983

سوال_کیا ٹوٹے ہوئے برتن میں کھانا پینا مکروہ ہے؟ صحیح احادیث سے وضاحت کریں؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-253″
سوال_کیا ٹوٹے ہوئے برتن میں کھانا پینا مکروہ ہے؟ صحیح احادیث سے وضاحت کریں؟

Published Date: 18-6-2019

جواب۔۔!!
الحمدللہ۔۔۔!!

*لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ ٹوٹے ہوئے برتن میں کھانا پینا مکروہ ہے یا نا پسندیدہ ہے، لیکن اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے سے ٹوٹے ہوئے برتن کا استعمال کرنا ثابت ہے*

دلائل درج ذیل ہیں..!

📚انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ،
أَنَّ قَدَحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْكَسَرَ ، فَاتَّخَذَ مَكَانَ الشَّعْبِ سِلْسِلَةً مِنْ فِضَّةٍ ، قَالَ عَاصِمٌ : رَأَيْتُ الْقَدَحَ وَشَرِبْتُ فِيهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پانی پینے کا پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ نے ٹوٹی ہوئی جگہوں کو چاندی کی زنجیروں سے جٖڑوا لیا ۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے وہ پیالہ دیکھا ہے ۔ اور اس میں، میں نے پانی بھی پیا ہے
(صحیح بخاری: حدیث نمبر،3109)

📚عاصم احول نے بیان کیاکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیالہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس دیکھا ہے وہ پھٹ گیا تھا،
تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اسے چاندی سے جوڑدیا ۔ پھر حضرت عاصم نے بیان کیا کہ وہ عمدہ چوڑا پیالہ ہے،چمکدار لکڑی کا بنا ہوا،
بیان کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے اس پیالہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بارہا پلایا ہے ۔ راوی نے بیان کیا کہ ابن سیرین نے کہا کہ اس پیالہ میں لوہے کا ایک حلقہ تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ اس کی جگہ چاندی یا سونے کا حلقہ جڑوا دیں لیکن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا ہے اس میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ کرو ۔ چنانچہ انہوں نے یہ ارادہ چھوڑ دیا ۔
(صحیح بخاری: حدیث نمبر، 5638)

*دراصل عوام الناس میں جو بات مشہور ہےکہ ٹوٹے ہوئے برتن میں کھانا پینا مکرو ہے ،یا ناجائز ہے اسکی بنیاد یہ حدیث ہے*

📚ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ کی ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے، اور پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر، 3722)

” ثلمة ” سے مراد برتن کی ٹوٹی ہوئی جگہ ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر پینے کا برتن کسی جگہ سے ٹوٹا ہوا ہو تو اس جگہ سے منہ لگا کر پانی نہ پیو، کیونکہ اس جگہ ہونٹوں کی گرفت اچھی نہیں ہو گی،

📚 جیسا کہ (عون المعبود) شرح سنن أبي داود میں ہے کہ
قال الخطابي: إنما نهى عن الشراب من ثلمة القدح لأنه إذا شرب منه تصبب الماء وسال قطره على وجهه وثوبه، لأن الثلمة لا يتماسك عليها شفة الشارب كما يتماسك على الموضع الصحيح من الكوز والقدح. وقد قيل:
إنه مقعد الشيطان، فيحتمل أن يكون المعنى في ذلك أن موضع الثلمة لا يناله التنظيف التام إذا غسل الإناء، فيكون شربه على غير نظافة، وذلك من فعل الشيطان وتسويله، وكذلك إذا خرج من الثلمة وأصاب وجهه وثوبه فإنما یهو من إعنات الشيطان وإيذائه إياه والله أعلم

*شرح کا مفہوم*

امام خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں ٹوٹی ہوئی جگہ سے پینے سے اس لیے منع فرمایا کہ وہاں سے مشروب نکل کر چہرے اور کپڑوں پر گرے گا،جو اسکے لیے تکلیف اور اذیت کا سبب بنے گا،کیونکہ وہ ٹوٹی جگہ کہ وجہ سے پیالے کو ہونٹوں پر صحیح سے نہیں رکھتا،
اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پیالے کی ٹوٹی ہوئی جگہ شیطن کے بیٹھنے کی جگہ ہے،اور اسکا معنی یہ ہو سکتا ہے کہ ٹوٹی ہوئی جگہ سے برتن کی دھلائی اچھی طرح سے نہیں ہو پاتی اور اسکا پانی وغیرہ صاف نہیں رہتا،اور وہاں مٹی وغیرہ لگی رہ جاتی ہے اس صورت میں پاکیزگی وصفائی کا تقاضا بھی یہی ہے اس جگہ منہ نہ لگایا جائے،
_____&______

اور ہم کہتے ہیں کہ اسکی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ٹوٹی ہوئی جگہ سے مشروب پیتے وقت اسکو چوٹ بھی لگ سکتی ہے لہذا انہی چند وجوہات کی بنا پر شریعت نے ٹوٹی ہوئی جگہ پر منہ لگانے سے منع فرمایا ہے،

*حدیث کے مفہوم اور مذکورہ بالا وضاحت سے معلوم ہوا کہ ” ثلمة ” سے ٹوٹا ہوا برتن مراد نہیں ہے بلکہ اس کی ٹوٹی ہوئی جگہ مراد ہے یعنی اس ممانعت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ٹوٹے ہوئے برتن میں پانی نہ پیا جائے بلکہ یہ مراد ہے کہ برتن کی ٹوٹی ہوئی جگہ پر منہ لگا کر پانی نہ پیا جائے*

((واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

🌹اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں