679

سوال_ نماز کے تشہد میں درود کے بعد کونسی دعائیں پڑھنا مسنون ہے؟ صحیح احادیث سے وضاحت کریں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-130″
سوال_ نماز کے تشہد میں درود کے بعد کونسی دعائیں پڑھنا مسنون ہے؟ صحیح احادیث سے وضاحت کریں؟

Published Date:30-10-2018

جواب..!
الحمد للہ:

*نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تشہد کے درمیان چار چیزوں سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے*

🌷ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے) ایک روایت میں الفاظ ہیں کہ ( جب تم میں سے کوئی آخری تشہد سے فارغ ہو تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے، اور کہے: ” اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ
“یا اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، فتنہ زندگی و موت سے ، اور دجال کے فتنے سے)
(صحیح مسلم: حدیث نمبر-588)

*جبکہ کچھ روایات میں ان چاروں کیساتھ گناہ، اور قرضوں سے پناہ مانگنے کا ذکر بھی آیا ہے،*

🌷 چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بتلایا :
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دعا کیا کرتے تھے:
” اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَفِتْنَةِ الْمَمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ”
ترجمہ: “یا اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں عذاب قبر سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں دجال مسیح کے فتنہ سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی و موت کے فتنہ سے، یا اللہ! میں گناہوں اور قرضوں کے فتنہ سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں”،

تو کسی صحابی نےکہا: آپ قرضوں سے بہت زیادہ پناہ مانگتے ہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انسان جب مقروض ہوجائے تو جھوٹی باتیں بناتا ہے، اور وعدہ کرے تو پورا نہیں کر پاتا
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-832)

🌷اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی نماز میں مانگنے کیلئے ایک دعا سکھائی تھی جیسے کہ صحیح البخاری میں ہے کہ
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے کوئی دعا سکھا دیں جسے میں اپنی نماز میں مانگا کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(تم کہو: ” اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّك أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ”
ترجمہ: “یا اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم ڈھائے ہیں، اور گناہوں کو تو ہی بخشنے والا ہے، تو میرے گناہوں کو اپنی طرف سے معاف کردے، اور مجھ پر رحم فرما، بیشک تو بخشنے والا، اور نہایت رحم کرنے والا ہے”,
(صحیح بخاری حدیث نمبر-790)

*نمازی اس دعا کو بھی پہلے ذکر شدہ دعاؤں کے بعد مانگ سکتا ہے*

🌷علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشہد اور سلام کے درمیان میں جو دعا پڑھتے وہ یہ تھی،
” اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ”
اے اللہ بخش دے تو میں نے پہلے گناہ کیے اور جو پیچھے گناہ کیے، اور جو میں نے چھپا کر گناہ کیے اور جو میں نے اعلانیہ کیے،اور جو میں نے زیادتی کی اور جسکو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے(وہ بھی معاف فرما،تو ہی (عزت میں) آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں،
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-3421)
(صحیح مسلم،حدیث نمبر-771)

🌷ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں گئے، تو دیکھا کہ ایک آدمی اپنی (باقی)نماز پوری کر چکا ہے، اور تشہد میں ہے اور یہ کہہ رہا ہے،

:«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ بِأَنَّكَ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ،‏‏‏‏ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ،‏‏‏‏ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ،‏‏‏‏الرحيم»
“” اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں، اے اللہ تجھی سے، اس لیے کہ تو ہی ایک ایسا تن تنہا بے نیاز ہے جس نے نہ تو کسی کو جنا ہے، اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے، اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے، لہٰذا تو میرے گناہوں کو بخش دے، تو ہی غفور و رحیم یعنی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے””

(اسکے یہ الفاظ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اس کے گناہ بخش دیے گئے،
(سنن نسائی ،حدیث نمبر-1302)

*تشہد میں دعاؤں کے بارے میں یہ بھی آیا ہے کہ مذکورہ بالا چار چیزوں سے پناہ مانگنے کے بعد دنیا و آخرت کی بھلائی پر مشتمل اللہ تعالی سے کوئی بھی اچھی سی دعا مانگی جاسکتی ہے،مگر وہ دعا بھی عربی میں ہونی چاہیے،جیسے قرآنی دعائیں وغیرہ یا کوئی بھی دعا*

🌷چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب تم میں سے کوئی تشہد بیٹھے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے، عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے، زندگی و موت کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے شر سے، اسکے بعد اپنے لئے جو چاہے مانگ لے (سنن نسائی ،حدیث نمبر-1293)

🌷اور صحیح بخاری میں اس طرح کے الفاظ ہیں کہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فَيَدْعُو .
(تشہد اور درود کے بعد) دعاؤں میں سے جو دعا اسے زیادہ پسند ہو وہ دعا کرے
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-835)

_______________&&____________

نوٹ👇👇
*ہم نے بچپن سے سکول میں نماز حنفی کی کتاب سے یہ ایک ہی دعا سیکھی ہے اور آج بھی اکثر بھائی آخری قعدہ میں دعا کے طور یہی قرآن کی آیت ہی پڑھتے ہیں بس*

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
🌷رَبِّ اجْعَلْنِی مُقيْمَ الصَّلٰوةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِی رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَا رَبَّنَا اغْفِرْلِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُوْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْحِسَابِ.
(ابراہیم : 40، 41)۔

*یہ قرآنی آئیت تشہد میں پڑھنا کسی بھی صحیح یا ضعیف حدیث سے ثابت نہیں*

یہ صرف فقہ حنفی کی کتاب فتاوی ہندیہ میں دوسری حنفی فقہ “تتارخانیہ” سے نقل کرکے لکھا ہے ۔
ویستحب أن یقول المصلي بعد ذکر الصلاة في آخر الصلاة: رب الجعلني مُقیمَ الصلاة ومن ذریتی ربنا وتقبل دعاء ربنا اغفر لي ولوالدي وللموٴمنین یومَ یقومُ الحساب، کذا في التتارخانیہ ناقلاً عن الحجة
(ہندیة: 1/76)
یعنی وہ لکھتے ہیں کہ نمازی کے لئے مستحب ہے کہ وہ نماز کے آخر میں نماز کے ذکر کے بعد “رب الجعلني مُقیمَ الصلاة ومن ذریتی ربنا وتقبل دعاء ربنا اغفر لي ولوالدي وللموٴمنین یومَ یقومُ الحساب” پڑھے،

*اس فقہی قول کی بنیاد پہ احناف کے علماء نے صدیوں سے عوام کو آخری تشہد میں صرف مذکورہ قرآنی دعا پر لگایا ہوا ہے اور باقی مسنون دعاؤں کو بالکل چھوڑ رکھا ہے،بلکہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ لوگوں کو مسنون دعاؤں کا علم تک نہیں*

*اگرچہ عام دعاؤں کی طرح یہ قرآنی دعا پڑھنا بھی تشہد میں جائز ہے،مگر پہلے وہ جامع اور مسنون دعائیں پڑھیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکھائی ہیں اور جنکے پڑھنے کا آپ نے حکم دیا ہے، اسکے بعد یہ دعا بھی پڑھ لیں،لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کو چھوڑ کر بزرگوں کی بات مان کر صرف ایک دعا پر ہی پوری زندگی گزار دینا قطعاً جائز نہیں*

*دعا ہے کہ اللہ پاک صحیح معنوں میں ہمیں دین اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،آمین*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج/
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں