555

سوال_ پنجگانہ نمازوں کے صحیح اور مسنون اوقات کیا ہیں؟ تفصیل سے بیان کریں!

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-152”
سوال_ پنجگانہ نمازوں کے صحیح اور مسنون اوقات کیا ہیں؟ تفصیل سے بیان کریں!

Published Date:25-11-2018

جواب..!
الحمدللہ۔۔۔!!

*اللہ سبحانہ وتعالى نے اپنے بندوں پر دن اور رات ميں پانچ نمازيں فرض كي ہيں، اللہ تعالى كى حكمت كا تقاضا تھا كہ يہ نمازيں اوقات مقررہ ميں ادا كى جائيں تاكہ بندے اور رب كے مابين ان نمازوں كے دوران مدت ميں تعلق قائم رہے يہ بالكل اسى طرح ہے كہ جیسے وقتا فوقتا درخت كو پانى لگايا جاتا ہے، صرف ايک بار ہى پانى لگا كر درخت كو چھوڑ نہيں ديا جاتا، اور پھر يہ نمازيں وقت مقررہ ميں تقسيم كرنے ميں يہ بھى حكمت ہے كہ ايك ہى وقت ميں ان كى ادائيگى بندے پر بوجھ نہ ہو اور وہ اكتا نہ جائے، اس ليے اللہ تعالى نے مختلف اوقات ركھے، اللہ تعالى سب سے بہتر فيصلہ كرنے والا ہے*
(ماخوذ از: رسالۃ احكام مواقيت الصلاۃ تاليف شيخ محمد بن عثيمين رحمہ اللہ)

*جبکہ کئی لوگ بلکہ اکثریت تاجر حضرات کی نماز کو لیٹ پڑھتے ہیں اور کئی تو نماز کا وقت نکل جانے پر نماز پڑھتے ہیں، اللہ پاک سب کو ہدایت دیں،آمین*

*اور پھر نماز پنجگانہ كے اوقات احاديث ميں بھى بيان ہوئے ہيں نمازوں کے اوقات تفصیلی بيان كرتے ہوئے،*

🌹سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک سائل حاضر ہوا اور نماز کے اوقات پوچھنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے ساتھ کچھ قیام کرو ،پھر (فجر کے وقت) بلال کو (اقامت کا) حکم دیا اور فجر طلوع ہونے کے ساتھ ہی نماز فجر ادا کی اور لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے نہ تھے (یعنی اندھیرے کے سبب سے) پھر حکم کیا اور ظہر ادا کی جب آفتاب ڈھل گیا اور کہنے والا کہتا تھا کہ دن کا آدھا حصہ گزر گیا ہے (یعنی ابھی تو دوپہر ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر جانتے تھے۔ پھر ان کو حکم کیا اور عصر کی نماز ادا کی اور سورج بلند تھا۔ پھر ان کو حکم کیا اور مغرب ادا کی جب سورج ڈوب گیا۔ پھر ان کو حکم کیا اور عشاء ادا کی جب شفق ڈوب گئی۔ پھر دوسرے دن فجر کا حکم کیا اور جب اس سے فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا کہ سورج نکل آیا، یا نکلنے کو ہے۔ پھر ظہر میں تاخیر کی یہاں تک کہ کل کے عصر کے پڑھنے کا وقت قریب ہو گیا۔ پھر عصر میں تاخیر کی یہاں تک کہ جب فارغ ہوئے تو کہنے والا کہتا تھا کہ آفتاب سرخ ہو گیا۔ پھر مغرب میں تاخیر کی یہاں تک کہ شفق ڈوبنے کے قریب ہو گئی۔ پھر عشاء میں تاخیر کی یہاں تک کہ اول تہائی رات ہو گئی پھر صبح ہوئی اور سائل کو بلایا اور فرمایا کہ نماز کے وقت ان دونوں وقتوں کے بیچ میں ہیں۔
(صحیح مسلم،حدیث نمبر-613)
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-152)
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر-667)

🌹رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کا ایک اول وقت ہے اور ایک آخری وقت، ظہر کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈھل جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب عصر کا وقت شروع ہو جائے، اور عصر کا اول وقت وہ ہے جب عصر کا وقت ( ایک مثل سے ) شروع ہو جائے اور آخری وقت وہ ہے جب سورج پیلا ہو جائے، اور مغرب کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈوب جائے اور آخری وقت وہ ہے جب شفق ۱؎ غائب ہو جائے، اور عشاء کا اول وقت وہ ہے جب شفق غائب ہو جائے اور اس کا آخر وقت وہ ہے جب آدھی رات ہو جائے ۲؎، اور فجر کا اول وقت وہ ہے جب فجر ( صادق ) طلوع ہو جائے اور آخری وقت وہ ہے جب سورج نکل جائے
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-151)

🌹عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظہر کی نمازکا وقت سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے(یعنی بعد زوال کے) اور اس وقت تک رہتا ہے جب تک آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر نہ ہو جائے(عصر کے وقت تک ) اور عصر کا وقت اس وقت تک ہےجب تک آفتاب زرد نہ ہو جائے- اورنماز مغرب جب تک شفق غائب نہ ہو جائے، اور عشاء کا وقت ٹھیک ا دھی رات تک ہے۔ (جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو اول وقت پڑھتے اور جب دیکھتے کہ لوگوں نے آنے میں دیر کی ہے، تو دیر کرتے) اورفجر کی نمازکا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک ہے جب تک آفتاب طلوع نہ ہو۔
(“شفق” اس سرخی کو کہتے ہیں جو غروب آفتاب کے بعد کنارہ آسمان پر بجانب مغرب کے دہکتی ہیں)
(صحیح مسلم,کتاب المسا جد،حدیث نمبر-612)

*ان احاديث ميں نماز پنجگانہ كے دو اوقات بيان كيے گئے ہيں، ان دونوں اوقات کے اندر اندر نماز پڑھنا جائز ہے، لیکن اول وقت میں نماز پڑھنا زیادہ افضل ہے،اور بلا وجہ نماز میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے،*

جیسا کہ احادیث میں آتا ہے،

🌹ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز آخری وقت میں ادا نہ کی یہاں تک کے الله نے اپ کو وفات دے دی
(حدیث حسن )
(السنن الكبرى ٤٣٥/١)

اس روایت سے معلوم ہوا کے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر نماز اول وقت میں ہی ادا کرتے تھے البتہ کچھ مواقع پر (مختلف وجوہ کی بنا پر ) نماز تاخیر سے بھی ادا کی ہے

🌹رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اول وقت میں نماز پڑھنا افضل ہے
صحیح السنن الكبرى٤٣٤/١ ابن خزیمہ حدیث: ٣٢٧

*نمازوں کے اوقات کی گھنٹوں ميں تحديد ہر ايک علاقے اور ملک کی دوسرے ملک اور علاقے سے مختلف ہو گى، البتہ ذيل ميں ہم ہر ايک نماز کے وقت كو عليحدہ عليحدہ بيان كرنے كى كوشش كرتے ہيں:*

___________&&&&&&&_______

*نماز فجر كا وقت:*

🌹اوپر حدیث میں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:” اور صبح كى نماز كا وقت طلوع فجر سے ليكر طلوع آفتاب تك ہے، اور جب طلوع آفتاب ہو جائے تو نماز پڑھنے سے رك جاؤ كيونكہ يہ شيطان كے سينگوں كے درميان طلوع ہوتا ہے ”
(صحیح مسلم،حدیث نمبر-612)

🌹صبح کے وقت دو قسم کی روشنیاں پیدا ہوتی ہیں،
*پہلی* روشنی زمین سے سیدھا آسمان کی طرف اوپر چلی جاتی ہے مگر پھیلتی نہیں،
*دوسری* روشنی زمین سے جب آسمان کی طرف اٹھتی ہے تو آسمان کے کناروں پر پھیل جاتی ہے،اس روشنی کے بعد نماز فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے،
(ابن خزیمہ،حدیث نمبر-1927)
(مستدرک حاکم،حدیث نمبر-688)

یعنی فجر طلوع واضح ہونے کے بعد ہی نماز پڑھنی چاہیے،یہ نا ہو پہلی روشنی کو دیکھ کر نماز پڑھ لیں،

🌹رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر ( نماز صبح ) اس وقت پڑھو جب اچھی طرح صبح ( صادق ) ہو جائے، کیونکہ یہ چیز تمہارے ثوابوں کو زیادہ کرنے والی ہے ( یا کہا: ثواب کو زیادہ کرنے والی ہے )
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-424)

بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ سمجھ لیا ہے کہ فجر کی نماز خوب روشنی یعنی دن نکلنے کے قریب پڑھنی چاہیے،جبکہ یظ معنی صحیح احادیث کے خلاف ہے،

*کیونکہ نماز فجر کا مسنون وقت اندھیرے میں نماز پڑھنا ہی ہے*

🌹نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے تھے،
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-560)
(صحیح مسلم،حدیث نمبر-646)

🌹ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز پڑھ لیتے پھر عورتیں چادریں لپیٹ کر (اپنے گھروں کو) واپس ہو جاتی تھیں۔ اندھیرے سے ان کی پہچان نہ ہو سکتی۔
( صحیح بخاری,حدیث نمبر-867)

معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز اندھیرے میں اول وقت میں پڑھا کرتے تھے اگرچہ نماز کا وقت صبح صادق سے سورج طلوع ہونے تک ہے لکین اول وقت میں پڑھنا ہی افضل ہے،لیکن اگر کوئی لیٹ ہو جائے تو سورج نکلتے وقت بھی نماز فجر پڑھ سکتا ہے، کیونکہ

🌹رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے فجر کی ایک رکعت ( جماعت کے ساتھ ) سورج نکلنے سے پہلے پا لی اس نے فجر کی نماز ( باجماعت کا ثواب ) پا لیا،
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-579)

____________&&&&_______

*نماز ظہر كا وقت:*

🌹رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان کہ :” ظہر كا وقت زوال سے ليكر آدمى كے سائے كے برابر ہونے ( يعنى ) عصر كا وقت شروع ہونے تك رہتا ہے
“(صحیح مسلم،612)

چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز ظہر كے وقت كى ابتدا اور انتہاء كى تحديد كر دى ہے.ظہر كے وقت كى ابتداء سورج كے زوال سے شروع ہوتى ہے ـ اس سے مراد يہ ہے كہ سورج آسمان كے درميان سے مغرب كى جانب زائل ہو جائے.

*زوال كا وقت معلوم كرنے كے ليے عملى تطبيق ( ظہر كے وقت كى ابتداء):*

آپ ايك لكڑى كسى كھلى جگہ پر گاڑ ديں سورج طلوع ہونے كے وقت اس لكڑى كا سايہ مغرب كى جانب ہو گا جيسے جيسے سورج اوپر ہوتا چلا جائيگا تو اس لكڑى كا سايہ بھى كم ہوتا رہيگا، جب تك سايہ كم ہوتا رہے زوال نہيں ہوا، اس طرح لكڑى كا سايہ كم ہوتا ہوا ايك حد پر آكر ٹھر جائيگا اور پھر سايہ مشرق كى جانب بڑھنا شروع ہو گا، جيسے ہى سايہ مشرق كى جانب تھوڑا سا زيادہ ہوا تو يہ زوال ہو گا، اور اس وقت ظہر كى نماز كا وقت شروع ہو جائيگا.

*گھڑى كے حساب سے زوال كى علامت:*

طلوع آفتاب سے ليكر غروب آفتاب كو دو حصوں ميں تقسيم كر ليں تو يہ زوال كا وقت ہو گا، چنانچہ اگر ہم فرض كريں كہ سورج چھ بجے طلوع ہوتا اور چھ بجے ہى غروب ہوتا ہے تو زوال كا وقت بارہ بجے ہو گا، اور اگر سورج سات بجے طلوع ہو اور سات بجے ہى غروب تو زوال كا وقت ايك بجے ہو گا، اسى طرح حساب لگاليں.
ديكھيں: الشرح الممتع ( 2 / 96 )

*ظہر کی نماز کا آخری وقت*

ظہر كا وقت اس وقت ختم ہو گا جب ہر چيز كا سايہ زوال ہونے كے بعد اس كى مثل ( يعنى اس كى لمبائى كے برابر ) ہو جائے،جیسا کہ اوپر حدیث میں ہم نے پڑھا،

*ظہر كا وقت معلوم كرنے كا عملى طريقہ:*

وہى لكڑى جو زمين ميں لگائى گئى تھى اس كى طرف واپس پلٹتے ہيں، فرض كريں اس لكڑى كى لمبائى ايك ميٹر ہے، زوال سے قبل اس كا سايہ كم ہوتا جائيگا حتى كہ ايك معين حد پر آكر ٹھر جائيگا ( يہاں آپ نشان لگا ليں) پھر اس كے بعد سايہ زيادہ ہونا شروع ہو جائيگا، يہاں سے ظہر كى نماز كا وقت شروع ہوتا ہے، پھر يہ سايہ مشرق كى جانب بڑھتا رہے گا حتى كہ اس لكڑى كى برابر ( يعنى ايك ميٹر ) ہو جائيگا، يعنى اس لگائے ہوئے نشان سے ليكر اس لكڑى كے برابر، ليكن جو سايہ اس نشان سے قبل ہے وہ شمار نہيں ہو گا، وہ سايہ زوال كے سايہ كے نام سے موسوم ہے، يہاں پہنچ كر ظہر كى نماز كا وقت ختم ہو گا، اور عصر كى نماز كا وقت شروع ہو جائيگا.

*گرمی میں ظہر کو ذرا لیٹ کر کے پڑھنا اور سردی کے موسم میں نماز ظہر کو جلدی پڑھنا مسنون ہے*

🌹ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ مؤذن نے چاہا کہ ظہر کی اذان دے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت کو ٹھنڈا ہونے دو، مؤذن نے (تھوڑی دیر بعد) پھر چاہا کہ اذان دے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دو۔ جب ہم نے ٹیلے کا سایہ ڈھلا ہوا دیکھ لیا۔ (تب اذان کہی گئی) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ کی تیزی سے ہے۔ اس لیے جب گرمی سخت ہو جایا کرے تو ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا «يتفيئو» (کا لفظ جو سورۃ النحل میں ہے) کے معنے «تتميل‏» (جھکنا، مائل ہونا) ہیں،
(صحیح بخاری حدیث نمبر: 539)

🌹 انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کے جب سردی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز پڑھنے میں جلدی کرتے (سورج ڈھلتے ہی پڑھ لیتے) اور جب گرمی ہوتی تو ٹھنڈے وقت میں پڑھتے
(سنن نسائی ،كِتَابُ الْمَوَاقِيتِ | تَعْجِيلُ الظُّهْرِ فِي الْبَرْدِ ،حدیث نمبر-499)
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-906)

ٹھندے وقت کا یہ مطلب نہیں کے عصر کے وقت پڑھو بلکے مراد یہ ہے شدت کی گرمی میں سورج ڈھلتے ہی فورا نہ پڑھو تھوڑی دیر کر لو،تاکہ شدت کی گرمی کم ہو جائے،
جیسا کہ:
🌹عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( نماز ظہر ) کا اندازہ گرمی میں سایہ تین قدم سے پانچ قدم تک اور سردی میں پانچ قدم سے سات قدم تک تھا،
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-400)

________&&&___________

*عصر كا وقت:*

🌹نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:” اور عصر كا وقت اس وقت تك ہے جب تك سورج زرد نہ ہو ”
(صحیح مسلم،612)

عصر كى ابتدائى وقت ہم معلوم كر چكے ہيں كہ ظہر كا وقت ختم ہونے ( يعنى ہر چيز كا سايہ اس كے برابر ہونے كے وقت ) سے شروع ہوتا ہے، اور عصر كى انتہاء كے دو وقت ہيں:

( 1 ) *اختيارى اور افضل وقت:*
يہ عصر كے ابتدائى وقت سے ليكر سورج زرد ہونے تك ہے،
🌹 كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
” عصر كا وقت جب تك سورج زرد نہ ہو جائے ”
يعنى جب تك سورج پيلا نہ ہو جائے، اس كا گھڑى كے حساب سے موسم مختلف ہونے كى بنا پر وقت بھى مختلف ہو گا.

( 2 ) *اضطرارى وقت:*

يہ سورج زرد ہونے سے ليكر غروب آفتاب تك ہے،

🌹 كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
” جس نے سورج غروب ہونے سے قبل عصر كى ايك ركعت پا لى اس نے عصر كى نماز پالى ”
(صحيح بخارى حديث نمبر ( 579 )
(صحيح مسلم حديث نمبر ( 608 )

*ضرورت اور اضطرارى وقت كا كيا معنى ہے ؟*

ضرروت كا معنى يہ ہے كہ اگر كوئى شخص ايسے كام ميں مشغول ہو جس كے بغير چارہ كار نہيں مثلا كسى زخم كى مرہم پٹى كر رہا ہو اور وہ سورج زرد ہونے سے قبل مشقت كے بغير نماز ادا نہ كر سكتا ہو تو وہ غروب آفتاب سے قبل نماز ادا كر لے تو اس نے وقت ميں نماز ادا كى ہے؛ اس پر وہ گنہگار نہيں ہو گا؛ كيونكہ يہ ضرورت كا وقت تھا، اور اگر انسان تاخير كرنے پر مجبور ہو تو سورج غروب ہونے سے پہلے نماز ادا كر لے،

*البتہ عصر کی نماز بھی جلدی پڑھنا ہی افضل و مسنون ہے،کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز بہت جلدی پڑھتے تھے، حتی کہ حدیث میں آتا ہے*

🌹رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھتے تو سورج بلند اور تیز روشن ہوتا تھا۔ پھر ایک شخص( نماز پڑھ کے) مدینہ کے بالائی علاقہ کی طرف جاتا وہاں پہنچنے کے بعد بھی سورج بلند رہتا تھا ( زہری نے کہا کہ ) مدینہ کے بالائی علاقہ کے بعض مقامات تقریباً چار میل پر یا کچھ ایسے ہی واقع ہیں۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_550)

یعنی عصر پڑھنے کے بعد کوئی صحابی 8، 10 کلو میٹر سفر کر کے جاتا تو وہاں اس وقت بھی سورج بلند ہوتا

🌷اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ،
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز اس وقت پڑھ لیتے تھے جب ابھی دھوپ ان کے حجرہ میں موجود ہوتی تھی اس سے بھی پہلے کہ وہ دیوار پر چڑھے۔ (یعنی سایہ پھیلنے سے پہلے)
صحیح بخاری،حدیث نمبر_522)

*یعنی جب عصر جلدی پڑھیں تو عصر کے بعد بھی سورج بلند اور روشن ہوتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز کے بعد گھر جا کر نفل نماز بھی پڑھتے تھے، لیکن آج کل ہمارے اکثر بھائی عصر کی نماز بہت دیر سے پڑھتے ہیں،انکو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے ڈرنا چاہیے،*

🌹سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ہاں بصرہ والے گھر ظہر پڑھ کر گئے اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا گھر مسجد کے پاس تھا۔ پھر جب ہم ان کے یہاں گئے تو انہوں نے کہا کہ تم عصر پڑھ چکے؟ ہم نے کہا کہ ہم تو ابھی ظہر پڑھ کر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عصر پڑھ لو۔ پھر ہم نے عصر پڑھی۔ جب عصر پڑھ چکے تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھا سورج کو دیکھتا ہے، پھر جب وہ شیطان کے دونوں سینگوں میں ہو جاتا ہے تو اٹھ کر چار ٹھونگیں مارتا ہے اور اس میں اللہ کو یاد نہیں کرتا مگر تھوڑا
(صحیح مسلم حدیث نمبر-622)

لیکن مجبوری یا بھولنے سے رہ جانے والی نماز اگر غروب کے وقت بھی پڑھ لے تو ہو جائے گی ان شاءاللہ،
🌹 كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
” جس نے سورج غروب ہونے سے قبل عصر كى ايك ركعت پا لى اس نے عصر كى نماز پالى ”
(صحيح بخارى حديث نمبر ( 579 )
(صحيح مسلم حديث نمبر ( 608 )

__________&&&&_________

*نماز مغرب كا وقت:*

🌹نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:” اور نماز مغرب كا وقت سرخى غائب ہونے تك ہے ”
(صحیح مسلم،612)

يعنى عصر كا وقت ختم ہونے كے فورا بعد مغرب كا وقت شروع ہو جاتا ہے، جو غروب آفتاب سے ليكر سرخى غائب ہونے تك رہتا ہے.
اور جب آسمان سے سرخى غائب ہو جائے تو مغرب كا وقت ختم ہو كر عشاء كا وقت شروع ہو جاتا ہے، گھڑى كے مطابق اس وقت كى تحديد موسم مختلف ہونے سے مختلف ہو گى، اس ليے جب ديكھا جائے كہ افق سے سرخى غائب ہو گئى ہے تو يہ مغرب كا وقت ختم ہونے كى دليل ہے.

*البتہ مغرب کی نماز بھی جلدی پڑھنا ہی مسنون طریقہ ہے*
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں،کہ ہم مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر جب واپس ہوتے اور تیر اندازی کرتے ( تو اتنا اجالا باقی رہتا تھا کہ ) ایک شخص اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھتا تھا،
(صحیح بخاری حدیث نمبر-559)

🌹 جبریل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دونوں دن نماز مغرب اول وقت میں ہی پڑھائی،
(سنن نسائی،کتاب المواقیت،527)
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-149)

*لیکن اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ مغرب کی اذان کے ہوتے ہی فوراً جماعت کھڑی کر دی جائے،بلکہ مغرب کی جماعت سے پہلے بھی دو رکعت سنت پڑھنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپکے صحابہ سے ثابت ہے*
جیسا کہ::
🌹عبدالعزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم مدینے میں ہوتے تھے ، جب موذن مغرب کی اذان دیتا تو لوگ ستونوں کی طرف لپکتے تھے اور وہ دو رکعتیں پڑھتے تھے حتیٰ کہ ایک مسافر مسجد میں آتا تو ان رکعتوں کو پڑھنے والوں کی کثرت دیکھ کر یہ سمجھتا کہ مغرب کی نماز ہوچکی ہے ،
(صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْمَسَاجِدُ وَمَوَاضِعُ الصَّلَاةِ | بَابٌ : اسْتِحْبَابُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ ،حدیث نمبر-837)

____________&&&&________

*عشاء كى نماز كا وقت:*

🌹نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:” اور عشاء كى نماز كا وقت درميانى نصف رات تك ہے ”
(صحیح مسلم،612)

چنانچہ عشاء كا وقت مغرب كا وقت ختم ہونے كے فورا بعد ( يعنى آسمان سے سرخى ختم ہونے كے بعد ) شروع ہو كر نصف رات تك رہتا ہے.

*نصف رات كا حساب كيسے ہو گا ؟*

اگر آپ نصف رات كا حساب لگانا چاہيں تو سورج غروب ہونے سے طلوع فجر تك كا وقت شمار كريں، اس كا نصف عشاء كى نماز كا آخرى وقت ہو گا ( اور يہى نصف رات ہو گى )
فرض كريں اگر سورج پانچ بجے غروب ہوتا ہو اور فجر كى اذان ( طلوع فجر ) پانچ بجے ہوتى ہو تو نصف رات گيارہ بجے ہو گى، اور اگر سورج پانج بجے غروب ہوتا ہو اور طلوع فجر چھ بجے ہو تو نصف رات ساڑھے گيارہ بجے ہو گى، اسى طرح حساب لگايا جائيگا،

*البتہ عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنا ہی سنت افضل عمل ہے*

🌹عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ایک رات ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عشاء کی نماز کے لیے انتظار کر رہے جب تہائی رات یہ اس سے زیادہ گزر گی تو اپ تشریف لا ے اور فرمایا “تم ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو جس کا تمہارے سوا کسی مذھب والے انتظار نہیں کر رہے ہیں، اگر میری امت پر گراں نہ ہوتا تو میں ہمیشہ اسی وقت عشاء کی نماز پڑھاتا-‘پھر اپ نے موذن کو حکم دیا تو اس نے تکبر کہی اور اپ نے نماز پڑھائی-
(صحیح مسلم،حدیث نمبر-639)
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-566)

🌹عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ،کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز میں دیر کی جس کے نتیجہ میں لوگ ( مسجد ہی میں ) سو گئے۔ پھر بیدار ہوئے پھر سو گئے ‘ پھر بیدار ہوئے۔ آخر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھے اور پکارا ”نماز“ عطاء نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے تشریف لائے۔ وہ منظر میری نگاہوں کے سامنے ہے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ ہاتھ سر پر رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر میری امت کے لیے مشکل نہ ہو جاتی، تو میں انہیں حکم دیتا کہ عشاء کی نماز کو اسی وقت پڑھیں،
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-571)

*لیکن نمازیوں کا بھی خیال کرنا چاہیے،اگر وہ جلدی پڑھنا چاہیں تو امام مسجد کو جلدی ہی پڑھانی چاہیے*

🌹نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء کو کبھی جلدی پڑھاتے اور کبھی دیر سے۔ جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھا دیتے اور اگر لوگ جلدی جمع نہ ہوتے تو نماز میں دیر کرتے۔ ( اور لوگوں کا انتظار کرتے )
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-560)

______&&________

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

🌹کن اوقات میں نماز پڑھنا ممنوع ہے؟
دیکھئے سلسلہ نمبر_39

🌹کیا عصر کے بعد نفل نماز نہیں پڑھ سکتے؟
دیکھئے سلسلہ نمبر-40

🌹فجر کی سنتیں فرضوں سے پہلے نا پڑھ سکیں تو کب پڑھیں؟
دیکھئے سلسلہ نمبر-41

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں