337

سوال_كيا پورى نماز ادا كرنے والے امام كے پيچھے مسافر كے ليے نماز قصر كرنا جائز ہے؟ يعنى مسافر شخص امام كى دو ركعتوں كے بعد سلام پھير كر چلا جائے؟یا مسافر امام کی آخری دو رکعت میں شامل ہو تو کیا وہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر سکتا ہے یا مکمل نماز پڑھے گا؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-193″
سوال_كيا پورى نماز ادا كرنے والے امام كے پيچھے مسافر كے ليے نماز قصر كرنا جائز ہے؟ يعنى مسافر شخص امام كى دو ركعتوں كے بعد سلام پھير كر چلا جائے؟یا مسافر امام کی آخری دو رکعت میں شامل ہو تو کیا وہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر سکتا ہے یا مکمل نماز پڑھے گا؟

Published Date:16-1-2019

جواب:
الحمدللہ:

*مسافر جب مقيم امام كى اقتدا ميں نماز ادا كرے تو اس پر امام كى پيروى لازم ہے یعنی وہ بھی امام کے پیچھے مکمل نماز پڑھے گا چاہے ابتداء سے جماعت میں شامل ہوا ہو یا آخری ایک یا دو رکعات میں شامل ہوا ہو وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد نماز مکمل کرے گا*

اسکے دلائل یہ ہیں!!!

📚نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:”
يقينا امام اقتدا اور پيروى كرنے كے ليے بنايا گيا ہے، لہذا اس كى مخالفت نہ كرو”
(صحيح بخارى حديث نمبر ( 722 )
(صحيح مسلم حديث نمبر ( 414 )

*اور امام كو چھوڑ دينا اس كى مخالفت ہى ہے*

📚صحيح مسلم ميں موسى بن سلمہ ھذلى رحمہ اللہ سے مروى ہے وہ كہتے ہيں ميں نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہ سے دريافت كيا كہ اگر ميں مكہ ميں ہوں اور امام كے ساتھ نماز ادا نہ كر سكوں تو نماز كيسے ادا كروں ؟
تو انہوں نے فرمايا: دو ركعت ادا كرنا ابو القاسم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت ہے ”
(صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْمَسَاجِدُ وَمَوَاضِعُ الصَّلَاةِ | بَابٌ : صَلَاةُ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا | بَابٌ : قَصْرُ الصَّلَاةِ بِمِنًى حديث نمبر_688 )

📚اور مسند احمد میں یہی روایت ذیل کے الفاظ سے مروی ہے :
عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِنَّا إِذَا كُنَّا مَعَكُمْ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى رِحَالِنَا صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ. قَالَ: ” تِلْكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ”
ہم مکہ میں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہ کے ساتھ تھے ،تو میں پوچھا کہ جب ہم آپ کے ساتھ (جماعت میں ) نماز پڑھتے ہیں تو چار رکعت پڑھتے ہیں ،اور جب اپنی رہائش پر نماز پڑھتے ہیں تو دو رکعت پڑھتے ہیں ،، تو عبد اللہ بن عباس رضى اللہ عنھما نے فرمایا :رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کی یہی سنت ہے ‘‘
(مسند احمد حدیث نمبر-1862)

📚ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ ان سے كہا گيا: مسافر كو كيا ہے كہ انفرادى حالت ميں تو وہ دو ركعت ادا كرتا ہے، اور جب مقيم كى اقتدا ميں نماز ادا كرے تو چار ركعت ادا كرتا ہے ؟
ان كا جواب تھا: يہ سنت ہے،
قولہ: يہ سنت ہے،
رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى سنت كى طرف اشارہ ہے.
(علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے ارواء الغليل حديث نمبر ( 571 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے)

📚ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كا فعل بھى يہى ہے،
نافع رحمہ اللہ تعالى بيان كرتے ہيں كہ ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما جب امام كے ساتھ نماز ادا كرتے تو چار ركعت ادا كرتے، اور جب اكيلے نماز ادا كرتے تو دو ركعت ادا كرتے.
(صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْمَسَاجِدُ وَمَوَاضِعُ الصَّلَاةِ | بَابٌ : صَلَاةُ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا | بَابٌ : قَصْرُ الصَّلَاةِ بِمِنًى حدیث نمبر-694)

📚امام بیہقی رحمہ اللہ نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ کا قول نقل کیا ہے کہ :
عن أبي مجلز قال :
قلت لابن عمر: المسافر يدرك ركعتين من صلاة القوم – يعني المقيمين – أتجزيه الركعتان أو يصلي بصلاتهم ؟ قال : – فضحك – وقال: يصلي بصلاتهم ،
ان سے سوال کیا گیا کہ اگر مسافرمقتدی ،مقیم امام کے پیچھے دو رکعت ہی پائے،تو کیا اسے یہی دو رکعت کافی ہونگی ؟
(یعنی دو رکعت کے بعد ان کے ساتھ ہی سلام پھیر دے ) یا ان ساتھ پوری نماز پڑھے گا ؟
تو جناب ابن عمر ہنسنے لگے ،اور فرمایا :(نہیں ) انکے ساتھ ان کی نماز ہی پڑھے گا (یعنی پوری پڑھے گا )
(السنن الکبری للبیہقی حدیث نمبر_5503)
(ابن أبي شيبة (1ج/ص335)
من طريق هشيم عن التيمي به ،
وهذا إسناد صحيح

🌹اثرم رحمہ اللہ كہتے ہيں: ميں نے
ابو عبد اللہ يعنى امام احمد رحمہ اللہ سے مسافر كے متعلق دريافت كيا جو مقيم حضرات كى تشھد ميں جا كر شامل ہو ؟
تو ان كا كہنا تھا: وہ چار ركعت ادا كرے گا، ابن عمر اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہم اور تابعين كى ايک جماعت سے بھى يہى مروى ہے، اور امام شافعى اور ابو حنيفہ رحمہما اللہ كا بھى يہى كہنا ہے
(المغنى ابن قدامہ ( 3 / 143 )

🌹سعودی مفتی شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
” مسافر پر واجب ہے كہ جب وہ مقيم امام كے پيچھے نماز ادا كرے تو نماز پورى ادا كرے
📚 كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا عمومى فرمان ہے:
” يقينا امام اس ليے بنايا گيا ہے كہ اس كى اتباع اور پيروى كى جائے ”
اور اس ليے بھى كہ صحابہ كرام رضى اللہ عنہم دوران حج امير المومنين عثمان بن عفان رضى اللہ تعالى عنہ كے پيچھے منى ميں نماز ادا كرتے وہ چار ركعت پڑھاتے تو صحابہ بھى ان كے پيچھے چار ركعت ادا كرتے.
اور اسى طرح وہ امام كے ساتھ آخرى دو ركعت ميں آكر ملے تو امام كى سلام كے بعد اسے باقى دو ركعت مكمل كرنى چاہيں تا كہ چار ركعت پورى ہوں

📚كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا عمومى فرمان ہے:
” تم جو نماز کا حصہ پاؤ وہ ادا كرلو اور جو رہ جائے اسے پورا كرو ”
صحيح بخارى حديث نمبر ( 635 )
صحيح مسلم حديث نمبر ( 603 )

اور اس ليے بھى كہ اس حالت ميں مقتدى كى نماز امام كے ساتھ مرتبط ہے اس ليے اس كے ليے اس كى متابعت كرنى لازم ہے، حتى كہ اس كى فوت شدہ ميں بھى،
ليكن جس نے مندرجہ بالا عمل كيا كہ مقيم امام كے پيچھے دو ركعت ادا كر كے سلام پھر ديا اس پر ادا كردہ چار ركعتى نماز كا اعادہ لازم ہے، اس ميں متابعت كى شرط نہيں، اسے چاہيے كہ وہ ان نمازوں كى تعداد معلوم كرنے كى كوشش كرے جو اس طرح ادا كى تھيں اور پھر انہيں لوٹائے ” اھـ
(ديكھيں: لقاء الباب مفتوح صفحہ نمبر ( 40 – 41 )

*اللہ پاک صحیح معنوں میں دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )

🌱قصر نماز میں کتنی رکعات پڑھی جاتی ہیں؟ اور یہ کب اور کتنے فاصلے پر پڑھ سکتے ہیں؟
((دیکھیں سلسلہ نمبر-26)))

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں