950

سوال_کیا مسلمان کے لیے کالا کپڑا یا کالا لباس استعمال کرنا گناہ ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-84”
سوال_کیا مسلمان کے لیے کالا کپڑا یا کالا لباس استعمال کرنا گناہ ہے؟

Published Date:17-9-2018

جواب!
الحمدللہ..!

*ایک خاص گروہ یعنی شیعہ حضرات کے مخصوص کالے لباس کی وجہ سے ہمارے کچھ سادہ لوح مسلمانوں نے کالے لباس کو خود پر حرام یا مکروہ کر لیا ہوا کہ کالا لباس پہننا گناہ ہے، یا جو کالا لباس پہن لے اسکو شیعہ ہونے کا فتویٰ دے دیا جاتا یا مذاق کیے جاتے،جب کہ شریعت میں کالے رنگ کا لباس پہننے سے ممانعت میں کوئی دلیل نہیں ہے،بلکہ بہت سی روایات میں کالے کپڑے کے استعمال کا ذکر ملتا ہے*

🌷عن عائشة أن النبي ﷺ لَبِس خمیصة سوداء فقالت عائشة : ما أحسنھا علیک یا رسول اﷲ؟ یشوب بیاضھا سوادک ویشوب سوادھا بیاضک، فثار منھا ریح فألقاھا، وکان تعجبہ الریح الطیبة
(صحیح ابن حبان، موارد الظمآن، باب في صفتہٖ،حدیث نمبر-6395)
’’اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبیﷺ نے سیاہ اُونی چادر زیب ِتن کی، توانہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسولﷺ! یہ آپ پر کس قدر سج رہی ہے!! اس کی سفیدی آپ کی سیاہی میں اور اس کی سیاہی آپ کی سفیدی میں خوب گھل مل گئی ہے۔ بعد میں اس میں سے ناپسند سی بو آئی تو آپ نے اسے اتار پھینکا۔ آپﷺ کو محض اچھی بو پسند تھی۔‘‘

🌷عن عائشة قالت صُنِعت لرسول اﷲ ﷺ بردۃ سوداء فلبِسھا فلما عرق فیھا وجد ریح الصوف فقذفھا
(سنن ابو داؤد: حدیث نمبر-4074 ’صحیح‘)
(مسند احمد ،حدیث نمبر-25007)
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ کے لئے ایک سیاہ اُونی چادر تیار کی گئی۔ آپؐ نے اسے زیب تن فرمایا۔ جب پسینہ آیا تو آپؐ نے اس میں اُون کی ناگوار بو محسوس کی تو پؐ نے اِسے اُتار پھینکا۔‘‘

🌷عن عبداﷲ بن زید أن رسول اﷲ ﷺ استسقی وعلیہ خمیصة سوداء
’’عبداللہ بن زید ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ نماز استسقا کے لئے تشریف لے گئے تو اس وقت آپ 1ایک سیاہ چادر اوڑھے ہوئے تھے۔
(سنن النسائی: حدیث نمبر-1507’صحیح‘)

🌷عن جعفر بن عمرو بن حریث عن أبیہ أن رسول اﷲ ﷺ خطب الناس وعلیہ عمامة سوداء
(صحیح مسلم:حدیث نمبر- 1359)
’’عمرو بن حریثؓ کا بیان ہے کہ نبیﷺ نے لوگوں کو خطبہ دیا ۔ اس وقت آپؐ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔‘‘

🌷عن ابن عباس أن النبي ﷺ خطب الناس وعلیہ عمامة دسماء
(الشمائل للترمذي، باب ماجاء في صفة عمامة رسول اﷲ ﷺ ’صحیح‘)
’’ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ نبیﷺ نے لوگوں کوخطبہ دیا۔ اس وقت آپؐ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔ یا ایسا عمامہ تھاجو تیل لگا ہوا تھا۔‘

🌷عن جابر بن عبد اﷲ أن النبي ﷺ دخل یوم فتح مكة وعلیہ عمامة سوداء
’’ابن عمرؓ کا بیان ہے کہ نبیﷺ فتح مکہ کے روز مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت آپؐ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔
(صحیح مسلم:حدیث نمبر-1358)

🌷عن ابن بریدۃ عن أبیہ أن النجاشي أھدی للنبي ﷺ خُفَّین أسودین ساذجین فلبسھما ثم توضأ ومسح علیھما
(جامع ترمذی: حدیث نمبر-2820 ’صحیح‘)
’’بریدہؓ کا بیان ہے کہ نجاشی نے نبیﷺ کی خدمت میں دو سادہ سیاہ موزے ہدیہ بھیجے۔ آپؐ نے اُنہیں پہن لیا۔ بعد میںوضو کیا تو ان پر آپ نے مسح کیا۔‘‘

🌷عن عائشة قالت خرج النبي ﷺ ذات غداۃ وعلیہ مِرْط مُرَحَّل من شعر أسود
(صحیح مسلم:حدیث نمبر-2081)
’’اُمّ المومنین عائشہؓ کا بیان ہے کہ نبیﷺ ایک روز صبح کو باہر اس حال میں تشریف لے گئے کہ آپؐ نے سیاہ اون کی بنی ہوئی چادر اوڑھ رکھی تھی جس پر پالان کی سی شکل بنی ہوئی تھی۔‘‘

🌷عن اُمّ خالد بنت خالد قالت:أُتي النبي ﷺ بثیاب فیھا خميصة سوداء صغیرۃ فقال: من ترون أن نکسو ھذہ؟ فسکت القوم،فقال: إیتونی بأم خالد فاُتي بھا تُحْمَل فأخذ الخميصة بیدہ فألبَسَھا وقال أبلي واخلقي،وکان فیھا علم أخضر أو أصفر،فقال: یا أم خالد ! ھذا سَنَاہْ، وسَنَاہ بالحبشة -حسن (صحیح بخاری: حدیث نمبر-5823)
’’اُمّ خالدؓ کا بیان ہے کہ نبیﷺ کے ہاں کچھ کپڑے آئے۔ ان میں ایک چھوٹی سی سیاہ چادر بھی تھی۔ آپؐ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ ہم یہ پہننے کے لئے کس کو دیں؟
لوگ خاموش رہے۔ تو آپؐ نے فرمایا: اُمّ خالد (بچی) کو میرے پاس لاؤ، اسے اُٹھا کر لایا گیا۔ تو آپ ﷺنے چادر لیکر اپنے ہاتھوں سے اُسے اوڑھائی اور فرمایا: اللہ کرے، اسے خوب استعمال کرو۔ اس چادر پر سبز یا زرد دھاریاں بھی تھیں۔ آپؐ نے فرمایا: اُمّ خالد! یہ کتنی اچھی ہے۔‘‘

🌷عن الأشعث بن سلیم قال سمعت عمتي تحدث عن عمھا قال: بینا أنا أمشي بالمدينة إذا إنسان خلفي یقول:ارفع إزارک فإنہ أتقی وأبقی فإذا ھو رسول اﷲ ﷺ، فقلت: یارسول اﷲ ! إنما ھي بُردَۃ مَلْحَاء قال: أما لک فيَّ اُسوۃ؟ فنظرتُ فإذا إزارہ إلی نصف ساقیہ
(الشمائل للترمذي، باب ماجاء في صفة إزار رسول اﷲ ﷺ )
’’اشعث بن سلیم کا بیان ہے کہ میں نے اپنی پھوپھی جان سے سنا کہ وہ اپنے چچا سے بیان کرتی تھیں۔ اس نے کہا کہ ایک دفعہ میں مدینہ منورہ میں چلا جارہا تھا۔ اچانک میں نے سنا کہ کوئی آدمی میرے پیچھے کہتا آرہا تھا: اپنی چادر کو اوپر کرلو، اس سے کپڑا صاف رہے گا اور پھٹنے سے بھی محفوظ رہے گا۔ میں اِدھر متوجہ ہوا تو دیکھا کہ اللہ کے رسولﷺ تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسولؐ یہ ’سیاہ چادر‘ تو کام کاج کے وقت کی ہے یعنی اس میں تکبر والی کوئی بات نہیں۔ تو آپؐ نے فرمایا: کیا تمہارے لئے میرے عمل میں اُسوہ نہیں؟ میں نے دیکھا تو آپؐ کی چادر نصف پنڈلی تک تھی۔‘‘

🌷عن یونس بن عبید مولی محمد بن القاسم قال بعثني محمد بن القاسم إلی البراء بن عازب یسألہ عن رأية رسول اﷲ ﷺ ما کانت؟ فقال: کانت سوداء مُرَبعة من نَمِرۃ
(سنن ابی داود: حدیث نمبر-2591صحیح‘)
(سنن ترمذی،حدیث نمبر-1680)
’’یونس بن عبید مولیٰ محمد بن القاسم کا بیان ہے کہ محمدبن قاسم نے مجھے براء بن عازبؓ کی خدمت میں بھیج کر رسول اﷲﷺ کے جھنڈے کے متعلق دریافت کیا کہ کیسا تھا؟ اُنہوں نے فرمایا: وہ اُونی کپڑے کا سیاہ و سفید لکیروں والا تھا۔‘‘

🌷عن الحارث بن حسان قال قدمت المدينة،فرأیت النبي ﷺ قائمًا علی المنبر وبلال قائم بین یدیہ مُتقلِّد سیفا وإذا رأية سودائ، فقلت: من ھذا ؟ قالوا: ھذا عمرو بن العاص قَدِم من غَزَاۃ
(سنن ابن ما جہ:حدیث نمبر-2816’حسن‘)
’’حارث بن حسانؓ کا بیان ہے کہ میں مدینہ منورہ گیا۔ میں نے نبیﷺ کو دیکھا کہ آپ منبر پر کھڑے تھے اور بلالؓ گلے میں تلوار حمائل کئے آپؐ کے سامنے کھڑے تھے۔ اچانک میں نے ایک سیاہ جھنڈا دیکھا۔ تو میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ عمروبن العاصؓ ہیں جو ایک غزوہ سے واپس آئے ہیں۔‘‘

🌷 عن ابن عباس أن رأية رسول اﷲ ﷺ کانت سوداء ولواء ہ أبیض
(جامع الترمذي:حدیث نمبر-1681)
’’ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہﷺ کا بڑا پرچم سفید اور چھوٹا علامتی جھنڈا سیاہ تھا۔‘‘

🌷ولم تر عائشة بأسا بالحُلِيّ والثوب الأسود والمُوَرَّد والخف للمرأۃ
(صحیح البخاري: باب ما یلبس المحرم من الثیاب)
’’اور اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ عورت کے لئے احرام کے دوران زیورات، سیاہ لباس یا گلابی رنگ کا لباس اور موزے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتی تھیں۔‘‘

*مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ نبیﷺ نے حسب ِ ضرورت مختلف مواقع پر سیاہ چادر، سیاہ عمامہ، سیاہ موزے اور سیاہ جھنڈے استعمال کئے۔ سیاہ چادر ایک صحابیہ کو عطا فرمائی، سیاہ عمامہ ایک صحابی کو عنایت فرمایا۔ نیز اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ نے احرام کے دوران عورت کے لئے سیاہ لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔*

*مگر کسی خاص قوم کی مشابہت کے لیے یا انکے تہواروں میں اس خاص لباس سے بچنا چاہیے کیونکہ،*
🌷نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ،
جس نے کسی قوم کی مشابہت کی وہ انہی میں سے ہو گا
(سنن ابو داؤد ،حدیث نمبر-4031)

*لہٰذا کسی قوم کی مشابہت یا سوگ سے ہٹ کر اگر سیاہ لباس استعمال کیا جائے تو شرعی طور پر اس میں نہ کوئی حرج ہے اور نہ اس کی ممانعت ہے*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج لائیک ضرور کریں۔۔.
آپ کوئی بھی سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کر سکتے ہیں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں