3

سوال : کیا فرض نماز میں سجدہ کے دوران اپنی زبان میں دعا پڑھی جا سکتی ہے؟

“سلسلہ سوال و جواب نمبر-389″
سوال : کیا فرض نماز میں سجدہ کے دوران اپنی زبان میں دعا پڑھی جا سکتی ہے؟ اور سنا ہے کہ سجدہ رکوع میں قرآن پڑھنا منع ہے تو کیا سجدہ و رکوع میں قرآنی دعائیں بھی نہیں پڑھ سکتے.؟

Published Date: 26-11-2025

*جواب*
*الحمدللہ..!*

*اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سجدہ کی حالت میں انسان اللہ کے قریب ترین ہوتا ہے اور یہ دعا کی قبولیت کا ایک موقع بھی ہے یعنی سجدہ ایک ایسی حالت ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعا قبول فرماتا ہے،*

ارشاد نبوی ہے

📚عن ابی ہریرة رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم قال:
أَقْرَبُ ما يَكونُ العَبْدُ مِن رَبِّهِ، وهو ساجِدٌ، فأكْثِرُوا الدُّعاءَ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”بندہ اپنے رب کے قریب ترین اسوقت ہوتا ہے جسوقت وہ سجدے کی حالت میں ہو ، لہذا سجدے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ دعا کرو”
(صحیح مسلم، کتاب الصلاة باب ما یقال فی الرکوع و السجود رقم الحدیث :482)
(سنن ابو داؤد -875)

📚ایک دوسری راویت میں ان الفاظ کی زیادتی بھی ہے:
”و اما السجود فاجتھدوا فی الدعاء فقمن ان یستجاب لکم”
ترجمہ: ”سجدے میں زیادہ سے زیادہ دعا کی کوشش کرو عین ممکن ہے کہ تمہاری دعا قبول ہو جائے’ (صحیح مسلم -479)

*باقی رہا یہ مسئلہ کہ اپنی زبان میں دعا کر سکتے ہیں یا نہیں؟ تو اس مسئلہ میں اگر نمازی کو عربی میں دعائیں یاد ہیں اور مسنون صحیح دعائیں ہیں تو ان دعاؤں کے پڑھنے کی افضلیت میں سب متفق ہیں لیکن ایک مسلمان جس کو عربی میں کوئی دعا یاد نہیں ایسے شخص کے متعلق علماء کا اختلاف ہے بعض علماء اس کو جائز قرار دیتے ہوئے دلیل یہ دیتے ہیں کہ مذکورہ حدیث مطلق ہے اس میں کوئی قید نہیں کہ عربی میں دعا کرو یا عجمی زبان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حد بندی نہیں کی لہذا فرض نماز کے سجدے میں دعا مانگی جاسکتی ہے، چاہے جس زبان میں مانگیں*

*جبکہ دوسری جانب بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ نفل نماز میں جائز ہے فرض میں نہیں کیونکہ یہ ”کلام الناس ” لوگوں کی باتیں ہیں، اور یہ نماز میں جائز نہیں ہیں جیسے کہ مندرجہ ذیل روایت میں ہے*

📚معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باجماعت نماز ادا کررہا تھا کہ ایک شخص نے چھینک لی اور الحمد للہ کہا ، اس پر میں نے جواباً یرحمک اللہ کہہ دیا اس کے رد عمل میں لوگوں نے مجھے گھور گھور کر دیکھنا شروع کیا ، میں نے(نماز ہی میں لوگوں سے)کہا : کیا بات ہے تم مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو ؟ اب لوگوں نے اپنی رانوں پر مجھے خاموش کروانے کیلئے ہاتھ مارنا شروع کیے میں نے دیکھا کہ لوگ مجھے خاموش کروا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے نماز مکمل کی(میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں میں نے آپ جیسا استاد اور معلم کہیں نہیں دیکھا اللہ کی قسم نہ آپ نے مجھے مارا اور نہ ہی ڈانٹا اور نہ ہی گالی دی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
”ان ھذہ الصلاة لا یصلح فیھا شیء من کلام الناس انما ھو التسبیح و التکبیر و قراء ة القرآن ”
یہ نماز ہے اس میں لوگوں سے باتیں کرنا صحیح نہیں ہے یہ نماز تسبیح (سبحان اللہ کہنا ) اور تکبیر (اللہ اکبر کہنا) اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا نام ہے۔
(صحیح مسلم ، کتاب المساجد ، باب تحریم الکلام فی الصلاةو نسخ ماکان من اباحتہ ،
حدیث نمبر -537)

ـــــــــــ&ــــــــــ
العلماء کی فتاویٰ ویبسائٹ پر یہ سوال کیا گیا کہ
📒سوال (3335)
اگر کوئی شخص عربی نہیں جانتا ہے یا اسے صرف فاتحہ ہی آتی ہے تو کیا وہ اپنی زبان میں نماز میں دعائیں مانگ سکتا ہے، اکثر عرب علمائے کرام اس کے جواز کا فتویٰ صادر فرما رہے ہیں۔

جواب از: فضیلۃ العالم ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی حفظہ اللہ

نہیں! اپنی زبان میں دعائیں نہیں مانگ سکتا بلکہ وہ قراءت کی جگہ سبحان الله الحمدللہ اللہ اکبر لا الہ الا اللہ پڑھ لے ،
📚سیدنا رفاعہ بن رافع رضى اللہ تعالى عنہ سے مروی مسيئى الصلاۃ يعنى جو شخص صحيح طريقہ سے نماز ادا نہيں كر رہا تھا والى حديث ميں ہےـ بيان كرتے ہيں كہ اسے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

“فإن كان معك قرآن فاقرا وإلا فاحمد الله وكبره وهلله”
” اگر آپ كو كچھ قرآن ياد ہو تو وہ پڑھو، وگرنہ الحمد للہ، اللہ اكبر، اور لا الہ الا اللہ كہو ”
سنن ترمذى حديث نمبر ( 302 )
امام ترمذى نے اسے حسن كہا ہے، سنن ابو داود حديث نمبر ( 858 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود حديث نمبر ( 767 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

_______&_________

*لہٰذا صحیح بات یہی لگتی ہے کہ نماز فرض ہو یا نفل، ہے تو نماز ہی، اور نماز میں ہم اپنے رب سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں جسکا طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھلایا ہے عربی زبان میں مسنون دعائیں پڑھ کر، اور عام کلام سے منع کیا گیا ہے،لہذا بہتر یہی ہے کے سجدہ و رکوع میں مسنون عربی دعائیں ہی پڑھیں اور عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں دعا نہ کی جائے یہاں تک کہ کوئی صریح نص قرآن و حدیث سے ثابت ہو۔۔ہاں اگر کوئی نیا مسلمان ہوا ہے یا اسکو عربی کی دعائیں یاد نہیں ہو رہی وہ کوشش کرتا رہے ساتھ میں ۔۔ اور جب تک یاد نا ہو جائیں تب تک وہ الحمدللہ ، اللہ اکبر۔۔۔۔ کہہ لے، جیسا کہ اوپر حدیث میں ۔۔۔ہے اور اگر کسی شخص کو یہ الفاظ بھی یاد نا ہوں یا وہ عربی بول نا سکتا ہو تو جب تک وہ سیکھ نہیں لیتا تب تک اپنی مادری زبان میں دعائیں پڑھ لے لیکن یہ اجازت بہت مجبوری میں ہونی چاہیے*

(واللہ اعلم باالصواب )

ـــــــــــــ&ــــــــــــ

*دوسرا حصہ سوال کا تھا کہ سجدہ و رکوع میں قرآنی دعائیں پڑھنا کیسا ہے؟*

تو عرض ہے کہ رکوع اور سجدہ میں قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کرنا ممنوع ہے، لیکن اگر اسکی نیت بطورِ دعا ہے تو سجدہ و رکوع میں قرآنی دعائیں پڑھی جا سکتی ہیں۔ حدیث کے مطابق، رکوع میں اللہ کی عظمت بیان کرنی چاہیے اور سجدے میں خوب دعا کرنی چاہیے، کیونکہ اس وقت انسان اللہ کے سب سے قریب ہوتا ہے،

جیسا کہ حدیث میں ہے!

📚سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بیماری کی حالت میں اپنے دروازے کا) پردہ اٹھایا (اس وقت) لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف بستہ تھے۔ آپ نے فرمایا: ”لوگو! نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف سچے خواب باقی رہ گئے ہیں جو مسلمان خود دیکھے گا یا اس کے لیے (کسی دوسرے کو) دکھایا جائے گا۔ خبردار رہو! بلاشبہ مجھے رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، جہاں تک رکوع کا تعلق ہے اس میں اپنے رب عزوجل کی عظمت و کبریائی بیان کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے اس میں خوب دعا کرو، (یہ دعا اس) لائق ہے کہ تمہارے حق میں قبول کر لی جائے۔“ امام مسلم کے اساتذہ میں سے ایک استاد ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کرتے ہوئے (”مجھے سلیمان نے خبر دی“ کے بجائے) سلیمان سے روایت ہے، کہا۔
(صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث:479)
( سنن ابو داؤد حدیث نمبر- 876)
(سنن نسائی حدیث نمبر -1046)

📒اس حدیث کی بنا پر ركوع اور سجدہ ميں قرآت كرنے كى كراہت پر علماء كرام كا اتفاق ہے. ديكھيں: المجموع ( 3 / 411 )
اور المغنى لابن قدامۃ المقدسى (2 / 181)

📒اس ميں حكمت يہ ہے كہ:
اس ليے كہ نماز كا افضل ترين ركن قيام ہے، اور افضل ترين ذكر قرآن ہے اس ليے افضل كو افضل كے ليے ركھا گيا، اور اس كے علاوہ كسى دوسرے ميں پڑھنے ميں منع كر ديا گيا تا كہ باقى اذكار كے ساتھ اس كى برابرى كا واہمہ نہ ہو. (ماخوذ از: عون المعبود شرع سنن ابو داود

📒اور ايک قول يہ بھى ہے:
اس ليے كہ قرآن مجيد اشرف الكلام ہے، كيونكہ يہ كلام اللہ ہے، اور ركوع و سجود كى حالت بندے كى جانب سے عاجزى و ذل ہے، لہذا ادب يہ ہے كہ ان دونوں حالتوں ميں قرآن مجيد كى تلاوت نہ كى جائے.
ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 5 / 338 ).

*سجدہ و رکوع میں قرآنی آیات کو بطور دعا پڑھ سکتے ہیں*

صحیح سند سے یہ بات مسند احمد کے اندر موجود ہے

📚حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنِي فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ جَسْرَةَ الْعَامِرِيَّةِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَقَرَأَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ، يَرْكَعُ بِهَا وَيَسْجُدُ بِهَا : { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ }. فَلَمَّا أَصْبَحَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا زِلْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ حَتَّى أَصْبَحْتَ، تَرْكَعُ بِهَا وَتَسْجُدُ بِهَا. قَالَ : ” إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي، فَأَعْطَانِيهَا، وَهِيَ نَائِلَةٌ – إِنْ شَاءَ اللَّهُ – لِمَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا “.
ترجمہ:
کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو نماز پڑھی اور صبح تک ایک آئیت تلاوت کرتے رہے اور سجدہ و رکوع میں بھی وہی آئیت (دعا) کے طور پڑھتے رہے ،
(مسند احمد حدیث نمبر-21328)
حكم الحديث: إسناده حسن

لہذا اگر سجدہ و رکوع ميں قرآن كريم ميں وارد شدہ كوئى دعا پڑھى جائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے

📚جيسا كہ فرمان بارى تعالى ہے:
﴿ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ البقرۃ ( 201 )
اے ہمارے رب ہميں دنيا ميں بھلائى عطا فرما اور آخرت ميں بھى بھلائى عطا فرما، اور ہميں آگ كے عذاب سے محفوظ ركھ.

کیونکہ اس كا مقصد دعا پڑھنا ہے، نہ كہ تلاوت قرآن۔۔۔ تو اس ميں كوئى حرج نہيں،

📚كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے: ” اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے، اور ہر شخص كے ليے وہى ہے جو اس نے نيت كى
(صحيح بخارى حديث نمبر ـ 1 )
(صحيح مسلم حديث نمبر – 1907 )

📒 سعودی عرب کی مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے دريافت كيا گيا:
ہميں معلوم ہے كہ سجدہ ميں قرآن مجيد كى قرآت كرنا جائز نہيں، ليكن كچھ آيات دعا پر مشتمل ہيں

مثلا فرمان بارى تعالى ہے:
﴿ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا ﴾
اے ہمارے رب ہميں ہدايت نصيب كرنے كے بعد ہمارے دلوں كو ٹيڑھا نہ كر دينا.

لہذا قرآن مجيد ميں وارد شدہ اس طرح كى دعائيں سجدہ ميں پڑھنے كا حكم كيا ہے ؟

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:
” اگر دعا سمجھ كر پڑھى جائيں تو اس ميں كوئى حرج نہيں، انہيں تلاوت قرآن سمجھ كر نہيں پڑھنا چاہيے” انتہى.
ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 6 / 443 ).

(مآخذ : الاسلام سوال وجواب )
(محدث فورم)
(العلماء ڈاٹ او آر جی)

((( واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب )))

📲اپنے موبائل پر خالص قرآن و حدیث کی روشنی میں مسائل حاصل کرنے کے لیے “ADD” لکھ کر نیچے دیئے گئے پر سینڈ کر دیں،
📩آپ اپنے سوالات نیچے دیئے گئے پر واٹس ایپ کر سکتے ہیں جنکا جواب آپ کو صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا جائیگا,
ان شاءاللہ۔۔!
سلسلہ کے باقی سوال جواب پڑھنے
کیلیئے ہماری آفیشل ویب سائٹ وزٹ کریں
یا ہمارا فیسبک پیج دیکھیں::
یا سلسلہ بتا کر ہم سے طلب کریں۔۔!!

*الفرقان اسلامک میسج سروس*

آفیشل واٹس ایپ
+923036501765

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/

آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں