1,024

سوال_نماز کے تشہد میں انگلی کو ساکن رکھنا چاہیے یا حرکت دینی چاہیے؟ اور انگلی کو حرکت دینے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-199″
سوال_نماز کے تشہد میں انگلی کو ساکن رکھنا چاہیے یا حرکت دینی چاہیے؟ اور انگلی کو حرکت دینے کا مسنون طریقہ کیا ہے؟

Published Date:29-1-2019

جواب:
الحمدللہ:

*تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرناچاہیے،اور اسے مسلسل حرکت دینی چاہیے، وہ نماز کا پہلا تشہد ہو یا دوسرا اس میں سنت یہ ہے کہ پورے تشہد میں مسلسل شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ اسے مسلسل حرکت بھی دیا جائے،یہ دونوں عمل احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں*

*تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کے دلائل*

📚عامر بن عبد اللہ بن زبیر ‌نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے مجھے حدیث سنائی ‘ انھوں نے کہا : رسول اللہﷺجب نماز میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں اپنی ران اور اپنی پنڈلی کے درمیان کر لیتے اور اپنا دایاں پاؤں بچھا لیتے اور اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گٹھنے پر اور اپنا دایا ں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھ لیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کر تے
(صحیح مسلم، كِتَابٌ : الْمَسَاجِدُ وَمَوَاضِعُ الصَّلَاةِ | بَابٌ : صِفَةُ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ
حدیث نمبر-579)

📚ابن عجلان نے عامر بن عبد اللہ بن زبیر سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ‘ انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺجب ( نماز میں ) بیٹھ کر دعا کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پراور اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھتے اور اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اوراپنا انگوٹھا اپنی
درمیانی انگلی پر رکھتےاور بائیں گٹھنے کو اپنی بائیں ہتھیلی کے اندر لےلیتے ( پکڑلیتے ۔ )
(صحیح مسلم، كِتَابٌ : الْمَسَاجِدُ وَمَوَاضِعُ الصَّلَاةِ | بَابٌ : صِفَةُ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ
حدیث نمبر-579)

📚ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں گھٹنے پر رکھتے اور تریپن (٥٣)کی شکل بناتے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ فرماتے۔
(صحیح مسلم كِتَابٌ : الْمَسَاجِدُ وَمَوَاضِعُ الصَّلَاةِ | بَابٌ : صِفَةُ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاة
حدیث نمبر-580)

*عرب لوگ انگلیوں کے ساتھ ایک خاص طریقے سے گنتی کرتے تھے۔ اس طریقے میں 53 کے ہندسے پر ہاتھ کی ایک خاص شکل بنتی تھی، جس میں انگوٹھے اور شہادت والی انگلی کے علاوہ باقی تینوں انگلیوں کو بند کرتے ہیں اور شہادت کی انگلی کو کھول کر انگوٹھے کے سِرے کو اس کی جڑ میں لگاتے ہیں*

📚امام مالک نے مسلم بن ابی مریم سے اور انھوں نے علی بن عبد الرحمان معادی سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : مجھے عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ‌ ‌ نے دیکھا کہ میں نماز کے دوران ( بے خیالی کے عالم میں نیچے پڑی ہوئی ) کنکریوں سے کھیل رہاتھا ۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو مجھے منع کیا اورکہا : ویسے کرو جس طرح رسول اللہﷺکیا کرتے تھے ۔ میں نے پوچھا : رسول اللہ ﷺکیا کرتے تھے ؟انھوں نے بتایا : جب آپﷺنماز میں بیٹھتے تو اپنی دائیں ہتھیلی اپنی دائیں ران پر رکھتے اور سب انگلیوں کو بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران پررکھتے
(صحیح مسلم، كِتَابٌ : الْمَسَاجِدُ وَمَوَاضِعُ الصَّلَاةِ | بَابٌ : صِفَةُ الْجُلُوسِ فِي الصَّلَاةِ
حدیث نمبر-580)

*ان احادیث سے ثابت ہوا کہ آپ ﷺ مکمل تشہد میں انگلی کو حرکت دیتے تھے، اکثر لوگ تشہد میں صرف کلماتِ شہادت ادا کرتے وقت انگلی کو کھڑا کرتے ہیں یا صرف تشہد کے آخر پر دعائیں پڑھتے ہوئے انگلی کو حرکت دیتے ہیں جب کہ صحیح سنت یہ سامنے آ رہی ہے کہ پورے تشہد میں شروع سے لیکر سلام پھیرنے تک شہادت کی انگلی کو حرکت دینی چاہیے اور اشارہ بھی کرنا چاہیے،*

*انگلی سے مسلسل اشارہ کرنے کی دلیل:*

📚عَن نُمَیْرٍرضی اللہ عنہ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاضِعًا یَدَہُ الْیُمْنَی عَلَی فَخِذِہِ الْیُمْنَی فِی الصَّلاَةِ ،وَیُشِیرُ بِأُصْبُعِہِ.
صحابی رسول نمیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازمیں اپنے داہنے ہاتھ کواپنی داہنی ران پر رکھے ہوئے تھے اورانگلی سے اشارہ کر رہے تھے۔(نسائی:کتاب السھو:باب الاشارة فی التشھد،حدیث نمبر_1271)
(سنن ابن ماجہ:کتاب اقامة الصلاة والسنة فیھا،حدیث نمبر_ 911 والحدیث صحیح)۔

اس حدیث میں ”یشیر”(یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کر رہے تھے)فعل مضارع استعمال ہواہے جو ہمیشگی اورتسلسل کامعنی دیتاہے،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کایہ عمل پور ے تشہد میں کرتے تھے۔

📚اورصحیح ابن خزیمہ کی ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں :”ثم حلق و جعل یشیربالسباحة یدعو”
یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد میں بیٹھنے کے بعدشہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے لگے،
(صحیح ابن خزیمة :ج 1ص353
حدیث نمبر713)

اس حدیث میں ”یشیر” فعل مضارع پر”جعل” داخل ہے اوریہ کسی عمل کوشروع سے مسلسل کرنے پردلالت کرتاہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد میں بیٹھنے کے بعد اس عمل کوشروع سے لیکرتشہد کے اختتام تک مسلسل کرتے رہے۔

نیزابن خزیمہ کی اسی حدیث میں آگے”یدعو”ہے،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہادت کی انگلی کے ذریعہ دعا کرنے لگے اورتشہد، پوراکا پورا دعاؤں پرمشتمل ہے، چنانچہ پہلے ”التحیات ”کی دعاء پھر”درود” کی دعاء پھردیگر دعائیں ہیں ،اور اوپرکی حدیث سے معلوم ہواکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں شہادت کی انگلی کے اشارہ کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے،لہٰذا ثابت ہواکہ جس طرح پورے تشہد میں دعائیں پڑھی جاتی ہیں ایسے ہی پورے تشہد میں اشارہ بھی کیاجائے گا،کیونکہ یہ عمل (اشارہ) دعاؤں سے جڑا ہوا ہے،لہٰذاجب پورے تشہد میں دعاء ہے توپورے تشہد میں یہ عمل (اشارہ کرنا)بھی ہے۔

تشہدمیں انگلی سے مسلسل اشارہ کاثبوت ملاحظہ کرنے کے بعدمعلوم ہوناچاہے،اس اشارہ کے ساتھ ساتھ اسے مسلسل حرکت دینے کاثبوت بھی احادیث صحیحہ میں موجودہے،ملاحظہ ہو:

*انگلی کومسلسل حرکت دینے کی دلیل:*

📚عَنْ وَائِلَ بْنَ حُجْرصٍ قَالَ: قُلْتُ:لأَنْظُرَنَّ ا ِلَی صَلاَةِ رَسُولِ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَیْفَ یُصَلِّی ؟ فَنَظَرْتُ ِلَیْہِ فَوَصَفَ ، قَالَ : ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَہُ الْیُسْرَی ، وَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْرَی عَلَی فَخِذِہِ وَرُکْبَتِہِ الْیُسْرَی ، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِہِ الأَیْمَنِ عَلَی فَخِذِہِ الْیُمْنَی ، ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَیْنِ مِنْ أَصَابِعِہِ ، وَحَلَّقَ حَلْقَةً ، ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَہُ فَرَأَیْتُہُ یُحَرِّکُہَا یَدْعُو بِہَا،
صحابی رسول وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہاکہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو ضرور دیکھوں گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نمازپڑھتے ہیں ،چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو دیکھا،پھرصحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازکاطریقہ بیان فرمایا اور کہاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اوربایاں پاؤں بچھایا،اور بائیں ہتھیلی بائیں ران اور گھٹنے پر رکھی اور دائیں ہاتھ کی کہنی دائیں طرف کی ران کے برابرکی ،پھردو انگلی بند کرلی،اور ایک حلقہ باندھ لیا،پھرانگلی اٹھائی تو میں نے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کوہلاتے تھے اوراس سے دعاء کرتے تھے۔
(سنن نسائی :کتاب السھو:باب قبض الثنتین من أصابع الیدالیمنی وعقد الوسطی،حدیث نمبر-1268،)
(صحیح ابن خزیمہ ،رقم714، )
(صحیح ابن حبان،رقم1860،)
(المعجم الکبیر:2235واسنادہ صحیح)۔

اس حدیث میں شہادت کی انگلی کے ساتھ دوعمل کاذکرہے،ایک اشارہ کرنے کا،چنانچہ اس کے لئے کہاگیا:” ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَہُ”یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی کواٹھایایعنی مسلسل اشارہ کرنے کے لئے جیساکہ آگے کے الفاظ اور اوپرکی احادیث سے اس کی وضاحت ہوتی ہے، اب اشارہ کاعمل ذکرہونے کے بعدآگے ایک اورعمل ذکرہے”فَرَأَیْتُہُ یُحَرِّکُہَا یَدْعُو بِہَا”یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم انگلی سے اشارہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے (مسلسل) حرکت بھی دے رہے تھے،اس حدیث سے ثابت ہوا کہ تشہد میں انگلی سے مسلسل اشارہ کرنے کے ساتھ ساتھ،اسے مسلسل حرکت دینابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے۔
واضح رہے کہ اس حدیث میں بھی” یُحَرِّکُہَا”(یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرکت دے رہے تھے)فعل مضارع استعمال ہواہے جو ہمیشگی اورتسلسل کامعنی دیتا ہے،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرکت دینے کایہ عمل پور ے تشہد میں کرتے تھے۔
اوراسی حدیث میں آگے ” یَدْعُو بِہَا”ہے،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہادت کی انگلی کوحرکت دے دے کر دعاکرنے لگے اورتشہد پوراکاپورادعاؤں پرمشتمل ہے،چنانچہ پہلے ”التحیات ”کی دعاء پھر”درود” کی دعاء پھر دیگر دعائیں ہیں ،لہٰذا ثابت ہوا کہ جس طرح پورے تشہد میں دعائیں پڑھی جاتی ہیں ایسے ہی پورے تشہد میں انگلی کوحرکت بھی دیاجائے گا،کیونکہ یہ عمل دعاؤں سے جڑا ہوا ہے،لہٰذاجب پورے تشہد میں دعاء ہے تو پورے تشہد میں یہ عمل(انگلی کوحرکت دینا) بھی ہے۔

📚شرح مؤطا میں مولوی سلام اللہ حنفی لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں دلیل ہے کہ انگلی کو ہمیشہ حرکت دیتے رہنا چاہیے،

📚 علامہ البانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ،
اس حدیث میں دلیل ہے کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ انگلی کا اشارہ اور حرکت تشہد میں سلام تک جاری رکھنا چاہیے،کیونکہ دعا سلام سے متصل ہے،
(صفة صلاة النبي،158)

*اشارہ کرتے ہوئے انگلی کو تھوڑا سا خم دینا چاہیے*

📚نمیر خزاعی رض کہتے ہیں،
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھے ہوئے اور شہادت کی انگلی کو اٹھائے ہوئے دیکھا، آپ نے اسے تھوڑا سا جھکا رکھا تھا۔
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-991)

_______&&______

*غلط فہمیوں کاازالہ:*

بعض حضرات کویہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ انگلی کوحرکت دینا اس حدیث کے خلاف ہے جس میں اشارہ کرنے کی بات ہے۔
عرض ہے کہ حرکت دینا اشارہ کرنے کے خلاف ہرگز نہیں ہے،بلکہ یہ اشارہ کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا عمل ہے،اور یہ دوسرا عمل کرنے سے پہلے عمل کو چھوڑنا لازم نہیں آتا، کیونکہ یہ دونوں عمل ساتھ ساتھ ہو رہاہے۔اور دیگر کئی ایسی مثالیں ہیں ،کہ اشارہ وحرکت پرساتھ ساتھ عمل ہوتاہے،مثلاہم روزمرہ کی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی دورکھڑے ہوئے دوسرے شخص کو ہاتھ کے اشارے سے بلاتاہے ہے تو اس کی طرف انگلیاں اٹھاتا ہے ،
یہ” اشارہ” ہے اورساتھ ہی ساتھ پنجہ کی انگلیوں کوہلاتا بھی ہے یہ ” حرکت” ہے۔
معلوم ہوا کہ اشارہ اورحرکت یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں ،بلکہ دونوں پربیک وقت عمل ممکن ہے،اوراحادیث میں دونوں کاثبوت ہے لہٰذا دونوں پرعمل کریں گے،چنانچہ جولوگ انگلی کوحرکت دیتے ہیں وہ دونوں پرعمل کرتے ہیں ،اشارہ بھی کرتے ہیں اورحرکت بھی دیتے ہیں ،لہٰذا یہ کہنادرست نہیں کہ حرکت دینے والے اشارہ پرعمل نہیں کرتے ،کیونکہ بغیراشارہ کئے حرکت دینا ممکن ہی نہیں ہے،

یہی وجہ ہے کہ مذکورہ حدیث کی روایت کرنے والے امام نسائی رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں ایک مقام پرتشہدمیں انگلی سے اشارہ و حرکت ساتھ ساتھ کرنے کایہ باب قائم کیاہے:

📚”باب موضع البصرعندالاشارة وتحریک السبابة” یعنی انگلی کواشارہ وحرکت دیتے وقت نگاہ کی جگہ کابیان،
(سنن نسائی:کتاب السھو:باب39
قبل الرقم 1275)

اورامام احمدرحمہ اللہ کابھی یہی فتوی ہے کہ تشہد میں اشارہ و حرکت دونوں پر عمل کیاجائے گا،

📚چنانچہ امام احمدرحمہ اللہ سے اس سلسلے میں پوچھاگیاتوآپ نے فرمایا ”شدیدا”شدت کے ساتھ اشارہ کیاجائے ،اورشدت کے ساتھ تبھی اشارہ ہوسکتا ہے جب اسے حرکت بھی دیاجائے،(ملاحظہ ہو:مسائل ابن ہانی:ص80)

_______&______

*انگلی کو حرکت نا دینے کی ضعیف روایت*

🚫بعض حضرات ایک روایت پیش کرتے ہیں جس میں ہے ”لایحرکہا” یعنی آپ حرکت نہیں دیتے تھے
(ابوداؤد :رقم989)

عرض ہے کہ اس کی سندمیں ابن عجلان مدلس ہے
(طبقات المدلسین :ص149المرتبة الثالثہ)

اور روایت عن سے ہے لہٰذا مردود ہے اس کے برخلاف صحیح حدیث میں حرکت دینا ثابت ہے جیساکہ اوپر مذکور ہے،

*بعض حضرات تشہد میں حرکت سبابہ کی سنت کامذاق اڑاتے ہیں*

واضح رہے کہ تشہدمیں انگلی ہلانے کی سنت سے چڑنا یہ مردود اور لعین شیطان کا کام ہے،
📚عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تشہد میں انگلی کو حرکت دینے کی اس سنت پر عمل کرتے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان نقل کرتے’
‘لَہِیَ أَشَدُّ عَلَی الشَّیْطَانِ مِنَ الْحَدِیدِ یَعْنِی السَّبَّابَةَ”
انگلی کایہ عمل شیطان کے لئے لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے،
(دیکھئے:مسندأحمد:ج2119رقم6000)

*بعض حضرات کہتے ہیں کہ تشہد میں انگلی کومسلسل حرکت نہیں دینی چاہیے بلکہ صرف شہادت کے الفاظ پر انگلی اٹھا کے فوراً رکھ دینی چاہیے*

🚫عرض ہے کہ تشہدمیں انگلی کوحرکت دینے کے بہت سے دلائل ہم اوپر پیش کرچکے ،
لیکن جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ
”أشھدأن لاالہ ”پر انگلی اٹھانی چاہیے ،اور ”الا اللہ” پر گرا لینی چاہئے ،
یہ بات کہاں سے ثابت ہے؟
کیا لوگوں میں سے کوئی ایک بھی ذمہ دار شخص نہیں ہے جو ایسا فتویٰ دینے والے علماء کو پکڑ کو پوچھے کہ اس عمل کی دلیل کس حدیث میں ہے؟
ہمارا دعوی ہے کہ یہ عمل کسی صحیح حدیث تو درکنار کسی ضعیف اور مردود روایت میں بھی اس عمل کا نام و نشان تک نہیں ہے،

*اللہ تعالیٰ ہم سب کو شیطانی کاموں سے بچائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنتوں پرعمل کرنے کی توفیق دے ،آمین*
______&________

🌹نماز میں آنکھیں بند کرنا کیسا ہے؟ نیز رکوع و سجود اور دوران تشہد نظر کہاں ہونی چاہیے دیکھیں
((سلسلہ نمبر_107))

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں