1,191

سوال_ کیا مرد و خواتین کے لیے جنابت کی حالت میں غسل کے بنا سونا یا روزہ رکھنا جائز ہے؟ اور کیا جنبی عورت کے لیے غسل کے بغیر گھر کے کام کاج کرنا اور بچے کو دودھ وغیرہ پلانا گناہ ہے..؟؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-55″
سوال_ کیا مرد و خواتین کے لیے جنابت کی حالت میں غسل کے  بنا سونا یا روزہ رکھنا جائز ہے؟اور کیا جنبی عورت کے لیے غسل کے بغیر گھر کے کام کاج کرنا اور بچے کو دودھ وغیرہ پلانا گناہ ہے..؟؟

Published Date:12-5-2018

جواب..!!
الحمدللہ..!!

*کم علمی کی وجہ سے لوگ جنبی حالت میں خود کو، اپنے کپڑوں کو ، اپنے بستر کو  ناپاک سمجھتے ہیں،اور کھانے کو ،کام کاج کو ہاتھ نہیں لگاتے,جب تک کہ غسل نا کر لیں، اور خواتین بھی بچوں وغیرہ کو دودھ پلانا، کھانے کو ہاتھ لگانا گناہ سمجھتی ہیں یہ سوچ کر کہ وہ ناپاک ہیں، اور کچھ عورتیں سمجھتی کہ غسل کے بنا آٹا گوندھنے سے بے برکتی ہو گی۔۔وغیرہ، حالانکہ شریعتِ محمدی اس جہالت کا رد کرتی ہے،*

*جنبی مرد یا عورت کے لیے صرف  نماز ، طواف ، اور مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے ، لیکن اس کے علاوہ باقی تمام کام کرنے جائز ہيں*

*لہذا مرد و عورت پر کوئي حرج نہيں کہ وہ جنبی حالت میں عام روٹین کے کام کاج کریں,روزہ رکھنے کے لیے سحری کھائیں، کھانا تیار کرلے یا پھر گھر کے دوسرے کام کاج نپٹانے بھی جائز ہيں، اوراسی طرح ماں بچوں کو دودھ پلا سکتی اور انکی دیکھ بھال بھی کرسکتی ہے اس پر کئی ایک دلائل موجود ہیں*

📚حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تو آپ ( مصافحہ کے لیے ) ہاتھ پھیلاتے ہوئے ان کی طرف بڑھے، حذیفہ نے کہا: میں جنبی ہوں،
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مسلمان نجس نہیں ہوتا،
(سنن ابو داؤد،حدث نمبر_230)

📚ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک راستے میں مجھے ملے تو میں جنبی حالت میں تھا،
اس لیے وہاں سے کھسک گیا اورجاکر غسل کیا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا،
تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
اے ابوھریرہ کہاں تھے ؟
ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہيں میں نے کہا : میں جنبی تھا اس لیے میں نے ناپسند کیا کہ ناپاکی کی حالت میں آپ کے ساتھ بیٹھوں ،
تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :
سُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ””.
سبحان اللہ ،  مسلمان ہرگز ناپاک نہيں ہوتا ۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر_ 283)
(صحیح مسلم حدیث نمبر_ 371 )
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_231)

یعنی حالت جنابت کی نجاست( ناپاکی ) حکمی ہوتی ہے ، حسی نہیں ،
لہذا جنبی حالت میں بیٹھنے سے جگہ نجس نہیں ہوتی ، نہ ہی مصافحہ کرنے سے دوسرے کا ہاتھ ناپاک ہوتا ہے، نہ کھانا پکانے سے کھانا پلید ہوتا ہے۔

📒حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں کہتے ہیں :اس حدیث میں اس بات کا جواز پایا جاتا ہے کہ غسل جنابت کو اس کے واجب ہونے کے اول وقت میں تاخیر کی جاسکتی ہے ۔۔۔ اوراس کا بھی جواز ہے کہ جنبی شخص اپنی ضروریات پوری کرسکتا ہے ۔
(دیکھیں فتح الباری لابن حجر_ 1 / 391)

📚ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  جنبی ہوتے،
اور پانی چھوئے بغیر سو جاتے، پھر اس کے بعد اٹھتے اور غسل فرماتے۔
(سنن الترمذی،حدیث نمبر_118)
( سنن ابی داود٬حدیث نمبر_228)
(مسند احمد،حدیث نمبر_24161)
شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے،
اور یہ حدیث غسل اور وضو کے بنا سونے کے جواز کے لیے ہے،
یعنی اگر کوئی غسل اور وضو کے بغیر ہی سونا چاہے تو سو سکتا ہے،وہ گناہ گار نہیں ہو گا..!

📚ابو بکر بن عبد الرحمن کہتے ہیں ،
میرے باپ عبدالرحمٰن مجھے ساتھ لے کر
عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے،
عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح جنبی ہونے کی حالت میں کرتے ،
احتلام کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی  (بیویوں ساتھ) جماع کی وجہ سے!
پھر آپ روزے سے رہتے ( یعنی غسل فجر کی نماز سے پہلے سحری کا وقت نکل جانے کے بعد کرتے )
(صحیح بخاری،حدیث نمبر_1931)
(مسند احمد،حدیث نمبر_24062)

📚نافع کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو جنابت کی حالت میں صبح کرے، اور وہ روزہ رکھنا چاہتا ہو؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہونے کی حالت میں صبح کرتے تھے،
اور آپ کی جنابت جماع سے ہوتی نہ کہ احتلام سے، پھر غسل کرتے اور اپنا روزہ پورا کرتے
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر_1704)
( یعنی روزہ جنبی حالت میں رکھا ہوتا پھر بھی اس روزے کو مکمل کرتے)

📚حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے ان کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف ایک آدمی کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا کہ وہ جنبی حالت میں صبح اٹھتا ہے کیا وہ روزہ رکھ سکتا ہے؟تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع کی وجہ سے جنبی حالت میں بغیر احتلام کے صبح اٹھتے پھر آپ افطار نہ کرتے اور نہ ہی اس کی قضا کرتے،
(صحیح مسلم،حدیث نمبر_1109)

📚عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی  ہیں،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کی حالت میں رات گزارتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آتے، اور آپ کو نماز کی اطلاع دیتے تو آپ اٹھتے اور غسل فرماتے، میں آپ کے سر سے پانی ٹپکتے ہوئے دیکھتی تھی، پھر آپ نکلتے تو میں نماز فجر میں آپ کی آواز سنتی۔ مطرف کہتے ہیں: میں نے عامر سے پوچھا: کیا ایسا رمضان میں ہوتا؟ انہوں نے کہا کہ رمضان اور غیر رمضان سب برابر تھا۔
(سنن ابن ماجہ،حدیث نمبر_1703)

📚ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ،
( ایک مرتبہ ) نماز کے لیے اقامت ہو گئی اور لوگوں نے صفیں باندھیں،
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، یہاں تک کہ جب آپ  اپنی جگہ (مصلہ)پر ( آ کر ) کھڑے ہو گئے، تو آپ کو یاد آیا کہ آپ نے غسل نہیں کیا ہے، آپ نے لوگوں سے کہا: تم سب اپنی جگہ پر رہو ، پھر آپ گھر واپس گئے اور ہمارے پاس ( واپس ) آئے، تو آپ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور حال یہ تھا کہ آپ نے غسل کر رکھا تھا اور ہم صف باندھے کھڑے تھے۔
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_235،234,233)

*یعنی جنابت کے بعد اور نماز سے پہلے تک آپ غسل کے بنا ہی اپنے روز مرہ کے کام کرتے رہے،*

*ان احادیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ جنبی حالت میں روزہ رکھنا، سونا، کھانا پینا، کام کاج کرنے سب کچھ جائز ہے*

*یہاں کچھ لوگ اعتراض کریں گے کہ یہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خاص تھا٬*

وہ یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں..!!

📚 عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں،  ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے آیا اور وہ دروازہ کے پیچھے سے سن رہی تھیں ۔
اس آدمی نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم،
میں جنبی حالت میں ہوتا ہوں کہ نماز کا وقت ہوجاتاہے تو کیا میں اس وقت روزہ رکھ سکتا ہوں؟
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی تو نماز کے وقت جنبی حالت میں اٹھتا ہوں،
تو میں بھی تو روزہ رکھتا ہوں ۔
تو اس آدمی نے کہا،
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !
آپ ہماری طرح تو نہیں ہیں آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ اللہ نے معاف فرما دیئے ہیں ۔
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،
اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ میں تم میں سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں اور میں تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں ان چیزوں کو جن سے بچنا چاہیے
(صحیح مسلم،کتاب الصیام،حدیث نمبر_1110)

📚ایک روایت میں ہے کہ اس شخص کی اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے تم سب میں سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، اور مجھے کیا کرنا ہے اس بات کو میں تم سے بھی زیادہ جانتا ہوں ۔
(سنن ابو داؤد،حدیث نمبر_2389)

*لیکن افضل یہ ہے کہ جنبی شخص کو غسل جنابت میں جلدی کرنی چاہیے کہ کہیں وہ غسل کرنا بھول ہی نہ جائے ، اور اس لیے بھی کہ جنبی کے قریب رحمت کے فرشتے نہیں آتے،اور اگر کھانے پینے اور سونے سے قبل وہ جنابت کی حالت میں وضو کرلے تویہ بہتر اور افضل ہے ، لیکن یہ یاد رہے کہ یہ وضو کرنا واجب نہیں بلکہ یہ جنابت میں کمی کے لیے ہے،یعنی وہ وضو کریگا تو ہاتھ اور شرمگاہ کو بھی دھو لے گا،*

*اور وضو کرنا مستحب ہے ، اس کے بارہ میں کچھ احاديث مروی ہيں*

📚عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر جنبی حالت میں کھانا یا سونا چاہتے تونماز کے وضو کی طرح وضو کرتے تھے ۔
(صحیح مسلم،حدیث نمبر_ 305 )

📚ایک روایت میں ہے..!
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا..!
” تين قسم كے اشخاص كے قريب فرشتے نہيں آتے، كافر كى نعش، اور خلوق خوشبو لگانے والا، اور جنبى شخص جب تك وہ وضو نہ كر لے ”
(سنن ابو داود حديث نمبر _4180 )
علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود حديث نمبر ( 3522 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

📚 ابن عمر رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ عمربن خطاب رضي اللہ تعالی عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم میں سے کوئي ایک جنابت کی حالت میں سونا چاہے تو جنبی حالت میں ہی سو سکتا ہے ؟
تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا :
جب تم میں سے کوئي وضو کرلے تو وہ جنبی حالت میں سوسکتا ہے ۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر_ 287)
(صحیح مسلم حدیث نمبر_306 )

📒امام نووی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
اس حدیث میں اس بات کا استحباب پایا جاتا ہے کہ جنبی شخص ان سب کاموں کے لیے اپنی شرمگاہ کو دھوئے اور وضوء کرے ، اورخاص کرجب وہ اپنی دوسری بیوی سے جماع کرنا چاہے جس سے جماع نہيں کیا اس کے لیے اپنے عضو تناسل کو دھونا یقینا مستحب ہے ۔
ہمارے ہاں اس وضوء کے واجب نہ ہونے میں کوئي اختلاف نہیں ، امام مالک اورجمہورعلماء کرام کا بھی یہی کہنا ہے ۔
(دیکھیں : شرح مسلم للنووی_ 3 / 217 )

*ان تمام احادیث مبارکہ سے پتا چلا کہ غسل کے بغیر سونا،کھانا، سحری کرنا،  سب جائز ہے،مگر غسل کر لے تو زیادہ بہتر ہے یا کم از کم جب تک غسل نہیں کرنا تب تک وضو کر لے،یہ وضو کرنا بہتر ہے واجب نہیں ہے*

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

موضوع سے ملتے جلتے سوال جواب..!

📒کیا بے وضو، حائضہ اور جنبی آدمی کیلئے قرآن کو چھونا اور پڑھنا جائز ہے؟
(دیکھیے سلسلہ نمبر_94)

📒مذی اور منی خارج ہونے سے جسم اور کپڑوں کی طہارت کا کیا حکم ہو گا؟
تفصیلی جواب کے لیے دیکھیں
(سلسلہ نمبر_37)

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ 
📖 سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں