664

سوال_کب اور کتنے فاصلے پر نماز قصر کر سکتے ہیں؟ اور قصر نماز کی رکعات کتنی ہوں گی؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-26″
سوال_ قصر نماز کے بارے شریعت میں کیا حکم ہے؟ کب اور کتنے فاصلے پر نماز قصر کر سکتے ہیں؟ اور قصر نماز کی رکعات کتنی ہوں گی؟ قرآن و حدیث سے واضح کریں!

Published Date: 01-02-2018

جواب۔۔!!
الحمدللہ۔۔۔!!

*قصر کا معنی ہے کمی، یعنی سفر کے اندر نماز کی رکعات کو کم کر کے پڑھنا جائز اور مسنون ہے،*

فرمان باری تعالیٰ ہے..!

القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء
آیت نمبر 101

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

📚وَاِذَا ضَرَبۡتُمۡ فِى الۡاَرۡضِ فَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ اَنۡ تَقۡصُرُوۡا مِنَ الصَّلٰوةِ ‌ۖ اِنۡ خِفۡتُمۡ اَنۡ يَّفۡتِنَكُمُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ ؕ اِنَّ الۡـكٰفِرِيۡنَ كَانُوۡا لَـكُمۡ عَدُوًّا مُّبِيۡنًا‏ ۞
ترجمہ:
اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز کچھ کم کرلو، اگر ڈرو کہ تمہیں وہ لوگ فتنے میں ڈال دیں گے جنھوں نے کفر کیا۔ بیشک کافر لوگ ہمیشہ سے تمہارے کھلے دشمن ہیں۔

📚یعلی بن امیہ رض کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا:
أَرَأَيْتَ إِقْصَارَ النَّاسِ الصَّلَاةَ، وَإِنَّمَا قَالَ تَعَالَى : { إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا }، فَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ الْيَوْمُ. فَقَالَ : عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ : ” صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ ”
مجھے بتائیے کہ ( سفر میں ) لوگوں کے نماز قصر کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟ 
اللہ تعالیٰ تو فرما رہا ہے:
اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں مبتلا کر دیں گے ۔۔۔۔پھر قصر کرو۔۔؟
تو اب تو وہ دن گزر چکا ہے،
تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا ہے اس پر مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر نماز قصر صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو،
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-1199)
(صحیح مسلم كِتَابٌ : الْمَسَاجِدُ وَمَوَاضِعُ الصَّلَاةِ  | بَابٌ : صَلَاةُ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا  | بَابٌ : صَلَاةُ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا, 686)

📚فرمان نبویﷺ
«ﺇِﻥَّاﻟﻠَّﻪَ ﻳُﺤِﺐُّ ﺃَﻥْ ﺗُﺆْﺗَﻰ ﺭُﺧَﺼُﻪُ، ﻛَﻤَﺎ ﻳُﺤِﺐُّ ﺃَﻥْ ﺗُﺆْﺗَﻰ ﻋَﺰَاﺋِﻤُﻪُ
اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ تم اسکی دی ہوئی رخصتوں کو قبول کرو جس طرح وہ پسند کرتا ہے کہ تم اسکے احکامات کو قبول کرو،
(ابن حبان،حدیث نمبر_354)
علامہ البانی نے اسے صحیح کہا ہے،

______________&_________

*کچھ لوگ نماز قصر کے لیے سفر کے ساتھ خوف کی بھی شرط لگاتے ہیں تو یہ بات درست نہیں*

📚عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں،
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے مکہ تک سفر کیا اور آپ کو اللہ کے علاوہ کسی کا ڈر نہیں تھا، لیکن آپ نے نماز دو رکعات (یعنی قصر) ہی پڑھی،
(سنن ترمذی،حدیث نمبر_547)
(سنن نسائی،حدیث نمبر_1436)

_____________&_________

*سفر میں قصر کرنا واجب نہیں بلکہ افضل ہے کیونکہ سفر میں پوری نماز پڑھنا بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے*

📚سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں نماز قصر بھی کرتے تھے اور پوری بھی پڑھتے تھے،
(سنن الکبری للبیہقی،حدیث نمبر_5422)
(سنن دار قطنی،حدیث نمبر_2266)

📚اسی طرح سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی سفر میں پوری نماز پڑھنا ثابت ہے،
(صحیح بخاری،حدیث نمبر-1090)
(صحیح مسلم حدیث نمبر_685)

___________&___________

*نماز قصر کب کی جا سکتی۔۔؟*

سفر پر جاتے ہوئے جہاں سے شہر یا گاؤں کی حد ختم ہو گی اور واپسی پر شہر یا گاؤں کہ حد تک نماز قصر کر سکتے ہیں،

📚انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ،
خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قُلْتُ : أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئًا ؟ قَالَ : أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا.
ہم مکہ کے ارادہ سے مدینہ سے نکلے تو برابر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو، دو رکعت پڑھتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آئے،
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_1081)
(صحیح مسلم،حدیث نمبر_693)

📚سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے آتا ہے کہ وہ کوفہ سے (سفر کے ارادے سے نکلے) تو اس وقت قصر شروع کر دی کہ ابھی وہ کوفہ کے مکانات دیکھ رہے تھے اور جب واپس آئے تو کوفہ کے قریب قصر نماز پڑھی، تو کسی نے کہا سامنے تو کوفہ نظر آ رہا ہے، تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا، کہ نہیں جب تک ہم کوفہ میں داخل نہ ہو جائیں قصر ہی پڑھیں گے،
(صحیح بخاری،کتاب التقصیر، تعلیقا، باب یقصر اذا خرج من موضعه / قبل الحدیث_1089)

واضح رہے اگر آدمی شہر یا بستی سے سفر کے لیے چل پڑا اور وہ بستی کی حد سے نکلنے سے پہلے نماز ادا کرنا چاہتا ہے تو وہ پوری پڑھے گا کیونکہ اسکا سفر ابھی شروع نہیں ہوا،جب بستی کی حد سے نکل جائے گا پھر قصر شروع ہو جائے گی، اور واپسی پر بھی بستی کی حد میں داخل ہونے سے پہلے تک قصر پڑھ سکتا اور بستی کی حد میں داخل ہونے کے بعد پوری نماز پڑھے گا ،چاہے ابھی تک اپنے  گھر نہ پہنچا ہو،

_________&_________

*نماز قصر کتنے فاصلے پر۔۔۔!*

*اس مسئلہ میں علماء کا بہت سارا اختلاف ہے،علماء عرب کم ازکم تقریباً 80 کلومیٹر کی حد بتاتے ہیں،علماء احناف کم سے کم 48 اور کوئی 60 کلومیٹر کی حد بتاتے ہیں،جبکہ یہ باتیں حقائق کے خلاف ہیں، صحیح بات یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قصر نماز کیلئے کوئی حد مقرر نہیں، نا کسی قرآن کی آئیت میں اور نا ہی کسی حدیث میں میلوں یا دنوں کی کوئی تحدید نہیں کی گئی ہے، عرف عام میں جسے سفر کہتے ہیں اس میں آپ نماز قصر کر سکتے ہیں، اور  کم سے کم جو قصر نماز کا فاصلہ حدیث سے ملتا ہے وہ تقریباً 22 کلو میٹر ہے،اس سے زیادہ فاصلہ والی روایات بھی موجود ہیں،اور جن علماء نے میلوں کی تحدید کی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مختلف سفروں کو دیکھتے ہوئے کی ہے، تمام احادیث سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ جسے سفر کہا جاتا ہے اس سفر میں نماز قصر کر سکتے ہیں، اور اگر احادیث سے  فاصلے کی تحدید کرنا بھی چاہیں تو تقریباً 22 کلومیٹر تک جب سفر کریں تو نماز قصر کر سکتے  کیونکہ یہ وہ کم سے کم سفر ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قصر نماز کا ثبوت ملتا ہے،اور اس سے زیادہ جتنا بھی فاصلہ ہو ظاہر ہے اس میں تو اختلاف ہی نہیں زیادہ فاصلے پر تو بالاولی  قصر کر سکتے ہیں*

علمائے کرام کے اقوال ملاحظہ فرمائیں

📚سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ صالح المنجد سے سفر کی مسافت کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے فرمایا:

الحمد للہ جمہور علماء کرام کے نزدیک قصر نماز اور روزہ افطار کرنے کے لیے اڑتالیس میل کا سفر ہونا چاہیے ۔

📒ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب المغنی میں کہا ہے : ابوعبداللہ ( یعنی امام احمد ) کا مسلک یہ ہے کہ : سولہ فرسخ سے کم مسافت کے سفر میں نماز قصرکرنا جائز نہيں ، اورایک فرسخ تین میل کا ہے ، تواس طرح اڑتالیس میل بنے گا ۔ ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہ نے اس کا اندازہ لگاتے ہوئے کہا ہے کہ : عسفان سے مکہ تک ، اورطائف سے مکہ تک ، اورجدہ سے مکہ تک ۔ تواس طرح نماز قصر کی مسافت دودن کے سفر کی ہوگي ، ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کا یہی قول ہے ، اور امام مالک ، لیث ، امام شافعی رحمہم اللہ تعالی نے بھی یہی اختیار کیا ہے ۔ ا ھـ کلو میٹر میں تقریبا اسی ( 80 ) کلو میٹر کی مسافت بنے گی،

📒شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی نے سفر کے بارہ میں مجموع الفتاوی میں کہا ہے : جمہور اہل علم کے ہاں گاڑی میں تقریبا اسی کلومیٹر بنتا ہے ، اوراسی طرح ہوائي جہاز اورکشتیوں اوربحری جہازوں کی مسافت بنتی ہے ۔ اسی 80 کلومیٹر یا اس کے قریب کی مسافت کو سفر کا نام دیا جاتا ہے اورعرف عام میں سفر شمار کیا جاتا ہے ، اور مسلمانوں میں بھی یہ سفر معروف ہے ، لھذا اگر کوئي انسان اونٹ پر یا پیدل یا گاڑی یا پھر ہوائي جہاز یا بحری جہاز اورکشتیوں اتنی یا اس سےزيادہ مسافت طے کرکے تواسے مسافر قرار دیا جائے گا ۔ ا ھـ دیکھیں :
( مجموع الفتاوی ( 12 / 267 )

📒 لجنۃ الدائمۃ ( مستقل فتوی کمیٹی ) سے مندرجہ ذیل سوال کیا گيا : نماز قصر کی مسافت کیا ہے ؟ ، اورکیا تین سوکلومیٹر سےزيادہ سفر کرنے والے ڈرائیور کے لیےنماز قصر کرنا جائز ہے ؟ کیٹی کا جواب تھا : جمہور علماء کرام کی رائے میں تقریبا اسی کلومیٹر کی مسافت پرنماز قصر کی جاسکتی ہے ، اورکوئي بھی ڈرائیوروغیرہ جب جواب کےشروع میں بیان کی گئي مسافت طے کرے تواس لیے نماز قصر کرنا جائز ہے ۔ ا ھـ
( دیکھیں فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 8 / 90 )

بعض علماء کرام کہتے ہيں کہ سفر کی مسافت کی تحدید نہیں کی جاسکتی بلکہ جسے عرف عام میں سفر کہا جاتا ہے اس میں سفر کے احکام شریعت ثابت ہونگے یعنی اس میں نماز قصر اورجمع کی جاسکتی ہے اور روزہ بھی چھوڑا جاسکتا ہے ۔
📒 شی‍خ الاسلام ابن تمیمیۃ رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے : دلیل تواسی کے ساتھ ہے جوجنس سفر میں نماز قصر اور روزہ چھوڑنا مشروع قرار دیتا ہے ، اور کسی بھی سفر کو مختص نہيں کرتا ، اور صحیح بھی یہی قول ہے ۔ ا ھـ
(دیکھیں مجموع فتاوی ابن تیمیۃ ( 24 / 106 )

📒شیخ ابن ‏عثیمین رحمہ اللہ تعالی سے پوچھا گيا کہ : نماز قصر کی مسافت کیا ہے ، اورکیا بغیر قصر کے نماز جمع کی جاسکتی ہے ؟ توشیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا : بعض علماء کرام نے نماز قصر کرنے کے لیے تراسی ( 83 ) کلومیٹر کی مسافت مقرر کی ہے ، اوربعض کہتے ہیں کہ عرف عام میں جسے سفر کہا جائے اس میں نماز قصر ہوگي چاہے اس کی مسافت تراسی کلومیٹر نہ بھی ہو ، اورجسے لوگ سفر نہ کہيں وہ سفر نہیں چاہے وہ ایک سو کلو میٹر ہی کيوں نہ ہو ۔ یہی آخری قول شیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ تعالی نے اختیار کیا ہے ، کیونکہ اللہ تعالی نے بھی نماز قصر کے جواز میں مسافت کی تحدید نہيں کی اور اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی کوئي معین مسافت محدد نہیں فرمائی ۔ اور انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل کی مسافت کے لیے یا پھر تین فرسخ کی مسافت کےلیے نکلتے تو نماز دو رکعت ادا کیا کرتے تھے ۔
( صحیح مسلم حدیث نمبر ( 691 )

شیخ الاسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللہ تعالی کا قول اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے۔۔۔۔انتہی!
(اھـ دیکھیں : فتاوی ارکان الاسلام صفحہ ( 381 )

*احادیث ملاحظہ فرمائیں*

📚سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،
صَلَّيْتُ الظُّهْرَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ.
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں پہنچ کر عصر کی دو رکعت قصر پڑھی۔
(صحیح بخاری،حدیث نمبر _ 1089/1546 / 1547)

*ذوالحلیفہ مدینہ سے تین شرعی میل کے فاصلے پر ہے،جہاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز قصر ادا کی*

📚 یحییٰ بن یزید ھنائی کہتے ہیں،
سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ- شُعْبَةُ الشَّاكُّ – صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے قصر نماز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،
تین میل یا تین فرسخ(نو میل) پر نماز قصر کرتے تھے،
(صحیح مسلم، کتاب صلاةالمسلمین و قصرھا_691)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-1201)

📝اس حدیث میں راوی شعبہ نے پوری ایمانداری سے کام لیتے ہوئے تین میل یا تین فرسخ بتایا ہے،
اسے شک ہے کہ اسکے استاد نے تین میل کہا یا تین فرسخ(نو میل)،
تو ہم احتیاطاً تین میل کی بجائے تین فرسخ جو کہ 9 میل بنتے ہیں، اس پر عمل کریں گے،
اور شرعی ایک میل انگریزی ڈیڑھ میل کے برابر ہوتا ہے،
اور انگریزی ایک میل 1600 میٹر کا ہوتا ہے،تو اس طرح دیسی ایک میل جس کو کوس بھی کہتے ہیں 2400 میٹر کا ہوا،
اس حساب سے 9 دیسی میل 21600 میٹر جو کہ 21.6 کلو میٹر بنتا ہے،
(اسلامی اوزان81/ازفاروق اصغر صارم رحمہ اللہ)

*بعض علماء تین فرسخ کو ساڑھے چودہ کلومیٹر بھی بناتے ہیں،لیکن 21.7 کلومیٹر والی بات زیادہ راجح معلوم ہوتی ہے،*

*لہٰذا ہمارے علم کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سفر کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی،اور کم سے کم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (تین فرسخ ) 21.6 کلو میٹر کے سفر پر نماز قصر کرنا ثابت ہے*

_____________&_____________

*نماز قصر کی رکعات اور سفر میں سنتیں پڑھنے کے بارے میں۔۔!*

📚سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں،
فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَفِي الْخَوْفِ رَكْعَةً.
بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے مقیم پر چار رکعات نماز فرض کی ہے اور  مسافر پر دو رکعات فرض کی ہیں، اور خوف (جنگ) میں ایک رکعت فرض کی (امام کے ساتھ پھر ایک رکعت امام کے بغیر)
(صحیح مسلم،کتاب صلاةالمسافرین،حدیث_687)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-1247)

📚عیسیٰ بن حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد ( حفص ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا :
صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ قَالَ : فَصَلَّى لَنَا الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، وَأَقْبَلْنَا مَعَهُ حَتَّى جَاءَ رَحْلَهُ، وَجَلَسَ وَجَلَسْنَا مَعَهُ، فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ نَحْوَ حَيْثُ صَلَّى، فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا، فَقَالَ : مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ ؟ قُلْتُ : يُسَبِّحُونَ. قَالَ : لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ وَصَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُثْمَانَ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ : { لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ }.
میں نے مکہ کے راستے میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ سفر کیا، انھوں نے ہمیں ظہر کی نماز دو رکعتیں پڑھائی ، پھر وہ اور ہم آگے بڑھے اور اپنی قیام گاہ پر آئے اور بیٹھ گئے ، ہم بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ پھر اچانک ان کی توجہ اس طرف ہوئی جہاں انھوں نے نماز پڑھی تھی، انھوں نے ( وہاں ) لوگوں کو قیام کی حالت میں دیکھا،
انھوں نےپوچھا ، یہ لوگ کیا کررہے ہیں؟
میں نے کہا : سنتیں پڑھ رہے ہیں ۔
انھوں نے کہا : اگر مجھے سنتیں پڑھنی ہوتیں تو میں نماز ( بھی ) پوری کرتا ( قصر نہ کرتا )،
بھتیجے! میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا آپ نے دو رکعت سے زائد نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا،
اور میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے
ہمراہ رہا انھوں نے بھی دو رکعت سے زائد نماز نہ پڑھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی بلا لیا ،
اور میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ رہا ، انھوں نے بھی دورکعت نما ز سے زائد نہ پڑھی ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی بلا لیا۔
پھر میں عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی (سفر میں) دو سے زائد رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ نے انھیں بلا لیا،
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
” بے شک تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کا عمل ) بہترین نمونہ ہے،
(صحیح مسلم،کتاب صلاة المسافرین،689)
(سنن ابو داؤد حدیث نمبر-1223)

*ان احادیث میں سفر کی نماز دو رکعات کا ذکر ہے، یعنی ظہر،عصر اور عشاء جو چار رکعات فرض نماز ہے وہ دو رکعات فرض پڑھنے ہیں،اور مغرب کے تین فرض اور فجر کے دو فرض،*

📚  ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ،
رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ، يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ. قَالَ سَالِمٌ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلُهُ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ.
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہا آپ کو  سفر میں جب جلدی ہوتی تو نماز جمع کرتے، مغرب کی تین رکعات پڑھتے تھے۔۔۔۔ پھر عشاء کی دو رکعات فرض پڑھتے تھے اور سنتیں نہیں پڑھتے تھے۔۔۔!
(صحیح بخاری، حدیث نمبر_1092)

__________&_________

*سفر میں صرف فرض ادا  کیے جائیں گے،سنتیں معاف ہیں،*

📚 صحیح بخاری
کتاب: نماز قصر کا بیان
باب: باب: سفر میں جس نے فرض نماز سے پہلے اور پیچھے سنتوں کو نہیں پڑھا۔
حدیث نمبر: 1101
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَافَرَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ صَحِبْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَرَهُ يُسَبِّحُ فِي السَّفَرِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ اللَّهُ جَلَّ ذِكْرُهُ:‏‏‏‏ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
ترجمہ:
ہم سے یحییٰ بن سلیمان کوفی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد بن یزید نے بیان کیا کہ حفص بن عاصم بن عمر نے ان سے بیان کیا کہ  میں نے سفر میں سنتوں کے متعلق عبداللہ بن عمر ؓ سے پوچھا آپ نے فرمایا کہ میں نبی کریم  ﷺ  کی صحبت میں رہا ہوں۔ میں نے آپ کو سفر میں کبھی سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا اور اللہ جل ذکرہ کا ارشاد ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ  ﷺ  کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔

📚حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میری تیمارداری کے لیے آئے تو
وَسَأَلْتُهُ عَنِ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ : صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَمَا رَأَيْتُهُ يُسَبِّحُ، وَلَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ. وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : { لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ }.
تو میں نے پوچھا کہ سفر میں سنتیں بھی پڑھ لیں تو کیا حرج ہے؟
تو انہوں نے کہا اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہا مگر میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے سفر میں سنتیں پڑھی ہوں،
اور اگر سفر میں مجھے سنتیں پڑھنی ہوتی تو فرض پورے پڑھ لیتا،اور اللہ جل ذکرہ کا ارشاد ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ  ﷺ  کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔
(صحیح مسلم، کتاب صلا ة المسافرين_حدیث نمبر-689)

یعنی سنت سے زیادہ تو فرضوں کی اہمیت ہے، اگر سنتیں پڑھنی تو پھر فرض آدھے پڑھنے کا کیا فائدہ۔۔!!لیکن اگر کوئی سنتیں پڑھتا ہے تو کوئی حرج نہیں!! پڑھ سکتا ہے!!

*لیکن فجر کی سنتیں سفر میں بھی پڑھنی چاہیے کیونکہ*

📚نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں بھی فجر کی سنتیں ادا کیا کرتے تھے،
(صحیح مسلم، کتاب المساجد_681)

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ 
📖 سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں