615

سوال_ پینٹ یا آستینیں وغیرہ فولڈ کر کے نماز پڑھنا جائز ہے؟ اور کیا ایسے شخص کی نماز ہو جائے گی؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-52″
سوال_ پینٹ یا آستینیں وغیرہ فولڈ کر کے نماز پڑھنا جائز ہے؟ اور کیا ایسے شخص کی نماز ہو جائے گی؟

Published Date: 30-4-2018

جواب.!!
الحمدللہ.!!!

*دوران نماز کپڑے اور بال سمیٹنے سے اجنتاب کرنا چاہیے،*

📚 صحیح بخاری
کتاب: اذان کا بیان
باب: باب: اس بیان میں کہ نماز میں کپڑا نہ سمیٹنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 816
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرٍو ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ طَاوُسٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ لَا أَكُفُّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا.
ترجمہ:
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح نے، عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے ابن عباس سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہ  آپ  ﷺ  نے فرمایا مجھے سات ہڈیوں پر اس طرح سجدہ کا حکم ہوا ہے کہ نہ بال سمیٹوں اور نہ کپڑے۔

یہ حکم حالت نماز کے متعلق ہے یا نماز سے پہلے آستین چڑھا کر نماز میں داخل ہونے کے متعلق ۔؟

📙حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”حدیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ممانعت نماز کے اندر کی ہے۔
داؤدی کا میلان بھی اسی طرف ہے۔
تھوڑا آگے جا کر امام بخاری رحمہ اللہ نے ‘بَابُ لَا یَکُفُّ ثَوْبَہ، فِي الصَّلَاۃِ’ ”نماز میں کپڑا نہ سمیٹنے کا بیان ہے۔”قائم کیا ہے۔ اس سے ہمارے موقف کی تائید ہوتی ہے۔”
(فتح الباري : ج2، ص296)

📚امام نسائی رحمہ اللہ، نے اپنی نسائی میں اس حدیث نمبر ٬1115
پر یوں باب باندھا کہ
بَابُ التَّطْبِيقِ  | النَّهْيُ عَنْ كَفِّ الثِّيَابِ فِي السُّجُودِ
” سجدوں میں کپڑا نا سمیٹنے کا بیان”

📚امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ذکر کرنے کیلئے (حدیث نمبر 1040) کی تبویب اس طرح سے کی کہ،
كِتَابٌ : إِقَامَةُ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا.  | بَابٌ : كَفُّ الشَّعَرِ وَالثَّوْبِ فِي الصَّلَاةِ.
“نماز میں بال اور کپڑے سمیٹنے کا بیان”

اس سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ 

📚امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے:
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ کَفِّ الثَّیَابِ فِي الصَّلَاۃِ .
”نماز کے اندر کپڑے سمیٹنے پر ڈانٹ کا بیان ۔”
(صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر_782)

📚حافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”علماء اس بات پر متفق ہیں کہ نماز کے اندر کپڑا یا آستینیں چڑھانا ممنوع ہے۔”
(شرح صحیح مسلم : ج1/ص193)
نیز لکھتے ہیں:
”آستین چڑھا کر نماز پڑھنے کے بارے میں نہی،  نہی تنزیہی ہے۔ (یعنی ناقابل مؤاخذہ خطا ہے۔)
اگر کوئی اس حال میں نماز پڑھ لے، تو یہ اچھا اقدام نہ ہو گا، لیکن اس کی نماز درست اور صحیح ہے۔ امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے علما کے اجماع کو اس مسئلہ میں دلیل بنایا ہے۔ 
(شرح صحیح مسلم : ج1/ص193)

📙امام ابن المنذر رحمہ اللہ نے بھی دعویٰ اجماع کیا ہے کہ ایسے نمازی پر نماز لوٹانے کا حکم نہیں ۔
(الأوسط لابن المنذر : ج3/ ص184)

*ہمارے علم کے مطابق راجح موقف یہ ہے کہ یہ ممانعت عام نہیں ہے،بلکہ اس کا تعلق نماز کے اندر سے ہے۔*

*ٹخنوں کو نماز ہو یا عام حالات میں کھلا رکھنے کا شریعت میں حکم ہے،ڈھانپنا سخت گناہ ہے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے*

📚صحیح مسلم
کتاب: ایمان کا بیان
باب: ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔

اسلام 360حدیث نمبر: 293
انٹرنیشنل حدیث نمبر-106
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِکٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَکِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِرَارًا قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَابُوا وَخَسِرُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْکَاذِبِ
ترجمہ:
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، علی بن مدرک، ابوزرعہ، خرشہ بن حر، ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا نہ انہیں گناہوں سے پاک وصاف کرے گا (معاف کرے گا) اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تین بار یہ فرمایا: حضرت ابوذر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ لوگ تو سخت نقصان اور خسارے میں ہوں گے یہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا اور دے کر احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والا۔

(سلسلہ نمبر 101 میں ہم تفصیل سے اسکے متعلقہ احادیث بیان کر چکے ہیں،)

*البتہ نماز شروع کرنے سے پہلے ٹخنوں کو کھلا رکھنے کے لیے شلوار یا پائجامہ کو اوپر کی طرف موڑنا درست ہے،بلکہ ایک لحاظ سے غنیمت بھی ہے کیونکہ جو لوگ عام حالات میں اس کی پرواہ نہیں کرتے جبکہ انہیں کرنی چاہیے۔وہ لوگ کم از کم نماز کے دوران ایسا کرتے ہیں تو یہ کم از کم نماز کےدوران ٹخنوں کو چھپانے کے گناہ سے بچے رہیں گے اورنماز بھی کراہت سے محفوظ ہوجائے گی،*

باقی اوپر جو  حدیث میں کپڑا سمیٹنے سے منع ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ کہ نمازکے دوران کپڑے سمیٹنے کا عمل مکروہ ہے ،
جیسے بعض لوگ مٹی اور دھول سے کپڑے بچانے کے لیے نماز کے اند ایسا کیا کرتے ہیں۔،
اور یہ وجہ بھی ہے کہ نماز میں کپڑے سمیٹنے سے نماز کا خشوع و خضوع کم ہو جاتا ہے، یعنی انسان کی توجہ نماز میں نہیں رہتی،
اس وجہ سے کپڑے سمیٹنے سے منع فرمایا گیا،

*کچھ علماء حضرات اس حدیث سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ کپڑے سمیٹنے منع ہے تو نماز کے وقت کوئی پینٹ وغیرہ فولڈ نا کرے،پہلی بات تو یہ اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا،اور اگر انکی بات مان بھی لی جائے تو ،کپڑا لٹکانا کبیرہ گناہ ہےاور کپڑا سمیٹنا مکروہ میں آتا ہے ،لہٰذ کبیرہ گناہ سے بچ کر کراہت والے عمل کو اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے،*

*اسی طرح یہ ادب کے خلاف ہے کہ جب انسان عام کسی معتبر آدمی سے ملنے جاتا تو آستینیں نیچے کر لیتا تو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر ہمارے لیے اور کون محترم ہو سکتا ہے، لہذا ، نماز کے وقت آستینیں نیچے کرنا ادب کا تقاضا بھی ہے،*

*یعنی نماز میں آستینیں وغیرہ چڑھانا یا چڑھا کر نماز پڑھنا ایک برا فعل  ہے اور ادب کے بھی خلاف ہے، لیکن اس سے اسکی نماز نا ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جا سکتا،اسکی نماز ان شاءاللہ ہو جائے گی،*

*اور نماز کے وقت پینٹ وغیرہ فولڈ کرنا جائز ہے، لیکن سب سے اچھا اور صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کا لباس ہونا ہی ایسا چاہیے کہ جس میں کپڑا ہمیشہ ٹخنوں سے اوپر رہے ، تا کہ عام حالات میں اور نماز میں اس کو فولڈ کرنا ہی نا پڑے،*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📚سوال_کیا مردوں کے لیے کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا جائز ہے؟ اور خواتین کے لیے شادی بیاہ کے موقعوں پر ایسے لمبے غرارے اور دوپٹے جو زمین پر گھس رہے ہوتے، انکے پہننے کے بارے کیا حکم ہے؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر-101)

📚کیا مرد و عورت کیلئے سر کے بالوں کا جوڑا بنانا درست ہے؟کیا جوڑا باندھ کر نماز پڑھ سکتے ہیں؟
(دیکھیں سلسلہ نمبر-142)

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦  سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
     کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں