842

سوال_کن عیب دار جانوروں کی قربانی درست نہیں؟ تفصیلی جواب دیں!!

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-62″
سوال_کن عیب دار جانوروں کی قربانی درست نہیں؟ تفصیلی جواب دیں!!

Published Date: 8-8-2018
جواب..!!
الحمدللہ..!

*نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارکہ سے ثابت شدہ چار عیب والے جانور کی قربانی بالکل جائز نہیں*

🌷عبید بن زبیر کہتے ہیں میں نے براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہما سے پوچھا کہ:
کون سا جانور قربانی میں درست نہیں ہے؟
تو براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیوں سے اشارہ کیا اور فرمایا:
چار طرح کے جانور قربانی کے لائق نہیں ہیں،
1- کانا جانور جس کا کانا پن بالکل ظاہر ہو،
2- بیمار جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو،
3- لنگڑا جس کا لنگڑا پن بالکل واضح ہو،
4- بوڑھا کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ،،
میں نے کہا: مجھے یہ بھی ناپسند ہے کہ اس کے سینگ میں کوئی نقص عیب ہو یا اس کے دانت میں کوئی کمی ہو، انہوں نے کہا: جو تمہیں ناپسند ہو اسے چھوڑ دو، لیکن تم کسی اور کو اس سے مت روکو
(سنن نسائی،حدیث نمبر-4374)
(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر-2802)

🌷علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں،
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور کی آنکھ اور کان خوب دیکھ لیں اور کانے جانور کی قربانی نہ کریں،
اور نہ «مقابلة» کی، نہ «مدابرة» کی، نہ«خرقاء» کی اور نہ «شرقاء» کی۔
زہیر کہتے ہیں: میں نے ابواسحاق سے پوچھا «مقابلة» کے کیا معنی ہیں؟ کہا: جس کا کان اگلی طرف سے کٹا ہو، پھر میں نے کہا: «مدابرة» کے کیا معنی ہیں؟ کہا: جس کے کان پچھلی طرف سے کٹے ہوں، میں نے کہا:«خرقاء» کیا ہے؟ کہا: جس کے کان پھٹے ہوں ( گولائی میں ) میں نے کہا: «شرقاء» کیا ہے؟ کہا: جس بکری کے کان لمبائی میں چرے ہوئے ہوں ( نشان کے لیے )،
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر-2804) سند ضعیف
(مسند احمد،حدیث نمبر-851) حسن ،ھذ الاسناد ضعیف)
(إرواء الغليل ٤/٣٦٣ • [فيه] أبو إسحاق السبيعي مدلس قد عنعنه وكان اختلط)
(ابن عبدالبر (٤٦٤ هـ)، التمهيد ٢٠/١٧٢)
إسناده حسن
اس حدیث پر محدثین کا کلام ہے مگر دوسری صحیح احادیث میں قربانی کے جانور کے کان آنکھ دیکھ بھال کر لینے کا حکم موجود ہے،

جیسا کہ!

🌷سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (قربانی کے )جانور کی آنکھیں اور کان بغور دیکھنے کا حکم فرمایا۔
( سنن نسائی،حدیث نمبر_ 4381)
( سنن ترمذی،حدیث نمبر- 1503)
(سنن ابن ماجہ :3143، وسندہ، حسنٌ )
اسے امام ترمذی نے ”حسن صحیح” امام ابنِ خزیمہ (٢٩١٤) اورامام حاکم نے ”صحیح” کہاہے،

🌷 سیدناعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ؛
نبی اکرم صلی اللہ عنہ نے کان کٹے اور ٹوٹے سینگ والے جانور کی قربانی سے منع فرمایا۔
۔( راوی قتادہ کہتے ہیں ) : میں نے اس کا ذکر سعید بن مسیب سے کیا تو انہوں نے کہا: ہاں، جس جانور کا آدھا سینگ یا اس سے زیادہ ٹوٹا ہو،
(مسند احمد،حدیث نمبر-1158) حسن سند
(سنن ترمذی،حدیث نمبر- : 1503) سند ضعیف
امامِ ترمذی نے اس کو ” حسن صحیح ” کہا ہے
(ارواہ الغلیل،4/362)

اس حدیث میں سینگ ٹوٹے جانور کی قربانی سے منع کیا گیا ہے لیکن اگر تھوڑا بہت ٹوٹا ہو تو جواز نکلتا ہے،
اسکی تقویت میں اوپر سب سے پہلی حدیث میں سینگ اور دانت کے نقص کی گنجائش ہے، اور اگر پیدائشی سینگ نا ہو تو علماء کے صحیح قول کے مطابق پھر بھی کوئی حرج نہیں،
(واللہ اعلم )

🌷شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
دم کٹا ہوا جانور قربانی کیلئے کفایت کر جائے گا، چاہے پیدائشی طور پر دم نہ ہو یا کسی عارضے کی وجہ سے کٹی ہوئی ہو ۔
(الشرح الممتع ” (7/435)

*تو اس طرح ان تمام احادیث اور اقوال سے بات یہ سمجھ آئی کہ چار عیوب والے جانوروں کی قربانی بالکل جائز نہیں کیونکہ یہ صحیح حدیث سے ثابت ہیں*

1- کانا جانور جس کا کانا پن بالکل ظاہر ہو،
2- بیمار جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو،
3- لنگڑا جس کا لنگڑا پن بالکل واضح ہو،
4- بوڑھا کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو

*اور باقی کمزور اور کراہت والی احادیث کو ملا کر جن جانوروں کی قربانی مکروہ ہے وہ یہ ہیں*

🌷شیخ صالح المنجد رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ!!

1. العضباء : جس جانور کا نصف یا نصف سے زيادہ کان یا سینگ کٹا ہوا ہو اسے عضباء کہا جاتا ہے،

2. المقابلۃ : وہ جانور جس کا کان اگلے حصہ سے چوڑائي میں کٹا ہوا ہو،

3. المدابرۃ : وہ جانور جسکا پچھلی جانب سے چوڑائي میں کان کٹا ہوا ہو ۔

4. الشرقاء :جس کا کان لمبائي میں کٹا ہوا ہو ۔

5. الخرقاء : جس کے کان میں گول سوراخ ہو ۔

6. المصفرۃ : جس کا کان بالکل کاٹ دیا گيا حتی کہ کان کا سوراخ ظاہر ہوجائے ،

7. المستاصلۃ : جس کا مکمل سینگ ختم ہوجائے ۔

8. البخقاہ : ایسا جانور جس کی آنکھ توصحیح حالت میں ہی رہے لیکن اس کی نظر جاتی رہے ۔

9. المشیعۃ : وہ جوکمزوری کی بنا پرریوڑ کے ساتھ نہ چل سکے لیکن اسے ریوڑ کےساتھ ملانے کے لیے ہانکنا پڑے ،
یا مشددہ پرزير بھی پڑھی جاسکتی ہے اوراس حالت میں اس کا معنی ہوگا کہ جوکمزوری کی بنا پر ریوڑسے پیچھے رہ جائے،

یہ وہ مکروھات ہیں جن کے بارہ میں احادیث میں نہی پائي جاتی ہے کہ جن جانوروں میں یہ عیب پائے جاتے ہوں ان کی قربانی کرنے سے منع کیا ہے یا پھر اس سےاجتناب کرنے کا حکم دیا ، اوراسے کراہت پراس لیے محمول کیا گيا ہے کہ اس اور براء بن عازب رضي اللہ تعالی کی حدیث میں جمع ہوسکے،

اوران مکروہات کے ساتھ اس طرح کی اوربھی اشیاء ملحق کی جائینگي تومندرجہ ذيل کی بھی قربانی مکروہ ہے :

10. البتراء : اونٹ گائے بھیڑ بکری ميں سے جس کی نصف یا زيادہ دم کٹی ہوئي ہو ۔

11. جس کی نصف سے کم چکی کٹی ہوئي ہو اور اگر نصف یا اس سے زيادہ کٹی ہوئي ہو تو جمہور اہل علم کے کہنا ہے کہ یہ قربانی نہيں ہوگي ، لیکن جس کی پیدائيشی طور پر ہی چکی نہ ہو اس میں کوئي حرج نہيں ۔

12. جس کا عضوتناسل کٹا ہوا ہو ۔

13. جس کے تھنوں میں سے کچھ حصہ کٹا ہوا ہو ،لیکن اگر پیدائيش طور پر بالکل موجود ہی نہیں تواس میں کوئي کراہت نہيں ہے اوراگر تھن صحیح وسلامت ہونے کے باوجود دودھ آنا رک جائے تواس میں بھی کوئي حرج نہيں،

(دیکھئیے احکام الاضحيۃ الذکاۃ تالیف :
الشيخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ)

*نوٹ_ پہلے ذکر کردہ چاروں عیب والے جانور قربانی پر نہیں لگ سکتے اور دوسرے حصے میں ذکر کردہ 13 عیوب وہ ہیں جن کے بارے میں واضح صحیح حدیث تو موجود نہیں،لیکن کچھ حسن درجے کی روایات اور سلف صالحین کے اقوال سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ ان عیوب والے جانوروں سے بھی پرہیز کریں اور ایسے تمام عیبوں سے پاک جانوروں کی قربانی کریں،*

*اسی طرح اگر کسی جانور میں ان عیوب سے بھی کوئی بڑا عیب پایا جائے،
جیسے کسی جانور کی ٹانگ کٹی ہو، یا شدید بیمار یا کوئی بڑا عیب ہو۔۔۔۔ تو ایسے جانور بھی قربانی پہ نہیں لگتے*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)

🌷اگر قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اس میں عیب پیدا ہو جائے تو کیا اس جانور کی قربانی نہیں ہو گی؟
[جواب کے لیے دیکھئے سلسلہ نمبر-63]

🌷اپنے موبائل پر خالص قران و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،
🌷آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!
🌷سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کے لئے ہمارا فیسبک پیج وزٹ کریں۔۔.
یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

الفرقان اسلامک میسج سروس
+923036501765

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں