906

سوال_ پینے کی چیزوں پر پھونک مارنا کیسا ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-28”
سوال_کھانے پینے کی چیزوں پر پھونک مارنا یا برتن کے اندر سانس لینا کیسا ہے؟ کیا گرم چائے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے پھونک مار سکتے ہیں؟

Published Date:10-2-2018

جواب۔۔۔!!
الحمدللہ۔۔۔…!!

*چائے یا دیگر کھانے کی گرم چیزوں کو پھونک مار کر ٹھنڈا کرنا ہر دوسرے شخص کی عادت بن چکی ہے،کہ جلدی میں گرم گرم چیز اٹھا لی پھر اسے پھونک سے ٹھنڈا کرنے لگ جاتے، جو کہ مکروہ عمل ہے، رہبر شریعت ،محسن انسانیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے پینے کی چیزوں پر پھونکنے یا پینے کے دوران برتن کے اندر سانس لینے سے منع فرمایا ہے،*

نبی ﷺ کا فرمان ذیشان ہے :

📚صحیح بخاری
کتاب: مشروبات کا بیان
باب: برتنوں میں سانس لینے کا بیان
حدیث نمبر: 5630
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا تَمَسَّحَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ.
ترجمہ:
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پانی پئے تو  (پینے کے)  برتن میں  (پانی پیتے ہوئے  )  سانس نہ لے اور جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ کو ذکر پر نہ پھیرے اور جب استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے۔

*ایک حدیث میں پھونکنے کی ممانعت اس طرح سے ہے،*

📚سنن ابوداؤد
کتاب: پینے کا بیان
باب: پینے کے پانی میں پھونک مارنا
حدیث نمبر: 3728
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ.
ترجمہ:
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے برتن میں سانس لینے یا پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔  
تخریج دارالدعوہ:
( سنن الترمذی/ الأشربة ١٥ (١٨٨٨)،
( سنن ابن ماجہ/الأشربة ٢٣ (٣٤٢٩، ٣٤٣٠)، (تحفة الأشراف: ٦١٤٩)،( وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٠، ٣٠٩، ٣٥٧)، (سنن الدارمی/الأشربة ٢٧ (٢١٨٠) (صحیح  )

📚جامع ترمذی
کتاب: پینے کے ابواب
باب: برتن میں سانس لینا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 1889
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏  إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الْإِنَاءِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ:
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا:  جب تم میں سے کوئی پانی پیئے تو برتن میں سانس نہ چھوڑے   ١ ؎۔  
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔  
تخریج دارالدعوہ:
( صحیح البخاری/الوضوء ١٨ (١٥٣)، و ١٩ (١٥٤)، والأشربة ٢٥ (٥٦٣٠)،
(صحیح مسلم/الطہارة ١٨ (٢٦٧)،
( سنن ابی داود/ الطہارة ١٨ (٣١)، (تحفة الأشراف: ١٢١٠٥)، و مسند احمد (٥/٢٩٥، ٢٩٦، ٣٠٠، ٣٠٩، ٣١٠) (صحیح  )  

*واضح رہے یہ احادیث پانی وغیرہ پیتے ہوئے برتن کے اندر ہی سانس لینے یا پانی،چائے کے اندر پھونک مارنے سے منع کے بارے میں ہیں،پانی پیتے ہوئے برتن کے باہر تین بار سانس لینا سنت سے ثابت ہے،*

📚صحیح مسلم
کتاب: پینے کی چیزوں کا بیان
باب: پانی برتن میں سانس لینے کی کراہت اور برتن سے باہر تین مرتبہ سانس لے کر پانی پینے کے استحباب کے بیان میں

انٹرنیشنل حدیث نمبر:2028
اسلام360 حدیث نمبر:5287

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِي عِصَامٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا وَيَقُولُ إِنَّهُ أَرْوَی وَأَبْرَأُ وَأَمْرَأُ قَالَ أَنَسٌ فَأَنَا أَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا و
ترجمہ:
یحییٰ بن یحیی، عبدالوارث بن سعید، شیبان بن فروخ، عبدالوارث، ابوعصام، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (پانی وغیرہ) پینے میں تین مرتبہ سانس لیا کرتے تھے اور آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس طرح کرنے سے سیر زیادہ ہوتی ہے اور پیاس بھی زیادہ بجھتی ہے اور پانی زیادہ ہضم ہوتا ہے حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں بھی پینے میں تین مرتبہ سانس لیتا ہوں۔

📚سنن ابوداؤد
کتاب: پینے کا بیان
باب: ساقی (پلانے والا) خود کب پئے
حدیث نمبر: 3727
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عِصَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ هُوَ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ.
ترجمہ:
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ  جب نبی اکرم  ﷺ  پیتے تو تین سانس میں پیتے اور فرماتے:  یہ خوب پیاس کو مارنے والا، ہاضم اور صحت بخش ہے ۔  
تخریج دارالدعوہ:
( صحیح مسلم/الأشربة ١٦ (٢٠٢٨)،
(سنن الترمذی/الأشربة ١٣ (١٨٨٤)، الشمائل (٢١٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٨، ١١٩، ١٨٥، ٢١١، ٢٥١) (صحیح  )

📚جامع ترمذی
کتاب: پینے کے ابواب
باب: پینے کی چیز میں پھونکیں مارنا منع ہے
حدیث نمبر: 1887
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَيُّوبَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْمُثَنَّى الْجُهَنِيَّ يَذْكُرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  نَهَى عَنِ النَّفْخِ فِي الشُّرْبِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ الْقَذَاةُ أَرَاهَا فِي الْإِنَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  أَهْرِقْهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنِّي لَا أَرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏  فَأَبِنْ الْقَدَحَ إِذَنْ عَنْ فِيكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ:
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ  نبی اکرم  ﷺ  نے پینے کی چیز میں پھونکنے سے منع فرمایا، ایک آدمی نے عرض کیا: برتن میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھوں تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا:  اسے بہا دو، اس نے عرض کیا: میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہو پاتا ہوں، آپ نے فرمایا:  تب  (سانس لیتے وقت)  پیالہ اپنے منہ سے ہٹا لو ۔  
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔  
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٤٣٦) (حسن) (الصحیحة ٣٨٥  )  
قال الشيخ الألباني:  حسن، الصحيحة (385)  
(صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1887)

*ان تمام احادیث مبارکہ سے پتہ چلا کہ برتن سے منہ ہٹا کر تین سانس میں پانی پینا سنت عمل ہے،اور طبی نقطہ نظر سے فائیدہ مند بھی ہے اس لیے افضل یہی ہے کہ انسان تین سانس میں پیئے،اور پانی وغیرہ پیتے ہوئے یا کھانا کھاتے ہوئے برتن کے اندر کوئی تنکا وغیرہ ہو تو اسے ہاتھ سے نکال دے، یا وہ چیز گرا دے،لیکن برتن کے اندر سانس لینا، یا برتن میں تنکا نظر آئے تو اسے ہٹانے کے لیے یا گرم  چائے یا گرم کھانے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے پھونک مارنا جائز نہیں،کیونکہ پھونک کے ذریعے جراثیم وغیرہ اس مشروب یا کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں جو کہ نقصان دہ ہوتے ہیں*

(( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب ))

📚[[ کیا دم کرتے وقت بھی پانی پر پھونک نہیں مارنا چاہیے؟
اسکی تفصیل کے لیے دیکھیں
سلسلہ نمبر-36 ]]

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے نمبر پر سینڈ کر دیں،

📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے نمبر پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!!

⁦ 
📖 سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں

یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::

یا سلسلہ نمبر بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ نمبر
                   +923036501765

آفیشل ویب سائٹ
https://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2/

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سوال_ پینے کی چیزوں پر پھونک مارنا کیسا ہے؟” ایک تبصرہ

  1. لیکن قبلہ! جامعہ علومیہ اسلامیہ کے ایک فتوے میں کھانے پینے کی اشیاء بغیر آواز کے پھونک مارنے کو جایز قرار دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں