408

سوال_ کیا کسی دوسرے شخص کی منگیتر کی طرف نکاح کا پیغام بھیجنا جائز ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-53”
سوال_ کیا کسی دوسرے شخص کی منگیتر کی طرف نکاح کا پیغام بھیجنا جائز ہے؟ یعنی جس لڑکی کا رشتہ پہلے سے طے ہو گیا ہو یا بات تقریباً پکی ہو گئی ہو اس کی طرف نکاح کا پیغام بھیجنا کیسا ہے؟؟

Published Date: 3-4-2018

جواب۔۔!
الحمدللہ..!

*شرعی طور پر اگر کسی لڑکی کا رشتہ پہلے سے طے ہو چکا ہو تو اسکے لیے نکاح کا پیغام بھیجنا جائز نہیں، جبکہ ہمارے ہاں خاندانوں میں اس قدر حسد ،کینہ اور بغض پایا جاتا ہے کہ اگر کسی رشتہ دار کا کسی جگہ رشتہ طے ہو جائے تو باقی رشتہ دار رشتے بھیجنے شروع کر دیتے اور پہلے رشتے کو توڑنے کیلئے زور دیا جاتا، بعض اوقات تو لوگوں نے رشتہ کرنا بھی نہیں ہوتا صرف انکا پہلے سے طے شدہ رشتہ تڑوانے کیلئے انکی طرف رشتہ بھیج دیتا جب وہ پہلے رشتے والوں کو انکار کر دیتے تو یہ تڑوانے والے خود بھی نہیں کرتے،اللہ رحم فرمائے ہماری قوم پر، انتقام اور حسد و بغض کی آڑ میں لوگوں کی زندگیاں تباہ کر دیتے ہیں، خدارا ان چیزوں سے بچیں، جب کسی جگہ ایک مسلمان کا رشتہ طے ہو جائے تو بیچ میں ٹانگ نا اڑائیں، اور لڑکی والوں کو بھی چاہیے کہ استخارہ اور مشورہ کے بعد اگر کسی مناسب رشتے کیلئے ہاں کر دیں تو پھر بغیر وجہ کے اس رشتے کو ختم نا کریں، اور نئے آنے والے رشتوں کو منع کر دیں، بعض لڑکی والے بھی منگنی وغیرہ کرنے کے بعد صرف اس وجہ سے رشتے توڑ دیتے کہ نیا آنے والا رشتہ پہلے سے زیادہ اچھا اور پیسے والا ہوتا، یاد رکھیں ایسی شادیاں جنکی بنیاد ہی دولت اور لالچ پر ہو زیادہ دیر نہیں چلتیں*

دلائل ملاحظہ فرمائیں

📚صحیح بخاری
کتاب: خرید وفروخت کے بیان
باب: باب: کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی بیع میں دخل اندازی نہ کرے اور اپنے بھائی کے بھاؤ لگاتے وقت اس کے بھاؤ کو نہ بگاڑے جب تک اجازت نہ دے یا چھوڑ نہ دے۔
حدیث نمبر: 2140
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَنَاجَشُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفَأَ مَا فِي إِنَائِهَا.
ترجمہ:
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ  نبی کریم  ﷺ  نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال و اسباب بیچے اور یہ کہ کوئی  (سامان خریدنے کی نیت کے بغیر دوسرے اصل خریداروں سے)  بڑھ کر بولی نہ دے۔ اسی طرح کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے میں مداخلت نہ کرے۔ کوئی شخص  (کسی عورت کو)  دوسرے کے پیغام نکاح ہوتے ہوئے اپنا پیغام نہ بھیجے۔ اور کوئی عورت اپنی کسی دینی بہن کو اس نیت سے طلاق نہ دلوائے کہ اس کے حصہ کو خود حاصل کرلے۔

📚صحیح بخاری
کتاب: نکاح کا بیان
باب: اپنے مسلمان بھائی کی منگنی (پیغام نکاح) پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے، جب تک کہ پہلی منگنی کا معاملہ ختم نہ ہوجائے یا وہ نکاح کرلے
حدیث نمبر: 5143
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْثُرُ:‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَجَسَّسُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَحَسَّسُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَبَاغَضُوا، ‏‏‏‏‏‏وَكُونُوا إِخْوَانًا.
حدیث نمبر: 5144
وَلَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ.
ترجمہ:
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیس بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے (اور لوگوں کے رازوں کی) کھود کرید نہ کیا کرو اور نہ (لوگوں کی نجی گفتگووں کو) کان لگا کر سنو، آپس میں دشمنی نہ پیدا کرو بلکہ بھائی بھائی بن کر رہو۔
اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا چھوڑ دے۔

📚سنن ابوداؤد
کتاب: نکاح کا بیان
باب: رشتہ پر رشتہ بھیجنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 2081
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ /agt;، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَبِيعْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا بِإِذْنِهِ. قالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ لا يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ صَاحِبِهِ يَقُولُ عِنْدِي خَيْرٌ مِنْهَا.
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہ تو اپنے بھائی کے نکاح کے پیغام پر پیغام دے اور نہ اس کے سودے پر سودا کرے البتہ اس کی اجازت سے درست ہے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ٨٠٠٩، ٨١٨٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٥٨ (٢١٤٠)، النکاح ٤٥ (٥١٤٢)، صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٢)، البیوع ٨ (١٤١٢)، سنن الترمذی/البیوع ٥٧ (١١٣٤)، سنن النسائی/النکاح ٢٠ (٣٢٤٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٠ (١٨٦٨)، موطا امام مالک/النکاح ١(٢)، والبیوع ٤٥(٩٥)، مسند احمد (٢/١٢٢، ١٢٤، ١٢٦، ١٣٠، ١٤٢، ١٥٣)، سنن الدارمی/النکاح ٧ (٢٢٢٢)، البیوع ٣٣ (٢٦٠٩) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: یعنی جب ایک مسلمان کی کسی جگہ شادی طے ہو، تو دوسرے کے لئے وہاں پیغام دینا جائز نہیں، کیونکہ اس میں دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہے، اور اگر ابھی نسبت طے نہیں ہے، تو پیغام دینے میں کوئی مضائقہ و حرج نہیں۔

📚سنن نسائی
کتاب: نکاح سے متعلقہ احادیث
باب: پیغام پر پیغام بھیجنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 3245
أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ.
ترجمہ:
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھائی کہیں نکاح کا پیغام دے چکا ہے، تو کوئی دوسرا مسلمان بھائی اس جگہ جب تک کہ نکاح ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ نہ ہوجائے (نیا) پیغام نہ دے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٣٣٧٢) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: یعنی انتظار کرے، اگر وہ نکاح کرلیتا ہے تو یہ پیغام نکاح ترک کر دے، اور اگر وہ ترک کردیتا ہے تو پیغام بھیجے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3241

📚سنن نسائی
کتاب: نکاح سے متعلقہ احادیث
باب: رشتہ بھیجنے والے کی اجازت سے یا اس کے چھوڑنے کے بعد رشتہ بھیجنا
حدیث نمبر: 3247
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ ابْنُ جُرَيْجٍ،‏‏‏‏ سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ،‏‏‏‏ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏كَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ الرَّجُلِ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ قَبْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ يَأْذَنَ لَهُ الْخَاطِبُ.
ترجمہ:
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ تم میں سے بعض بعض کی بیع پر بیع کرے ١ ؎ اور نہ ہی کوئی آدمی دوسرے آدمی کے شادی کے پیغام پر اپنا پیغام دے۔ جب تک (پہلا) پیغام دینے والا چھوڑ نہ دے ٢ ؎ یا وہ دوسرے کو پیغام دینے کی اجازت نہ دیدے۔
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح ٤٥ (٥١٤٢)، (تحفة الأشراف: ٧٧٧٨) (صحیح )
وضاحت: ١ ؎: یعنی کسی دکاندار کا سودا طے ہو رہا ہو تو پڑوسی دکاندار خریدار کو یہ کہہ کر نہ بلائے کہ میں تمہیں اس سے کم قیمت پر سامان دوں گا۔
٢ ؎: یعنی دوسری جانب سے انکار ہوگیا یا وہ خود ہی دستبردار ہوگیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3243

📙امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کہ آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے کا مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب آدمی نے کسی عورت کو پیغام بھیجا ہو اور وہ عورت اس سے راضی ہو گئی ہو اور اس کی طرف مائل ہو گئی ہو تو ایسی صورت میں کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ اس کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے،
لیکن اگر عورت کی رضا مندی اور اس کا میلان معلوم ہونے سے پہلے اگر وہ اسے پیغام دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اس کی دلیل،

📚 فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کی یہ حدیث ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ذکر کیا کہ ابوجہم بن حذیفہ اور معاویہ بن ابی سفیان نے انہیں نکاح کا پیغام دیا ہے تو آپ نے فرمایا: ”ابوجہم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنا ڈنڈا عورتوں سے نہیں اٹھاتے ( یعنی عورتوں کو بہت مارتے ہیں )،
رہے معاویہ تو وہ غریب آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے،
لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو“
(فاطمہ کہتی ہیں: ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا لیکن وہ مجھے جچے نہیں ) میں نے انہیں پسند نہ کیا، لیکن جب آپ نے مجھے اسامہ بن زید سے تین بار شادی کر لینے کے لیے کہا تو میں نے ( آپ کی بات رکھ لی اور ) ان سے شادی کر لی۔
تو بعد میں اللہ نے اتنی برکت ڈالی کہ مدینہ کی عورتیں مجھ پر رشک کرتی تھیں،
(نسائی،3246)
(ابن ماجہ،1869)

امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں ہمارے نزدیک اس حدیث کا مفہوم ( واللہ اعلم) یہ ہے کہ فاطمہ نے ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی اپنی رضا مندی کا اظہار نہیں کیا تھا اور اگر وہ اس کا اظہار کر دیتیں تو انہیں چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں اسامہ رضی الله عنہ سے نکاح کا مشورہ نہ دیتے،

(سنن ترمذی،حدیث نمبر_1134/حدیث کے نیچےحاشیہ)

*ان احادیث مبارکہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کسی کی منگیتر کی طرف نکاح کا پیغام بھیجنا جائز نہیں،بلکہ منگیتر تو دور کی بات اگر کسی نے نکاح کا پیغام بھیجا ہوا ہے اور لڑکی والوں کا ارادہ بھی بن گیا ہو ، تو بھی کسی دوسرے شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ بھی اسی عورت کی طرف نکاح کا پیغام بھیجے،ہاں اگر لڑکی والوں نے انکار کر دیا ہو, یا ابھی لڑکی والوں کا ارادہ نا بنا ہو،یا جس نے نکاح کا پیغام بھیجا وہ خود کسی کو اجازت دے دے ، تو پھر دوسرے شخص کے لیے نکاح کا پیغام بھیجنا جائز ہے،*

*المیہ..!*
لیکن ہمارے ہاں اکثر یہ ہوتا کہ اگر برادری میں کسی کو پتا چل جائے کہ فلاں نے اپنے بیٹے یا بیٹی کی بات اس گھر میں پکی کر دی ہے تو لوگ جیلس ہو کر یا انکو نیچا دکھانے کے لیے جان بوجھ کر ٹانگ اڑاتے اور اپنے بچوں کا رشتہ انکی طرف بھیج دیتے،
تو یہ جائز نہیں ہے!
اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے،

*دوسری بات اس حدیث سے یہ بھی سمجھ آئی کہ اگر کوئی شخص آپ سے کسی کے بارے میں مشورہ مانگے تو جسکے بارے وہ پوچھے اسکے حقیقی عیب آپ جانتے ہوں تو وہ بتانے میں حرج نہیں، جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو جہم کا بتایا کہ وہ عورتوں کو مارتا،پیٹتا ہے۔۔۔۔۔یہ غیبت میں نہیں آئے گا،کیونکہ مشورہ ہمیشہ مخلص ہو کر صحیح صحیح دینا چاہیے،*

*اور یہ بھی سمجھ آیا کہ مشورہ میں ہمییشہ خیر بھلائی ہوتی ہے، اچھے دوست احباب ساتھ مشورہ ضرور کیا کریں،*

((واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦  سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے۔ 📑
     کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں