699

سوال_ بدفالی،بدشگونی اور نحوست کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ بدشگونی وغیرہ سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟ نیز کیا یہ بات سچ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ عورت،گھر اور گھوڑے میں نحوست ہوتی ہے..؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-297″
سوال_ بدفالی،بدشگونی اور نحوست کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ بدشگونی وغیرہ سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟ نیز کیا یہ بات سچ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ عورت،گھر اور گھوڑے میں نحوست ہوتی ہے..؟

Published Date: 14-10-2019

جواب:
الحمدللہ:

*دینِ اسلام سے قبل لوگ مختلف قسم کے باطل عقائد، شرک و بدعات، رسم و رواج، نحوست و بدشگونی اور توہم پرستی میں مبتلا تھے،چنانچہ پرندوں کو اڑا کرسفر کرنے کا فیصلہ کرتے تھے ۔اگرپرندہ دائیں سمت کی طرف جاتا تو اس کام یا سفر کو اچھا فال تصور کر کے جاری رکھتے اور اگر بائیں کو جاتا تو اس کام یا سفر سے نحوست اور بدشگونی سمجھ کر ترک کر دیتے۔اسی طرح بعض ایا م اور مہینوں کو بھی نحوست وبد شگونی کی نظرسے دیکھتے تھے*
((جیسا کے پچھلے سلسسلہ نمبر-296 میں ہم نے تفصیل سے پڑھا))

*بہرحال اللہ رب العالمین نے اپنی رحمت سے محمد عربیﷺ کو مبعوث فرما کے جاہلیت کے تمام شرکیہ اعتقادات ،فاسد خیالات اور توھمّات و خرافات وغیرہ کو ختم کرکے صحیح عقیدۃ اوردرست منہج عطا کیا اور آپ ﷺ کے ذریعہ دین کی تکمیل کردی گئی اور یہ اعلان کردیا گیا کہ یہ دین اسلام سارے غلط عقائد و أفکار اور توہمات و خرافات اور باطل پگڈنڈیوں سے پاک اور صاف ہے ،اوراس دین میں قیامت تک کسی تبدیلی و زیادتی کی گنجائش باقی نہ رہی!*

📚اور آپ ﷺنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرما دیا کہ:
ترَكْتُ فيكم أَمرينِ، لَن تضلُّوا ما تمسَّكتُمْ بِهِما: كتابَ اللَّهِ وسنَّةَ رسولِهِ
لوگوں میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑےجا رہا ہوں جب تک تم انہیں مضبوطی سے پکڑے رہو گے گمراہ نہ ہوگے ،ایک کتاب اللہ، دوسری اسکے رسول(محمد ﷺ)کی سنت،
(موطأ مالك | كِتَابٌ : الْجَامِعُ | النَّهْيُ عَنِ الْقَوْلِ بِالْقَدَرِ ،حدیث نمبر-2618)
(الألباني تخريج مشكاة المصابيح 184 • إسناده حسن )
( صحيح الجامع 2937 • صحيح )
(مستدرک الحاكم-319)

لیکن آپ ﷺ کے انتقال کے بعد لوگ کچھ صدیوں تک تو دین اسلام پر صحیح طریقے سے قائم رہے یہاں تک کہ خیرالقرون کا زمانہ گزرگیا، پھر مختلف قسم کے باطل فرقے جنم لینا شروع ہوگئے، دشمنانِ اسلام خاص کریہود و نصاری نے اپنی ریشہ دوانیوں کاسلسلہ تیزکردیا، عہد رسالت سے دوری ہوتی گئی، دین سے بے توجہی اور جہالت عام ہوتی گئی، اور لوگوں میں شرک وبدعات، باطل اعتقادات، غیردینی رسم ورواج، اور مختلف قسم کے اوہام وخرافات پیدا ہونے لگے اور وہ دین اسلام جس کو محمدعربی ﷺنے ہرطرح کی خرافات سے پاک وصاف کردیا تھا وہ مکدر اور گدلا ہوتا نظرآنے لگا ، چنانچہ ان باطل اعتقادات ،اوہام و خرافات اور بدعات میں سے ، بدشگونی، نحسوت بھی شامل ہیں جو موجودہ دورمیں بعض نام نہاد مسلمانوں میں دین سے جہالت اور اندھی تقلید کی وجہ سے آئیں ، جبکہ اسلام نے دورجاہلیت کے ان عقائد کو باطل قرار دیا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ اسلام میں کوئی نحوست و بدشگونی نہیں ہے اور نا ہی کوئی بیماری متعدی ہوتی ہے،

*مگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں پھر سے وہی مشرکین مکہ والے باطل عقائد گھر کر چکے ہیں،آج مسلمان طرح طرح کے باطل عقائد سے دوچار ہیں،جن میں سے چند ایک ہیں،*

1-عصر کے بعد یا رات کو گھر میں جھاڑو دینے سے رزق تنگ ہوتا ہے،
2-دکان پر یا رات کو ناخن کاٹنے سے مالی نقصان ہوتا ہے،
3-بچہ کی پیدائش کے بعد ماں گھر سے 40 دن تک باہر نا نکلے، بچے کی پیدائش پر گھروں پر کسی درخت کے خاص پتے وغیرہ لٹکانا،
4- بلی راستہ کاٹ جائے تو برا سمجھا جاتا، الو کا گھروں پر بولنا بھی خطرے کی گھنٹی۔۔ وغیرہ
5-شادی طے ہونے کے بعد دلہا کو گھر سے باہر نکلنے سے روکنا اور لوہے کی چیز پاس رکھنے کا کہنا،
6-پیدائش کے وقت ماں کا مرنا بچے کے منحوس ہونے کی علامت سمجھا جاتا،
7-کچھ خاص دن جیسے منگل،بدھ اور صفر کا مہینہ وغیرہ اسے منحوس یا سخت گنا جاتا،
8-نئی دلہن گھر آنے پر اگر برتن بھی ٹوٹ جائے تو اسے نحوست کے طعنے دیے جاتے،
9- آنکھ پھڑکنے سے، ہتھیلی پر خارش ہونے سے، بھی اچھا برا شگون لیا جاتا،

وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ وغیرہ

یہ صرف چند ایک باتیں تھیں، ان جیسی اور بھی بہت سی ایسی توہمات ہر علاقے کی پہچان بنی ہوئی ہیں،

جب کہ شریعت ان سب باتوں کا کلی انکار کرتی ہے،

📚حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ،)
“کوئی بیماری متعدی نہیں، بدفالی اور بدشگونی کی بھی کچھ حقیقت نہیں۔ نہ الو کا بولنا (کوئی برا اثر رکھتا )ہے اور نہ ہی ماہ صفر(منحوس)ہے،
(صحیح البخاری، الطب، باب لاھامۃ، ح:5757)

📚اور صحیح مسلم میں اس طرح کے الفاظ ہیں؛
لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا هَامَةَ، وَلَا صَفَرَ، وَلَا نَوْءَ، وَلَا غُولَ، وَلَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَ
“کوئی بیماری متعدی نہیں، بدفالی اور بدشگونی کی بھی کچھ حقیقت نہیں۔ نہ الو کا بولنا (کوئی برا اثر رکھتا )ہے اور نہ ہی ماہ صفر(منحوس)ہے اور ستاروں کی تاثیر کا عقیدہ بھی باطل ہے اور چھلاوہ (بھوتوں) کا بھی کوئی وجود نہیں،
(صحيح مسلم | كِتَابٌ : السَّلَامُ. | بَابٌ : لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ،2222)

📚حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الفَأْلُ قَالُوا: وَمَا الفَأْلُ؟ قَالَ: كَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ)
کوئی بیماری متعدی نہیں۔ نہ بدفالی و بدشگونی کی کچھ حقیقت ہے البتہ مجھے فال پسند ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی : فال سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: عمدہ اور بہترین بات(سن کر حسن انجام کی امید رکھنا)
(صحیح البخاری، الطب، باب لا عدوی، حدیث نمبر- 5776 )
( صحیح مسلم، السلام، باب الطیرۃ والفال حدیث نمبر-:2224)

📚عروہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بدفالی اور بدشگونی کا تذکرہ ہوا تو آپ نے فرمایا ان سب سے بہتر فال ہے اور یہ کسی مسلمان کو اس کے مقصود سے روک نہ دے۔ چنانچہ جب کوئی شخص ناپسندیدہ چیز دیکھے تو یہ دعا کرے:
( اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ)
“یا اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائیاں لا سکتا ہے نہ کوئی برائیوں کو دور کرسکتاہے۔ اور تیری توفیق کے بغیر ہم میں بھلائی کی طاقت ہے نہ برائی سے بچنے کی ہمت،
(سنن ابی داود، الکھانۃ و التطیر، باب فی الطیرۃ، حدیث نمبر-3919)
🚫اگرچہ یہ روایت مرسل ہے،
مگر دوسری روایات کے ساتھ ملا کر حسن لغیرہ تک پہنچتی ہے،
(النووي (٦٧٦ هـ)، تحقيق رياض الصالحين ٥٣٧ • صحيح)
(شعيب الأرنؤوط (١٤٣٨ هـ)، تخريج سنن أبي داود ٣٩١٩ • حسن لغيره)
(محمد ابن عبد الوهاب (١٢٠٦ هـ)، العقيدة والآداب الإسلامية ٨١ • إسناده صحيح

📚عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ
بدفالی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے، اور ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے (بتقاضائے بشریت)ایسا وہم نہ ہوتا ہو مگر اللہ رب العزت توکل کی وجہ سے اس کو ہم سے رفع فرمادیتا ہے۔”
(سنن ابی داود، الکھانۃ والطیرۃ، باب فی التطیر، حدیث نمبر_:3910)
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر-3538)
وضاحت :
یعنی اللہ کے اوپر بھروسہ کرنے سے یہ وہم جاتا رہے گا، انسان کو چاہیے کہ اگر ایسا وہم کبھی دل میں آئے، تو اس کو بیان نہ کرے، اور منہ سے نہ نکالے، اور اللہ پر بھروسہ کرے، جو وہ چاہے وہ ہوگا، امام بخاری نے کہا : سلیمان بن حرب کہتے تھے کہ میرے نزدیک یہ قول : ومامنا ۔۔۔ اخیر تک ابن مسعود (رض) کا قول ہے، بلکہ اکثر حفاظ نے اس کو عبد اللہ بن مسعود (رض) کا کلام کہا ہے۔

📚عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
بدفالی شرک ہے۔
(ابن مسعود کہتے ہیں) ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جس کے دل میں اس کا وہم و خیال نہ پیدا ہو، لیکن اللہ تعالیٰ اس وہم و خیال کو توکل کی وجہ سے زائل کردیتا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے،
(جامع ترمذی، کتاب: جہاد کا بیان/ باب: طیرہ کے بارے میں۔حدیث نمبر: 1614)
قال الشیخ الألبانی صحیح
یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ «طیرہ»(بدفالی) نفع یا نقصان پہنچانے میں موثر ہے، تو یہ اعتقاد شرک ہے ، اور اس عقیدے کے ساتھ اس پر عمل کرنا اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ، اس لیے اس طرح کا خیال آنے پر «لا إله إلا الله» پڑھنا بہتر ہوگا ، کیونکہ جسے بھی بدشگونی کا خیال آئے تو اسے پڑھنے اور اللہ پر توکل کرنے کی وجہ سے اللہ یہ خیال اس سے دور فرما دے گا،

📚عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ مِنْ حَاجَةٍ فَقَدْ أَشْرَكَ “. قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : ” أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمُ : اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ، وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ ،
“جو شخض اپنے کسی کام سے بدفالی(،بدشگونی) کی بنا پر رکا اس نے شرک کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا اس کا کفارہ کیا ہے ؟
آپ نے فرمایا:اس کا کفارہ یہ دعا ہے:
(اَللَّهُمَّ لاَخَيْرَ إِلاَّ خَيْرُكَ، وَلاَطَيْرَ إِلاَّ طَيْرُكَ، وَلاَ إِلهَ غَيْرُكَ)
“یا اللہ ! تیری بھلائی کے علاوہ کوئی بھلائی نہیں۔ اور تیرے شگون کے علاوہ کوئی شگون نہیں ۔ اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں”
(مسند احمد حدیث نمبر-7045)
حکم الحدیث حسن:
(الألباني إصلاح المساجد ١١٧ • صحيح)
(شعيب الأرنؤوط تخريج المسند ٧٠٤٥ )
( أحمد شاكرمسند أحمد ١٢/١٠ •إسناده صحيح)
(والطبراني-١٤/٣٥/١٤٦٢٢)

*اوپر ذکر کردہ تمام احادیث میں بدشگونی لینے سے منع فرمایا گیا ہے کہ توکل اور بھروسہ ہمیشہ اللہ پر رکھو اور کسی بری خبر وغیرہ پر بھی اچھا گمان رکھو اللہ سے کہ جو اللہ پاک کریں’گے وہ ان شاءاللہ بہتر ہی ہو گا،اور کوئی شخص کسی چیز سے بھی بد شگونی نا لے، کیونکہ یہ شرک ہے*

*بدشگونی کا ڈر ہو تو یہ دعا پڑھے*

اور اگر کبھی اسکے دل میں بدشگونی پیدا ہونے کاخدشہ ہو تو اوپر ذکر کردہ حدیث میں دعا پڑھ لے کہ
اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ)“
یا اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائیاں لا سکتا ہے نہ کوئی برائیوں کو دور کرسکتاہے۔ اور تیری توفیق کے بغیر ہم میں بھلائی کی طاقت ہے نہ برائی سے بچنے کی ہمت،

*بدشگونی کا کفارہ*

اور اگر کوئی شخص لاعلمی میں بدشگونی پر یقین کر بیٹھے تو اللہ سے توبہ کرے اور کفارے میں یہ دعا پڑھے کہ

اَللَّهُمَّ لاَخَيْرَ إِلاَّ خَيْرُكَ، وَلاَطَيْرَ إِلاَّ طَيْرُكَ، وَلاَ إِلهَ غَيْرُكَ
“یا اللہ ! تیری بھلائی کے علاوہ کوئی بھلائی نہیں۔ اور تیرے شگون کے علاوہ کوئی شگون نہیں ۔ اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں”

____________&___________
____________&___________

*کیا عورت گھر اور گھوڑا منحوس ہوتے ہیں؟*

🚫بعض منکرین حدیث کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ
”حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزیں منحوس ہیں گھوڑا، عورت اور مکان” … اس ارشاد کا مقصد تو یہی ہوسکتا ہے کہ لوگ ان منحوس چیزوں سے بچیں، لیکن لوگ کیسے بچ سکتے ہیں، جب خود حضور نے ایک گھوڑا، گیارہ بیویاں اور نومکانات اپنے قبضے میں رکھے تھے، اگر کوئی ہم سے پوچھ بیٹھے، کہ کیا یہ قول اسی رسول کا ہے… جس نے فرمایا تھا کہ ”نکاح میری سنت ہے” … تو ہم کیا جواب دیں گے۔۔۔”کیا جن عورتوں نے لاکھوں انبیاء و اولیاء پیدا کیے جن کی گود میں لقمان و افلاطون کھیلے… وہ منحوس ہیں، اور ہم مسعود؟”
(دو اسلام ص: ۳۱۴)

🚫اسی طرح بعض عیسائی مشنریز اور ملحدین بھی یہ ثابت کرنے کے لئے کہ اسلام عورت کو حقیر سمجھتا ہے اور اسے منحوس یا اس کے مترادف کوئی شے گردانتا ہے، مخصوص روایات کا حوالہ دیتے ہیں ۔ترجمہ :حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی ؐ نے ارشاد فرمایا نحوست عورت ،گھر اور گھوڑے میں ہے
(بخاری حدیث 5772)
ایسی ہی (روایت )چند دیگر صحابہ سے بھی مروی ہے جن میں حدیث سیدنا ابو ہریرہ(7710) معجم اوسط طبرانی بھی شامل ہے

*ان روایات کی حقیقت اور صحیح معنی و مفہوم*

منکرین حدیث ذخیرہ حدیث میں سے کسی مجمل حدیث کو اٹھاتے ہیں پھر عوام کےحدیث کے خلاف جذبات کو بھڑکانے کے لیے اپنی مرضی کے نتائج نکالنا شروع کردیتے ہیں ۔اس اعتراض میں بھی معترض نے اک مخصوص روایت کی بنیاد پر مبالغہ آرائی و رنگینی سے کام لیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان برگزیدہ اصحاب نے آپؐ کے ارشاد کا ایک حصہ سنا تھا انکی یہ غلط فہمی بعد میں باقی صحابہ کے ذریعے دور ہوگئی اسکا تذکرہ بھی حدیث میں موجود ہے،
جس طرح ایک آیت کی تشریح دوسری آیت کر دیتی ہے، یہی حال حدیث کا ہے، ایک حدیث کی تشریح دوسری جگہ موجود ہوتی ہے، اگر کہیں مجمل حدیث ہو، تو غلط فہمی کا امکان تو ضرور ہے لیکن اس کا ازالہ دوسری احادیث سے ہوسکتا ہے جو آگے پیچھے موجود ہوتی ہیں، مگر اس کے لیے تحقیق کی ضرورت ہوتی ہے،

*پہلی بات یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ عورت گھر اور گھوڑے میں نحوست ہوتی ہے، اس روایت کے متعلق جواب حدیث میں ہی موجود ہے*

ملاحظہ فرمائیں:

📚 [عن عائشة أم المؤمنين:]
قيل: لعائشةَ إنَّ أبا هريرةَ يقول قال رسولُ اللهِ ﷺ: الشُّؤمُ في ثلاثٍ في الدّارِ والمرأةِ والفرسِ فقالت عائشةُ: لم يحفظْ أبو هريرةَ لأنه دخل ورسولُ اللهِ ﷺ يقول: قاتَل اللهُ اليهودَ يقولون: إنَّ الشَّؤمَ في الدّارِ والمرأةِ والفرسِ فسمع آخرَ الحديثِ ولم يسمع أولَه،
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ روائت ذکر کی گئی کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: نحوست تین چیزوں میں ہے گھر ،عورت اور گھوڑے میں۔۔۔ ،
حضرت عائشہؓ نے فرمایا ابوہریرہ کے آنے سے قبل آپؐ نے ارشاد فرمایا تھا : اللہ یہودیوں کو ان کے اس قول پر غارت کرے کہ(وہ کہتے ہیں) نحوست تین چیزوں میں ہے عورت ،گھر اور گھوڑا ۔ اس طرح انھوں نے آپؐ کے ارشاد کا آخری حصہ سنا اور پہلا نہ سنا۔
(مسند ابو داؤد طیالسی 3ج/124 حدیث-1630)
(مسند الشاميين للطبراني 4/ 342)

البتہ اس روایت کی سند میں انقطاع ہے کہ عائشہ رض کا امام مکحول سے سماع ثابت نہیں، مگر علامہ البانی رحمہ اللہ دوسری روایات کی متابعت کی وجہ سے اس کو سلسلہ صحیحہ میں حسن کے درجہ میں رکھتے ہیں،
(الألباني السلسلة الصحيحة ٢ج/٦٩٠ )/ إسناده حسن،

مسند احمد کی ایک حدیث سے بھی اس روایت کی متابعت ہوتی ہے،

📚 أَنَّ رَجُلَيْنِ دَخَلَا عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَا : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : ” إِنَّمَا الطِّيَرَةُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالدَّارِ “. قَالَ : فَطَارَتْ شِقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ، وَشِقَّةٌ فِي الْأَرْضِ. فَقَالَتْ : وَالَّذِي أَنْزَلَ الْقُرْآنَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ مَا هَكَذَا كَانَ يَقُولُ، وَلَكِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : ” كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ : الطِّيَرَةُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ “. ثُمَّ قَرَأَتْ عَائِشَةُ : { مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ } إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس دو شخص آئے اور انہوں نے بیان کیا کہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ نحوست تین چیزوں میں ہوتی ہے، عورت ,سواری(گھوڑے) اور گھر میں،
(یہ سن کر وہ) کبھی آسمان کی طرف دیکھتیں اور کبھی زمین کی طرف، ( یعنی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بہت غصہ ہوئیں)اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس نے ابو القاسم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قرآن نازل کیا ہے آپ اس طرح نہیں فرماتے تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو یہ فرمایا کرتے تھے کہ( اہل جاہلیت یہ کہتے تھے کہ نحوست عورت،گھر اور گھوڑے میں ہے)
پھر عائشہ صدیقہ رض نے یہ آئیت تلاوت کی،
مَاۤ اَصَابَ مِنۡ مُّصِيۡبَةٍ فِى الۡاَرۡضِ وَلَا فِىۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ نَّبۡـرَاَهَا ؕ اِنَّ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرٌۚ ۞(سورہ الحدید-22)
کوئی مصیبت نہ زمین پر پہنچتی ہے اور نہ تمہاری جانوں پر مگر وہ ایک کتاب میں ہے، اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں۔ یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔

(مسند احمد- حدیث نمبر-26088)
(وإسحاق بن راهويه في«مسنده»1365)
(والطبراني في مسند الشاميين2702)
(والطبري في«مسند علي37)
(والطحاوي في«شرح مشكل الآثار786)

حكم الحديث:
إسناده صحيح على شرط مسلم،

(شعيب الأرنؤوط نے تخريج المسند26034 میں اسکو إسناده صحيح على شرط مسلم کہا ہے)
(علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو سلسلہ الصحیحہ میں درج کیا ہے)
(علامہ الهيثمي (٨٠٧ هـ)، مجمع الزوائد ٥/١٠٧ • رجاله رجال الصحيح )
( علامہ العيني (٨٥٥ هـ)، نخب الافكار ١٤/١١٩ • إسناده صحيح)
(شعيب الأرنؤوط تخريج مشكل الآثار ٧٨٦ • • إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير أبي حسان الأعرج فمن رجال مسلم)

*ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ یہی آخری حصہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی ایک روایت میں مروی ہے*

📚عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الشُّؤْمُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالْفَرَسِ .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نحوست عورت، گھر اور گھوڑے میں ہے،
(صحیح بخاری حدیث نمبر-5093)
(صحیح مسلم حدیث نمبر-2225)

لیکن دوسری جگہ ابن عمر رضی اللہ عنھما کی زبان سے ہی اسکی تصحیح و تشریح بھی موجود ہے،

📚عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : ذَكَرُوا الشُّؤْمَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ ، فَفِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نحوست کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو گھر، عورت اور گھوڑے میں ہوتی،
(صحیح بخاری حدیث نمبر-5094)
(صحیح مسلم حدیث نمبر-2225)

اسی طرح یہ روایت انہی الفاظ کے ساتھ اور بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے،

📚[عن جابر بن عبدالله و عبدالله بن عمر:]
إنْ كان الشُّؤْمُ في شيءٍ ففِي الدّارِ، والمرأةِ، والفَرَسِ
(الألباني (١٤٢٠ هـ)، صحيح الجامع ١٤٢٧ • صحيح •)

📚 [عن عبدالله بن السائب:]
إن كان الشُّؤمُ في شيءٍ ففي المرأةِ والفرسِ والمسكنِ
الألباني (١٤٢٠ هـ)، صحيح الأدب المفرد ٧٠٤ • صحيح

📚 [عن حمزة بن عبدالله عن أبيه:] إنْ كان الشُّؤْمُ في شيءٍ ففي ثلاثةٍ: في الفَرَسِ، والمَسْكَنِ، والمرأةِ.
(شعيب الأرنؤوط (١٤٣٨ هـ)، تخريج مشكل الآثار ٧٧٩ •) إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين، غير يزيد بن سنان، فمن رجال النسائي وهو ثقة

📚[عن سهل بن سعد:] إنْ كان الشُّؤْمُ في شيءٍ ففي ثلاثةٍ: في المرأةِ، والفَرَسِ، والدّارِ.
(شعيب الأرنؤوط (١٤٣٨ هـ)، تخريج مشكل الآثار ٧٨٠ • إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير يونس وهو ابن الأعلى الصدفي فمن رجال مسلم)،

ان تمام روایات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جو روایت آ رہی ہیں وہ (أن کان الشؤم) ۔۔کے الفاظ سے آ رہی ہیں، یعنی ان الفاظ کے ساتھ تمام صحابہ بیان کر رہے جن کا معنی یہ یے کہ “اگر نحوست ہوتی تو ان تین چیزوں میں ہوتی”۔۔۔۔! جبکہ “اگر”کے لفظ کے بغیر صرف چند ایک صحابہ سے وہ روایت آئی ہے،

*اور پھر ائمہ کرام سے بھی اسکی وضاحت موجود ہے،*

📚قال ابن قتيبة قي “تأويل مختلف الحديث” (ص170) :” وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:( الشُّؤْمُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ ) ، فَإِنَّ هَذَا حَدِيثٌ يُتَوَهَّمُ فِيهِ الْغَلَطُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَنَّهُ سَمِعَ فِيهِ شَيْئًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعِهِ ” انتهى
ابن قتیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رہی وہ حدیث جس کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ بےشک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نحوست گھر ،عورت اور سواری میں ہے، تو بے شک یہ ایسی حدیث ہے جس میں ابو ھریرہ رض پر غلطی کرنے کا گمان کیا گیا ہے کہ بے شک انہوں نے اس حدیث میں ایسی چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی کہ وہ اسکو صحیح سے یاد نہیں رکھ سکے،

📚قال الشيخ الألباني في “السلسلة الصحيحة” (1/408) :” والحديث يعطي بمفهومه أن لا شؤم في شيء ، لأن معناه: لو كان الشؤم ثابتا في شيء ما ، لكان في هذه الثلاثة ، لكنه ليس ثابتا في شيء أصلا.
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں،
حدیث کے مفہوم سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نحوست کسی بھی چیز میں نہیں ہے، کیونکہ بے شک اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ اگر نحوست کسی بھی چیز میں موجود ہوتی تو وہ ان تینوں میں ہوتی لیکن اصل میں یہ نحوست کسی بھی چیز میں نہیں ہے،

📚وقال الطبري في “تهذيب الآثار” (3/34) :” وأما قوله صلى الله عليه وسلم:( إن كان الشؤم في شيء ففي الدار والمرأة والفرس ) : فإنه لم يثبت بذلك صحة الطيرة ، بل إنما أخبر صلى الله عليه وسلم : أن ذلك ، إن كان في شيء ؛ ففي هذه الثلاث .
امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہوتی تو وہ گھر اور عورت اور گھوڑے میں ہوتی، پس حقیقت یہ ہے کہ ان الفاظ کے ساتھ نحوست کا صحیح ہونا ثابت نہیں ہوتا، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان الفاظ کے ساتھ صرف خبر دی ہے کہ اگر نحوست ہوتی تو ان تین چیزوں میں ہوتی،

لہذا اوپر ذکر کردہ تمام احادیث، اور آئمہ کرام کی وضاحت سے یہ واضح ہوا کہ آپؐ نے عورت کو منحوس قرار نہیں دیا تھا بلکہ آپؐ نے تو یہودیوں کے اس خیال پر تنقید کی اور اسے غلط کہا اور یہ فرمایا کہ نحوست کوئی چیز نہیں ہے اگر ہوتی تو ان تین چیزوں میں ہوتی، اور چند ایک صحابہ تھے جنہوں نے آپؐ کے ارشاد کا ایک حصہ سنا یا مکمل سنا تو ٹھیک سے یاد نا رکھ سکے جس سے صحابہ کے دور میں ہی اشکالات پیدا ہوئے اور ام المومنین سیدنا عائشہؓ نے انہیں دور کر دیا اور پھر باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت سے بھی اصل الفاظ ثابت ہیں،

*اور پھر اسکے برعکس صحیح اور واضح حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کے بارے یہ رائے بیان فرمائی کہ*

📚مخمر بن معاویہ (رض) کہتے ہیں،
سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا شُؤْمَ وَقَدْ يَكُونُ الْيُمْنُ فِي ثَلَاثَةٍ فِي الْمَرْأَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: نحوست کوئی چیز نہیں،
تین چیزوں میں برکت ہوتی ہے: عورت، گھوڑا اور گھر میں ۔
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر-1993)
علامہ البانی اس کو صحیح قرار دیتے ہیں،
(الألباني صحيح ابن ماجه 1633)
( صحيح الألباني (١٤٢٠ هـ)، السلسلة الصحيحة ٢/٦٩٢ • صحيح الإسناد)

سبحان اللہ!!

*اس حدیث مبارکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نا صرف یہودیوں کی بات کا رد کیا ہے کہ نحوست کی کوئی حقیقت نہیں، بلکہ انکے عقائد کے خلاف یہ بات واضح فرما دی کہ تم جن تین چیزوں میں نحوست سمجھتے ہو اسلام کے مطابق تو ان تین چیزوں میں برکت ہے،حالانکہ برکت تو اور بھی کئی چیزوں میں ہوتی ہے مگر خاص ان تین چیزوں کا نام لینے کا مقصد غالباً ان یہودیوں کے عقیدے کی مخالفت کرنا ہی تھا*

_________&_______

*دوسری بات کہ اگر بالفرض ہم یہ مان لیں کہ اوپر ذکر کردہ عائشہ صدیقہ رض والی روایات کمزور ہیں اور ابو ہریرہ و ابن عمر رض والی روایات زیادہ قوی ہیں تو پھر بھی عورت ،گھر اور گھوڑے کے منحوس ہونے والی تمام احادیث کو ملا کر انکا مطلب یہی نکلتا ہے کہ نحوست کسی چیز میں ہوتی ہی نہیں ہے۔ اور اگر نحوست کا کوئی وجود ہوتا تو یہ گھوڑے ، عورت اور گھر میں‌ہوتی*

یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہ یہ حدیث کہ:

📚اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جعفر طیار رضی الله عنہ کے لڑکوں کو بہت جلد نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے جھاڑ پھونک(یعنی دم وغیرہ) کراؤں؟
فقال: نعم، فإنَّهُ لو كانَ شيءٌ سابقَ القدرِ لسبقتْهُ العينُ
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اس لیے کہ اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کر سکتی تو اس پر نظر بد ضرور سبقت کرتی
(سنن ترمذی حدیث نمبر-2059)
حکم الحدیث: حسن صحیح
علامہ الألبانی نے اسے صحیح کہا ہے،

اس کا مطلب یہ ہے کہ تقدیر پر سبقت لانے والی کسی چیز کا حقیقی وجود ہے ہی نہیں، ہاں اگر کوئی ایسی چیز ہوتی تو وہ نظر بد ہوتی کیونکہ نظر بد بہت خطرناک چیز ہے،

*تیسری بات یہ کہ اس مقصد کے لئے گھوڑے، عورت اور گھر ہی کا انتخاب کیوں کیا گیا؟ ان تینوں‌میں ایسی کیا مشترک بات ہے؟*

تو وہ یہ ہے کہ عموماً انسان کو سواری، عورت (بمعنی بیوی ) اور گھر (بمعنی گھر یا مال و دولت) سے محبت ہوتی ہے۔ یہ چیزیں اس دنیا میں انسان کی آزمائش کا سبب ہیں۔ نحوست کی نسبت ان کی جانب کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ یہ چیزیں اپنی ذات میں ہی منحوس ہیں، کیونکہ یہ تو حدیث سے ثابت ہے کہ نحوست ہوتی ہی نہیں،

📚 بلکہ صحیح بخاری ہی کی اوپر ذکر کردہ حدیث کے الفاظ ہیں:
لاطیرۃ: کوئی نحوست اور بدشگونی نہیں [صحیح بخاری : 5754)

لہٰذا یہاں نحوست سے مراد ان چیزوں کا انسان کے لئے فتنہ ہونا ہے۔ اور اس بات میں کس کو اختلاف ہو سکتا ہے کہ عورت فتنہ ہے، سواری یا گھر (مال و دولت) فتنہ ہیں؟ اور ان کے فتنہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ یہ دل لبھانے والی، زیب و زینت اور آرائش سے بھرپور چیزیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں انسانوں کے لئے خوب کشش رکھی ہے۔ اور یہی کشش ان کے فتنہ ہونے کا باعث ہے۔

جیسے گھر میں نحوست کا یہ مطلب نہیں کہ گھر بذات خود منحوس ہے، لہٰذا گھروں میں رہنے کی بجائے سنیاس لے لیا جائے اور کٹیاؤں، یا جنگلوں اور غاروں میں جا کر رہیں، بلکہ گھر میں نحوست کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو گھر کی خواہش ہوتی ہے۔جو دل میں فخر و غرور اور احساس برتری یا شرمندگی اور احساس کمتری پیدا کرتی ہے۔ اور یہی خواہش اسے بالآخر حرام کام کرنے پر بھی مجبور کرتی ہے، یا فرائض میں کوتاہی کا سبب بنتی ہے ۔ لہٰذا بالآخر گھر، سواری یا مال و دولت لوگوں کے لئے آزمائش اور فتنہ کا باعث بنتی ہیں، دنیا میں مگن رہنے اور آخرت کو بھول جانے کا باعث بنتی ہے اور گھر کی جانب نحوست کی نسبت کا یہی درست معنی ہے کہ گھر بذات خود دنیاوی آرام و آسائش کی چیز ہے، اور اسی وجہ سے لوگوں کے فتنہ کا سبب ہے۔

بعینہ اسی طرح عورت میں نحوست کا یہ مطلب نہیں کہ عورت کی ذات ہی منحوس ہے، لہٰذا شادیاں ہی نہ کرو اور بیٹی کی پیدائش پر غم مناؤ کہ منحوس شے پیدا ہو گئی ہے۔ ماں کے قدموں تلے جنت کو بھول کر اسے بھی منحوس گردانو۔ ایسے مطلب اخذ کرنے والے خود الٹی کھوپڑی کے لوگ ہیں۔ جو ہر سیدھی چیز کو بھی بغض و عناد کے سیاہ آئینے میں الٹا دیکھنے کے عادی ہیں۔ یہاں بھی نحوست کی نسبت فنتے ہی کے معنوں میں ہے اور یہی درست معنیٰ ہے کہ عورت بذات خود چونکہ آرائش کا سامان ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے کشش رکھی ہے، زیب و زینت کی شے بنایا ہے۔ لہٰذا اس کی وجہ سے انسان فتنہ میں مبتلا ہوتا ہے،
_________&_____

📚شیخ صالح المصلح حفظہ اللہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ:

اہلِ علم کے ان احادیث کے بارے میں کئی اقوال ہیں: لہٰذا اہلِ علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں واقعی کسی چیز میں نحوست کے موجود ہونے کے بارے میں نہیں بتایا گیا بلکہ یہ تو محض ایک خبردی ہے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ نے کسی چیز میں نحوست پیدا کی ہوتی تو ان تین چیزوں میں نحوست ہوتی اس اعتبار سے ان تین چیزوں میں نحوست کا اثبات نہیں ہے۔

اور بعض کا یہ کہنا ہے کہ ان تین چیزوں کی طرف نحوست کی اضافت کرنا مجازی طور پر ہے اور اس کا مطلب ہے کہ نحوست اصل میں ان چیزوں سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی اس کے قریب قریب ہوتی ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ گھر میں نحوست سے مراد بدترین پڑوسی ہے، اور عورت میں نحوست سے مراد اس کا بانجھ ہونا ہے اور گھوڑے میں نحوست سے مراد اس پر جہاد نہ کرنا ہے۔
اور بعض کا یہ کہنا ہے کہ یہ اس حدیث میں سے ہے جس میں نحوست کی نفی ہے جیسا کہ پیچھے مذکورہ ابن عمر اور ابو ہریرہؓ کی روایات میں امام بخاریؒ نے (۵۷۵۵) میں اور امام مسلمؒ نے (۲۲۲۳) میں امام زہری کے طریق سے عبداللہ بن عبد البر بن عتبہ سے روایت کی ہے کہ آپﷺنے ارشاد فرمایا: برے شگون کی کوئی حقیقت نہیں اور اس میں بہتر فال نیک ہے۔
اور بعض نے کہا ہے کہ ان چیزوں میں شگون لینے کی نحوست اسی شخص پر پڑے گی جو اس کو منحوس جانے گا اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں کرے گا اور جو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے گا اور صدقِ دل سے اس کی طرف مائل ہوگا تو پھر یہ اسے کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا۔
اور بعض کا یہ کہنا ہے کہ نحوست میں سے مثبت کی نفی نہیں ہے بلکہ نفی تو اس نحوست کی ہے جو خود اس کی ذات میں موجود ہے، باقی مثبت چیز کی بات ہے تو وہ بھی کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوتا ہے تو اپنے مالک کے لئے نحوست کا سبب بن کر اس کی طرف نقصان لے کر آتی ہے یہی آخری معنی ہے جو امام مالکؒ کا قول ظاہر ہے۔
اہلِ علم نے اس میں بہت طویل بحث کی ہے لیکن سب سے وسیع وہی قول مجھے نظر آیا ہے جس کو ابن القیمؒ نے مفتاحُ دارالسعادۃ میں (۲۵۴) ذکر کیا ہے، اور حافظ بن حجرؒ نے فتح الباری میں (۶/۶۰-۶۳) ذکر کیا ہے اور ابن عبد البرؒ نے تمھید میں (۲۷۸/۹) ذکر کیا ہے اور ان سب نے جو بھی ذکر کیا ہے ان کا جواب پیچھے ہمارے مذکورہ و منقولہ جواب میں موجود ہے۔
باقی ان سارے جوابات میں سب سے زیادہ أقرب الی الصواب جواب مجھے یہ لگتا ہے کہ شگون لینے کی نفی کے بارے میں عدم منافاۃ کی جو خبر دی گئی ہے اور عورت، گھوڑے اور گھر کی طرف جس نحوست کی اضافت کی گئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان تین چیزوں میں نحوست اور کمی و نقصان اللہ تعالیٰ کے فیصلہ و منشأ کے مطابق ہوتا ہے نہ کہ ان چیزوں کی وجہ سے اس لئے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مرضی و منشأ کے مطابق ہوتی ہے اس لئے یہ وہم درست نہیں ہے کہ نحوست کا منبع و سبب یہی چیزیں ہیں جب اس سے کوئی ناگوار امر واقع ہو جائے۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے

(https://almosleh.com/ur/44750)
________&_______

اس سب کا خلاصہ یہ ہے کہ::

حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ ان تین چیزوں میں نحوست ہوتی تو اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ نحوست سے کیا مراد ہے؟

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ گھر کی نحوست سے گھر کی تنگی اور بری ہمسائیگی مراد ہے یعنی جو گھر تنگ و تاریک ہو اور اس کا پڑوس برا ہو تو وہ گھر تکلیف و پریشانی کا باعث ہوجاتا ہے عورت کی نحوست سے مہر کی زیادتی اور اس کی بدمزاجی و زبان درازی اور بانجھ پن مراد ہے یعنی جس عورت کا مہر زیادہ مقرر کیا گیا ہو وہ بد مزاجی وتند خو زبان دراز ہو اور یہ کہ بانجھ ہو تو ایسی عورت راحت و سکون کی بجائے اذیت وکوفت کا ذریعہ بن جاتی ہے اسی طرح گھوڑے کی نحوست سے اس کا شوخ ہونا مٹھا قدم ہونا اور اس پر وار ہو کر جہاد نہ کیا جانا مراد ہے، یعنی جو گھوڑا ایسا ہو کہ اپنی خوشی کی وجہ سے پریشان کرتا ہو، سست رفتار ہوا اور مٹھا ہو اور اس پر سوار ہو کر جہاد کرنے کی بھی نوبت نہ آئی ہو تو وہ گھوڑا اپنے مالک کے لئے کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔

📚جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،
عن سعد بن أبي وقاص ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
( أَرْبَعٌ مِنَ السَّعَادَةِ: الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ ، وَالْمَسْكَنُ الْوَاسِعُ ، وَالْجَارُ الصَّالِحُ ، وَالْمَرْكَبُ الْهَنِيءُ ، وَأَرْبَعٌ مِنَ الشَّقَاوَةِ: الْجَارُ السُّوءُ ، وَالْمَرْأَةُ السُّوءُ ، وَالْمَسْكَنُ الضِّيقُ ، وَالْمَرْكَبُ السُّوءُ )
سعد بن ابی وقاص‌ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار چیزیں خوش بختی سے ہیں۔ نیک بیوی، کشادہ گھر، نیک پڑوسی، اور اچھی سواری۔ اور چار چیزیں بد بختی سے ہیں: برا پڑوسی، بری بیوی، بری سواری، اور تنگ مکان،
(ابن حبان في “صحيحه” 4032)
(والحديث صححه الشيخ الألباني في “السلسلة الصحيحة”282)

کچھ علماء یہ کہتے ہیں کہ ان تین چیزوں میں نحوست کے اظہار کرنے کا مقصد دراصل یہ بتانا ہے کہ اگر بالفرض کسی چیز میں نحوس کا ہونا اپنی کوئی حقیقت رکھتا تو ان تین چیزوں میں نحوست ہوتی گویا اس تشریح سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ کسی چیز میں نحوست کا ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا چناچہ یہ کہنا کہ فلاں چیز منحوس ہے یا فلاں چیز میں نحوست ہے صرف ایک واہمہ کے درجہ کی چیز ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اگر واقعۃً نحوست کسی چیز میں ہوا کرتی تو ان تین چیزوں میں ضرور ہوتی کیونکہ یہ تین چیزیں نحوست کے قابل ہوسکتی تھی۔ چناچہ یہ ارشاد ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک روایت میں فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی چیز تقدیر کے دائرہ سے باہر ہوتی تو وہ نظربد تھی یعنی کائنات کی ہر جنبش و حرکت اور یہاں کا ذرہ ذرہ پابند تقدیر ہے اس عالم میں صرف وہی ظہور میں آتا ہے جو پہلے سے مقدر ہوچکا ہو کوئی چیز تقدیر سے باہر نہیں ہے اور اگر بفرض محال کوئی چیز مقدرات کے دائرہ سے باہر ہوتی تو وہ نظربد ہے ( کہ جسے عام طور پر نظر لگنا کہتے ہیں) لہذا جس طرح اس ارشاد کا مقصد یہ ظاہر کرنا نہیں ہے کہ نظربد تقدیر کے دائرہ کار سے باہر ہے اسی طرح مذکورہ بالا تینوں چیزوں کے ساتھ نحوس کا ذکر کرنے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ان تین چیزوں میں نحوست ہوتی ہے۔

اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ اس ارشاد گرامی کے ذریعہ دراصل امت کے لوگوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اگر کسی کے پاس ایسا مکان ہو جس میں رہنا وہ ناپسند کرتا ہو یا کسی کی ایسی بیوی ہو جس کے ساتھ صحبت و مباشرت اسے ناگوار ہو یا کسی کے پاس ایسا گھوڑا ہو جو اسے اچھا معلوم نہ ہوتا ہو تو ان صورتوں میں یہ چیزیں چھوڑ دینی چاہئیں یعنی مکان والا اس مکان سے منتقل ہوجائے بیوی والا اس کو طلاق دیدے اور گھوڑے والا اس گھوڑے کو بیچ دے_!

*حدیث کی ان توضیحات کی روشنی میں یہ بات صاف ہوگئی کہ یہ ارشاد گرامی بد شگونی لینے کی ممانعت کے منافی نہیں ہے اور نا ہی اسکا یہ مطلب ہے کہ عورت گھر یا گھوڑا بذات خود منحوس ہوتے ہیں، بلکہ پہلی بات کہ عائشہ صدیقہ رض کی حدیث کے مطابق یہ یہودیوں کا عقیدہ تھا کہ عورت گھر اور گھوڑا منحوس ہوتے ہیں جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رد کیا کہ نحوست کی کوئی حقیقت نہیں اور انکی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا کہ برکت ان تین چیزوں میں ہوتی ہے، گھر گھوڑا اور عورت، اور دوسری بات کہ اگر ان احادیث کا یہ مطلب ہی سمجھا جائے کہ یہ تین چیزیں منحوس ہو سکتی ہیں تو بھی انکی نحوست انکی ذات میں نہیں ہے بلکہ کسی سبب کی وجہ سے انکو نحوست کے معنی میں لیا گیا ہے کہ عموماً انسان کو انہی تین چیزوں سے زیادہ پیار ہوتا ہے یہی تین چیزیں انسان کے لیے زیادہ فتنہ بھی بنتی ہیں اور یہی تین چیزیں ہیں جن سے انسان کو تکلیف بھی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ ان کے ساتھ انسان کا زیادہ وقت گزرتا ہے، اور یہ نحوست بمعنی تکلیف ان تین چیزوں میں تب شامل ہوتی ہے جب یہ تین چیزیں انسان کو آرام پہنچانے کی بجائے تکلیف کا باعث بنیں،وگرنہ بذات خود نا ہی ان تین چیزوں میں کوئی نحوست ہے اور نا ہی انکے علاوہ کسی اور چیز میں نحوست پائی جاتی ہے،اور عام طور پر لوگ جو یہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ مکان منحوس ہے یا فلاں عورت یا فلاں گھوڑا یا فلاں دن یا فلاں مہینہ یا فلاں جگہ وغیرہ۔۔۔تو یہ بات کسی حدیث سے ثابت نہیں اور نا ہی ایسا عقیدہ رکھنا شرعی طور پر جائز ہے*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں