤• حسن)
إسناده ضعيف[ثم تراجع الشيخ وحسنه في”صحيح الترغيب والترهيب”رقم :2128 ]

📚حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”
جس کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے شیطان اس کھانے میں شریک یا داخل ہو جاتا ہے،
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-3766)

*بسم اللہ پڑھنے سے شیطان گھر سے بھاگ جاتا ہے*

📚جابر بن عبداللہ رض بیان کرتے ہیں،
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے اور گھر میں داخل ہوتے اور کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان ( اپنے چیلوں سے ) کہتا ہے: نہ یہاں تمہارے لیے سونے کی کوئی جگہ رہی، اور نہ کھانے کی کوئی چیز رہی، اور جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے: چلو تمہیں سونے کا ٹھکانہ مل گیا، اور جب کھانا شروع کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے: تمہیں سونے کی جگہ اور کھانا دونوں مل گیا
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-3765)

*بسم اللہ پڑھ کر بند کیا دروزاہ شیطان نہیں کھولتا*

📚حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”( رات سونے سے قبل ) بسم اللہ پڑھ کر دروازے بند کیا کرو کیونکہ بسم اللہ پڑھ کر بند کیے گئے دروازے شیطان کھول نہیں سکتا ۔”
(صحیح بخاری حدیث نمبر-3304)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-3731)

📚سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اپنا دروازہ بند کر اور(بسم اللہ کہو) اللہ کا نام لے ، بلاشبہ شیطان بند دروازہ نہیں کھول سکتا ۔ اپنا چراغ بجھا اور (بسم اللہ کہو) اللہ کا نام لو ۔ اپنا برتن ڈھانپ کر رکھ خواہ اس میں کوئی لکڑی آڑے طور پر رکھ دے اور (بسم اللہ کہہ) اللہ کا نام لے ۔ اور اپنے مشکیزے کا تسمہ باندھ کر رکھ اور (بسم اللہ کہہ) اللہ کا نام لے،
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-3731)

*جب سواری سے گرنے لگیں یا کوئی بچہ گر جائے تو بسم اللہ کہنی چاہیے*

📚ابو الملیح ایک شخص سے روائیت کرتے ہیں، اس نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، کہ آپ کی سواری پھسل گئی، میں نے کہا: شیطان مرے، تو آپ نے فرمایا: یوں نہ کہو کہ شیطان مرے اس لیے کہ جب تم ایسا کہو گے تو وہ پھول کر گھر کے برابر ہو جائے گا، اور کہے گا: میرے زور و قوت کا اس نے اعتراف کر لیا، بلکہ یوں کہو:
(بسم اللہ ) اللہ کے نام سے
اس لیے کہ جب تم یہ کہو گے تو وہ پچک کر اتنا چھوٹا ہو جائے گا جیسے مکھی،
(سنن ابو داؤد ،حدیث نمبر-4982)

*بسم اللہ کہنا پردے کا باعث ہے*

📚رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنوں کی آنکھوں اور انسان کی شرمگاہوں کے درمیان کا پردہ یہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی لباس اتارے تو وہ بسم اللہ کہے
(المعجم الاوسط للطبراني :7066)
صححه الالباني

*بسم اللہ کے بغیر وضو بھی نہیں ہوتا*

📚رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں جس کا وضو نہیں، اور اس شخص کا وضو نہیں جس نے وضو کے شروع میں «بسم الله»نہیں کہا“۔
( سنن ابن ماجہ حدیث نمبر-399)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-101)

*یعنی کہ ہر اچھے کام سے پہلے بِسْمِ اللہِ پڑھنا باعث برکت ورحمت ہے۔کہ اس سے اُخروی ثواب کے ساتھ ساتھ دنیوی برکتیں بھی حاصل ہوتی ہیں۔لیکن اس کے برعکس اچھے کام سے پہلے بِسْمِ اللہ نہ پڑھنا بے برکتی و محرومی کا سبب ہو سکتا ہے*

🚫جیسا کہ”
حضورصلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر اہم کام جو اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع نہ کیا جائے وہ ادھورا یا ناقص رہتا ہے۔
( مسند أحمد حدیث نمبر-8712)
( أخرجه أبو داود (4840)
( السنن الكبرى» (10328)
(ابن ماجه (1894)
(کنز العمال ،2491)
*سند کے لحاظ سے یہ حدیث ضعیف ہے،اگرچہ کچھ علماء نے حسن لغیرہ بھی کہا ہے*
(واللفظ لهوضعفه الزيلعي في ” تخريج الكشاف ” (1/24)
وضعفه الشيخ الألباني في إرواء الغليل (1/29-32)
(كما ضعفه المحققون في طبعة مؤسسة الرسالة)

العلة الأول:
ضعف قرة بن عبد الرحمن ، قال أحمد بن حنبل : منكر الحديث جدا . وقال يحيى بن معين : ضعيف الحديث . وقال أبو زرعة : الأحاديث التى يرويها مناكير
(تهذيب التهذيب” (8/373)

العلة الثانية :
أنه قد رجح بعض أهل العلم أن الصواب فيه : عن الزهري مرسلا ، ـ والمرسل من أقسام الحديث الضعيف ـ .

*لہذا کھانے، کھلانے،پینے پلانے،رکھنے اُٹھانے، دھونے پکانے ، پڑھنے پڑھانے، چلنے (گاڑی وغیرہ) چلانے ، اُٹھنے، اٹھانے، بیٹھنے بٹھانے۔۔۔۔۔الغرض ہر جائز کام کے شروع میں بِسْمِ اللہِ کہنے کی عادت بنا لیں*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں